اُداس 2015ء٬ علم و ادب کی شخصیات جن کی سانسوں کا سفر 2015ء میں اختتام پزیر ہوا

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

(نوٹ : اس فائل کی تیاری میں جناب عقیل عباس جعفری صاحب کی فہرست سے بہت مدد ملی، یہ فہرست راشد اشرف صاحب کی درخواست پر جعفری صاحب نے راقم کو ارسال کی۔ اس قلمی تعاون پر میں عقیل عباس جعفری اور راشد اشرف صاحب کا تہہ دل سے شکر گزارہوں۔ ہماری ویب کے مصدق رفیق صاحب نے فائل کو آن لائن کرنے میں فنی مہارت فراہم کی ، ان کا بھی ممنون ہوں)

انسان فانی ہے ، جو روح اس دنیا میں آئی ہے اسے ایک نہ ایک دن واپس لوٹ جانا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے ’ہر متنفس کو موت کا مزاہ چکھنا ہے‘ (سورۃ الانبیاء ،آیت 35)، ’اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اُس نے موت کا ) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے (سورۃ النساء، آیت 78 )،انسان چھوٹا ہو یا بڑا، عالم ہو یا اَن پڑھ، بچہ ہو یا جوان، عورت ہو یا مرد اسے وقت مقررہ پر اپنے مالک حقیقی کی جانب لوٹ کر چلے جانا ہے۔ دنیا کی آبادی ایک سروے کے مطابق جولائی 2015ء میں 7.3بلین بتائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی 2100ء میں 11.2بلین تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جس کی آبادی وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی کل آبادی 188,144,040 ہے۔ آبادی کے اعتبار سے اس وقت پاکستان دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ ایک سروے کے مطابق 1955ء میں پاکستان آبادی کے اعتبار سے 14ویں نمبر پر تھا اب پاکستان آبادی کے اعتبار سے 6 نمبر پر آچکاہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا سے جانے والوں کی تعداد ہر ایک ہزار میں سے 8.9 فیصد ہے۔

خوشی اور غمی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ خوشیاں انسان کے لیے سکون و راحت کا باعث ہوتی ہیں تو افسردگی اور افسوس ناک واقعات اسے دکھی کردیتے ہیں۔ خوشی کے ساتھ غم اور غم کے ساتھ خوشی باہم جڑے ہوئے ہیں۔ 2015ء میں بے شمار لوگ دنیا سے رخصت ہوئے ۔ علم و ادب کی دنیا کی جن معروف شخصیات کی سانسوں کا سفر اس سال اختتام پزیر ہوا وہ وعلم و ادب کا سرمایہ تھیں۔ ان کی موت سے علم و ادب کی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ برسوں پر نہ ہوسکے گا۔ذیل میں ان شخصیات کے بارے میں اختصار سے معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ اگر کوئی علمی و ادبی شخصیت کا ذکر نہ آسکا ہو تو اس کے لیے معذرت ۔

جنوری2015ء
اشفاق ہاشمی (۔9جنوری2015ء)

آزاد کشمیر کے معروف دانش ور اور قلم کار دنیا سے رخصت ہوئے۔

ڈاکٹر محمد یوسف میمن (۔16جنوری 2015ء)
ڈاکٹر یوسف میمن کا تعلق سندھ کے شہر میر پور خاص سے تھا۔ تاریخ ان کا شعبہ تھا،کتاب اور کتب خانوں سے دلی وابستگی رکھتے تھے۔ کتابیں جمع کرنے کے شوقین تھے انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری ’یوسف لائبریری‘ قائم کی ہوئی تھی جس میں ہزاروں نادر و نایاب کتب ہیں۔ یہ کتب خانہ ان کا ذاتی ضرور تھا لیکن اس سے ہر خاص و عام استفادہ کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر یوسف میمن سے میرے ذاتی مراسم تھے، انتہائی سادہ طبیعت انسان تھے۔ جب بھی کراچی آتے مجھ سے ملاقات کرتے یا موبائل پر رابطہ ضرور کیا کرتے تھے۔ میں نے اپنی ذاتی لائبریری سے چند سو کتابیں ڈاکٹر یوسف میمن کی ’یوسف لائبریری‘ کے لیے عطیہ کی تھیں۔

