’ہماری ویب ‘رائیٹرز کلب۔برقی میڈیا کے مصنفین کا ادارہ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
ادبی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کے لیے پاکستان میں بے شمار ادارے کام کررہے ہیں جن کی ضرورت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اردو کے فروغ کے لیے بھی مخصوص ادارے سرگرمِ عمل ہیں۔اسی طرح ملک میں کتاب کی اشاعت اور کتاب کلچر کو پروان چڑھانے اور مصنفین کو لکھنے اور ان کی تحریروں کو شائع کرنے، ان کی رہنمائی کے لیے بھی کئی ادارے موجود ہیں۔ان اداروں میں انجمن ترقی اردو پاکستان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، آرٹس کونسل آف پاکستان، اکادمی ادبیات پاکستان، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، مجلس ترقی ادب، اردو اکیڈمی، اقبال اکیڈمی، بزم اقبال، ادارہ یادگار غالب، ادارہ مصنفین پاکستان، مجلس یاد گار غالب، جامعہ پنجاب، سندھی ادبی بورڈ، پنجابی ادب اکیڈمی، پنجاب آرٹس کونسل ، ادارہ فروغ قومی زبان کے علاوہ اور بھی کئی حکومتی اور نجی ادارے اردو زبان کے فروغ اور ترقی ، ادب کی ترویج و اشاعت میں سرگرم عمل ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین نے ادب میں اپنا ایک منفرد نظریہ پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا وہ ادب پڑھنے اور لکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ رائیٹر گلڈ اپنا ایک منفرد مقام رکھی ہے۔

کمپیوٹر اور نیٹ کی ایجاد اور جدید ٹیکنالوجی کے عام ہوجانے کے بعد پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ برقی میڈیا (Electronic Media)نے تیزی سے مقبولیت کی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ برقی میڈیا نے پرنٹ میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ کتب، اخبارات و رسائل جو مطبوعہ شکل میں پڑھے جاتے تھے اب ان کی برقی ہئیت عام ہوتی جارہی ہے۔تاہم مطبوعہ کتاب کی جو اہمیت ہے اور پڑھنے کا لطف ہے وہ اپنی جگہ مٹھاس لیے ہوئے ہے۔ برقی میڈیا نے لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو اخبارات اور رسائل کے مدیران کی منت سماجت کرنے، مہینوں بسا اوقات سالوں اپنی تحریر کی اشاعت کا انتظار کرنے سے آزاد کردیا ہے ۔ انٹرنیٹ اور ویب سائٹ کے عام ہوجانے سے لکھنے والوں کو اپنی نگارشات کی اشاعت کے لیے نہ تو اخبارات اور رسائل کے مدیر کے دفتروں کے چکر لگانا پڑتے ہیں، نہ ہی ان کے بے جا نخرے اٹھانا پڑتے ہیں ، ان کی ناک بھویں چڑھی ہوئی دیکھنا پڑتی ہے اور نہ ہی مفت میں اپنی نگارش چھاپ کر مدیران کے احسان تلے دبنا پڑتا ہے۔اب بے شمار ویب سائٹ ایسی معرض وجود میں آچکی ہیں کہ جو لکھنے والوں کی نگارشات کو نہ صرف فوری شائع کردیتی ہیں بلکہ لکھنے والا ویب سائٹ مینیجر یا مدیر کا سامنا کیے بغیر اپنی نگارش نیٹ پر آسانی سے شائع کرا لیتا ہے۔

