سکھر -- کیا تھی یا رب -- کیا ہو گئی زندگی

(Munir Bin Bashir, Karachi)
بارے دنیا میں رہو -------- غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یہاں --- کہ بہت یاد رہو

سکھر-- جہان اباسین یعنی دریاؤن کے باپ دریائے سندھ سے سات نہریں نکال کر پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے آبی نظام کا تحفہ دیا گیا --چار نہریں با ئیں جانب اور تین نہریں دائیں جانب-

اس میں ایک نہر نارا میں اتنا پانی بہتا ہے جتنا کہ انگریزون کےاپنے ملک دریائے تھیمز میں بہتا ہے سبحان اللہ

اس نہر کی چوڑائی مصر کی شہرہ افاق نہر --نہر سویز سے ڈیڑھ گنا زائد ہے --ماشااللہ

یہ نہری نظم 1931 میں انگریزی دور حکومت میں پایہ تکمیل کو پہنچا ورنہ اسے قبل یہ سارا پانی سمندر میں جا گر تا تھا-
 


آخری مرتبہ میں یہاں اپنے کزن تنویر حیدر اعوان کے گھر ایک شادی میں شرکت کرنے فروری 2013 کو گیا تھا-

آنکھیں بند کر کے تصور کیجئے کہ نہری نظام کی آمد سے قبل سندھ کی کیا حالت ہوگی-

ایک لق و دق علاقے کا خاکہ ذہن میں آتا ہے جہاں لوگوں نے اپنے پینے کے پانی کا انتظام کرنے کے لئے کنوئیں کھدوائے ہوئے ہیں -- گاؤں سے باہر پانی ذخیرہ کر نے کے لئے جوہڑ بنائے ہوئے ہیں جہاں سے کتے بیل بکریاں گائیں بھی پانی حا صل کر رہی ہیں اور انسان بھی اگر بارش نہیں ہو تی تو یہ جوہڑ بھی خشک ہو جاتے ہیں اور انکی تہہ میں موجود مٹی تڑخ تڑخ کر انسان کی بے بسی پر آنسو بہاتی نظر آتی-

کنوؤں میں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے اور کنویں کا ڈول کیچڑ ملا پانی لیکر واپس آتا -- نتھار کر پانی خود رکھ لیتے اور کیچڑ ملا پانی مویشیوں کو دے دیتے-

کیا تھی زندگی
بستی گھر زمان خاموش
درخت ،جھاڑ چہرے مرجھائے ہوئے
جوہڑ کنوئیں حلق سوکھے ہوئے
کھیت کھلیان ویران -- آبجو بیابان

حکمران و عوام دونوں کنویں کے مینڈک تھے یا پھر گاؤں کے باہر واقع جوہڑ کے مینڈک - نظریں آسمان کی جانب لگی ہوئیں کہ بادل آئیں گے بارش ہو گی اور یہ خشک سالی ختم ہوگی-

اس کے سوا ان کے پاس کوئی حل نہیں تھا

ایسا ہی کچھ تزکرہ ضلع دادو کے جناب محمد حسین پنہور (1925--2007) کرتے ہیں-

وہ کہتے ہیں کہ میں جو بچپن میں دنیا کا نقشہ دیکھا کرتا تھا اس میں سندھ ایک بڑے ریگزار کے طور پر دکھایا جاتا تھا - اور تھا بھی ایسے ہی - جب بارش سالانہ پانچ اینچ ھو اور وہ بھی ایسے کہ ہر دو ڈھائی سال بعد ناغہ کرے تو یہی حال نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا - ہوا میں نمی کی کمی اشد محسوس ہوتی تھی - نمی کی کمی کے سبب ہم کیا جانور کیا انسان دونوں ہی جلدی امراض کا شکار ہو جایا کرتے تھے - -یہی حال درختوں کا تھا -ایسے درخت جو پانی کے بغیر سخت گرمی برداشت کر سکتے تھے -وہ گرمی کے وار تو سہہ لیتے تھے لیکن اس حالت میں کہ اد ھ موئی حالت میں - سال میں ایک مرتبہ ہی گرمی کے موسم میں جب برسات ہوتی تو چاول کی فصل کاشت کر لیتے تھے اور سردیوں میں سبزیاں وغیرہ بو لیتے تھے - کنوؤں کا پانی بھی کوئی قابل رشک نہیں تھا-

کھارا بلکہ کڑوا لیکن ہائے رے مجبوری --اسی پر صبر شکر کر کے زندگی بسر کر نی تھی سو کر رہے تھے - بڑی ہی مشقت آزما تھی زندگی

