آشین ویراتوا ۔ برمی مسلمانوں کا قاتل

(ATEEQ AHMED AZMI, Karachi)
برما کے مسلمانوں پر برپا ہونے ولے مظالم پر ہر آنکھ اشک بار ہے مظالم کی اس خونچکاں داستان کا لکھاری کون ہے بوند بوند لہو میں ڈوبی اس کربناک صورت حال کا سرخیل کون ہے وہ کون سا شخص ہے جس نے بودھ مت کے پیروکاروں کو قتل و غارت گری کے راستے پر ڈال دیا ہے انسان کے روپ میں اس شیطان کا نام ’’ آشین ویراتوا ‘‘ ہے جو بظاہر بدھ مت کا پیروکار ہے مگر درپردہ مسلمانوں کے خون سے پیاس بجھانا اس کی فطرت بن چکا ہے دس جولائی انیس سو اڑسٹھ میں برما کے’’ مانڈلے ریجن ‘‘کے چھوٹے سے قصبے ’’کیوکسے ‘‘میں پیدا ہونے والا آشن ویراتوا خود کو بودھ مت کا مبلغ گردانتا ہے ایک ایسامبلغ جو برملا مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے اور نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کو جائز قرار دیتا ہے ۔

برما کی تقریباسوا پانچ کروڑ کی آبادی میں مسلم آبادی کا تناسب محض چار فیصد ہے حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کی یہ مختصر تعداد آشین ویراتوا اور اس کے حواریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی آشین ویراتوا اکثرو بیشتر اپنی تقاریر میں پرامن بودھوں کو یہ کہہ کر تشدد پر اکساتا ہے کہ مسلمانوں کی افزائش نسل کا تناسب دوسرے مذاہب کی نسبت خاصا تیز ہے لہذا ایک وقت وہ آئے گا جب مسلمان تمام برما پرچھا جائیں گے اور تمام بودھوں کو مسلمان ہونے پرمجبور کردیں گے لہذا وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں اور انہیں برما سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا جائے چودہ سال کی عمر میں تعلیم کو خیر آباد کہنے کے بعد آشین ویراتوا راہب بن گیا اور دوہزارایک میں اس نے مسلم دشمنی پر مبنی تحریک نوسوانہتر (969) میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنی مسلم دشمنی پر مبنی تقاریر سے جلد ہی اہمیت حاصل کرلی مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی پر مبنی تقاریر میں جب اس نے سن دوہزار تین میں برمامیں بسنے والے مسلمانوں کو’’ انتہا پسند اور خراب کردار‘‘ کا قرار دیا تو اسے تیئس سال کی سزا سنائی گئی لیکن محض سات سال بعد دوہزار دس میں اسے رہا کردیا گیا دوہزار دس میں اپنی رہائی کے بعد سے آشین ویراتوا نے سوشل میڈیا کو مسلم دشمنی کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اس حوالے سے اس نے فیس بک اور یو ٹیوب کے زریعے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سادہ لوح بدھسٹو ں کے دلوں میں کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف زہر انڈیلنا شروع کردیا جس کے خطرناک نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔

آشین ویراتوا کا مکروہ چہرہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب ستمبر دوہزار بارہ میں اس نے برما کے صدر تھیان سین کے متنازع بیان کی حمایت میں تقاریر کیں صدر تھیان سین نے اپنی تقریر میں منصوبہ پیش کیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے رخائن (سابق اراکان )جہاں بسنے والے مسلمانوں کو روہنگیا کہا جاتا ہے انہیں برما سے نکال کر کسی تیسرے ملک میں دھکیل دیا جائے اس بیان کے بعد اراکان ریاست میں مسلمانوں کی جانب سے غم وغصے کا اظہار کیا گیا جس کے جواب میں نہتے روہنگیا مسلمانوں پر آشین ویراتوا کے سدھائے مسلح بدھسٹ جتھوں نے یلغار کردی اس دوران مسلمانو ں کی قیمتی املاک اور دوکانوں کو لوٹ کر آگ لگا دی گئی اور مسلمان مرو وخواتین پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا اور پورے ملک میں مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ بھی شروع کردیا گیا نیویارک سے شائع ہونے والے معاشی میگزین ’’ ڈیلی بیسٹ‘‘ کے مطابق ارکان کا علاقہ برما کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے حالاں کہ یہ علاقہ قیمتی لکڑی ، تیل، گیس اور دیگر قیمتی معدنیات کی دولت سے مالامال ہے اور یہاں سے عرصہ دراز سے یہ تمام قیمتی چیزیں نکال کر فروخت کی جارہی ہیں لیکن رخائن (ارکان) میں رہنے والے مقامی افراد اس آمدنی سے محروم ہیں میگزین کے مطابق آشین ویراتوا کی جانب سے مقامی روہنگیا مسلمانوں کو تنگ کرنے کی وجہ اس علاقے میں مذہبی سے زیادہ معاشی بالادستی حاصل کرنے کی ہے جس کے لئے اس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے آشین ویراتوا اور اس کے حواریوں کی جانب سے مسلمانوں کو بدھسٹوں کا دشمن قرار دیئے جانے کے بعد مسلمانوں کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی نہ صرف جائیداد یں اور املاک کی قیمتیں گر گئی ہیں بلکہ ایک مقامی بلڈر کے مطابق اگر ہم اپنی بلڈنگ میں ایک کمرہ بھی کسی مسلمان کو کرائے پر دیدیں یا فروخت کردیں تو پوری عمارت کی قیمت گر جاتی ہے۔
اکیس جولائی دوہزار تیرہ میں ایک بم دھماکے میں معمولی زخمی ہونے والے آشین ویراتوا روہنگیا کے مسلمانوں پر مشرق وسطی کے جہادی گروپوں کی جانب سے امداد حاصل کرنے کا الزام بھی لگاتا ہے اور اپنے اوپر ہونے والے اس بم دھماکے کا زمہ دار بھی وہ مشرق وسطی کے جہادی گروپوں ہی کو قرار دیتا ہے اس ضمن میں اس کاکہنا ہے کہ یہ گروپ مقامی مسلمانوں کی مدد سے مسلم انتہا پسندی کے خلاف میری زبان بند کرانا چاہتے ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ برما میں جمہوریت کی عمل داری کے لئے تقریبا بیس سال تک نظربندی کا شکار ہوکر فوجی آمروں کے ظلم و ستم سہنے والی ’’آنگ سان سوچی‘‘ بھی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو گئی ہیں اور آشین ویراتواکی سرپرستی میں ہونے والی مسلمانوں کی وحشیانہ نسل کشی پر خاموش ہیں واضح رہے انیس سو اکناوے میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی کی دوران اسیری ہدایت پر انیس سو پچانوے میں ایک جلا وطن حکومت سوئیڈن میں ’’ نیشنل کولیشن گورنمنٹ یونین آف برما‘‘ کے نام سے تشکیل دی گئی تھی اس جلاوطن حکومت کو برما کے مسلم اکثریتی علاقے’’ اراکان‘‘ کے ’’روہنگیا‘‘ نسل کے مظلوم مسلم عوام کی حمایت بھی حاصل تھی جو ابھی بھی فوجی حکمرانوں کے جورو ستم کے باعث کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جب کے اس کے برعکس آشین ویرا توا نے برما کے فوجی آمروں کی حمایت کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں کہا تھا کہ ہمیں جمہوریت کے بجائے اپنے مذہب اور نسل کو بچانے کی جدوجہد کرنی ہوگی یعنی اس نے درپردہ آمریت کی حمایت کی ان نظریات کے باوجود آنگ سان سوچی نے آشین ویرا توا کی کبھی بھی واضح الفاظ میں کھل کر مذمت نہیں کی ہے۔
ایشین ٹائمز آن لائن لکھتا ہے کہ آشین ویرا توا ایک ایسا نفسیاتی مریض ہے جو بدھسٹوں کو ہنگاموں پر اکساتا ہے لیکن خود پولیس کے تشد د کرنے پر شور مچاتا ہے اسی طرح جون دوہزار تیرہ میں ٹائم میگزین نے آشین ویراتوا کے کالے کرتوت پرمشتمل فیچر اسٹوری شائع کی تھی جس میں اسے مسلمانوں کے خلاف متشدد جذبات کا حامل بتایا گیا تھا ’’ بدھسٹ دہشت گرد کا چہرہ‘‘کے عنوان سے لکھی گئی اس اسٹوری کی اشاعت کے بعد دنیاآشین ویراتوا کے منفی خیالات سے آگاہ ہوئی تھی حقیقت آشکار ہونے کے بعد آشین ویراتوا اور اس کے حواریوں نے پورے برما میں ٹائم میگزین کی ترسیل پر پابندی لگوادی تھی۔
آشین ویرا توا اور اس کے ساتھی اگرچہ خود کو گوتم بدھ کا پیروکار کہتے ہیں لیکن درحقیت ان کا طرز عمل گوتم بدھ کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے یہی وجہ ہے کہ بدھ مت کے ماننے والوں کی کثریت آشین ویرا توا اور اس کے حواریوں کی سخت مذمت کرتی ہے لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ آشین ویرا توا کے نظریات بدھسٹوں میں تیزی سے پھیلتے جارہے ہیں جس کا ثبوت اراکان ریجن کی گلی کوچوں میں مسلمانوں کے گھروں سے اٹھتا دھواں، دکانوں کے ٹوٹے تالے اور روہنگیا مسلمانوں کا بہتا لہو ہے جس کا دوسرا کربناک منظر خلیج بنگال اور بحر انڈمان میں بھٹکتی کشتیاں ہیں جن پر روہنگیا کے سسکتے ہوئے مسلمان کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں ۔