برقی ذرائع یا (Electronic sources)ادب کی دنیا میں اپنا منفرد اور مسلمہ مقام حاصل کر چکے ہیں۔ برقی ذرائع سے مراد معلومات کے حصول کے وہ ذرائع ہیں جن سے استفادہ کمپیوٹر کے ذریعہ کیا جاسکے یا ان کا مطالعہ کمپیوٹر اسکرین پر کیا جائے۔ ان میں آن لائن ذرائع (Online sources) یعنی ڈیٹا بیسیز (Databases) اور ویب سائٹ(Websites) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ فلاپی ڈسک اور سی ڈیز بھی برقیاتی ذرائع کا حصہ ہیں۔ ان سے کسی بھی وقت کسی بھی جگہ بہ آسانی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ انگریزی میں ڈیٹا بیسیز یا ویب سائٹ کا استعمال بہت عام اور استعمال بہت آسان ہے لیکن اردو زبان میں مواد کو ویب سائٹ پر محفوظ کرنے اور اس سے استفادہ کرنے میں تاحال مشکلات اور پریشانیاں ہیں۔ برقی دنیا میں اردو ویب سائٹ تعداد کے اعتبار سے اتنی کم ہیں کہ انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں کئی ویب سائٹ بنائیں گئیں ہیں جو اردو میں علمی مواد کو سافٹ شکل میں محفوظ کرنے اور استعمال کی سہولت مہیاکر رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی کئی اداروں نے ایسی ویب سائٹ تشکیل دی ہیں جہاں پر اردو زبان میں کتب ، مضامین اور دیگر دستاویزات محفوظ کی جا سکتی ہیں۔پاکستان میں ’ہماری ویب ‘ ایسی ویب سائٹ ہے جس نے اردو میں لکھنے والوں کو ایک ایسا برقی ذریعہ فراہم کردیا ہے جس سے بے شمار لکھنے والے کئی سالوں سے فیض حاصل کر رہے ہیں۔

’ہماری ویب‘(Hamariweb) کا آغاز آج سے ۸ سال قبل ابراراحمد صاحب نے کیا۔ ابرار صاحب نوجوان ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جملہ رموز کے ماہر بھی۔ صحافت ایک پیشہ بھی ہے اور تجارت بھی اسی طرح برقی صحافت بھی ایک پیشہ ہے لیکن اس میں مہارت کا بڑا دخل ہے، اسے تجارت کا درجہ بھی حاصل ہے۔ ہماری ویب بنیادی طور پر تجارت ضرور ہے لیکن خدمت کا ایک ایسا جذبہ یہاں پایا جاتا ہے جس کی بنیاد پر لکھنے والوں کے لیے برقی پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے جو ہر اعتبار سے منفرد اور قابل ستائش ہے۔ ابرار صاحب کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ہیں اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ولولہ رکھتے ہیں۔ ہماری ویب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جدید ویب سائٹ ہے جس کا ایک اہم مقصد لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ اس ادارے کے بارے میں جاننے کا موقع مجھے اس وقت ملا جب اس نے اپنے کالم نگاروں کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا۔ بات ہے مارچ ۲۰۱۴ء کی۔ایک حادثے میں میرے ہاتھ میں فریکچر ہوگیا تھا۔میں نے اپنے بھتیجوں کے تعاون سے اس تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس موقع پر ہماری ویب کے سربراہ ابرار احمد صاحب اور ان کی ٹیم خاص طور پر خواجہ مصدق رفیق صاحب سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ انہوں نے اس ادارے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔اس سے قبل میں ہماری ویب سے اس وقت روشناس ہوچکا تھا جب میں جدہ میں تھا۔یہ بات ہے نومبر ۲۰۱۳ء کی۔ وہیں سے میں نے اپنے مضامین ہماری ویب کو بھیجنا شروع کر دئے تھے اور وہ ہماری ویب کی زینت بن رہے تھے۔ پاکستان آکر بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔۵ ستمبر ۲۰۱۴ء کی بات ہے میں پھر جدہ میں تھا اور ہماری ویب پر میرے مضامین کی سینچری ہوچکی تھی۔ جدہ سے ہی میں نے اپنا مضمون ’ہماری ویب پر میرے مضامین کی سینچری‘تحریر کیا ۔ میرا تعلق ہماری ویب سے مسلسل جڑا رہا ۔ میں مضامین ارسال کرتا وہ ہماری ویب میں آجاتے ہیں۔ اب تک یہ تعداد ۱۳۵ ہوچکی ہے۔ ہماری ویب نے اپنے لکھنے والوں کو جب جب یاد کیا میں نے اس کے اجلاسوں میں شرکت کی اور لکھنے والوں کے حوالے سے ہماری ویب کے لیے اپنی تجاویز دیتا رہا۔