علی سفیان آفاقی (۔27جنوری 2015ء)
معروف صحافی ، ادیب اور فلم ساز

منشی منظور (۔27جنوری 2015ء)
فلمی شاعر

بیدل جونپوری (۔29جنوری 2015ء)
معروف شاعر

فروی2015ء
داؤد رضوان (۔25فروری 2015ء)

اردو شاعر

احمد ہمدانی (۔26 فروری۔ 2015)
نقاد ، شاعر ، براڈ کاسٹر احمد ہمدانی کا انتقال 26فروی 2015ء کو ہوا، وہ طویل عرصہ ریڈیو سے منسلک رہے، ان کی تصانیف میں پیاسی زمین اور سلسلہ سوالوں کا شامل ہیں۔

مارچ2015ء
ادا جعفری(1924۔12مارچ 2015ء)
ادا جعفری، اردو کی معروف شاعرہ، انتقال کراچی میں 13مارچ 2015ء کو ہوا۔وہ 22 اگست 1924ء کو ہندوستان کے شہر بدائیوں میں پیدا ہوئیں، نام عزیز جہاں تھا، 1947ء میں نور الحسن جعفری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور اس کے بعد اداؔ تخلص کرتے ہوئے اداؔ جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ڈائیری لکھنے کی عادت بچپن سے ہی تھی، انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری ’جورہی سوبے خبری رہی‘ کے عنوان سے لکھی۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’تمغہ امتیاز‘ سے نوازا گیا، ادبی تنظیموں کی جانب سے بھی پزیرائی ہوئی اور ایوارڈ دئے گئے۔ان کے مجموعہ کلام میں ’میں ساز ڈھونٹتی رہی‘،’ شہردرد‘،’ ساز سخن بہانہ ہے‘،’ موسم موسم‘ اور’ جورہی سو بے خبری رہی‘شامل ہیں۔ ان کی ایک غزل جسے استاد امانت علی نے گیا ’ہونٹو پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے‘ بہت مقبول ہے۔


خواجہ سید حسن ثانی نظامی (1932۔15مارچ 2015)
خواجہ سید حسن ثانی نظامی 15مارچ 2015ء کو 83 سال کی عمر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ درگاہ حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے سجادہ نشین ، معروف ادیب و دانشور خواجہ حسن نظامی ؒ کے فرزندِ ارجمند تھے۔ وہ بیک وقت ایک صوفی، عالم دین، باکمال ادیب اور دانشور اور خانقاہی نظام کے علمبردار تھے۔ خواجہ سید حسن ثانی نظامی ؒ کے والد بزرگوار خواجہ حسن نظامی ؒ اپنے وقت کے معروف ادیب، دانشور ور او ر سجادہ نشین تھے۔ حسن ثانی نظامی بھی اپنے والد ماجد کی طرح صاحب طرز ادیب تھے۔ وہ اپنے والد بزرگوار کے جاری کردہ ماہنامہ ’منادی‘ سے وابستہ رہے ، یہ رسالہ 1955 ء سے ان کی ادارت میں مسلسل جاری رہا، جریدہ ’منادی‘ کے اوراق خواجہ سید حسن ثانی نظامی ؒ کی علمیت اور قابلیت کا عملی اظہار ہیں۔ ان کا انتقال ان کے اپنے گھر واقع بستی حضرت نظام الدین میں ہوا، تدفین درگاہ شریف کے ’خواجہ ہال‘ میں ان کے والد حضرت خواجہ نظام الدین کی قبر اطہر کے ساتھ تدفین عمل میں آئی۔


