سی ایس ٹی سب وے دکانداروں کو اجاڑ دینا واحد متبادل نہیں

(vaseel khan, mumbai)
عام مشاہدہ یہی بتاتا ہےجیسے جنگل شہروں میں گھستے جارہے ہوں ، فرقہ وارانہ تصادم ، اونچ نیچ، ذات پات کے جھگڑے ، لوٹ کھسوٹ ، قتل و غارت گری ، چور بازاری ، اور عصمت ریزی جیسے منفی واقعات سے اخبارات بھرے رہتے ہیں ، بدترین اور گھناؤنے واقعات ہمارے اس مہذب سماج کو بڑی تیزی کے ساتھ جنگل راج میں تبدیل کرتے جارہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسےاس ملک سے قانون اور آئین کی بالادستی ہی ختم ہوگئی ہو ۔
شہراور جنگل میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جنگل میں کسی قانون و ضابطے کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف اور صرف وحشت و بربریت کا رقص ہوتا ہے ، ظلم و جبر کا تسلط ہوتا ہے۔’ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس‘ والا محاورہ، غالبا ًوہیں سےمعرض وجود میں آیا ہے ۔وہاں نہ کوئی کسی کی فریاد سنتا ہے نہ ہی کوئی منصف ہوتا ہے، جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے ۔ اس کے برعکس مہذب سماج اورمعاشرے میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ عدل و انصاف کے قیام اور ظلم و جبر کے خاتمے کیلئے پولس فورس کی تشکیل کی جاتی ہے۔ عدالتی نظام وضع کئے جاتے ہیں اور انتظامیہ کو فعال اور مستحکم بنانے کیلئےیہی پولس فورس اور عدلیہ معاون ہوتی ہیں ۔ ان کے تال میل اور منصفانہ اقدام سے وہ پرامن اور صحت مندنظم و نسق وجود میں آتا ہے جس کی سبھی تمنا کرتے ہیں ۔ کسی بھی حکومت کے قیام کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ سماج و معاشرہ کے اندر ایک بہتر نظم و نسق قائم ہو ، افراتفری نہ ہو تاکہ ایک پرامن معاشرہ کی تشکیل آسان ہو سکے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسی آئین سازی کی جائے اورایسے قوانین وضع کئے جائیں جس کے ذریعے ہر ایک شخص کو یکساں انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے ۔

لیکن عام مشاہدہ یہی بتاتا ہےجیسے جنگل شہروں میں گھستے جارہے ہوں ، فرقہ وارانہ تصادم ، اونچ نیچ، ذات پات کے جھگڑے ، لوٹ کھسوٹ ، قتل و غارت گری ، چور بازاری ، اور عصمت ریزی جیسے منفی واقعات سے اخبارات بھرے رہتے ہیں ، بدترین اور گھناؤنے واقعات ہمارے اس مہذب سماج کو بڑی تیزی کے ساتھ جنگل راج میں تبدیل کرتے جارہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسےاس ملک سے قانون اور آئین کی بالادستی ہی ختم ہوگئی ہو ۔

کچھ دنوں قبل بی ایم سی کے کمشنر اجوئے مہتا کا یہ بیان اخبارات میں آیا تھا کہ وہ سی ایس ٹی سب وے پر آمدو رفت کو آسان بنانے کیلئے وہاں قائم دورویہ دوکانوں کو ہٹادیں گے ( یاد رہے کہ یہ دوکانیں بی ایم سی کی الاٹ کردہ ہیں اور تقریباً پچاس دوکاندار پندرہ سالو ں سے روزی روٹی سے جڑے ہوئے ہیں ) انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ سب وے کی یہ دیواریں الیکٹرانک ڈسپلے ( اطلاعات ، ایڈورٹائزنگ ) وغیرہ کیلئے استعما ل کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح سب وے کے تمام راستےبھی کشادہ ہوجائیں گے اور لوگوںکو آمدورفت کیلئے پریشانی نہیں ہوگی ۔ انہو ں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے میٹرو سنیما کے مقابل بنے سب و ے کو نظیر بناتے ہوئے کہا کہ وہاں دوکانیں نہیں ہونے سے میٹرو سب وے نہ صرف کشادہ دکھائی دیتا ہےبلکہ ہمہ وقت صاف ستھرا بھی رہتا ہے ۔منطقی اعتبار سے ان کی باتیں صد فیصد درست ہیں لیکن اس کا اطلاق ہر جگہ نہیں کیا جاسکتا ۔ہر علاقے کی کیفیت اور سچویشن الگ ہوتی ہے اس لئے کہیں کا کہیں سے موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے ۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میٹرو کے اطراف کی گذرگاہوں سے پیدل چلنے والے لوگ کم ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بیشتر اوقات وہ سب وے ویران رہتا ہے۔یہاں تک کہ خواتین دن کے اجالے میں بھی وہاں جانے سے کتراتی ہیں ۔اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے چلیں ، ہمارے وزیراعلیٰ فرد نویس صاحب سے میٹرو سب وے کی ویرانی دیکھی نہیں جاتی ۔انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہاں نئے آرٹسٹوں کی تصاویر کی نمائش اور دیہی مصنوعات کا ہاٹ لگاکر اسے پررونق بنایا جائے گا تاکہ وہا ں لوگوں کی چہل پہل ہوا کرے ۔ اس تناظر میں دیکھیں تو میونسپل کمشنر اجوئے مہتا اور وزیر اعلیٰ کے خیالا ت میں کس قدر فرق اور تضاد پایا جاتا ہے ۔ ایک کی فکر لوگوں کو بسانے کی ہے تو دوسرے کی اجاڑنے کی ،یعنی ایک کی سوچ سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے تو دوسرے کی سوچ سے بے روزگاری میں اضافہ۔