ہماری ویب اس وقت سب سے زیادہ visitکی جانے والی مضامین کی دنیا کی ویب سائٹ ’’ہماری ویبHamariweb‘‘ ہی ہے۔ پہلی میٹنگ مارچ ۲۰۱۴ء میں منعقد ہوئی تھی میں دیگر امور کے علاوہ ہماری ویب کے زیر اہتمام رائیٹرز کلب کے قیام کی ابتدائی گفتگو ہوئی۔ میٹنگ میں موجود احباب نے اس خیال کو پسند کیا اور تعاون کا یقین بھی دلایا ۔اس لیے کہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، بہبود ، کتب و مضامین کی اشاعت کے حوالے سے ملک میں بے شمار ادارے قائم ہیں لیکن آن لائن لکھنے والوں کے لیے ’رائیٹرز کلب ‘کا قیام روایتی اداروں سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں پہلا قدم ہے۔ لکھنے والے جو برقی میڈیا سے وابسطہ ہیں یہ ادارہ ایک خوشگوار احساس کا باعث بنے گا۔ کئی ماہ کے بعد دوسری میٹنگ ۲۰۱۴ کے اختتام پر ہوئی جس میں رائٹرز کلب کے قیام کو حتمی شکل دینے کی منظوری دی گئی۔ تیسری میٹنگ۱۰ جنوری ۲۰۱۵ء کو منعقد ہوئی جس میں ہماری ویب کے تحت رائیٹرز کلب کے قیام اور اس کے ابتدائی عہدیدارں کے ناموں کا اعلان بھی کیا گیا۔رائیٹرز کلب کی تفصیل نیچے دئے گئے
یو آر ایل پر دیکھی جاسکتی ہے۔ //www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=56246۔

رائیٹرز کلب کے نو منتخب عہدیدران :
چیٔر مین ۔۔۔ابرار احمد
صدر۔۔۔۔ڈاکٹر رئیس احمد صمدنی
سیکریٹری۔۔عطا محمد تبسم
کوآرڈینیٹر۔محمد اعظم عظیم اعظم

رائیٹرز کلب کے اغراض و مقاصد:
۱۔رائٹرز کلب کے عہدیداران ہر دو ماہ میں لازمی طور پر ہماری ویب پر لکھنے والوں کی ایک میٹنگ منعقد کیا کریں گے جس میں مختلف ادبی موضوعات کے علاوہ کالم نگاروں کی حوصلہ افزائی کے موضوعات پر بھی گفتگو ہوا کرے گی۔
۲۔ رائٹرز کلب کا کوئی رکن کسی ادبی یا اسی قسم کی کوئی تعمیری سرگرمیوں سے بھر پور تقریب منعقد کرنا چاہتا ہے تو ہماری ویب مکمل تعاون کرتے ہوئے ان کو مدد فراہم کرے گی۔
۳۔ رائٹرز کلب کا کوئی رکن یا لکھنے والا اپنی کوئی کتاب شائع کروانا چاہتا ہو تو ہماری ویب اس سلسلے میں بھی اس سے مکمل تعاون کرے گی ، ساتھ ہی کتاب کی تشہیر میں بھی مدد فراہم کرے گی۔
۴۔ ہماری ویب پر لکھنے والے احباب کے تمام تحریی مجموعے پر مشتمل ہر ممبر کی ڈیجیتل بک کی اشاعت سہ ماہی اور سالانہ بنیاد پر کی جائے گی۔
۵۔ رائٹرز کلب کا کوئی بھی رکن محسوس کرتا ہے کہ کسی اور ادبی ، تعلیمی و ثقافتی ادارے کے تحت ہونے والی ادبی یا تعلیمی تقریبات میں ہماری ویب کو بھی شرکت کرنی چاہیے تو وہ ہماری ویب کی انتظامیہ کو آگاہ کرے ، تاکہ اس تقریب میں شرکت کو یقینی بنا یا جاسکے۔
۶۔ رائٹرز کلب کے اراکین ہماری ویب پر لکھنے والوں کی رہنمائی بھی کریں اور جو لکھنا چاہتے ہیں انہیں اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازیں گے۔
۷۔ رائٹرز کلب کے ذریعے ہماری سیب کے کسی بھی کالم نگار کی کتاب کی رونمائی بھی ممکن ہوسکے گی اور اس تقریب میں کوشش کی جائے گی کہ ادب سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ شخصیات کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے۔
۸۔ رائٹرز کلب کے قیام کا یک مقصد یہ بھی ہے کہ ہماری ویب پر لکھنے والے ایک دوسرے سے مستقل رابطے میں رہیں اور ایک دوسرے کو جان سکیں۔
۹۔ رائٹرز کلب کے ممبران مختلف سماجی موضوعات کے حوالے سے تقریب کا انعقاد بھی کرسکیں گے جس پر باقاعدہ رپورٹ بنا کر شائع کی جائے گی اور پریس ریلیز بھی جاری کی جائے گی۔
۱۰۔ سالانہ رائٹر ایوارڈ کا انعقاد ایڈیٹوریل بورڈ کی نگرانی میں کیا جائے گا۔ جس میں سالانہ بہترین کالم نگار اور شعرا کاانتخاب کیا جائے گا۔