ماجد صدیقی (۔19مارچ 2015ء)
شاعر، ادیب اور قلم کار

اپریل2015ء
شاہدہ احمد ( ۔6اپریل 2015ء)
ادیبہ و قلم کار

سید مصطفی علی بریلوی ( ۔7اپریل 2015ء)
سید مصطفی علی بریلوی 7اپریل 2015ء کو دنیا سے رحلت ہوئے۔ وہ ہندوستان کے شہر بریلی میں 17 ستمبر 1923ء کو پیدا ہوئے تھے۔ شعبہ زراعت سے وابستہ رہے ، تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا، 1950 ء میں پاکستان ہجرت کی، شروع میں ٹنڈو آدم میں آباد ہوئے پھر کراچی آگئے اور انتقال تک کراچی ہی میں رہے۔ وہ 1949سے 1942 ء تک رسالہ ’’مصنف‘‘ علی گڑھ کے نائب مدیر رہے، سید الطاف علی بریلوی ان کے چچا تھے۔ 1951 ء میں آل پاکستان ایجو کیشنل کانفرنس سے وابستہ ہوگئے اور سید الطاف علی بریلوی کے انتقال تک رسالہ ’’العلم ‘‘ اور ایجو کیشن کانفرنس کے معاون کی حیثیت سے کام کرتے رہے بعد ازاں رسالے کے مدیر اور آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے سیکریٹری کے فرائض انجام دیے۔ تعلیمی موضوعات پر ان کا زیادہ کام ہے، کئی کتابیں تحریر کیں،ان کے موضوعات میں تعلیم اور تاریخ شامل تھے۔ اخبارات میں کالم بھی تحریر کیے۔ان کی تصانیف میں نواب بہادر خان روہیلہ، غلام قادر خان روہیلہ، مسلمانان سندھ کی تعلیم،، مسلمانان پنجاب کی تعلیم، مسلمانان بنگال کی تعلیم، ، مسلمانان سرحد کی تعلیم، انگریزوں کی لسانی پالیسی، سید الطاف علی بریلوی۔ حیات و خدمات، ، سندھ کی تعلیمی حالت اور ہمارے مسائل شامل ہیں۔ کراچی میں تدفین ہوئی۔

انجم محمود اسد ( ۔23اپریل 2015ء)
جوان سال ادیب، افسانہ نگار

حیات نظامی ( ۔26اپریل 2015ء)
معروف ادیب

ڈاکٹروحید الرحمٰن( یاسر رضوی) ( ۔29اپریل 2015ء)
ڈاکٹر وحید الرحمٰن (یاسر رضوی) جواں سال استاد، صحافی، ادیب و قلم کار تھے۔ وہ کراچی میں دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ ڈاکٹر وحید الرحمٰن نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز صحافی کی حیثیت سے کیا وہ یاسر رضوی کے نام سے صحافت کی دنیا میں معروف تھے۔ مذہبی ذہن کے مالک تھے۔ ملازمت، صحافت کے ساتھ ساتھ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ ابتداء میں وفاقی جامعہ اردو میں لیکچرر ہوئے بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئے۔ یاسر ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انتہائی محنتی اور اپنے والد کی مانند ملنسار، شگفتہ مزاج ، دردمند دل کے مالک تھے۔ دہشت گردوں نے انہیں کس جرم کی اتنی بڑی سزا دی کسی کو نہیں معلوم۔ محمود احمد لئیق نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ ان کا اخلاق اور مردانہ وجاہت دیکھ کر فیض کا شعر یاد آگیا ’وہ تو وہ تمہیں ہوجائے گی الفت مجھ سے ․․․اک نظر مرا محبوب نظر تو دیکھو‘۔ محمود لئیق نے یاسر کی شہادت کے حوالے لکھا کہ اس کے جسدِ خاکی پر نظر پڑی، تو یاس یگانہ چنگیزی یاد آگئے ـ جامہ زیبوں کو کفن نے بھی دیا وہ جوبن ․․․ دوڑ کے سب نے کلیجے سے لگانا چاہا‘۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ کفن پوش یاسر کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر احمد ندیم قاسمی کا شعر ذہن میں گردش کر لگا ’اِک عمر کے بعد مسکرا کر ․․․ تو نے مجھے رُلا دیا ہے‘۔ یاسر رضوی نے مختلف موضوعات پر لکھا وہ جامعہ کراچی کے پسند کیے جانے والے استادوں میں سے تھے۔ کچھ دن قبل انہیں شیخ الجامعہ کا میڈیا ایڈوائیزر بھی بنا دیا گیا تھا۔ زندگی نے وفا نہ کی یاسر بے بہا علمی و ادبی خوبیوں کے مالک تھے۔


مئی 2015ء
میجر جنرل (ر) احتشام ضمیر ( ۔4 مئی2015)