بتایا جاتا ہے کہ پندرہ برسوں سے روزی روٹی سے جڑے تقریبا ً پچاس دوکانداروں کو اس لئے بھی بے دخل کیا جارہا ہے کہ کچھ دوکانداروںنے اپنی حدود سے تجاوز کرلیاہے، اور قانون شکنی کے مرتکب ہوگئے ہیں۔ ا بی ایم سی ان پر جرمانہ عائدکرسکتی تھی اور انہیں ان کی حد میں رہنے پر مجبور کرسکتی تھی ۔دوسری ایک خبر یہ بھی گشت کررہی ہے کہ بی ایم سی نےسب وے کی ان دوکانوں کے الاٹمنٹ کیلئے ٹینڈر جاری کئے تھے اس معاملے میں بی ایم سی اور دوکانداروں کے درمیان مختلف شرائط پر افہام و تفہیم کے بعد ہی یہ دوکانیں لیز پر الاٹ کی گئی تھیں اور چونکہ شرائط کے مطابق لیز کی وہ مدت ختم ہوچکی ہے، اس لئے بی ایم سی نے ان دوکاندارو ں سے دوکانیں خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے ۔رہاسوال اس سب وے میں کچھ پھیری والوں کے گھس آنے کا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جاسکتا ہے ، ان کی وجہ سے مسافروںکو آمد و رفت میں تکلیف توہوتی ہی ہے،ساتھ ہی وہ ان دوکانداروں کے کاروباری معاملات میں بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ایسا بتایا جارہاہے کہ ان پھیری والوں کو مقامی پولس ، میونسپلٹی اور ریلوے اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ظاہر ہے اس سب وے کی تعمیر کا اصل مقصدبھی یہی تھا کہ سی ایس ٹی سے گزرنےوالے اس انسانی ہجوم پر قابو پایا جاسکے اور آئے دن ہونے والے خطرناک حادثات سے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ لیکن پھیری والوں کی گھس پیٹھ اور چند دوکانداروںکی غلطیوں کے سبب تقریبا ً چالیس دوکاندارجو ڈسپلن سے کاروبار کررہے ہیں میونسپل کمشنر کے مجموعی Eviction Noticeکی زد میں آرہے ہیں ۔ظاہر ہے کہ تمام تر نظم و نسق کی ذمہ داری حکام اور انتظامیہ کی ہوتی ہے ۔وہ اگر چاہے تو چشم زدن میں ان پھیری والو ں کو وہاں سے ہٹاسکتی ہے اور ان دوکانداروں کو بھی راہ راست پر لاسکتی ہے جو اپنی حدود سے تجاوز کرکے غیر قانونی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں ۔انتظامیہ اگر چاق و چوبند ہوجائے تو اس سب وے کی غیر ضروری بھیڑ پر قابوپایا جاسکتا ہے ۔اس صورت میں بی ایم سی evictionکے مجموعی اقدام سے بچ سکتی ہے ۔ظاہر ہے ایسا کرنے سے وہ دوکانداراور ان کے ساتھ کام کرنے والےملازمین کے تقریبا ً پانچ سو خاندان روزی روٹی سے محروم ہونے سے بچ سکتے ہیں ۔سیلابی رفتار سے پھیلتی جارہی بے روزگاری کےاس دور میں بی ایم سی کو اس طرح کے اقدام سے گریز کرنا زیادہ بہترہو گا ۔جو وقت کی ضرورت بھی ہے ۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: vaseel khan

Read More Articles by vaseel khan: 126 Articles with 59430 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2016 Views: 340

Comments

آپ کی رائے