میرا پاکستان کیسا ہو

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)
میرا آج کا موضوع میرا پاکستان کیسا ہوـ ہے اور اس پر لکھنے کے لئے ہماری ویب ڈاٹ کام کی جانب سے مجھے دعوت دی گئی ہے تو ہم اپنے خوبصورت وطن کو اور کیسے خوبصورت اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں چند تجاویز پیش کروں گا۔ا س سے پہلے کہ میں اپنے موضوع کی جانب بڑھوں ہم اپنے عظیم لیڈر قائد اعظم کے ان الفاظ کو دہرانا چاہتا ہوں جو انہوں نے 1940ء کی قرارداد کے بعد کلکتہ میں کہے تھے ۔پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں قائد نے فرمایا ـ ـ: مملکت پاکستان کی شکل و صورت کا انحصار پاکستان کے مستقبل کے معماروں پر ہوگا- مزید قائد نے فرمایا کہ:ـ قران مجید میں ہمارے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے جس میں کسی ترمیم و تنسیخ اور اصلاح کی گنجائش ہر گز نہیں ہے۔

ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے آباؤ و اجداد نے خون دے کر اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا ہے اس لئے اس کی بنیادیں کھبی کمزور نہیں ہو سکتیں اور یہ انشااﷲ تاقیامت یونہی منزل بہ منزل ترقی کرتا چلا جائے گا۔کسی طرح سے بھی ہم کسی قوم سے کم نہیں ہیں۔بس کمی ہے توصرف ہمارے سیاست دانوں کے کرپٹ ہونے کی جو کرپشن کا شکار ہو کر ملک کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔دنیا میں ہر ملک میں کوئی نہ کوئی سیاست دان بد عنوان ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک ترقی کی منزلیں طے کر لیتے ہیں۔اٹلی اور فرانس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اٹلی اور فرانس میں بھی سیاست دان بد عنوان تھے لیکن ان ممالک میں سول انتظامیہ اور عدلیہ آزاد تھی ۔اسی وجہ سے ان ممالک نے ترقی کی۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے جن میں دہشت گردی،بے روز گاری، کرپشن، رشوت ستانی، زرعی اجناس کی کمی ،بیرونی سرمایہ کاری کا نہ آنا وغیرہ شامل ہیں۔ان تمام مسائل سے ہم جان چھڑا سکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ حکومت کو نہیں بلکہ عوام کو کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی ملک یا قوم کو عظیم بنانے میں حکمران نہیں بلکہ عوام کا دخل ہوتا ہے۔ حکمرانوں کو بھی عوام ہی ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں لیکن یہ بد عنوان حکمران اس حد تک مظبوط ہو چکے ہیں کہ اب ان کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے عوم کو ہی فیصلہ کرنا ہو گا کہ دوبارہ بد عنوان حکمران ہمارے ووٹ کے ذریعے منتخب نہ ہو سکیں اس کے لئے ہمیں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہو گا۔

دوسر ا اہم مسئلہ ناخواندگی کا ہے ہمارے ملک کا معیار تعلیم بھی انتہائی ناقص ہے سب سے پہلے ہمیں تعلیمی نظام اور نصاب پر توجہ دینی ہو گی۔ملک میں ایک جیسا تعلیمی نظام لانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ تمام لوگ خواندہ ہوں اور بہتر معیار تعلیم کی وجہ سے ان کو اپنے ملک اور دوسرے ممالک میں بہتر روز گار میسر آ سکے۔اگر یہ تعلیم یافتہ ہوں گے تو ان کو شعور ہو گا کہ ان کے کیا حقوق ہیں اور ان کو اپنا ووٹ کیسے استعمال کرنا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بد قسمتی سے یہاں کسانوں کو نہ تو پانی مہیا ہے کہ جس سے وہ اپنی زمینوں کو سیراب کر سکیں اور نہ ان کے لئے اعلیٰ معیار کا بیج مارکیٹ میں موجود ہے۔سب سے پہلے کسان کو وہ تمام سہولتیں دینی ہوں گی جس اسے اپنی زمینوں پر ہل چلا کر بہتر اور زیادہ کاشت کر سکے۔اس کے اسے آسان قرضے مہیا کرنا،ٹیوب ویل تعمیر کر کے دینا،کھاد کی قیمتوں کو کم سطح پر لانا،جدید زرعی آلات کی فراہمی کویقینی بنانا ضروری ہے۔اگر ملک میں کسانوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا تو پھر خدانخواستہ پاکستان میں بھی صومالیہ اور ایتھوپیا جیسے حالات ہو سکتے ہیں۔

ملک سے کرپشن کو ختم کرنے کے لئے غیر جانبدار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کرپٹ اور بد عنوان حکمرانوں کا کڑا احتساب ہو سکے اگر ان کا سختی سے احتساب کیا جائے اور ان کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں تو آنے والے دنوں میں جو بھی حکمران آئے گا وہ کرپشن کرتے ہوئے سو بار سوچے گا۔اس کے علاوہ ملک سے باہر رقم لے جانے پر مکمل پابندی لگا دی جائے یوں یہ پیسہ ملک میں ہی استعمال ہو گا۔اب ملک کی ترقی کے لئے مختصر خلاصہ بیان کرتا ہوں۔