رائیٹرز کلب کے اغراض و مقاصد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کلب آن لائن لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی ہر طرح رہنمائی بھی کرے گا۔ نئے لکھنے والوں کو برقی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار پر آمادہ کرے گا۔ کتاب کلچرکے فروغ کے لیے کام کرے گا۔ لکھنے والوں کی برقی کتب وقت کے ساتھ ساتھ مرتب ہوتی جائیں گی جنہیں ہماری ویب پر ایک وقت میں ایک ساتھ پڑھا جاسکے گا۔

ہماری ویب پر مضامین کی تعداد
ہماری ویب پر لکھنے والوں کی تعداد پانچ سے چھ ہزار ہے جو ہر موضوع پر اپنی رائے کا اظہار آزادی سے کر رہے ہیں۔ مضامین کی تعداد ہر روز بڑھتی جاتی ہے۔ ذیل میں موضوعات کے اعتبار سے دیے گئے اعداد و شمار سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہماری ویب پر مختلف موضوعات پر کس قدر مواد موجود ہے ۔ موضوعات اور مضامین کی تعداد حسب ذیل ہے۔ مختلف موضوعات پر مضامین کی تعداد ۲۸ جنوری ۲۰۱۵ء تک کی ہے۔ اس تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔
۱۔ سیاست(Politics) 15824
۲۔ معاشرہ اور ثقافت(Society and Culture) 8266
۳۔ مذہب(Religion) 6622
۴۔ ادب و مزاح(Literature and Humor) 2129
۵۔ متفرقات(Other/Miscellaneious) 2084
۶۔ تعلیم(Education) 1594
۷۔ صحت(Health) 1100
۸۔ معروف شخصیات(Famous Personalities) 969
۹۔ سائنس؍ٹیکنالوجی(Science & Technology) 935
۱۰۔ سچی کہانیاں(True Stories) 431
۱۱۔ کھیل(Sports) 336
۱۲۔ تعارف کتب(Book Introduction) 322
۱۳۔ ناول(Novel) 302
۱۴۔ شعر و شاعری(Poetry) 247
۱۵۔ بچوں کی دنیا(Kinds Corner) 228
۱۶۔ انٹر ٹینمنٹ(Entertainment) 219
۱۷۔ سیر وسیاحت(Travel & Tourism) 179
۱۸۔ کیرئر(Career) 164
۱۹۔ ہنر(Arts) 44
کل تعداد : 41995

’ہماری ویب ۔رائیٹرز کلب‘ کے قیام کا اعلان ایک ای میل کے ذریعہ کیا گیا۔ جس میں ہماری ویب ۔رائیٹرز کلب کے عہدیداران کی تفصیل کے علاوہ کلب کے اغراض و مقاصد بھی درج تھے۔ ہماری ویب پر مطالعہ کرنے والے بے شمار احباب نے ہماری ویب کے اس فیصلے کو سراہا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ بہت سے دوستوں نے اپنی آرا سے بھی نوازا۔ان تما م احباب کے شکریہ ، ان کی رائے ہمارے لیے قابل قدر ہے۔