کالم نگار

محمود مرزا ( ۔11 مئی2015)
دانشور و ما ہر معاشیات

عبد الحفیظ احمد ( ۔14 مئی2015)
ڈائریکٹر اسلامک پبلی کیشنز

اعزاز احمد اذر ( ۔16مئی2015)
شاعر اور براڈ کاسٹر

حسن جاوید ( ۔30 مئی2015)
جواں سال شاعر اور صحافی

حیات نظامی ( ۔26 مئی2015)
حیات نظامی ، شاعر کا انتقال 26 اپریل 2015ء ہوا، ان کی تصانیف میں ترنم، عند لیب شادانی :شخصیت و فن، عشق آبادی اور شوخِ سرخرو شامل ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب اصغر(30مئی 2015ء)
ادیب ، ماہر تعلیم اور اقبالیات کے ماہر

جون2015ء
قدیر غوثی ( ۔3جون 2015)
قدیر غوثی ،افسانی نگار ، ڈرامہ نگار کہانی کار اس دنیا سے 3 جون 2015ء کو رخصت ہوئے۔

رفیع تبسم : (16جون2015ء)
اردو اور پنجابی کے شاعر

واحد بشیر : (21جون2015ء)
انقلابی رہنما

شاہدہ تبسم (24جون2015ء)
شاعرہ

سید مبارک شاہ : (27جون 2015ء)
اردو اور پنجابی کے شاعر

نور زماں ناوک : (28جون2015ء)
اردو اور پنجابی کے شاعر

ڈاکٹرآفتاب اصغر ( ۔ 2015)
ڈاکٹر آفتاب اصغر ، علم دوست، فارسی زبان کے ادیب نے 2015 ء میں اس دنیا کو خیر باد کہا۔

جولائی2015ء
ڈاکٹر بشیر احمد مسعود: (2جولائی 2015ء)
شاعر

عبداﷲ حسین ( 1931۔ 2015)
’اداس نسلیں‘کے خالق عبداﷲ حسین 4 جولائی 2015 ہفتہ کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ دنیائے ادب ایک بلند پائے ناول نگاراور کہانی نویس سے محروم ہوگئی۔ عبداﷲ حسین کا ناول’اداس نسلیں‘ پاکستان، ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں پسند کیا گیا۔ ان کے اِس شہرہ آفاق ناول کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی بے حد پزیرائی ملی ۔ اس ناول نے عبداﷲ حسین کو دنیا کے چوٹی کے ناول نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ پاکستان کی حکومت نے ان کی خدمات پر 2012 میں پاکستان کے سب سے بڑے لٹریچر ایواڈ ’کمال فن‘ سے نوازا۔ جبکہ ان کے اس ناول پر برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک دستاویزی پروگرام بھی ترتیب دیا۔ آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 2002میں انہیں رائل سوسائیٹی آف لٹریچر کی فیلو شب بھی دی گئی۔ عبداﷲ حسین ’اداس نسلیں‘ کے علاوہ کئی ناولوں اور کہانیوں کے خالق بھی تھے۔ ان کے ناولوں اور کہانیوں میں ’قید 2008 ‘، ’باگھ‘ ، ’نادار لوگ 2008‘، ’رات 2010 ‘، ’فریب‘،’نشیب2011‘، باغ2006 ‘ اور مجموعہ عبداﷲحسین : اداس نسلیں، باگھ،قید، رات، نشیب 2007 ‘میں شائع ہوئے۔ ان تمام تر ناولوں اور کہانیوں میں عبداﷲ حسین کو جو عروج اور شہرت ’اداس نسلیں‘ نے دی وہ قابل ذکر ہے۔ یہ ناول انہوں نے 25 برس کی عمر میں لکھنا شروع کردیا تھا جو پانچ برسوں میں مکمل ہوا۔ ناول کی تخلیق میں انہوں نے انتہائی محنت اور تحقیق و جستجو کی۔
عبداﷲ حسین 14اگست1931ء میں ہندوستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اور گریجویشن زمیندار کالج گجرات سے کیا۔


رحمت اﷲ شوباز (19 جولائی2015ء)
بلوچی زبان کے شاعر

ڈاکٹر راج ولی (21جولائی2015ء)
پشتو زبان کے شاعر

ڈاکٹر حسرت کا سکنجوی (30جولائی2015ء)
ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی کا انتقال جولائی2015ء کو ہوا وہ تحقیقی موضوعات ، ناول ، انشائیے ، سندھی زبان سے تراجم کیا کے خالق تھے۔