٭ سول انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل آزاد ہونا چاہئے تاکہ قانون کی بالا دستی ہو جو بھی جرم کرے خواہ وہ غریب ہو یا امیر ،چھوٹا ہو یا بڑا قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
٭ تعلیم کو عام کیا جائے اس کے لئے ہر تعلیم یافتہ شخص دو افراد کو یا کم از کم ایک فرد کو پڑھنا لکھنا ضرور سکھائے تاکہ ملک سے ناخواندگی کا خاتمہ ہو سکے۔اگر تمام لوگ تعلیم یافتہ یا ہنر مند ہوں گے تو بھی ملک ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔
٭تمام شہریوں کو صحت کی سہولتیں میسر ہوں چاہے وہ گاؤں میں رہتا ہو یا شہر میں رہائش پذیر ہو۔کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ملک و قوم کی ترقی میں ساتھ دے سکتا ہے۔
٭ضرورت زندگی کی تمام اشیاء سستے داموں مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔تاکہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔اس طرح ملک میں مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے کیانکہ مہنگائی کی وجہ سے ہی لوگ چوری اور ڈاکہ زنی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
٭ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔تاکہ خزانے سے لوٹ مار کم ہو سکے ۔اگر کوئی حکمران خزانے سے زائد رقم خرچ کرتا ہے تو اس کا مکمل حساب لیا جائے اور جرم ثابت ہونے پر دوبارہ الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی جائے۔
٭ ملک سے جاگیرداری اور سرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور برادری سسسٹم کی بھی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ ووٹ کا صیح استعمال ہو سکے۔
٭ ملک میں ایسے ادارے جن میں کرپشن عروج پر ہے اور ملکی ترقی مین رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان کو فوری ختم کر دینا چاہیئے۔
٭ ملک میں ایسی سکیمیں متعارف کروائی جائیں جن سے لوگوں میں بچت کی عادت پروان چڑھے۔
٭ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے فری ٹیکس زون بنائے جائیں اس سے ملک میں صنعتوں کا جال بچھ جائے گا اور لوگوں کو روز گار بھی میسر آئے گا۔
٭ ایسے قابل اور تعلیم یافتہ لوگ جو بیرون ملک اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو ملک واپس لایا جائے اور ان کے تجربات سے مکمل فائدہ اٹھایا جائے ۔

آخر میں میں یہی کہوں گا کہ ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے اور اس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس لئے اس میں اسلامی قوانین اور قران کی پاسداری کی جائے تاکہ وطن عزیز ایک مکمل اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے ۔اور ہم سب عوام ایک بہت بڑی طاقت ہیں اگر ہم مل جائیں تو ملک کو دوسری ترقی یافتہ قوموں کے مد مقابل کھڑا کر سکتے ہیں ۔آئیں ہم سب مل کر اپنے وطن پاکستان کے اس کی آزادی کے دن کے موقع پر عہد کریں کہ ہم سب اس کی ترقی کے لئے مل کر یا انفرادی طور پر اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے کام ،کام اور بس کام ہی کریں گے۔میری دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے وطن کو تاقیامت سلامت رکھے اور ہم سب کو اتفاق سے رہنے کی تقفیق عطا فرمائے آمین۔پاکستان زندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1344409 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
05 Aug, 2016 Views: 2422

Comments

آپ کی رائے
Dr. Ch Tanweer sahab, i am very sorry to read what you have articulated. I hope you won't mind that i am replying in English as it is easy for me to write and hard to write it in Urdu for now. And since mostly it is hard to read in roman so i would just English for it, hope you won't mind.

Dr. sahab, the kinda person you are i didn't expected this from you. But in anyway, each has their own opinion but it was sad to see that most of the points you touched were related to dunya expertise and last you named as 'islami jamhoriya pakistan'.

Meaning all you want is whatever related to dunya to be best but about deen you didn't touch at all. All related to corruption and this and that but what about deen? What about aqeedah? what about manhaj? what about bid'aat and khurafaat? what about shirk and kufr? So many of people in Panjab, and Sindh and else where don't know about aqeedah-e-tawheed. What about it? SubhanAllaah.

See the problem is when you have too much influence of dunya on yourself or you do your p.h.ds and m.s in dunya research. And you maybe a CEO of a Multinational or you are earning six figure income then mostly people just forget about deen deen which is not a good thing. And then the deen is only about namaz, roza and zakah and hajj to them.

So in my humble view Dr. sahab, your suggestions are not complete rather only one sided and it won't bring the real change that Pakistan or any islamic country needs.

What we need is every Pakistani to know his/her deen in depth and can understand from A to Z about religion and with that he is skilled and has mastered in some aspect of dunya as well. Like medicine, engineering, architect, computer programming, being a pilot or anything else.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Aug, 13 2016
Reply Reply
0 Like
Masha Allah brother bohoth hi umda tajaweez ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera ......
By: farah ejaz, Aaronsburg on Aug, 12 2016
Reply Reply
0 Like
Mazrat ke sath 2,3 jumlon me khatam karta hon ye aap aur ham sab musalman Allah talah ki rassi ko mazbooti se jab tak mazbooti se nahi pakren ge os waqt tak ham kuch hasil nahi kar sakte Allah talah ne hame Hazrat Muhammad Sallallaho Alaihe wa alehi wassalam par jo quran otari is se pahle na kabhi is se koi achi kitab (quran) otari aur na kabhi Allah talah ki taraf se aaye gi is me har cheez ka hal maujod hai aur Hazrat Muhammad Sallallaho alaihe wasalam ne ise amal kar ke dekhaya is liye mazeed koi cheez bachti nahi hai ek jumla aur add karta hon jis ne huququl Allah aur aur huququl ebad par amal kia os ke liye jannat hi jannat hai is me tamam cheezen aa jati hain aur mazeed koi gunjaish nahi rahti wama alaina illal bala aur agar koi galati ho gaye ho to maaf kar dena hame koi inam ki lalach nahi aur na kabhi sonch sakta hon innallaihe ala qulle shaieen qadeer.
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 07 2016
Reply Reply
0 Like
Good contest you must participated. Thanks to All
By: H/Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore on Aug, 06 2016
Reply Reply
0 Like