میانمر (برما)
ایک نظر میں
سابقہ برما جس کا نیا نام ’’ ری پبلک آف دی یونین آف میانمر ‘‘ ہے چارجنوری انیس سو اڑتالیس میں برَطانیہ سے تو آزاد ہوا لیکن محض چودہ سال بعد انیس سو باسٹھ میں آمریت کے نرغے میں آگیا اور آج بھی فوجی آمر نام نہاد جمہوریت کے لبادے میں عنان حکومت سنبھالے ہوئے ہیں انیس سو نواسی میں حکمران فوجی جھتے نے برما کا نام تبدیل کرکے ’’ میانمر‘‘ اور قدیم تاریخی شہر سابق دارلحکومت رنگون کا نام ’’ ینگون‘‘ رکھا دیاملک کے موجودہ صدر ستر سالہ سابقہ فوجی جرنیل تھین شین ہیں برما جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم ’’آسیان‘‘ کا رکن ہے جس کی سرحدیں شمال میں چین، مشرق میں لاؤس،جنوب مشرق میں تھائی لینڈ، مغرب میں بنگلادیش ، شمال مغرب میں انڈیا ،جنوب میں بحیرہ انڈمان اور جنوب مغرب میں خلیج بنگال سے ٹکراتی ہیں واضح رہے خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان کے ساتھ برما کی ایک ہزار نوسو تیس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے برماکا رقبہ تقریبا چھے لاکھ پچھتر ہزار مربع کلو میٹر ہے دو ہزار چودہ میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق آ باد ی سوا پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے انتظامی طور پر برما سات ریاستوں اور سات ریجنوں میں تقسیم ہے شرح خواندگی نوے فیصد ہے برما میں بدھسٹ اسی فیصد، عیسائی سات فیصد، غیر روائتی مذاہب چھے فیصد، مسلمان چار فیصد، ہندو دوفیصداور ایک فیصد متفرق مذاہب کو ماننے والے بستے ہیں ۔

نوچھے نوتحریک
969موومنٹ
’’نوسو انہتر‘‘ یا’’ نو چھے نو‘‘ موومنٹ میں تیزی اس وقت آئی جب جنوری دوہزار بارہ میں آشین ویرا توا جیل سے رہا ہوا ابتدا میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ایک امن پسند تحریک ہے تاہم محض تین ماہ بعد ہی اپریل دوہزار بارہ میں آشین ویرا توا اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیاپورے ملک میں مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ شروع کردیا اور مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کا کہا جانے لگا واضح رہے اس تحریک کے نام یا عنوان میں ’’ 969‘‘کے عدد رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے آشین ویرا توا کا کہنا ہے کہ یہ نام بدھا کی ’’نو ‘‘ملکوتی صفات ، عدد’’چھے‘‘ بدھا کے تعلیمی اصول اور پھر ’’ نو ‘‘ کا عدد بدھسٹوں کی ’’ نو‘‘ اجتماعی صفات سے لیا گیا ہے ستمبر دوہزار چودہ میں آشین ویرا توا نے سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں ’’ گریٹ سنگھا کانفرنس‘‘ میں شرکت کرتے ہوئے اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کی ’’ نوچھے نو‘‘ تحریک سری لنکا کی ’’ بودو بالا سینا‘‘ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کرے گی واضح رہے ’’ بودو بالا سینا‘‘ یا ’’ بی بی ایس‘‘ وہ بدنام زمانہ تنظیم ہے جس کا ماضی سری لنکا کے نہتے مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کی وحشیانہ کارروائیوں سے سیاہ ہے اس تنظیم نے سری لنکا کے مسلمانوں کے حلال گوشت کھانے اور بیچنے کے معاملے کو بھی متنازع بنایا تھا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ATEEQ AHMED AZMI

Read More Articles by ATEEQ AHMED AZMI: 25 Articles with 82909 views »
I'm freelance feature essayist and self-employed translator... View More
25 Jun, 2015 Views: 577

Comments

آپ کی رائے