کیا پاکستان کو ایسی شخصیت کی ضرورت ہے ؟

(Munir Bin Bashir, Karachi)
لولا ڈی سلوا ------ برازیل کے سابق صدر

بہت پہلے ایک خبر نظر سے گزری تھی کہ کراچی یونیورسٹی میں طلباء نے ایک جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر اپنی ڈگریاں لینے سے انکار کردیا تھا - -سبب یہ بتایا گیا تھا کہ ایک میٹرک پاس گورنرکے ہاتھوں ڈگری وصول کر نا علم اور ڈگری کی بے توقیری ہے اسوقت سے ایک سوال ہمیشہ میرے ذہن میں کلبلاتا رہا کہ کیا ڈگری عطا کرتے وقت ڈگری دینے والے کی شخصیت کا پڑھا لکھا ہو نا لازمی امر قرار دیا جائے ؟ تو کیا پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کرتے وقت ڈگری عطا کر نے والی شخصیت بھی پی ایچ ڈی ڈگری کی حامل ہو؟

آخر ایک دن تنگ آکر میں نے تاریخ سے اس کا جواب جاننا چاہا- ماضی بعید کو کھنگالنے کی بجائے ماضی قریب میں گھوما اور پتہ چلا کہ ابھی صرف چار سال پہلے ہی ایک شخصیت گزری ہے جو بالکل پڑھی لکھی نہ تھی لیکن بطور وزیر اعظم اس نے ایسے کارنامے انجام دئے کہ ایسے افراد سے ڈگری حاصل کر نے کے بعد ایک گونہ فرحت - ایک دلی مسرت - ایک انجانی راحت کا احساس ہوتا ہے -
یہ شخصیت تھی برازیل کے صدر - لولا ڈی سلوا کی

انکا پیدائش کا مہینہ ہے اکتوبر - جب بھی اکتوبر کا مہینہ آتا ہے تو اس ماہ میں پیدا ہونے والی شخصیتوں کے نام میرے سامنے گھومنے لگ جاتے ہیں - کیسی کیسی ہستیوں نے اس ماہ جنم لیا جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا - مہا تما گاندھی - بل گیٹس- امریکی صدر روز ویلٹ - امیتابھ بچن --اوراب ان میں نیا نام لولا ڈی سلوا کا جگ مگ جگ مگ کر رہا ہے -

اکتوبر -27 -1945 میں پیدا ہونے والے لولا ڈی سلوا کا بچپں نہایت نامساعد حالت میں گزرا - پیدائش کے بعد والد خاندان کو چھوڑ کر کہیں اور جا بسا - پیچھے رہ جانے والے بچوں اور بیوی پر کیا گزر رہی ہے اس کی پرواہ ہی نہیں کی - آخر بیوی نے خود ہی ادھر ادھر سے اپنے شوہر کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ایک کھلے ٹرک پر اپنے بچوں بشمول لولا ڈی سلوا کو لےکر تیرہ دن کی مسافت کے بعد شوہر کے پاس پہنچی تو یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے - اس وفا کی پتلی نے کوشش کی کہ کسی طرح اسی گھر میں رہ جائے لیکن یہ نہ ہو سکا - تب وہ پھر اپنے بچوں کو لیکر دوبارہ نکلی اور ایک شراب خانے کے نچلے کونے میں زندگی کے دن بتانے لگی