مَیں تو بس ایک لکھاری ہوں۔ گزشتہ چار دہائیوں سے لکھ رہا ہوں۔ جو کچھ لکھا ہے اس کی تفصیل میں یہاں جانے کا موقع نہیں۔ صرف اس قدر بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری نصابی کتب جو پاکستان کے مختلف تعلیمی بورڈوں اور مختلف جامعات کے بی اے کے نصاب میں شامل ہیں کے علاوہ شخصی خاکوں پر مشتمل دو مجموعے ’یادوں کی مالا‘ اور’ جھولی میں ہیرے اور موتی‘شائع ہوچکے ہیں۔ اپنے جدامجد کی شخصیت اور شاعری پر کتاب ’شیخ محمد ابراہیم آزادؔ۔ شخصیت و شاعری‘ ۲۰۱۳ء میں شائع ہوئی۔ میرے مضامین کی تعداد تو ۳۰۰ سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ ان میں سے’ ہماری ویب‘ پر ۱۳۵ مضامین آن لائن ہیں۔ ہماری ویب نے میرے تحریری سرمائے کو برقی فارم میں محفوظ کیا اس وجہ سے میں ہماری ویب سے متاثر ہوتے ہوئے اس کے بلائے گئے اجلاسوں میں شرکت کرتا رہا۔ یہ بات ہر گز ہرگز میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ رائیٹرز کلب میں مجھے کوئی عہدہ لینا ہے۔ ہماری ویب کی تیسری میٹنگ میں شرکت کا مقصد ہماری ویب کے اس کاز(مقصد) کو تقویت دینا تھی کہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ خاص طور پر نئے لکھنے والوں کی اس لیے کہ مجھے اس کا بخوبی احساس ہے کہ لکھنے کے بعد اس تحریر کا شائع ہونا کس قدر مشکل مر حلہ ہوتا ہے۔ اخبارات اور رسائل کے مدیران نئے لکھنے والوں سے کس طرح کادل شکن طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ابرار صاحب جو ہماری ویب کے سربراہ اور رائیٹرز کلب کے چیئرمین بھی ہیں نے رائیٹرز کلب کے عہدیداران کا اعلان کیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ انہوں نے مجھے اس ادارے کا صدر مقرر کردیا۔ پہلے تو خیال ہوا کہ معذرت کر لینی چاہیے لیکن اس خیال سے خاموش رہا کہ عزت دی جارہی ہے ، اعزاز دیا جارہا ہے انکار کا عمل اﷲ کو برا نہ لگ جائے ۔ پروردگار نے تو واضح طور پر کہا ہے کہ ’جسے چاہیں عزت دیں جسے چاہیں ذلت دیں‘۔ جب اﷲ کے بندے عزت دے رہے ہیں تو یہ من جانب اﷲ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب میں نے پروردگار کا شکر ادا کیا اور دل ہی دل میں دعا کی کہ پروردگار مجھے اس امتحان میں سرخرو کرنا۔ مجھے جس کام کے لیے منتخب کیا جارہا ہے اسے خوش اسلوبی سے سر انجام دینے کی حمت و طاقت بھی عطا فرمانا۔ حالانکہ میں نے دوسری میٹنگ میں یہ بات کہی تھی کہ رائیٹرز کلب کے عہدے نوجوانوں اور توانا احباب کو دیے جائیں ۔ میں اور میری عمر کے احباب اپنی زندگی میں اس طرح کے عہدوں سے اچھی طرح عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ اب خواہش اور تمنا نہیں صدر یا سیکریٹری بننے کی۔ لیکن دوستوں نے پھر بھی ذمہ داری ناتواں کاندھوں پر ڈال دی۔ پروردگارکامیابی دینے والا ہے۔

رائیٹرز کلب عنقریب اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردے گا۔ ہماری ویب پر لکھنے والے اپنی تجاویز اور آراء سے آگاہ کرتے رہیں۔ کسی بھی نئے لکھنے والے کو کسی بھی قسم کی مشکل پیش آئے وہ کلب کے کسی بھی عہدیدار سے رابطہ کرسکتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے رابطہ کرنا چاہے تو میرے ای میل
[email protected]یا سیل نمبر 03332142076پر رابطہ کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر رئیس صمدانی
صدر: ہماری ویب ۔رائیٹرز کلب
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1508 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 613 Articles with 405429 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

The major task it has owned by developing the writers club is to help the youth,empower the youth to make them partners in in all sort of planing ,financing,implementing and monitoring the the running development projects to make the things fair,free and transparent so the service could be delivered to the communities at on time and at affordable cost with a rigorous accountability of the CPI raiser,minting billions of rupees extra from the poor per day.
By: Mohamamd Baig, Islamabad on Jan, 16 2016
Reply Reply
0 Like
This writers club is a major source of information for millions of people and help to exchange views on different issues of the society,will empower the communities to have their say and get involved in making the country prosper and the managers accountable so as to establish a culture of fair,free and transparent activities in the society.
By: Mohamamd Baig, islamabad on Jan, 16 2016
Reply Reply
0 Like
Congratulation! Its very nice Sir. MashaAllah.
By: Dr. Nasreen Shagufta, Karachi on Apr, 11 2015
Reply Reply
0 Like
sir ap ko boht boht mubark ho mairi dua hai k hamari web boht trqi kry ap k bary main or web k bary main tfseel se jan kr boht khushi hoi
By: naila rani, karachi on Apr, 10 2015
Reply Reply
1 Like
السلام علیکم
جیسا سوچا ویسا پایا
ڈاکٹر صاحب آپکو اور ہماری ویب کی پوری ٹیم کو رائٹیرز کلب کے انعقاد پر دلی مبارکباد دیتا ہوں۔
اب آپ سے اس دعا کے ساتھ اجازت
اللہ آپکو اور پوری ٹیم کو دنیا اور آخرت میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا کرے آمین
ڈاکٹر تصور حسین مرزا
By: Dr Tasawar Hussain Mirza, Jhelum on Apr, 02 2015
Reply Reply
1 Like
very nice to see this write up. thanks sir.
By: shafiq, Kot addu on Feb, 18 2015
Reply Reply
1 Like
Thora improve kren is website ko thats really good platform. I suggest k Issay STANDARD ki website bnaen... or chhoti moti shikayaten ni honi chaiyen... such as:
I'm unable to delete my own mistaken comment
Its hard to find articles w.r.t writer name
Author should have option to delete or edit name/topic of his article
By: Muhammad Affan Ahmed, Multan on Feb, 16 2015
Reply Reply
1 Like
By: Muhammad Affan Ahmed, Multan on Feb, 16 2015
Reply Reply
1 Like
ڈاکٹر صاحب آپ نے تعارفی تحریر لکھ کر بہت بڑا کام کر دیا ہے اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین
By: Mir Afsar Aman, Karachi on Feb, 04 2015
Reply Reply
2 Like
bohoth bohoth mubarak ho aap ko............Allah Kareem is web site ko shorath ki bulandiyon per lay jai ameen
By: farah ejaz, dearborn, mi USA on Feb, 02 2015
Reply Reply
1 Like
its really very very nice .....
By: hira, gojra on Feb, 02 2015
Reply Reply
1 Like
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب! آپ کے لئے نیک تمنائیں و دعائیں ہے کہ تادیر آپ کی سرپرستی میں یہ کلب بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے،نوجوان لکھاریوں کو آپ جیسے کہنہ مشق لکھاری کا تعاون و رہنمائی بھی چاہیے،آپ انکو مستقبل کے لئے تیار کریں یہ بھی کلب کے صدر کا فریضہ ہو نا چاہیے۔۔۔!!!
By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, Rawalpindi on Feb, 01 2015
Reply Reply
1 Like
Congratulations! Hope under your president-ship Hamariweb writers club will reach to its goal, Insha Allah.
Prof. Asghar Karim Khan
By: Asghar Karim Khan, Karachi on Feb, 01 2015
Reply Reply
1 Like
جزاک اللہ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر میں نے اوپر دیئے گئے موضوعات میں سے کسی پر کچھ پڑھنا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیئے۔
اللہ حافظ۔
By: Muhammad Bashir, LAHORE on Jan, 31 2015
Reply Reply
1 Like
Language: