ترکی بہ ترکی

(Javed Ali Bhatti, )
شمائلہ جاوید بھٹی

پاکستان میں ترکی کے سفیر صادق بابر گرجین نے ترکی میں ناکام بغاوت اور بے بنیاد مغربی پراپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے تمام پراپیگنڈے کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بری فوج کے ادارے نے بغاوت نہیں کی بلکہ آرمی کے ایک فیصد سے بھی کم عناصر نے یہ حرکت کی جس کا پانچ گھنٹے کے اندر قلع قمع کردیا گیا ترک پارلیمنٹ میں موجود تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے رات دس بجے ہونے والی بغاوت کے فوری بعد گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکی کا ہنگامی اجلاس ہیلی کاپٹروں کی گولہ باری کے دوران منعقد کیا اور بغاوت کرنے والوں کے خلاف اور جمہوریت کی حمایت میں متفقہ قرارداد منطظر کی جس پر ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی سے اسپیکر اسماعیل خراماں، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے گروپ چیئرمین بن علی یلدرم، ری پبلکن پیپلز پارٹی کے گروپ چیئرمین کمال کلک دار اغلو، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے گروپ چیئرمین دیولت بہاملی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے گروپ ڈپٹی چیئرمین ادریس بالوکن کے دستخط ہیں۔
 
صادق بابر گر جین نے انکشاف کیا کہ ترک ایئر فورس کے ایف سولہ طیارے اور ہیلی کاپٹر نہتے ترک عوام، باسفورس بل استنبول، صدارتی محل انقرہ، پارلیمنٹ پر بار بار بمباری کرتے رہے حالانکہ ترک صدر طیب اردوان اس وقت نہ انقرہ میں تھے نہ استنبول میں تھے وہ ترک شہر مارمری(MAR MARI) گئے ہوئے تھے ان کا قیام جس ہوٹل میں تھا اس پر بھی بمباری باغیوں نے کی اس وقت ترک صدر طیب اردوان بغاوت کی اطلاع ملتے ہی مارمری ایئرپورٹ انقرہ کے محو پرواز تھے۔ باغیوں نے استنبول ایئرپورٹ اور انقرہ ایئرپورٹ پر قبضہ کر کے کنٹرول ٹاور سنبھال لئے تھے ترک صدر جو کہ ترک ایئر لائنز کے طیارے میں سفر کررہے تھے کو کنٹرول ٹاور سے پوچھا گیا کہ یہ صدارتی طیارہ ہے۔ مگر طیارے کے کپتان نے حاصر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترکش ایئر لائنز کی پرواز ہے جس کا فلائٹ نمبر یہ ہے۔ پائلٹ نے انقرہ ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے صرف مختصروقت پہلے کنٹرول ٹاور کو لینڈ کرنے کی اطلاع دی۔ اس طرح صدر طیب اردوان کا طیارہ فضا میں ایف سولہ کے ذریعے تباہ کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

ترکی میں میڈیاکوکرش(CRUSH)کرنے کا پروپیگنڈہ من گھڑت بے بنیاد شرانگیز ہے 1920سے ترکی میں یورپ کے 16ممالک کی طرح یہ آئین قانون ہے کہ ریاست کے صدر جووفاق کی علامت ہیں کی تضحیک بے عزتی کرناجرم ہے طیب اردوان ترکی کے سربراہ مملکت ہیں ان کی بے عزتی(INSULT)تضحیک ان کو بدنام کرنے والے کو عدالت کاسامناکرناپڑتاہے اس کے ساتھ ترکی میں ایسے عناصر کو عدالت میں لے جایاجاتاہے جودوسرے ملکوں سے پیسہ لیتے ہیں اور اسکے بدلے میں وہ دوسرے ملک کے حاشیہ بردار بن کرکام کرتے ہیں۔ترکی کے سرکاری ٹی وی پرتوباغیوں نے قبضہ کرلیا سوشل میڈیا اور نجی میڈیا نے بغاوت ناکام بنانے میں کلیدی کردار اداکیا۔ پاکستان کے میڈیانے بھی مثبت کردار اداکیا جس کے لیے ترک حکومت عوام کے شکرگزار ہیں۔ ترک آرمی کے ٹینکوں آرمڈ گاڑیوں وغیرہ نے ترک عوام کو اس طرح کچلاجس طرح دشمن ملک کے فوجی دستے کچلے جاتے ہیں۔ ٹینکوں کے ذریعے باسفورس پل کوبند کرنے کے لیے سول موٹر کاریں انسانوں سمیت کچلی گئیں بغاوت ناکام ہونے کے بعد اب تک 7423فوجی اور گولن کے متاثر سرکاری ملازم اساتذہ وغیرہ نظربند کئے گئے ہیں ۔
 
50ہزار گرفتاریوں کی مغربی میڈیاکی خبریں غلط شرانگیز ہیں۔صرف10ہزار سول فوجی جو مشکوک ہیں ان کو نظربندکیاگیاہے75سوملٹری والے 2500 سویلین ہیں ان سے پبلک پراسکیوٹرزتفتیش کررہے ہیں بے گناہ چھوڑ دیئے جائیں گے۔ قصوروار عدالتوں کے کٹہرے میں بھیجے جائیں گے ترک سفیر نے انکشاف کیاکہ ترک آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف ان کے سٹاف افسرجولیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کا تھانے۔یرغمال بنایااسے گولن نے فوج میں شامل کرایا تھا ہم نے ایک ڈی آئی جی پولیس کو ٹینک کے اندر سے گرفتارکیا۔ گولن کے حامی جو گزشتہ الیکشن میں دوفیصدسے کم ووٹ لے کر شکست کھاگئے تھے ان کا بغاوت میں اہم رول ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Javed Ali Bhatti: 141 Articles with 61130 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2016 Views: 278

Comments

آپ کی رائے