یہ وہ حالات تھے کہ گھر میں کھانے کے لالے پڑ گئے - ایسے میں تعلیم کہاں اور اسکول کہاں - دس سال کی عمر تک یعنی 1955 تک تو لولا ڈی سلوا اپنی زبان کی الف بے بھی نہیں لکھ سکتا تھا - لیکن ماں نے کسی نہ کسی طریقے سے اسے اسکول میں داخل کر دیا کہ پڑھ لے - لیکن گھر کے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے - مجبوری کے عالم میں لولا ڈی سلوا نے صرف دو گریڈ تک پڑھ کر تعلیم کو خیر باد کہا اور گھر کی حالت سنوارنے گھر سے نکلا - -اس وقت اس کی عمر چودہ برس کی تھی - کام کچھ آتا نہیں تھا -کوچہ و بازاروں میں پھر کر لوگوں کے جوتے پالش کر نے لگا - کیسی عجیب بات تھی کہ خود کے پاس جوتے نہیں اور ننگے پیر ہے لیکن لوگوں کے جوتے چمکا رہا ہے - آخر کسی نے ترس کھا کر اسے خراد مشین کا کام سکھادیا اور ایک تانبے کے کارخانے میں نوکری مل گئی - لیکن اس کے صبر کا امتحان یہیں پر ختم نہیں ہوا - خراد مشین پر کام کے دوران اس کی انگلی زخمی ہو گئی -

زخمی انگلی کا علاج کرانے کہاں کہاں نہیں گیا - کس ہسپتال میں نہیں پہنچا - ہسپتال تھے لیکن اس کے لئے نہیں - ڈاکٹر تھے لیکں اس کے لئے نہیں -دوائیاں تھیں لیکن اس کے لئے نہیں - شاید دنیا میں کچھ بھی اس کے لئے نہیں تھا- اس دوران مزدور یو نین نے اس سے پورا تعاون کیا اور اس کے صحیح علاج کے لئے کوشش کرتے رہے -آخر کار مزدور یونیں کی کوششوں سے اسے علاج کی سہولت میسر آئی اور وہ صحت یاب ہوا -

لولا ڈی سلوا نے مزدور انجمنوں کی جد و جہد سے کافی اثر لیا - اس نے بھی اس میں عملی شمولیت کا فیصلہ کیا تا کہ دوسرے مزدور اس کی طرح بے بسی کے عالم میں کسی تکلیف کا شکار نہ ہوں - مزدور یونین میں شامل ہو کر اس نے مزدوروں کے مسائل حل کر نے کے لئے دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھا - نتیجہ یہ ہوا وہ برازیل کی سب سے بڑی لیبر یونین اسٹیل مل لیبر یونیں کا صدر منتخب ہو گیا -

سٹیل مل کی لیبر یونین میں آکر اسے ملک کی سیاسی صورت حال سمجھنے کا موقع ملا - حکومت کی پالیسیوں سے آگاہی ہوئی - اس نے ان کی خامیوں کے تدارک کے لئے کئی دور رس نتائج کے حامل حل پیش کئے اور ان پر توجہ نہ دینے کی صورت میں آواز بھی اٹھائی - اس جد و جہد میں وہ گرفتار بھی ہوا اور پس دیوار زندان بھی رکھا گیا - لیکن وہ جو صحیح سمجھ رہا تھا اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھا - حکومت کے مختلف فیصلوں پر اس کے تجزیوں --اور ان فیصلوں سے مستقبل میں پیدا ہونے والے مسائل پر اس کی آراء کو -- دانشور حلقوں میں خوب پزیرائی ملی اور اس کی رائےکو ایک حیثیت دی جانے لگی

ان حالات میں اس نے دانشوروں اور مختلف مزدور یونینوں کے ساتھ مل کر ایک سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی اور اس کا نام ورکرز پارٹی رکھا - اس سیاسی جماعت نے ملک کے دستور میں ترمیم کے مطالبات اٹھائے - سب سے برا مسئلہ تو یہ تھا کہ برازیل میں صدر کا انتخاب فوج کے جنرل کرتے تھے جب کہ اس کا کہنا یہ تھا کہ یہ عوام کا حق ہے - اس کی جد و جہد رنگ لائی اور حکومت نے دستور میں انتخاب سے متعلقہ دفعات میں تبدیلیاں کر نے پر مجبور ہوگئے -