تب سمندر پار سے کچھ عجیب بولی بولنے والے لوگ آئے - ان کا رہن سہن بھی الگ تھا اور لباس بھی - اور رنگت تو تو بہت ہی حیران کن - لیکن وہ کئی کاموں میں ایک منفرد مہارت رکھتے تھے - دیو ہیکل مشینیں ان کی دسترس میں آکر ایسی کام کرتی تھیں جیسے وہ غلام ہوں - انہوں نے پانی کی تقسیم کے نظام متعارف کرویا اور پانی بزریعہ انہار دور دراز علاقوں میں پہنچا اس کے سبب کاشتکاری میں اضافہ ہوا ----سبزہ لہلہانے لگا اور ہوامیں نمی کا تناسب بھی بڑھا -جلدی امراض سے بھی نجات ملی-
 


حضرت ابو حریرہ سے روایت ہے کہ ایک بدکار عورت نے اوڑھنی سے موزہ باندھا ، کنویں سے پانی نکالا اور ایک پیاسا کتا جو وہاں زبان نکالے ہانپ رہا تھا اور اسے حسرت سے تک رہا تھا اسے پلادیا پس وہ عورت بسبب اس کام کے بخشی گئی -وہ جو سنگسار کی حقدار تھی مغفرت سے دو چار ہوئی-

یہ بھی تو یاد آرہا ہے کہ جو کوئی کنواں کھودے گا - - جب تک اس کنوئیں سے مخلوقات -چرند پر ند - - انسان اور جنات پانی پیتے رہیں گے اس سے مستفید ہوتے رہیں گے - اس کا اجر اللہ تعالٰی کی طرف سے ملے گا-

میں سوچتا ہو ں کہ اس آبی نظام سے کتنے کنوؤں کا پانی مل رہا ہے اور ملتا رہے گا - حساب کتاب لگانے کی سعی کرتا ہوں تو میرا کلکولیٹر ناکام ہو جاتا ہے -- - بیشک اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے جو وہ براہ راست بھی دیتا ہے اور کسی کے ذریعے بھی-

یہ آبی نظام ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انگریزوں کی وساطت سے ہمیں ودیعت کیا ہے-

فبای آلآء ربکما تکذ بان
تم اللہ کی کس کس نعمت سے انکاری ہوگے

یہ اصرار کہ بنانے والوں کو ہم سے کوئی الفت نہیں تھی بلکہ انہون نے اپنی منفعت کا ذریعہ بنایا میں اس پر لکھنا چاہتا ہوں لیکن ایک کتاب کا لکھا ہوا فقرہ ذہن میں کلبلانے لگتا ہے کہ اگر وہ وہ یہ فعل سرانجام نہ دیتا تو تمہیں کتنا نقصان ہوتا-

میں ایک نہر کے کنارے بیٹھا تھا -اوپر درختوں کی دوسری جانب پرندے اڑ رہے تھے- پانی دھیمے دھیمے ہلکی آواز میں بہہ رہا تھا - ایک خوبصورت سی موسیقی کا جنم ہورہا تھا- یہ خیال میرے دل میًں آیا کہ یہ موسیقی کس ساز کی مرہون منت ہے --

اس سوچ کے ساتھ ہی اچانک ایسے محسوس ہوا کہ اس کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی کے ساتھ کچھ انسانی آوازیں بھی شامل ہو گئیں ہیں- - میں نے پلکین جھپکائیں اور کان ان نئی آوازوں کی جانب کر لئے-ایسے لگتا تھا کہ نہر کے خالقین کی آوازیں ہیں-
ساز زندگیوں کے ہم چھوڑ آئے
تمہارے شہر میں جہاں اک چھوڑ آئے

کچھ لوگ ان کے جواب میں کہہ رہے تھے

ساز زندگیوں کے تم چھوڑ گئے
ہمارے شہر میں جہاں اک چھوڑ گئے

ساز زندگیوں کے-------------------------------
ساز زندگیوں کے -----------------------------

ساز زندگیوں کے
آواز یں دھیرے دھیرے کم ہوتی گئیں اور پھر بالکل معدوم ہو گئیں - میں نے سر کو زور سے جھٹکا دیا - ایک پتھر نہرمیں ڈالا اور کہا
اے نہر میری نشانی یاد رکھنا -میرے قدم اللہ کی تعمیل میں یہاں آئے تھے کہ اس نے کہا کہ ارد گرد کی بستیوں کو گھوم پھر دیکھو -- اس کے اندر عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں-
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1509 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 143305 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

روہڑی اسٹیشن کی ایک خاص بات
---ڈائمنڈ ٹریک
پورے پاکستان میں واحد ہے
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 04 2019
Reply Reply
0 Like
بلوچستان کے صحافی اور روزنامہ “پاکستان “ کے فیچر رائٹر نے اپنی ایک فیس بک “چار دوست چار کہانیاں“ فور فرینڈز اسٹوریز پر اس مضمون کے بارے میں ١٨ اکتوبر ٢٠١٧ یوں تعریفی کلمات لکھے
زبردست تحریر ------------- واہ کیا کہنا سر جی ------------------ خوب صورت الفاظ
مین ہماری ویب کے ذریعے سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 18 2017
Reply Reply
0 Like
Language: