وہی بچہ بڑا ہو کر دنیائے اسلام کا تاریخ ساز شخص بنا-قسط ٢

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, nakyal kotle ak)
محترم قارئین:دوسری قسط کے ساتھ حاضر خدمت ہیں ۔سیرت کے ان گوشوں کی سیر کیجیے اور عقیدتوں و محبتوں کے گلش کی رونقوں کے مزے لیجیے ۔

حضرت شیخ شاہ جی محمد شیر میاں جو اپنے وقت کے ولی کامل اور قطب عصر تھے ان کی خدمت میں صدرالافاضل بڑی ارادت وعقیدت کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ شاہ جی کے ارشاد پر اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث وقت قطب دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔ حضرت صدرالافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت شیخ المشائخ کی شان میں ایک منقبت بھی لکھی ہے جس کا ایک شعر یوں ہے ؎
راز وحدت کھلے نعیم الدین اشرفی کا یہ فیض ہے تجھ پر

درس وتدریس:
حضور صدر الافاضل اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھا افہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔

تدریس کا انداز:
دورانِ تدریس سبق سے متعلق پر مغز اور مدلل تقریر زبانی فرماتے اور جس طرح گہرائی اور اشارات ومالہ وماعلیہ سے وضاحت فرماتے اس سے یوں معلوم ہوتا جیسے خود ہی مصنف ہیں۔تدریس میں آپ کی بے مثال مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری حضرت مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں کہ '' میں نے مدرس دو ہی دیکھے ہیں ایک صدر الشریعہ اور دوسرے صدر الافاضل، فرق صرف اتنا تھا کہ صدر الشریعہ اس شعبے سے زیادہ وابستہ رہے اور صدر الافاضل ذرا کم۔ ''

وظیفہء تدریس سے استغناء :
دنیا بھر کے مدرسین عموماً تنخواہ دار ہوتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور مناصب کے اعتبار سے مشاہرہ پاتے ہیں لیکن صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی ایک پیسہ تنخواہ نہیں لی اور اتنا بڑا مدرسہ جامعہ نعیمیہ بطور خود چلاتے تھے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے ۔

علم طب کی تحصیل:
حضور صدر الافاضل نے علم طب حکیم حاذق نَبَّاض دوراں حضرت مولانا حکیم فیض احمد صاحب امروہوی سے حاصل کیا جس طرح سے آپ کو علوم منقولیہ وعلوم معقولیہ میں ہم عصر علماء میں تَفَوُّق وبرتری حاصل تھی اسی طرح میدان طب میں بھی آپ کمال مہارت رکھتے تھے عموماً مریض کا چہرہ دیکھ کر ہی مرض پکڑ لیا کرتے تھے نَبَّاضی میں بینکا یہ جواب ہوگا۔لہٰذا ایسا ہی ہوتا اور آپ کے شاگرد بھی فتحیاب ہو کر لوٹتے۔

دار الافتاء :
حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجوددار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی۔

شہزادہ صدر الافاضل حضور رہنمائے ملت حضرت علامہ سید اختصاص الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین فرمایا کرتے تھے کہ میراث وفرائض کے فتوے کثرت سے آتے مگر حضرت کو جواب لکھنے کے لیے کتاب دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا آج تو ایک بَطْن دو بَطْن چار بَطْن کے فتوے اگر دار الافتاء میں آجائیں تو گھنٹوں کتابیں دیکھی جاتی ہیں تب کہیں جاکر فتوے کا جواب لکھا جاتا ہے اور وہ بھی کبھی ایک مفتی دوسرے مفتی کے فتوے کو مسترد کردیتا ہے مگر حضرت صدر الافاضل کا یہ حال تھا کہ بیس بیس اکیس اکیس بطون کے فتوے بھی دار الافتاء میں آگئے مگر حضرت قلم برداشتہ بغیر کتاب دیکھے جواب تحریر فرما دیتے تھے البتہ انگلیوں پر کچھ شمار کرتے ضرور دیکھا جاتا اور آپ کے فتوے کے اِسْتِرداد کی کبھی نوبت نہیں آئی۔

خوش نویسی:
آپکی خطاطی ایسی عمدہ اور قواعد کے مطابق تھی کہ سینکڑوں خوش نویس اس فن میں آپکے شاگرد ہیں مزید برآں آپ خط کے ساتوں طرز تحریر میں بے مثال کمال رکھتے تھے حتی کہ ہر ایک رسم الخط کو بائیں ہاتھ سے معکوس بآسانی نہایت خوش خط تحریر فرماسکتے تھے۔

جامعہ نعیمیہ مراد آباد کا قیام :
حضور صدر الافاضل نے ارادہ فرمایا کہ ایک ایسا مدرسہ قائم کرنا چاہیے جس میں معقول و منقول کی معیاری تعلیم ہو چنانچہ آپ نے سب سے پہلے ایک انجمن بنائی جس کے ناظم آپ اورصدر حکیم حافظ نواب حامی الدین احمد صاحب مراد آبادی ہوئے ۔اس انجمن کے تحت ایک مدرسہ قائم فرمایا جس کومدرسہ اہل سنت کہا جاتا تھا جب نواب صاحب اور ان کے رفقاء و ہمنواؤں کا انتقال ہوگیا تو انجمن خود بخود ختم ہوگئی اب مدرسہ آپ کی طرف منسوب کیاجانے لگا اور وہ مدرسہ نعیمیہ کے نام سے مشہور ہواپھر جب اس کے فارغ التحصیل طلباء وعلماء نے اطراف واکناف اور ملک میں پھیل کر اپنے اپنے مقامات پر مدرسے قائم کیے اور ان کا الحاق مراد آباد کے مرکزی مدرسہ نعیمیہ سے کیا اورملک کے دیگر مدارس اہل سنت میں سے بیشتر اسی مدرسہ سے ملحق ومنسلک ہوگئے تو لازمی طور پر اب اس مدرسہ کی حیثیت رائج الوقت زبان میں یونیورسٹی اور قدیم زبان میں ''جامعہ ''کی ہوگئی۔ چنانچہ اس مدرسہ کا نام ''جامعہ نعیمیہ '' رکھا گیا اور آج تک اسی نام سے قائم ومشہور ہے ۔

جامعہ نعیمیہ کے علاوہ بھی آپ نے کئی دینی خدمات سرانجام دیں،اعلی درجہ کا برقی پریس لگایا، ایک ماہنامہ ''السواد الاعظم ''جاری کیاجو مدتوں شان سے جاری رہا، کافی تعداد میں دینی ومذہبی کتابیں اعلیٰ معیار طباعت کے ساتھ شائع فرمائیں، کئی کئی آل انڈیا کانفرنسیں منعقد فرمائیں روزانہ کے شاہانہ اخراجات مزید برآں، مگر آپ کو چندہ کی اپیل کرتے دست طلب پھیلاتے اور لفظ سوال منہ سے نکالتے نہیں دیکھا گیااور سارے اخراجات اپنے بٹوے سے ہی پورے فرماتے تھے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لوگ ازخود حضرت کا ہاتھ نہیں بٹاتے تھے لیکن آپ نے کبھی مانگا نہیں۔

تصنیفات وتالیفات:
دینی وملی، سیاسی وسماجی، تدریسی اور تبلیغی خدمات کے باوجود حضور صدر الافاضل نے تقریباً دودرجن کتابیں بطور یاد گار چھوڑی ہیں۔
() تفسیر خزائن العرفان
() نعیم البیان فی تفسیر القرآن
() الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ
() اطیب البیان در رد تقویۃ الایمان
() مظالم نجدیہ برمقابر قدسیہ
() اسواط العذاب علی قوامع القباب
() آداب الاخیار
() سوانح کربلا
() سیرت صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم
(٠) التحقیقات لدفع التلبیسات
() ارشاد الانام فی محفل لمولود والقیام
() کتاب العقائد
() زاد الحرمین
() الموالات
() گلبن غریب نواز

() شرح شرح مائۃ عامل
() پراچین کال
() فن سپاہ گری
() شرح بخاری (نامکمل غیر مطبوع)
(٠) شرح قطبی (نامکمل غیر مطبوع)
() ریاض نعیم (مجموعہ کلام)
() کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب
() فرائد النور فی جرائد القبور

وفات:
١٨ذوالحجہ ١٣٦٧؁ھ مطابق ٢٣اکتوبر ١٩٤٨؁ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، اب آواز دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگی، شاہزادگان نے کان لگا کر سنا تو زبان پر کلمہ طیبہ جاری ہے، دفعتاً سینہ اقدس پر نور کا لَمْعہ محسوس ہوا اور بجکر ٠ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالق حقیقی سے جاملا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجد کے بائیں گوشے میں کی گئی آج بھی آپ سے اکتساب فیض کا سلسلہ جاری ہے اورتاقیامت جاری رہے گا ان شآء اللہ عزوجل ۔

یااللہ!ہم بہت پریشان حال ہیں ۔چار سوغموں نے گھیراہے ۔کوئی مسیحا دکھائی نہیں دیتا۔ہمارے اخلاق زوال پزیر ہوگئے ہیں ۔ہماری تربیت گاہوں و درس گاہوں سے اوچے لفنگے ،بدتمیز ،بے حس ،فوج نکل رہی ہے ۔ہمارے قانونی کے محافظ ،ہماری جانوں ،ملک و ملّت کے محافظ چند سکوں پہ بدکنے لگے ہیں ۔اے کرم فرمانے والے ربّ ہم انہی پاکباز ہستیوں کی سفارش عرض کرسکتے ہیں ۔تو ہماری ڈوبتی کشتی کو پار لگادے ۔ہم تجھے سے بہتری کے امیدوار ہیں ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 428 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219221 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

nice .
By: fazal , LAHOOR on Sep, 26 2012
Reply Reply
0 Like
Language: