ایم کیو ایم ، پی پی پی، اے این پی اور کراچی طالبان

(Qadir Khan, Sawat)

با لاآخر برف ایک بار پھر پگھل گئی ۔سیاست میں واقعی حرف آخر نہیں ہوتا ، کب کون کس وقت کیا کہے یا کرے گا شائد اسے خود بھی علم نہیں ہوگا کہ اگلی ساعت میں اس کا کیا کردار ہوسکتا ہے اس لئے بڑے سیانے کہہ گئے ہیں کہ پہلے تولو ، پھر بولو۔کرا چی میں امن و امان کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کراچی بے امنی کے مسئلے کو مسئلہ کشمیر کی طرح ملحق رکھا جاتا ہے کیونکہ اس مسئلے پر سیاست متعدد جماعتوں کا خاص مشغلہ ہے۔تاہم این پی اور ایم کیو ایم کے حوالے سے تند وتیز بیانات اور گلے شکوﺅں کی دوری بھی کسی کےلئے اچھنبے کی بات نہیں رہی ہے ، لیکن ایک ایسی اہم پیش رفت ضرور ہوئی ہے کہ جس کےلئے کراچی کی عوام "عسکرےت پسندوں"کے شکرگزار ضرور ہونگے کیونکہ جو کام باشعور حلقے ، کالم نویس ، دانشور ، اینکر ز پرسن،ادارتی کالم ،الیکڑونک میڈیا ، پرنٹ میڈیا ، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں کرسکے اور ماضی میں کئے جانے والے تمام امن معائدے ردی کی ٹوکری میں گئے اب ایم کیو ایم اور اے این پی کو نزدیک لانے سہرا"کراچی طالبان" کے سرضرور باندھا جاسکتا ہے کہ آخرکار اے این پی نے اعلانیہ تسلیم کرلیا کہ ایم کیو ایم کراچی کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار گذشتہ کئی سالوں سے کر رہی تھی وہ درست ہے اور طالبائزیشن اب اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو اپنے تمام اختلافات بھلا کر سر جوڑ کر بیٹھنا پڑا۔اے این پی بڑی شد و مد کے ساتھ ہمیشہ کراچی میں ایم کیو ایم کی جانب سے طالبائزیشن کے الزامات کورد کرتی رہی ہے بلکہ الٹا ایم کیو ایم کو ہی مورد الزام ٹھہرایا کرتی رہی تھی۔پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کا دوبارہ ہاتھ تھامنا بھی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کے سامنے پنجاب سرکٹ ،مکمل نمائش کےلئے موجود ہے لیکن ان کے پاس ایسی کوئی فلم ہی نہیں کہ وہ پنجاب سرکٹ میں لانچ کرسکیں۔ایم کیو ایم اور اے این پی نے پنجاب سے اپنے امیدوار ضرور کھڑے کئے ہیں لیکن پنجاب میں ان کی جڑیں کراچی کی طرح توانا نہیں ہیں ورنہ ایک دو بلاک باسٹر ، اگر نواب شاہ اور حیدرآباد میں ہوسکتے ہیں تو پنجاب میں ضرور کئے جاسکتے ہیں ۔شائد ایم کیو ایم کے پروگرام میں کوئی بڑا انتخابی پروگرام پنجاب کے حوالے سے ہو ، لیکن اے این پی کے پاس کسی فلم کا ٹوٹا بھی نہیں کہ وہ پنجاب میں دیکھا سکے۔جبکہ پیپلز پارٹی اپنی ہوم پروڈکشن کے بینر تلے کچھ پروگرام ترتیب دے سکتی ہے لیکن اپنی سابقہ کارکردگی کے سبب پنجاب میں انھیں "زندہ"کرنے کےلئے کوئی شہید نہیں مل سکا۔اے این پی کی جانب سے نائن زیرو کا اور ایم کیو ایم کی جانب سے اے این پی رہنما ءکی رہائش گاہ مردان ہاﺅس کا دورہ کراچی کی عوام کے لئے ایک جانب حیران کن اور خوشگوار تبدیلی ہے تو دوسری جانب پختون عوام کا غم و غصہ بھی ہے کہ جب عام انسان کراچی کی سڑکوں پر مارا جا رہا تھا تو کراچی میں امن کےلئے ایم کیو ایم کے سا تھ مستحکم اتحاد کیوں نہیں بنایا گیا ، اگر یہ کام پہلے کرلیا جاتا اور ایم کیو ایم کی جانب سے کی جانے والی مثبت اقدامات کی پذیرائی کی جاتی تو یقینی طور پر کراچی آج اس قدر بے سکون نہیں ہوتا۔کراچی میں ایم کیو ایم کےلئے یہ بات تو باعث اطمینان ہے کہ ان کے طالبائزیشن کے موقف کو پی پی پی اور اے این پی نے تسلیم کرلیا ہے لیکن کراچی کی عوام یہ بھی سوچ رہی ہے کہ اے این پی کی جانب سے ایم کیو ایم کی قربت کا مقصد کراچی کی اُن نشستوں پر حمایت حاصل کرنا ہے، جو کبھی ان کی نہیں رہی اور 2008ءمیں اتفاق سے جیت گئے تھے ، چونکہ ایم کیو ایم طالبائزیشن کے حوالے سے کافی سخت موقف رکھتی ہے اس لئے ان سے اس بنیاد پر ووٹ حاصل کئے جائیں کہ اگر اے این پی کامیاب نہیں ہوئی تو پھر "پرو طالبان"جیت جائیں گے ، کیونکہ ایم کیو ایم کا ووٹ بنک پختون آبادیوں میں اتنا موثر نہیں کہ وہ نشست نکال سکے اس لئے کراچی میں طالبائزیشن کے خلاف اے این پی کو درپردہ ووٹ دیکر کامیاب کرایا جائے تاکہ لبرل و سیکولر جماعت مذہبی جماعت کے مقابلے میں کامیاب ہوسکے اور ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔کراچی کے عوامی حلقے اس بات کو بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ اے این پی اور پی پی پی کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ انھیں ان کی کراچی نشستوں میں دوبارہ کامیاب ہونے کےلئے ایم کیو ایم سہارا دے۔ کراچی طالبان جتنی شدت سے اے این پی اور ایم کیو ایم کے خلاف کاروائیاں کریں گے ، دونوں جماعتیں اُسی قدر ایک دوسرے کے نزدیک آئیں گی، جبکہ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو نتھی رکھنے کی کوشش کرے گی تاکہ اسے فرار کا محفوظ راستہ مل سکے ۔اگر ایسا نہیں ہے تو پنجاب کے بطن سے پنپنے والی پیپلز پارٹی پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی طرح جلسے ، جلوس اور ریلیاں نکالے ، اگر خدانخواستہ پنجاب میں ان پر حملہ ہوتا ہے تو پنجاب حکومت کی قلعی کھل جائے گی کہ وہ صرف دو ، تین جماعتوں کو تحفظ دیکر عسکریت پسندوں کی دہمکی کو عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔اگر پنجاب میں خیبر پختونخوا کی طرح حالات غیر موافق رہتے ہیں تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ لیکن ابھی تک پیپلز پارٹی کی جانب سے کوئی ایسی پلاننگ ہی سامنے نہیں آئی جبکہ وہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان میں ان کی جماعت کےلئے انتخابی مہم چلانا ناممکن بنا دیا گیا ۔ کراچی میں لیاری کی مخصوص نشستیں اب پیپلز پارٹی کی نہیں رہیں ، بلکہ لیاری امن کمیٹی نے غیر اعلانیہ پیپلز پارٹی کا کراچی سے صفایا کردیا ہے اب پیپلز پارٹی کراچی میں مہم چلائے یا نہ چلائے اس سے ان کے کسی امیدوار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اس لئے ایم کیو ایم اور اے این پی کے قربتوں میں پیپلز پارٹی نے خود بھی جوت دیا ہے تاکہ واویلا کیا جاسکے کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ الیکشن کے نتائج چرا لئے گئے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ عسکرےت پسند اور کراچی طالبان اِن دونوں جماعتوں کو موقع فراہم نہیں کر رہیں کہ اپنی کارکردگی کی بنا ءپر غصے میں بھری عوام کے سامنے جاسکیں ،۔ورنہ اس کا مظاہرہ اگر دیکھنا ہو تو پی ایس 93 میں اے این پی کے امیدوار پر حملے میں عام لوگ اے این پی کی فائرنگ سے شہید اور زخمی ہوئے تو عوام کا غصہ اتنا زیادہ تھا کہ اے این پی کے جھنڈے ، بینرز اتار کر جلا دئے اور گھروں کی دیواروں پر کی گئی چاکنگ مٹا دیں گئیں۔بلکہ میڈیا کے سامنے جاں بحق ہونے والے اور زخمیوں کے اہل خانہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس واقعے کی ایف آئی آر اے این پی کے خلاف کٹوائیں گے۔بظاہر اے این پی اور ایم کیو ایم کے درمیان یہ وقتی قربتیں لگتی ہیں ، جو الیکشن کے بعد ختم ہوجائیں گی یا کرادیں جائیں گی ، اگر کراچی میں پائدار امن کےلئے اے این پی سنجیدہ ہے تو پھر اسفندیار ولی خان کو خود اپنے والد کے نقش قدم چلتے ہوئے نائن زیرو آنا ہوگا ، جب تک اسفندیار ولی خان خود نائن زیرو نہیں آئیں گے ، کراچی میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان تمام قربتیں عارضی اور غیر مستحکم ہونگی۔الطاف حسین اور اسفندیار کے دررمیان ٹیلی فونک رابطہ خوش آئند ہے لیکن کراچی کی عوام کی نظر میں ان تعلقات کو اُس وقت ہی مضبوطی مل سکتی ہے جب اسفندیار ولی خان خود کراچی میں نائن زیرو تشریف لائیں۔دونوں جماعتوں کو اب طے کرلینا چاہیے کہ سندھ کی سطح پر ان کی مقامی قیادتوں کا باہمی اعتماد انتخابی الائنس کے لئے بڑھا ہے تو ایسے نیچے بھی فوری طور پر منتقل کیا جائے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ کامیاب مذاکرات کے بعد ناکامی کی اہم وجہ یہی ہوتی تھی کہ نچلی سطح پر بالا قیادتوں کے مثبت تعلقات کے ثمرات منتقل کرنے میں پس و پش سے کام لیا جاتا تھا جس بنا ءپر کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ہوتی رہیں ، بہرحال کراچی میں امن درکار ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 275 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 568 Articles with 204261 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: