انگریز کے نظریاتی حملوں کے سدباب میں اعلیٰ حضرت کا کردار

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
سیاسی غلامی کے بعد جب آزادی کی صبح نمودار ہوتی ہے تو پھر یہ دیکھاجاتا ہے کہ کیا حاکم نے محکوم کے نظریات پر اثر ڈالا ہے؟ اس لیے کہ نظریاتی غلامی کے اثرات شدید ہوتے ہیں۔ یہی کچھ ہندوستان میں ہوا۔ انگریز نے اقتدار پر قبضہ جمایا۔ اس کے بعد نظریاتی تخریب میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا۔ افکار ونظریات غرض کہ زندگی کے ہررُخ پر اپنے اثرات ڈالے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک تو آزاد ہوا لیکن نظریاتی تخریب کے زیر اثر آج بھی زخم خوردہ و نڈھال ہے۔ اعلیٰ حضرت نے انگریز کی مخالفت میں اسی پہلو کو فائق رکھا۔ نظریاتی اصلاح کی، اور تمدنِ مغرب کے منفی اثرات کی عقدہ کشائی کی، اورفکر و نظر کو اسیرِ گنبد خضرا بنا لیا۔

اعلیٰ حضرت کے اجداد نے انگریز مخالفت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے جن بزرگوں سے اپنے تعلق کا اظہار فرمایا ان میں مجاہدِ جنگِ آزادی۱۸۵۷ء مولانا فیض احمد بدایونی کے بھائی مولانا عبدالقادر بدایونی، شہیدِ جنگِ آزادی مولانا کفایت علی کافیؔ، مولانا فیض احمد قابلِ ذکر ہیں، جو آگرہ، دہلی، لکھنؤ و شاہ جہاں پور وغیرہ محاذوں پر لڑے…… مولانا کفایت علی کافیؔ مرادآبادی ۱۸۵۸ء میں سولی پر لٹکائے گئے،ان سے اعلیٰ حضرت کو قلبی لگاؤ تھا، جس کا اظہار اشعار میں کیا ہے، کافیؔ کی شاعری سے اس حد تک متاثر تھے کہ ایک قطعہ میں ان کو نعت گو شعرا کا بادشاہ قرار دیا ہے،فرماتے ہیں ؂
مہکا ہے میرے بوئے دہن سے عالم
یاں نغمۂ شیریں نہیں تلخی سے بہم
کافیؔ سلطانِ نعت گویاں ہیں رضاؔ
ان شاء اﷲ میں وزیر اعظم
(گناہِ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،المجمع الاسلامی مبارک پور۱۹۹۳ء،ص۵۰،ملخصاً)

اعلیٰ حضرت کے معاصر سید الطاف علی بریلوی، اخبار جنگ کراچی (شمارہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۷۹ء ،ص۶،ک۴۔۵)میں لکھتے ہیں:
’’سیاسی نظریے کے اعتبار سے حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بلا شبہہ حریّت پسند تھے، انگریز اور انگریزی حکومت سے دلی نفرت تھی۔ ’’شمس العلماء‘‘ قسم کے کسی خطاب وغیرہ کو حاصل کرنے کا ان کو یا ان کے صاحب زادگان مولانا حامد رضا خاں، مصطفی رضاخاں صاحب کو کبھی تصور بھی نہ ہوا، والیانِ ریاست اور حکامِ وقت سے بھی قطعاً راہ و رسم نہ تھی۔‘‘ (گناہِ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،ص۱۶)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مطالعہ و تحقیق کی بنیاد پر یہ تجزیہ پیش کرتے ہیں: ’’کہا جاتا ہے کہ امام احمد رضا انگریز کو چاہتے تھے، اس سے محبت کرتے تھے، اس کے اشاروں پر چلتے تھے……مگرشواہد کو کھنگالا گیا اور حقائق کا مشاہدہ کیا گیا تو اس چاہت اور محبت کا دور دور تک پتا نہ ملا……ہاں جس نے الزام لگایا اس کا دامن داغ دار نظر آیااور جس پر الزام لگایا وہ بے داغ نظر آیا……یہ وہ مقام ہے جہاں حیرت کو حیرت ہے۔‘‘ (گناہِ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،ص۱۸)
حامیانِ انگریز کی تردید: فتنۂ قادیانیت نے سر اُٹھایاجسے انگریز نے تیار کیاتھا۔ قادیانیت کے انگریز سے مضبوط مراسم سے متاثر ہو کر ظفرؔ علی خاں نے غالبؔ کے مصرعے کو بنیاد بنا کر کہا تھا ؂
’’وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے‘‘
مرے گر کعبے میں لندن میں گاڑو قادیانی کو
قادیانیت کی مخالفت وتردید میں اعلیٰ حضرت نے درج ذیل کتابیں لکھیں:
[۱]جزاء اللّٰہ عدوہ باباۂ ختم النبوۃ
[۲]المبین ختم النبیین
[۳]السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
[۴]الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی
[۵]قہرالدیان علی مرتد بقادیان

فرزندِ اعلیٰ حضرت؛ علامہ حامد رضا خاں قادری نے ’’الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی‘‘تصنیف کی جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہوروممبئی سے شائع ہوئی۔ علماے حرمین طیبین نے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی تحریک پر قادیانیت ودیگر باطل فرقوں کے خلاف فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔عربی کے ساتھ ہی اردو/ انگریزی تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔

خانوادۂ رضا کی انگریز سے نفرت: اعلیٰ حضرت ہر باطل و اسلام کے دُشمن سے دوری کے قائل تھے۔ یہود و نصاریٰ نیز مشرکین سے دوری میں ہی ایمان و عقیدہ کی سلامتی جانتے تھے۔ یہ اسلامی اصول آپ کو ورثے میں ملا تھا۔ آپ کے دادا علامہ رضا علی خاں نقشبندی بریلوی ملک پر نصرانی تسلط کو ’افتاد‘ (مصیبت)سے تعبیر کرتے ہوئے اظہار تأسف فرماتے ہیں ؂
عجب افتاد بر سر ہندوستان بود
تسلط فرنگیاں بر مسلمان بود
رضاؔ چگونہ رنج و قلق نیفتاد
قضاے مہرباں ہا بر مسلمان بود
(مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا شہاب الدین رضوی،ص۴۱۔۴۲)

جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں مولانا رضا علی خاں بریلوی نے عملاً حصہ لے کر مجاہدین کی تازہ دَم گھوڑوں سے مدد کی۔ مولانا شہاب الدین رضوی نے اپنی کتاب ’’مولانا نقی علی خاں‘‘ میں ایسے تاریخی شواہد کی نشان دہی کی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریز کی مخالفت کے سبب انگریز نے آپ کے بعض مواضعات کو ضبط کر لیا تھا۔انگریز افسر ہڈسن نے آپ کے سر پر انعام رکھا تھا۔یہی جذبۂ حریت آپ کے شاگرد مولانا عبداﷲ خاں ہمدمؔ بریلوی میں منتقل ہوا۔آپ نے برطانوی افواج کے خلاف نمایاں حصہ لیا۔ قیدوبند کے عالم میں ہی جامِ شہادت نوش کیا۔(مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا شہاب الدین رضوی،ص۸۱)
ایام اسیری میں یہ رُباعی لکھی ؂
تو گرفتار ہوں کچھ رسم مجھے یاد نہیں
اس لیے لب پہ مرے نالہ و فریاد نہیں
کس کو حالِ دلِ غمگیں میں سُناؤں
قیس صحرا میں نہیں کوہ میں فرہاد نہیں

مولانا رضا علی خاں کے ایک اور شاگرد مولانا منشی محمد اسماعیل شکوہ آباد ی بھی انگریز کے خلاف معرکے میں گرفتار ہوئے اور کالا پانی کی سزا دی گئی……مولانا رضا علی خاں بریلوی نے مولانا احمداﷲ شاہ مدراسی اور جنرل بخت خاں کی فوجوں کو گھوڑے سپلائی کیے……مولانا رضا علی خاں بریلوی کا مجاہدین کو گھوڑے دینا اور مجاہدین کے لیے قیام و طعام کا اپنی جیبِ خاص سے اہتمام کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ برطانوی تسلط کے کتنے شدید مخالف تھے۔(مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا شہاب الدین رضوی،ص۹۶۔۹۸)

مولانا احسنؔ دہلوی، مولانا رضا علی خاں بریلوی کی مجاہدانہ کاوش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’آپ جنگِ آزادی کے عظیم رہ نما تھے۔ عمر بھر فرنگی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔ آپ ایک بہترین جنگجو اور بے باک سپاہی تھے۔ لارڈ ہسٹنگ آپ کے نام سے بے حد نالاں تھا۔ جنرل ہڈسن جیسے برطانوی جنرل نے آپ کا سر قلم کرنے کا انعام پانچ سو روپیہ مقرر کیا تھا۔ مگر وہ اپنے مقصد میں عمر بھر ناکام رہا۔‘‘(مولانا نقی علی خاں بریلوی،ص۹۶)

اعلیٰ حضرت کے والد ماجد مولانا نقی علی خاں بریلوی کی انگریز کے خلاف کارکردگی سے متعلق مولانا شہاب الدین رضوی لکھتے ہیں:’’مولانامفتی نقی علی خاں بریلوی بنیادی طور پر حریّت پسند تھے، انگریزی اقتدار کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے علماے اہلِ سُنّت نے جہاد کا فتویٰ صادر فرمایا۔ اس فتویٰ کے مطابق جہاد کی تیاری اور عملاً جہادِ آزادی کا آغاز کرنے کے لیے جہاد کمیٹی کی تشکیل ہوئی، اس کے آپ رُکن رکین مقرر ہوئے۔ انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے والے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے اور رسد پہنچانا آپ کے ذمہ تھا، جس کو بہ حسن وخوبی انجام دیتے، آپ کی تقاریر انتہائی پُر اثر ہوتی تھیں۔ آپ کی تقاریر نے مسلمانوں میں جہادِ آزادی کا جوش و وَلولہ بھر دیا تھا۔ انھیں علماے کرام کی بدولت بریلی روہیل کھنڈ میں انگریزوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی اور بریلی چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کی۔‘‘(مولانا نقی علی خاں بریلوی، ص۸۵)

اعلیٰ حضرت نے انگریزی افکار کی تردید میں جو علمی کارہاے نمایاں انجام دیے بعد کے ادوار میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہوئے اور آپ کے تلامذہ، خلفا، متوسلین نے انگریزی تمدن کے خلاف ماحول سازی کی۔ آج بھی افکارِ اعلیٰ حضرت کے ذریعے ہم انگریزو یہود کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 149443 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2016 Views: 271

Comments

آپ کی رائے