ترکی اب یورپ کا مردِ بیمار نہیں

(Raja Majid Javed Ali Bhatti, )
پاکستان میں ترک سفیر صادق بابر گرجین کے مطابق ترکی میں صرف ایک فیصد فوجیوں کی ناکام بغاوت کے آغاز میں ہی مغربی میڈیا نے 2014 میں یوکرائن کے اندر درجنوں فوجیوں کی یونیفارم میں پڑی لاشوں پر یہ کیپشن لگا کر دنیا بھر میں جاری کیا کہ یہ ہلاک کئے گئے ترک فوجیوں کی لاشیں ہیں۔ دونوں تصویریں سو فیصد یکساں تھیں جو سکرین پر پاکستانی سنیئر صحافیوں کے گروپ کو دکھائی گئیں۔ یہ من گھڑت تصویر دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے جاری کی گئی اور اس میں ایک شخص کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے فوجیوں پر ہنڑ مارتے بھی دکھا دیا گیا۔ پاکستان کے لوگ مغربی میڈیا کی شرانگیز جھوٹی خبریں پڑھتے رہے ہیں بوگس خود ساختہ تصاویر دیکھتے رہے ہیں۔ بغاوت میں آرمی ہائی کمان شامل نہیں تھی آرمی چیف کو ائیرفورس والوں نے یرغمال بنالیاتھا۔ نیول چیف بہت سے فوجی جرنیل اسکے خلاف تھے۔ آج بھی ترکی میں مارشل لا نہیں ہے دستور کے مطابق ایمرجنسی ہے جسکے تحت لئے گئے اقدامات کو پارلیمنٹ سے منظورکرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اختیارات صرف دہشت گردوں کے خلاف استعمال کئے جائیں گے صادق بابر نے کہا کہ ترکی وسیع القلب بردبار ملک ہے آج بھی ترکی میں30لاکھ غیرملکی پناہ گزین ہیں۔ روس نے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے ترکی میں موجود روسی سیاحوں اور شہریوں کونکالنے کافیصلہ کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے مغربی میڈیاکی خبروں تصویروں کو پاکستانی عینک کے ساتھ دیکھناضروری ہے تاکہ مغرب کازہریلاپروپیگنڈہ پاکستانی عوام کے ذہنوں کو پراگندہ نہ کرے۔ ترک سفیر نے انکشاف کیاکہ ترک آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف ان کے سٹاف افسرجولیفٹ جنرل کے عہدے کاتھانے یرغمال بنایااسے گولن نے فوج میں شامل کرایاتھاہم نے ایک ڈی آئی جی پولیس کو ٹینک کے اندر سے گرفتارکیا۔ انہوں نے بتایاکہ گولن کے حامی جو گزشتہ الیکشن میں دوفیصدسے کم ووٹ لے کر شکست کھاگئے تھے ان کا بغاوت میں اہم رول ہے۔
 
تاہم جب صرف ایک فیصد آرمی نے ترکی میں بغاوت کی تو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان جو کہ عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں کی ایک آواز ترکی کے عوام سڑکوں پر آ گئے، ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، یوں عوام نے اپنے عزم و حوصلے سے باغیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا جو دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ ایک مثال رہے گی۔ بغاوت کے بعد تو عالمی میڈیا پر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کہ ترکی میں مارشل لاء لگ گیا ہے۔ پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی لیکن ترک صدر رجب طیب اردگان نے ثابت کردیا کہ عوام ان سے واقعی محبت کرتے ہیں اور ان کی ملک و ملت کے لئے خدمات کے معترف ہیں ۔ وہ کیا منظر تھا کہ جب ترکی کے محب وطن عوام اپنے صدر کی اپیل پر سڑکوں پر آ نکلے اور باغیوں کے ٹینکوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ یوں عوام کی اس قوت نے عالمی سامراج کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا، ترکی میں ہونے والی اس بغاوت کا اہم کردار امریکی ریاست پنسلوانیا کی ایک شہر سالس برگ میں رہنے والا فتح اﷲ گولن نامی شخص بتایا جاتا ہے جو امریکہ کے زیر سایہ وہاں پُرتعیش زندگی بسر کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا متنازع کردار ہے جو شاید کچھ لوگوں کی نظر میں تو ہیرو ہو لیکن ترکی کے کروڑوں عوام اسے یقیناً باغی تصور کرتے ہیں۔ اس شخص نے ترکی میں اپنا ایک نیٹ ورک قائم کررکھا ہے ترکی حکومت نے بغاوت کے الزام میں فتح اﷲ گولن نامی شخص سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا ہے، اس گروپ میں دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے ہزاروں ججز بھی شامل ہیں۔ فتح اﷲ گولن باقاعدہ انقلابی تحریک کا سرخیل ہے، یہ گروپ ’’جیش النور‘‘ اور ’’جنود الحق‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ترکی کے علاوہ متعدد ممالک میں بھی یہ گروپ فعال اور متحرک نظر آتا ہے۔ فتح اﷲ گولن کی تعلیم و تربیت بھی دینی ماحول میں ہوئی لیکن اس کا ذہن شروع سے ہی انقلابی سوچ و فکر کا حامل رہا۔ 1970ء کے آغاز میں اس نے تربیتی کیمپ لگانے شروع کیے اور اپنا حلقہ اثر بڑھانا شروع کردیا۔ مارچ 1971ء میں گولن کو ملکی نظام کی اقتصادی، سیاسی او معاشرتی بنیادوں کو تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن چھ ماہ کے بعد عام معافی کے اعلان کے نتیجہ میں اسے بھی رہا کردیا گیا، اس کے بعد اُس نے فوج اور بیورو کریسی سمیت مختلف شعبہ جات میں اپنے ہم خیال لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کردیا اس نے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنا شروع کردیا، قوم پرست ہونے کی وجہ سے اس کی سوچ و فکر صرف اور صرف ترکی میں قوت و طاقت کا حصول اور معاشی استحکام تھا۔ ترکی میں اس وقت ہر محکمے میں گولن کی تنظیم خدمت کے افراد کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ گولن نے 1980ء کے جنرل کنعان ایورن کے مارشل لاء کی بھی حمایت کی تھی جس پر فوجی حکومت نے اسے مالی انعامات سے نوازا، گویا اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ گولن طویل عرصے سے حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے۔ 2013ء میں رجب طیب اردگان کے خلاف گیزی پارک والے مظاہرے میں شریک 90فیصد سے زائد مظاہرین کا تعلق گولن تحریک ہی بتایا جاتا تھا، یوں اسرائیلی اور صہیونیوں سے قریبی مضبوط رابطوں کی بناء پر طیب اردگان نے ہر سطح پر گولن تحریک کے ملکی و اسلامی مفادات کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پچھلے تین سال میں اس سلسلہ میں کافی ٹھوس نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے، یوں اس تحریک کے ہزاروں افراد کو مختلف محکموں سے نکال باہر کیا گیا۔ حکومت کے ان اقدامات کے نتیجہ میں میں طیب اردگان حکومت کو فوج میں موجود باغی عناصر کے ذریعہ ختم کرنے اور ملک میں مارشل لاء لگانے کی ایک ناکام کوشش کی گئی۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم اور عوام کی مکمل تائید کے باعث اس مرتبہ تو باغیوں کو منہ کی کھانا پڑی۔ بغاوت ناکام ہوگئی لیکن ترک حکمرانوں کو یہ بات انہیں اچھی طرح رکھنا ہوگی کیہ یہود و نصاریٰ کے پروردہ عناصر اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے کوئی بھی سنگین اقدام کرسکتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کی ملک و ملت کے لئے خدمات کا احاطہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے جب سے عنان اقتدار سنبھالا ہے ان کی توجہ قومی اور عوامی مسائل پر مرکوز رہی۔ انہوں نے ملک کو قوموں کی برادری میں ایک خوددار اور باوقار بنانے کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی خدمات کا ہر شخص معترف ہے۔ ان کے سینے میں ایک درد مند دل دھڑکتا ہے اور وہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔ کشمیر، فلسطین، بنگلہ دیش سمیت جہاں کہیں بھی مسلم اُمہ کے حقوق کی بات ہو ترکی کے صدر نے ہمیشہ ہی مظلوموں کا ساتھ دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ ترک صدر طیب اردگان کو محب وطن عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ رجب طیب اردگان پہلے سے بھی بہت عوام سے اپنے رابطوں کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات اٹھائیں، پاکستان کی حکومت اور عوام مشکل کی ہر گھڑی میں ترک حکومت کے شانہ بشانہ ہوگی اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Ali Bhatti: 57 Articles with 25429 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2016 Views: 484

Comments

آپ کی رائے