لیکن اس ترمیم ۔ جو اس کی جد و جہد کے نتیجے میں ہوئی تھی ‘ کے تحت وہ انتخابات میں کھڑا ہوا تو اسے شکست ہوئی - اس کے بعد بھی مزید دو مرتبہ اور انتخابات میں ہار سے دو چار ہوا - لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور آخر کار 2002 میں اس کی پارٹی بر سر اقتدار آئی اور یوں اس نے جوتے پالش کر نے والے نے -- صدارت کا عہدہ سنبھالا -

اس نے قوم کے سامنے اپنا ایک نعرہ رکھا "مہنگائی عوام پر تھوپنے کی بجائے عوام پر سرمایہ کاری" - اس کے نزدیک بچوں کی تعلیم بھی عوام پر سرمایہ کاری کی ایک قسم ہے اور عوام کے قیمتی پن میں اضافہ کر تا ہے یعنی دوسرے الفاظ میں انہیں ویلیو ایڈ یڈ بناتاہے -

اقتدار میں آنے کے بعد اس نے غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے کئی اقدامات کئے -

لیبر یونین کے تجربے کی بنیاد پر اسے بخوبی علم تھا کہ سرکاری ملازمین اور پرائیویٹ اداروں میں کام کر نے والے افراد کے حالات کار میں زمین آسمان کا فرق ہے - سرکاری اداروں کے اخراجات زیادہ ہیں - اور کام کا معیار وہ نہیں جو پرائیویٹ اداروں میں ہے - اسنے اس جانب خصوصی توجہ دی اور اختیارات سنبھالنے کے سات ماہ کے اندر ہی سرکاری اداروں کے ملازمین کے ضوابط پر مشتمل ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا - اس سے اخراجات میں کمی واقع ہوئی جو اس کے دوسرے منصوبوں میں کام آئی
غریب خاندانوں کی امداد کے لئے اس نے “خاندانی امدادی نظام متعارف کروایا - اس غرض سے “غریب “ اور “بہت غریب “ کی صحیح تصریحات یعنی "اس پے سی فیکیشن" مقرر کی گئیں - ان تصریحات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک کروڑ کے قریب مستحق خاندانوں کو مدد پہنچائی جارہی ہے -ان تصریحات کےسبب پیسوں کی تقسیم میں کرپشن کے امکانات کم سے کم ہیں - یہ امداد دو شرائط سے مربوط کی گئی -ایک یہ کہ خاندان اپنے بچوں کو پڑھائیں گے - بچوں کی صحت کا خیال کرتے ہوئے ان کی ویکسینیشن کروائیں گے


برازیل معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن کسی صحیح منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب اس سے کچھ فائدہ نیں حاصل کیا جارہا تھا - ملک آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دباہوا تھا - دنیا میں معدنی لوہے کا سب سے بڑا ذخیرہ یہاں پر واقع ہے لیکن قدرت کی یہ سب مہربانیاں پچھلے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے سبب بے فیض ہو کر رہ گئی تھیں - لولا ڈی سلو ا نے ان معاملات پر نظر ڈالی - خام مال کی ترسیل کے فرسودہ ٹرک والے طریقوں کو الوداع کہا اور متحرک پٹے یعنی کنویئر کا نظام لانے کی منصوبہ بندی کی - معدنیات میں اس کی معاشی چابک دستی اور فنی رہبری سے ایک انقلاب آیا - اور چند ہی سال میں خام معدنی لوہے کی پیداوار دگنی ہو گئی - برازیل کی وہ معدنی کمپنیاں جو دنیا میں تو کیا خود اپنے ملک میں کسی شمار میں نہیں آتی تھیں وہ دنیا میں بڑی معدنی کمپنی کے طور پر ابھریں - یہ سب کامرانیاں لوگوں کے لئے نئی نوکریوں کے دروازے بھی کھولتی جارہی تھیں -

زراعت میں بھی یہ ملک کسی سے پیچھے نہیں لیکن اسے بھی نظر انداز کیا جاتا رہا - ان کے معا ملات بھی سنوارے -

نتیجہ یہ نکلا کہ ملک جو آئی ایم ایف کے قرضے تلے دباہوا تھا اس حالت میں آگیا کہ مقرہ مدت سے دو سال پہلے ہی سارا قرضہ بے باک کر دیا بلکہ بعد میں آئی ایم ایف کو کسی پروگرام کو چلانے کے لئے فنڈز کی ضرورت پڑی تو برازیل نے وہ رقم بطور قرضہ آئی ایم ایف کو دی -

بلاشبہ تبدیلی آچکی تھی

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے انتخابات میں عوام نے پہلے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ڈالکر اپنے اعتماد کا اظبار کیا اور یوں وہ دوسری مرتبہ بھی صدر منتخب ہوئے - اس وقت دنیا کی دس مضبوظ معاشی قوت رکھنے والے ممالک میں برازیل ساتویں نمبر پر آرہا ہے - یہ سب صرف ایک شخص کی جد و جہد فراست محنت اور سب سے بڑھ کر خلوص کا ثمر ہے - لولا ڈی سلوا پر ایک الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ اس نے اپنے ملک میں ذرائع نقل و حمل جسے انفرا اسٹرکچر کہتے ہیں کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی - اس سلسے میں کچھ تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ ملک مضبوط ہو تو یہ چیزین خود ہی در آتی ہیں انہیں کوئی روک نہیں سکتا - جب دسمبر 2010 میں لولا ڈی سلو ا اپنے صدارت کے عہدے کی دوسری معیاد مکمل کر کے اقتدار چھوڑ رہے تھے تو عوام چاہتی تھی کہ وہ اگلے انتخابات میں پھر کھڑے ہوں لیکن انہوں نے نیلسن منڈیلا اور مہاتیر کے رستوں پر چلتے ہوئے مزید حصہ لینے سے انکار کر دیا اور سیاست سے بھی دست برداری کا اعلان کیا -

جاتے جاتے ایک اور تحفہ لولا ڈی سلو ا اپنے ملک کو دے گئے اور وہ ہے 2016 کے اولپمک کھیلوں کے مقابلے ان کے ملک میں ہوں گے - ان کے نزدیک یہ بھی ملک کی ترقی کے گراف کو اونچا کر نے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے - بشرط یہ کہ عوام اس سے فائدہ اٹھائیں - اس اولمپک کی پچاس سے ساٹھ لاکھ ٹکٹیں فروخت ہوں گی -اتنے لوگوں کی مہمان داری کے لئے جو محنت یہاں کی عوام کریں گے اس سے لوگوں کو روزگار میسر آنے کے کئی موقعے ملیں گے - یہ برازیل کے مختلف شہروں میں کھیلے جائیں گے -اس کے نتیجے میں ان تمام شہروں کے ایر پورٹ کا نظام جدید خطوط پر استوار ہو گا - ریلوے اسٹیشنوں کا معیار صحیح کیا جائے گا- سڑکیں انٹر نیشنل لیول کے معیار کے مطابق بنیں گی- تفریحی مراکز اپنا معیار بلند کرین گے - یہ سب ایک قسم کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کی طرف ایک قدم ہو گا - اور یوں جو ایک شکوہ کیا جاتا ہے کہ انفرا اسٹرکچر کی طرف توجہ نہیں دی اس سے وہ شکوہ کافی حد تک دور ہو جائے گا -

یاد رہے کہ اس مرتبہ دو نئی کھیلیں یعنی گولف اور رگبی کو بھی اولمپک گیمز کا حصہ بنایا گیا ہے -یہ ایک نیا چیلنج ہے جو برازیل کو عوام نے قبول کیا ہے - اولپک گیمز کے لئے بے تحاشہ چیزوں کی ضرورت پڑے گی مثلآ کرسیاں .میزیں - پلنگ - یہان تک کہ لباس لٹکانے کے لئے ہینگرز - کھانے کے لئے کٹلری یعنی چمچے کانٹے چھریا ں - -دوبئی وغیرہ مین ایسے کئی چیزین درآمد کی تھیں لیکن برازیل یہ اشیا خود بنانے کی سوچ رہا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے-

علم نجوم اور ستاروں سے قسمت کا حال نکانے والے کہتے ہیں کہ جن افراد کی پیدائش اکتوبر کی ہوتی ہے ان کے اندر کچھ کر دکھانے کا عزم موجزن رہتا ہے -لولا ڈی سلو ا کی زندگی کے نشیب و فراز دیکھ کر لگتا ہے وہ صحیح ہی کہتے ہوں گے -
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3035 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 141007 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments


پاکستان کے ایک کثیرالاقوامی ادارے یعنی ملٹی نیشنل ادارے میں انجینئر میکانیکل کی پوسٹ کے لئے انٹرویو ہو رہے تھے - انٹرویو لینے والا فرد جرمنی کا تھا - میں بھی بطور امیدوار آیا تھا
جرمن انجینئر نے مجھ سے سوال کیا " اگر ہم نے آپ کو یہاں چیف انجینئر منتخب کریں تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے
واپس آکر میں نے اپنے دوسرے انجینئر ساتھیوں کو بتایا تو ہر ایک نے کہا 'واہ کیا سوال کیا ہے --اسی سے اندازہ ہوتا ہے ایک چیف کی قابلیت کا کہ وہ اولین حیثیت کس مسئلے کو دیتا ہے

"
-----------------------------------
تب میں نے دنیا کے کامیاب حکمرانوں ( ملائشیا کے مہا تیر / برازیل کے
لولا ڈی سلوا ) کے کام کا جائزہ لیا - اور حیران رہ گیا - ان کی جو سوچ تھی اس تک کسی کی پہنچ ہی نہیں پاکستان میں --
انہوں نے سب سے پہلے سرکاری دفاتر کی کارکر دگی کو صحیح کیا تاکہ عوام کی شکایات اور مسائل فوری حل ہوں -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Mar, 03 2019
Reply Reply
0 Like
Allama Iqbal aur Quaid e Azam ....Jin Azeem Hasteon ki waja se aaj tum Zinda aur Azad ho. Jinko Aik Dunya Salaam Pesh karti hai ....Jinkay Naqshay Qadam par Hamaray Beghairat Hukmaran chaltay to aaj Hum bhi China ki tarah Super Power hotay....
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on Mar, 09 2019
3 Like
میں نے کالم میں تذکرہ کیا ہے کہ جناب لولا ڈی سلوا اپنے ملک کو اولمپک کھیلوں کی مدد سے ترقی دینا چاہتے تھے - پاکستان کے اخبار روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین کراچی تاریخ جنوری ١٣ - ٢٠١٩ نے یہی بات چین کے لئے لکھی -
سنڈے میگزین لکھتا ہے کہ

ایک مقام پر چین میں قیام پذیر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے تعلیم یافتہ تاجر شیدا ذوالقرنین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بیجنگ میں ساری ترقی سال 2000 کے اولمپکس منعقد کرانے کے موقع پر ہوئی - اسے منعقد کر نے کے لئے شہر کی کئی خامیوں کو دور کر نا پڑا چنانچہ تیز ترین ترقی و بہتری کے کام شروع ہوئے جس نے بیجنگ کے پورے ڈھانچے کو بدل کے رکھ دیا -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Jan, 14 2019
Reply Reply
0 Like
میرا پچھلا تبصرہ ملاحظہ کیجئے -- میں نے لکھا تھا کہ جناب راؤ منظر حیات صاحب ---کالم نگار روزنامہ ایکسپریس نے 7
جنوری 2019 کو ایک کالم لکھا اور لولا ڈاسلویٰ کا تجزیہ پیش کیا کہ نئی حکومت ان پر کرپشن کا مقدمہ چلارہی ہے - راؤ صاحب لولا ڈی سلویٰ کو مجرم سمجھتے ہیں - نیز چار ماہ قبل محترمہ زاہدہ حنا نے بھی کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے لولا ڈیسلویٰ کے بارے میں تعریفی کلمات کہے تھے - میں نے راؤ صاحب کو ای میل کی اور اپنا “ہماری ویب“ میں شائع شدہ مضمون بھیجا کہ یہ لولا ڈی سلوا کے اقتدار سے ہٹنے کے فورا“ بعد لکھا گیا تھا اور میں نے جناب راؤ صاحب کو بتایا کہ “ اس کالم میں ان کی ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنے کا تفصیلی حوالہ دیا تھا کہ اب آئی ایم ایف قرضہ دینے کی بجائے برازیل سے قرضہ لیتا ہے - الٹی گنگا بہہ رہی ہے - میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان کی کوششوں سے برازیل کی چھوٹی چھوٹی کوئلے کا کام کرنے والی کمپنیاں اب دنیا کی نامور کمپنیوں میں شمار ہونے لگی ہیں‌- یہ بھی بتایا تھا کہ یہ کیسے اولمپک گیمز سے ملک کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں
---وغیرہ وغیرہ “ جناب راؤ صاحب نے جواب دیا جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں - ان کا جواب یہ تھا -آپ صحیح ہیں لیکن ان کا یعنی برازیل کے سابق صدر کا تاریک پہلو بھی اپنی جگہ ہے جسے نظر انداز نہیں کر سکتے
محترمہ زاہدہ حنا نے تو لکھ دیا تھا کہ “ برازیل میں کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے جارہا ہے ‘ - ہم نہیں جانتے ------- "
--- میرا خیال ہے کہ بہت ہی زیادہ گہرائی میں جا کر برازیل کے حالات کا مطالعہ کر نے کی ضرورت ہے - اس کے علاوہ جن حکم رانوں نے یہ مقدمہ کیا ہے ان کا جائزہ بھی لینے کی ضرورت ہے -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Jan, 08 2019
Reply Reply
0 Like
Rao Manzar Hayat Sahib nay apna tajzia apnay aik column meiN pesh kia hai ---oon ka tabsarah neechay link maiN hai
--- Jab keh Zahida Hina nay likha hai " Brazil maiN kia ho raha hai aor kia honay ja raha hai --ham nahee jantay
Rao Manzar Hayat ka tajzia yh hai -- woh Lola ko mujrim samajhtay haiN
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Jan, 08 2019
Reply Reply
0 Like
“مہاتیرکی راہ “ کا تذکرہ اس کالم میں کیا گیا ہے - مہاتیر کی راہ کیا تھی - مہاتیر نے اپنی کتاب “ایشیا کا مقدمہ “ جس کا خلاصہ ایک ماہوار رسالے سرگزشت میں بھی چھپا تھا میں لکھا کہ “ ملکی دولت کو جتنا زیادہ ہوغریبوں میں بانٹنا چاہئے - امیروں سے پیسہ چھین کر دینا پرانا -- بیمارانہ طریقہ ہے “
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Dec, 01 2018
Reply Reply
0 Like
جناب زاہدہ حنا نے ایک کالم بولا ڈی سلویٰ کے بارے میں جنگ اخبار میں اگست ٢٠١٨ کو لکھا اور اس میں نواز شریف کا تذکرہ بھی آیا - میں نے زاہدہ حنا سے اختلاف کیا اور زاہدہ حنا کو ای میل کیا کہ دونوں کی ترجیہات میں زمین آسمان کا فرق تھا - جناب لولا ڈی سلویٰ نے سڑکوں کی جانب باکل توجہ نہیں دی اور ایسی حکمت عملی بنائی کہ یہ کام اولمپک والوں کے سپرد ہو گیا - مزید یہ کہ لولا ڈی سلویٰ نے آئی ایم ایف کا قرضہ ختم کروایا
محترمہ زاہدہ حنا نے ای میل کا جواب دیا اور کہا کہ آپ کا کالم شیئر کرنے کا شکریہ - آپ کا کالم کافی دلچسپ ہے
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 02 2018
Reply Reply
0 Like
جناب سعود سلیم بھائی نے اس کالم کی بابت 14 مئی 2017 فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا
““ کیا خوبصورت اور معلوماتی مضمون لکھا ہے. یہ ہوتی ہے لیڈری اور یہ ہوتی ہے خدمت. تیسری بار اصرار کے باوجود اقتدار چھوڑ دیا““
By: Munir Bin Bashir, Karachi on May, 13 2017
Reply Reply
0 Like
اس مضمون کی آمد کا بھی ایک عجب قصہ ہے - ہوا یہ کہ جناب شکور پٹھان صاحب نے اپنی کتاب “ میرے شہر والے “ “ کے لئے خوش بخت شجاعت اور جناب شفیع نقی صاحب کی یادوں پر مشتمل ایک مضمون پہلے فیس بک پر لکھا - اس میں انہوں نے ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ
“ میٹرک پاس شیخ الجامعہ (گورنر سندھ) کے ہاتھوں سے علم کی بے توقیری کراچی کے جذباتی طلباء برداشت نہ کرپائے --------------------- “
تو میں نے کمنٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا “ ‘کیا ڈگری دینے کے لئے ڈگری عطا کر نے والے کا تعلیم یافتہ ہونا اشد ضروری ہے ؟ میں کہتا ہوں نہیں “

