کرپٹ سیاسی کلچر کا خاتمہ کئے بغیر ملکی معیشت ترقی نہیں کر سکتی

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
اس وقت ہر باشعور اور محب وطن پاکستانی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق وطن عزیز کو اس کرپٹ مافیا سے نجات دلانے کی جدو جہد کرے، حقیقی جمہوری جدو جہد اور تنظیم معاشرے میں پیدا کر کے کرپٹ سیاسی نظام کی اس کیمسٹری کو معاشرے میں فیل کریں جس کی بنیاد پہ یہ نام نہاد جمہوریت کے چیمپئن منتخب ہو کر آتے ہیں اور پھر قوم کو دیوالیہ پن کی طرف لے کر جاتے ہیں،نوجوان نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ذاتی مفاد سے ، اپنی قومیت سے اپنی زبان اور مسلک سے بالاتر ہو کر سوچیں، قومیں قومی سوچ سے بنتی ہیں،لہذا ایک مضبوط قومی سوچ کے ساتھ اجتماعی تبدیلی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں ورنہ اگر یہی حالت رہی تو معیاری تعلیم، اچھی صحت، ستا انصاف، اور معاشی خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جب لوگ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے نہیں اٹھتے حالات کبھی بھی نہیں بدلتے۔

ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے

قوموں کے اجتماعی اخلاق بنانے اور برباد کرنے میں حکمرانوں کا اہم کردار ہوتاہے، ایک مشہور قول ہے کہ’’ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پہ ہوتے ہیں‘‘ یعنی اگر کس قوم کے قائدین اور حکمران سچے اور ایماندار ہوں گے تو اس معاشرے میں وہ ایمانداری اور سچائی پھیلانے کا باعث بنیں گے اور اگر جھوٹے اور کرپٹ حکمران مسلط ہوں گے تو سارا نظام اور سارا معاشرہ جھوٹ اور کرپشن میں مبتلا ہو جائے گا۔

آج بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی ایسے ہی جھوٹے اور خائن حکمرانوں کے نرغے میں ہیں، وہ مسلسل جھوٹ بولتے ہیں،میڈیا کے کیمرے ان کو ریکارڈ کرتے ہیں، ہمیں دکھاتے ہیں،ہم ان کے جھوٹ پہ جھوٹ کو سنتے اور دیکھتے ہیں،سالہا سال سے وہی چہرے ہر بربادی کے بعد ایک نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آتے ہیں، ہم ان کا استقبال کرتے ہیں، یوں ہی ان کی سیاست جھوٹ پہ جھوٹ بول کے پروان چڑھتی ہے،بات اگر صرف جھوٹ تک ہوتی تو شاید کچھ کم تھی لیکن ساتھ اس کے کرپشن مل گئی تو معاملہ اور بھی سنگین ہو گیا، اب تو یہ معمول بن چکا ہے کہ ملک اور قوم کو لوٹو، سودپہ قرضے لے کر خود ہڑپ کر جاؤ،اور جب ملک کسی بحران میں آئے یا ان کی اپنی کرپشن کا بھانڈہ پھوٹ جائے تو خوب اچھے طریقے اور ڈھٹائی سے جھوٹ پہ جھوٹ بول کر اس معاملے سے توجہ ہٹائی جائے، در اصل معاشی کرپشن ایک ایسا قومی جرم ہے جو پوری دنیا میں اقوام کے ہاں ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے ملک اور قوم کی براہ را ست سلامتی متاثر ہوتی ہے، بدقسمتی سے اس وقت معاشی بدحالی کا سب سے اہم ترین مسئلہ جو وطن عزیز کو درپیش ہے وہ اسی کرپشن کی وجہ ہے، اس ملک کے حکمرانوں نے گذشتہ نصف صدی میں اس ملک کو معاشی تباہی کے دھانے پہ پہنچایا ہے، سودی قرضوں اورمعاشی دیوالیہ پن کی وجہ سے آج پاکستان دنیا کے ممالک میں ہر طرح کی ذلت سہنے پہ مجبور ہے،خطے کے پڑوسی ممالک اپنی معیشتو ں کو بہتر سے بہتر بنانے کی حکمت عملی پہ گامزن ہیں،اپنی انڈسٹری کو ترقی دیتے ہوئے اپنا اثر رسوخ دنیا کی مارکیٹوں میں بڑھا رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا کے ساتھ ان کے سیاسی اور علاقائی روابط زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں، لیکن ان کے مقابلے میں ہماری حالت زار یہ ہے کہ معاشی طور پہ بیمار ملک کی حیثیت سے نہ تو علاقائی ممالک میں کوئی عزت اور بھرم ہے اور نہ ہی دنیا کے دیگر ممالک کی مارکیٹوں میں کوئی حیثیت ہے، یورپ اور امریکہ تو دور کی بات ہے ،وہ اسلامی ممالک جو پاکستان کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے آج اس کو اپنا دست نگر اور قربانی کا بکرا سمجھتے ہیں، اسی معاشی دیوالیہ پن کی وجہ سے آج دنیا کی مارکیٹ میں پاکستا نی تاجروں کی کوئی اہمیت نہیں،عالمی منڈیوں میں کنزیومر سے زیادہ حیثیت نہیں، صنعت وتجارت اور زراعت کے نظام کو آہستہ آہستہ زوال پذیر کر دیا گیا، کرپٹ حکمران، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے ، جماعت یا گروہ یا اپوزیشن سے ہو، انہوں نے اس ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اربوں ڈالر کے قرضوں کا بوجھ ملک پہ لاد کر چین کی بنسری بجانے والے یہ حکمران اپنی ذاتی جائدادیں بنانے میں مصروف ہیں۔ 1947سے لے کر آج تک جتنے حکمران اور بیورو کریٹس اس ملک پہ حکمران رہے ہیں وہ سب اس قومی معاشی دیوالیہ پن میں برابر کے شریک ہیں، آج ان کی فہرستیں بنانے کی ضرورت ہے، ان سب کو اور ان کی نسلوں کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، آج اس بد قسمت قوم کا بچہ بچہ، اچھی خوراک، لباس، علاج اور تعلیم سے محروم ہے، لیکن ان حکمرانوں کے بچے، ان کی نسلیں کہاں پہنچ چکی ہیں؟آج اس ملک کی تباہی و بربادی میں ان کی نئی نسلیں حصہ ڈالنے کے لئے پر تول رہی ہیں، ملکی خزانے کو لوٹ کر ان حکمرانوں نے اپنی ذاتی جائدادیں بنائیں، اپنے ذاتی کاروبار اور کمپنیاں بیرون ملک بنائیں، ان کے بچے اور ان کے رشتہ دار اس ملک کے وسائل اور اس غریب قوم کے ٹیکسوں پہ عیاشی کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔

ان بے ضمیر حکمران طبقات نے اپنے ذاتی و خاندانی معاشی مفادات کے لئے اب ملک اور قوم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے، ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ان حکمرانوں میں سے کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس نے کمال مہارت سے جھوٹ بولا، اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی کیفیت پیدا کی، جھوٹ اور بدیانتی اور ڈھیٹ پن کی اس سے بڑی کوئی انتہا نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک قومی عہدہ رکھنے والے کا کردار اس قدر شفاف ہونا چاہئے کہ کوئی اس پہ انگلی نہ اٹھا سکے، اگر انگلی اٹھتی ہے تو اس کو اس عہدے پہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہوتا، یہ قوم کی عزت کا سوال ہوتا ہے اور تہذیب و اخلاق کا بھی یہی تقاضہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تہذیب یافتہ اقوام میں یہ مثالیں موجود ہیں، مثلاً ابھی حال ہی میں سامنے آنے والی عالمی سطح پہ کرپشن اور ٹیکس چوری کا کیس سامنے آیا تو دنیا بھر کی اقوام میں کھلبلی مچ گئی، یوکرائن، آئس لینڈ کے وزرائے اعظم نے تو استعفے دئیے، کیونکہ انہیں اپنی قوموں کی عزت عزیز تھی، اور یہ کسی بھی دیانت دار قوم کی علامت ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں کیا ہوا؟اور اکثر کیا ہوتا ہے؟ اربوں ڈالر کی غبن ہو یا، اربوں ڈالر کی ٹیکس چوری کے کیسز ہوں، بجائے ان پہ قوم سے معافی مانگنے کے الٹا اپنے آپ کو پاک و صاف بنانے کے لئے ملک کی تمام مشینری اور اپنے مشیروں، وزیروں کو اسی کام پہ لگا دیا جاتا ہے کہ صبح و شام جھوٹ پہ جھوٹ بولنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے، حیرت یہ ہے کہ جو بھی ان کی اس چوری پہ انگلی اٹھاتا ہے اسے بھی یہ کہتے ہیں کہ تو بھی چور ہے، لہذا یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر ہم چور ہیں تو تو بھی چور ہے لہذا تو بھی خاموش رہے اور ہمارا سلسلہ بھی چلتا رہے’’یعنی چور چور بھائی بھائی‘‘۔اور اس طرح ایک اور صورتحال بھی سامنے آئی کہ سب چور اکٹھے ہو گئے، اس قوم کوہر دور میں لوٹنے والے، کس طرح آپس میں شیر و شکر ہو جاتے ہیں، اس کا منظر آج کل دیکھا جا سکتا ہے۔ان چور اور کرپٹ اقتدار کے ان شوقینوں کے بیانات پہ ضرور غور کریں اور ان کی اصل حقیقت آپ کے سامنے آ جائے گی۔

لیکن کیا کریں اگر کوئی خاموش تماشائی ہے تو وہ ہم بے شعور عوام ہیں، دنیا میں حکمرانوں نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور استعفے دئیے، اپنی اصلاح کی، وہ فقط اس وجہ سے کہ ان ممالک کی عوام میں شعور ہے، وہ ایک لمحہ بھی کسی کرپٹ حکمران اور حکومتی عہدیدار کو برداشت نہیں کر سکتیں، لیکن افسوس ہماری حالت پہ کہ سامنے نظر آنے والی چیزوں کو ہم خاطر میں نہیں لا رہے، ٹس سے مس نہیں ہوتے، ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کیا جا چکا ہے، مزید ذلت اور غلامی کا سلسلہ جاری ہے لیکن ہم نے اپنی اسی روایتی روش پہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ خدا کے لئے سمجھو، اپنے حالات کو خود بہتر بنانے کے لئے سوچو، کون سامراجی اداروں کے سودی قرضوں کو ختم کرے گا؟ کون عوام کو بنیادی سہولیات زندگی مہیا کرے گا؟ببانگ دہل چوری ہو رہی ہے، کرپشن ہو رہی ہے اور پھر باقاعدہ اس کو درست قرار دیا جا رہا ہے، انتہائی ڈھٹائی سے اس کو جائز بنانے کے لئے طرح طرح کے جواز پیش کئے جا رہے ہیں، کوئی تو ہو جو انہیں اس چوری سے باز رکھے؟ کوئی تو ہو جو ان کا راستہ روکے؟ کوئی تو ہوجو انہیں اس بدقسمت ملک کو گروی رکھنے سے روکے؟ آج عدلیہ کہاں ہے؟

بدقسمتی سے اس وقت ہماری ملکی معیشت کی حالت یہ ہے کہ امداد کے سہارے پاکستان چل رہا ہے اگر اس کی معاشی امداد یا قرضہ بند کر دیا جائے تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا، اور اس سے بھی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے قرضے اتارنے کے لئے مزیدقرضے لئے جا رہے ہیں، اورسودی قرضے اور امداد نما قرضے یعنی بھیک مانگ کر قومی خزانے کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا رہا ہے، جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس وقت ملکی باگ ڈور ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی ریاستی ادارے سے ہو سب اس صورتحال کے برابر کے شریک ہیں، پاکستان کے کل اندرونی اور بیرونی قرضے ملا کر جو رقم بنتی ہے اس سے کہیں زیادہ قومی خزانے کو لوٹ کر حکمرانوں نے بیرونی بینکوں میں رکھی ہوئی ہے۔اگر ان حکمرانوں اور تمام کرپٹ افسروں، سیاسی لیڈروں کا احتساب کیا جائے اور اس قومی دولت کو واپس ملک میں لایا جائے تو پاکستانی معیشت خود کفالت حاصل کر سکتی ہے۔اس وقت ہر باشعور اور محب وطن پاکستانی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق وطن عزیز کو اس کرپٹ مافیا سے نجات دلانے کی جدو جہد کرے، حقیقی جمہوری جدو جہد اور تنظیم معاشرے میں پیدا کر کے کرپٹ سیاسی نظام کی اس کیمسٹری کو معاشرے میں فیل کریں جس کی بنیاد پہ یہ نام نہاد جمہوریت کے چیمپئن منتخب ہو کر آتے ہیں اور پھر قوم کو دیوالیہ پن کی طرف لے کر جاتے ہیں،نوجوان نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ذاتی مفاد سے ، اپنی قومیت سے اپنی زبان اور مسلک سے بالاتر ہو کر سوچیں، قومیں قومی سوچ سے بنتی ہیں،لہذا ایک مضبوط قومی سوچ کے ساتھ اجتماعی تبدیلی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں ورنہ اگر یہی حالت رہی تو معیاری تعلیم، اچھی صحت، ستا انصاف، اور معاشی خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جب لوگ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے نہیں اٹھتے حالات کبھی بھی نہیں بدلتے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68807 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
01 Aug, 2016 Views: 361

Comments

آپ کی رائے