دانیال طریر(31جولائی2015ء)
دانیال طریر کا انتقال31 جولائی 2015ء میں ہوا، ایک رسالے کے مدیر بھی رہے، ان کی تصانیف میں آدھی آتما، بلوچستانی شعریات کی تلاش، خدا میری نظم کیوں پڑھے گا، معنی فانی جدیدیت مابعد جدیت اور غالب ان کی قابل ذکر تحریریں ہیں۔


وقار محسن ( جولائی۔ 2015)
وقار محسن، بچوں کے معروف ادیب، کراچی میں جولائی2015ء میں انتقال ہوا، وہ ہمدرد نونہال میں تسلسل کے ساتھ بچوں کے لیے لکھا کرتے تھے۔

اگست2015ء
طارق محمود : (6 اگست2015ء)

طارق محمود کا انتقال 6 اگست2015ء ہوا، وہ جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے سربراہ رہے، کئی کتابوں تخلیق کیں، فرہنگ اصطلاحات میں ان کا نام نمایاں ہیں۔

ثاقب شیخ : (6 اگست2015ء)
ممتاز اداکار

پرویز بزمی : (13اگست2015ء)
شاعر

مضطر عارفی : (14 اگست2015ء)
ماہر تعلیم

کامران ندیم : (19 اگست2015ء)
اردو کے شاعر، مقیم امریکہ

آفتاب کاوش : (30 اگست2015ء)
شاعر

ستمبر2015ء
ڈاکٹر اصغر علی شیخ (4ستمبر2015ء)

ادیب، ماہر تعلیم

ریاض احمد شاہ : (14ستمبر2015ء)
پنجابی زبان کے شاعر و ادیب

عطیہ نیازی: (22ستمبر2015ء)
شاعرہ، مقیم امریکہ

عبد العزیز عرفی: (28ستمبر2015ء)
عالم دین

اکتوبر2015ء
جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال( 1924۔3 اکتوبر2015)

جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال ،شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے فرزند ِ ارجمند 3 اکتوبر 2015 کو عالم فانی سے عالم جاودانی میں چلے گئے۔ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کی قانون و انصاف کے پیشے میں اعلیٰ خدمات ہیں،انہوں نے قانون و انصاف کی بالا دستی اور علم و فضل میں منفرد و اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ وہ ایک مصنف، مورخ و محقق بھی تھے انہوں نے قانون، پاکستان، علامہ اقبال کے علاوہ اپنی آپ بیتی’اپنا گریباں چاک‘ بھی تحریر کی۔ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، ابتداء میں وکالت کرتے رہے پھر جج کا عہدہ قبول کر لیا اور اسی حیثیت سے ملک و قوم کی خدمات کی۔قانون کے علاوہ اسلامی تاریخ ، سیاسیات، فلسفہ اور علامہ اقبال ان کے خاص موضوعات تھے۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں اپنی تمام تر صلاحیتیں تصنیف و تالیف میں صرف کیں اور متعدد کتابیں لکھیں۔ان میں اپنی سوانح حیات ’اپنا گریباں چاک‘، ’افکار اقبال‘، ’نظریہ پاکستان‘، ’اسلام میں ریاست کا تصور‘،’’اسلام اور پاکستان‘، ’قائد اعظم کا ورثہ‘ ، Legacy of Quaid-e-Azam (1968, published in English and Urdu)، ’زندہ رُو د(تین جلدیں، 1984 ( ‘، ’Ideogy of Pakistan (1959)‘، Stray Reflections: A Note-Book of Iqbal (1961)، Mai Lala Faam (1968, Collection of papers on Iqbal, in Urdu)،انہوں نے ’خطبات اقبال‘ کے تحت اقبال پر قابل ذکر تخلیقی کام کیا، Pakistan and the Islamic Liberal Movement (1994).،’جہان جاوید‘ شامل ہیں۔


سلیم باسط: (11 اکتوبر2015)
صحافی

یونس بٹ : (14 اکتوبر2015)
صحافی

ملک غلام حیدر صفدر : (16 اکتوبر2015)
صحافی

نسیم الدین خواجہ : (21 اکتوبر2015)
بچوں کے ادیب

ارشاد جالندھری: (30 اکتوبر2015)
ارشاد جالندھری ،شاعر و ادیب تعلق پنجاب سے تھا، 30اکتوبر کو انتقال ہوا، وہ ڈاکٹر بیدل حیدری کے شاگرد تھے۔ ان کا کلام غیر مطبوعہ ہے۔

نومبر2015ء
خالد محمود : ( ۔2نومبر 2015)

پنجابی وکی پیڈیا کے بانی

اشتیاق احمد ( ۔17نومبر 2015)
اشتیاق احمد ، معروف کہانی نویس، ناول نگار کا انتقال 17نومبر2015ء کو ہوا، اشتیاق احمد کی ادبی خدمات45سالوں پر محیط ہیں، ان کے ادبی سفر کا آغاز 1970ء میں ہوا تھا جو 2015ء میں اختتام پزیر ہوا۔ انہوں نے بچوں کے لیے 800 کے قریب ناول تحریر کیے۔ وہ بچوں کے رسالے ’بچوں کا اسلام‘ کے مدیر بھی تھے۔ان کی مقبولیت کا زمانہ70 ء سے90ء کے درمیان کا تھا جب ان کی ناول کی سیریز بچوں میں بے پناہ مقبول ہوئے۔ ان میں انسپیکٹر جمشید سیریز، انسپیکٹر کامران مرزا سیریز اور شوکی سیریز کی دھوم تھی۔وہ 17نومبر کو کراچی ایکسپو سینٹر میں کتابوں کی نمائش کے بعد واپس کراچی سے لاہور جارہے تھے، کراچی ائر پورٹ پر دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔


جمیل الدین عالی( 1925۔23نومبر 2015)
جمیل الدین عالی ؔکی سانسوں کا سفر 23 نومبر 2015 ء کو اختتام پزیر ہوا۔24 نومبر کو تدفین عمل میں آئی عالیؔ جی تو ان دانشوروں میں سے تھے جو زندگی اور ادب کو الگ الگ تصور ہی نہیں کرتے تھے گویا ان کے نزدیک زندگی ادب ہی کا نام تھا۔ عالیؔ اردو کے پہلے دوہا نگار تصور کیے جاتے ہیں، وہ شاعر ہی نہ تھے، نثر کے بھی بادشاہ تھے، اپنے کالموں میں اپنا سفر نامہ بھی تحریر کیا۔ ان کے کالم لوگ شوق سے پڑھا کرتے تھے اس لیے کہ وہ وقت گزاری کا ذریعہ نہ تھے بلکہ ان سے علمی ادبی معلومات حاصل ہوا کرتی تھیں ،خود ان کے بارے میں کہ وہ کہا تھے ، کب کہا رہے، کیا کچھ کیا معلوم ہوجاتا تھا ۔ ان کے مجموعہ کلام ’اے دشت سخن‘ اور’ اے مرے دشت سخن‘اپنی مثال آپ ہیں۔عالی ؔ جی 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد سر امیر الدین المعروف فرخ ریاست لوہارو کے خود مختار حکمراں تھے۔ شعر وادب اس کا خاندان کا علمی ورثہ تھا ۔ پاک و ہند کے دو عظیم شاعروں خواجہ میر دردؔ اور اسد اﷲ خان غالبؔ سے عالیؔ جی کا خاندانی تعلق تھا۔ شاعری وراثت میں عطا ہوئی اور انہوں نے اپنی خاندانی روایت کو شاندار طریقے سے قائم و دائم رکھا۔ عالیؔ جی اتنی خصوصیات اور ادب کی متعدد اصناف پر عبور رکھتے تھے کہ اس وقت ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ انجمن ترقی اردو میں بابائے اردو کے جانشین ہوئے اس ادارے کو اس خوبصورتی سے چلایا کہ اس کی کوک سے جنم لینے والی وفاقی جامعہ اردو دنیا کی معروف اور بڑے جامعات میں شمار ہونے لگی۔ انجمن ترقی اردو بھی ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ اس کی اپنی عمارت ’باغ اردو‘ کے نام سے تعمیری مراحل میں ہے۔


دسمبر2015ء
اخترؔ جونا گڑھی( ۔4 دسمبر 2015)

اخترؔ جونا گڑھی، اردو کے شاعر، ادیب کراچی میں4 نومبر2015 ء کو انتقال ہوا۔ ان کا نام قاضی محمد اختر ، تخلص اخترؔ کیا کرتے تھے۔ ہندوستان کی سرزمین جونا گڑھ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے جونا گڑھی ٹہرے۔ وہ معروف محقق، ادیب و دانشور قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی کے صاحبزادے تھے۔ علم و ادب سے رغبت اور شعر و شاعری سے لگاؤ انہیں وراثت میں ملا تھا۔ اخترؔ جونا گڑھی نے اپنے گھر کی علمی، ادبی ، شعر و شاعری کی فضاء میں بچپن سے جوانی میں قدم رکھا۔ اس علمی و ادبی ماحول نے اخترؔ جونا گڑھی کو شعر گوئی کی جانب راغب کیا اور وہ باقاعدہ شعر کہنے لگے، ساتھ ہی نثر لکھنے کی جانب بھی راغب ہوئے۔ وہ ابھی کالج ہی میں تھے کہ ان کی تحریریں اردو کے معیاری ادبی رسائل کی ذینت بننے لگیں جس نے اخترؔ جونا گڑھی کو حوصلہ دیااور وہ باقاعدہ شعر کہنے لگے۔ ان کا مجموعہ کلام ’’ہم تو پتھر ہوگئے‘‘ شائع ہوا۔ ان کی نثر کی کتاب ’’آج کا بھارت‘‘ اور مضامین ِ اختر جونا گڑھی منظر عام پر آچکی ہے۔اخترؔ جونا گڑھی کو علم وادب سے وابستہ افسانہ نگار اور استاد خاتون کی رفاقت نصیب ہوئی۔ ان کی شریک حیات پروفیسر رئیسؔ فاطمہ کراچی کے ایک مقامی کالج میں اردو کی پروفیسر تھیں ۔ افسانہ نگاری ان کی خاص وصف ہے۔


قطب الدین عزیز ( ۔5دسمبر 2015)
معروف ادیب و سفارت کار

زبیر کنجاہی : ( ۔6دسمبر 2015)
شاعر

تشنہ بریلوی: ( ۔7دسمبر 2015)
شاعر

کمال احمد رضوی(1930 ۔17 دسمبر2015)
مزاح لکھنے کے ماہر، ڈرامہ نگار، مترجم ، ناول نگار ،مدیر و اداکار کمال احمد رضوی کا کراچی میں 17دسمبر کو 85 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ کمال احمد رضوی یکم مئی 1930ء میں ہندوستان کے شہر بہار کے ایک قصبے ’گیا‘ میں پیدا ہوئے ، 1951ء میں پاکستان ہجرت کی، شروع میں کراچی پھر لاہور منتقل ہوگئے۔ انہوں نے ٹی وی ڈرامے الف نون میں انہوں نے الن کا کردا از خود ادا کر کے مقبولیت حاصل کی، الف نون کمال احمد رضوی کا ہی لکھا ہوا ڈرامہ ہے اپنے زمانے میں اس ڈرامے نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا۔ کمال احمد رضوی نے متعدد ڈرامے تحریر کیے ان میں مسٹر شیطان، آدھی بات، بلاقی بدذات، بادشاہت کا خاتمہ، جولیس سیزر، صاحب بی بی گلام، چور مچائے شور،کھویا ہوا آدمی، خوابوں کا مسافر، ہم سب پاگل ہیں، آپ کا مخلص شامل ہیں، انہوں نے مختلف رسائل کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ان میں تہذیب، آئینہ، شمع کے علاوہ بچوں کا رسالہ بچوں کی دنیا، تعلیم و تربیت،پھلواری شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے انہیں 1989ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔


مولانا محمد اسحاق بھٹی (22 دسمبر2015)
عالم دین

اسلم اظہر (30 دسمبر2015)
پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق چئیرمین اسلم اظہر کا29دسمبر کی شب انتقال ہوا۔ اسلم اظہر پی ٹی وی کا فاؤنڈر ہیں۔ پہلی بار ان کا تقرر نومبر 1964 ء میں جنرل ایوب خان کی حکومت کے دوران لاہور ٹی وی کے چئیرمین اور ڈائریکٹر کی حیثیت تقرر عمل میں آیا۔ براڈ کاسٹنگ کے شعبہ میں اسلم اظہر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ پاکستان سے نوازا گیا۔

Reviews & Comments

Language:    
The year 2015 ends with some unfortunate tragedies, grievances and tragic losses that have left the nation in deep sorrow. This article covers the deaths of some glorious literature geeks whose absence can never be fulfilled.