اور یہ مضمون لکھ کر انہیں بھیجا - یہ مضمون پڑھنے کے بعد اس پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے مشہور افسانہ نگار اور صاحب کتاب (کتاب کا نام -- بھاٹی گیٹ کا روبن گھوش“ شخصیت جناب امین بھایانی نے اپنی پسندیدگی کا اطہار “لائیک“ کی صورت میں کیا اور لکھا “جتنا عمدہ شکور پٹھان بھائی کا مضمون اتناہی اعلیٰ اس پر تبصرہ اور دیگر تبصرے “
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 21 2016
Reply Reply
0 Like
سینکڑوں ارمان لے کر آئے تھے -- دل میں لاکھوں حسرتیں لے کر چلے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لو لا ڈی سلوا نے جو خواب دیکھے تھے وہ پورے ہو گئے - اگست 2016 میں اولمپک گیمز منعقد ہوئے -
لولا ڈی سلوا کتنا کامیاب ہوا
اس بارے میں میرا مضمون ملاحظہ فرمائیے
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=80154
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Aug, 28 2016
Reply Reply
0 Like
Very nice article, one thing is very important which is call "will" if you have will you can do everything.
By: Syed Anwer Mahmood, Karachi on Oct, 28 2014
Reply Reply
0 Like
i agree with u --thanks
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 28 2014
0 Like
بہت جامع اور سیر حاصل تحریر ہے برازیل کے نابغہء روزگار سابق صدر کے بارے میں ۔ سید صاحب کے پیج پر آپ نے خواہ مخواہ ہی اتنی قابل احترام شخصیت کا ایسے شخص سے موازنہ کر دیا جو ہرگز بھی اس تقابل کا اہل نہیں ہے ۔ ابن الوقتی جس کا شعار ہو اور ایمان فروشی جس کا پیشہ ہو منافقت جس کی سیاست ہو اس کے حصے میں ذلتیں ہی آتی ہیں عزت نہیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Oct, 27 2014
Reply Reply
0 Like
شکریہ
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 28 2014
0 Like
Language: