میرا ملک پاکستان کیسا ہو؟

(Pervez Akhtar, )
میرا ملک پاکستان بہت ہی عالی شان ہے اور میرے لیے دنیا میں سب سے پیارا ملک ہے۔میرے پیارے ملک میں خدا کی رحمتیں اور نعمتیں بے شمار ہیں ۔فلق بوس پہاڑ،گنگناتے بہتے دریا،زرخیز میدان،لہلہاتے کھیت اور جھولتے درخت اس ملک کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔

اس کے برعکس پاکستان کے چلانے کے عمل کوزیر بحث لایا جائے تواس پر بے حد افسوس اور شرمندگی کا سامنارہتا ہے۔اس ملک میں ہر کوئی سیاستدان بننا چاہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ سیاستدان نہ تو عوام کے بارے میں سوچتے ہیں اور نہ ہی ملک کو درپیش مسائل پرنظرثانی کرتے ہیں ،صرف اور صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔یہ بات تو ایک طرف سیاستدانوں نے توملکی سرمائے کو بھی دوسرے ممالک میں منتقل کر دیا ہے۔اِن کو چاہیے کہ وہ ملکی سرمائے کے ساتھ ساتھ اپنے سرمائے کو بھی ملکی ترقی میں صَرف کر دیں ۔اس ملک کو توانا اور طاقتور بنانے کیلئے حکومت کوچاہیے کہ وہ ایسے منصوبات پرعمل درامد کریں جو کہ کارآمد ثابت ہوسکیں۔

ہمارا پیارا پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس ملک میں اب برائے نام ہی اسلامی قانون نافذ ہیں ان پر جہاں عمل اور لاگو کرنے کی بات ہے اسے گوارا ہی نہیں کیا جاتا۔ہمیں چاہیے کہ اِن تمام قوانین کولاگو کر کے ان پر عمل درآمد کی بھرپور کوشش کریں ۔آجکل ہمارے ملک کے بازار تو بھرے پڑے ہیں لیکن مسجدیں ویران ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم مسجدوں کوآباد رکھیں تب ہی جا کر کہیں ہمارے گھر آباد ہو سکتے ہیں ۔

ہمارے ملک کے حکمرانوں کے درمیان نفاق کی گہری خلیج حائل ہو چکی ہے اور اس کی وجہ حکمرانوں کی آپس میں مخالفت،لڑائی جھگڑے،نااتفاقی اور بدامنی ہے۔ہمارے حکمرانوں میں توبرداشت نام کی بھی نہیں ہے فحش گوئی ان کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔یہ ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں جب یہ سب ایک ہو جائیں اور نااتفاقی کی دیوار کو گرا دیں ۔ہمارا ملک امن کا گہوارا بن سکتا ہے ،پرامن ہو سکتا ہے اور پاکستان ابھی ترقی پزیر ہے،ترقی یافتہ بھی ہو سکتا ہے۔

ہم سب کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینا چائیے کیونکہ یہ اُن فوجی جوانوں کاکام نہیں ہے جو دن رات اپنی ڈیوٹی کووفاداری سے نبھاتے ہیں اور سرحدوں پر تہنات کیے گئے ہیں ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک سے لوڈشیڈنگ ،لاقانونیت،کرپشن ،بے روزگاری کا خاتمہ کریں توسب سے پہلے ہمیں ہی آگے قدم بڑھانا ہو گاکیونکہ ہمارے بنا کچھ بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔

ملک میں مختلف سکیمز کا آغاز کیا جائے جن میں بے روزگاری سکیم سب سے پہلے ہواور اس کے ذریعے ملک کے عوام کو روزگار کے مواقعوں کی فراہمی ہو سکے اُن کے گھر بھی خوشحالی آئے کیونکہ جب گھر گھر ہو گا خوشحال تو تب ہی ہو گا پاکستان خوشحال۔قرضوں کیلئے سکیموں کو آسان اور بہتر بنایا جائے ۔بیوہ عورتوں اور یتیموں کو وظائف فراہم کیے جائیں۔

آج کل دیکھا جائے تو ہمارے ملک کی عدالتیں بِک چُکی ہیں ان میں انصاف ہو گا کیایہاں انصاف ہی مٹ کر رہ گیا ہے۔
؂ عدلیہ بھی اس ملک کی اب ہے بِک چُکی
پر مظلوم پیس رہے ہیں حوالات کی چَکی
کس طرح سے ہو گا انصاف اس جہاں میں
ہمدردی اور انسانیت اب ہے مٹ چُکی

عدالتوں میں عدل و انصاف مساوی میسر ہو۔اقلیتوں کو انصاف دیتے ہوئے ان کے تمام حقوق کا تحفظ کیا جائے۔امن اور محبت کو پھلایا جائے۔سودی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔رشوت کا خاتمہ ہو۔سفارش کو سدباب کیا جائے۔منشیات کی روک تھام کی جائے تا کہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام کی آنکھیں کُھل سکیں ۔

اگر ہم ساتھ ایک ہو جائیں اور کندھے سے کندھا ملا ئے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں تو وہ سب کچھ جو ہم چاہتے ہیں وہ ممکن ہو سکتا ہے۔اگر مصّمم ارادے سے ہم کچھ کام کریں تو وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔اﷲ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کو خوشحالی،کامیابی و کامرانی نصیب فرمائے۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pervez Akhtar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2016 Views: 289

Comments

آپ کی رائے