جنوبی ایشیا میں مسلم اتحاد وقت کی اہم ضرورت

(رفیق چوہدری, )
پاکستان کا 69واں یوم آزادی ان حالات میں منایا گیا کہ ایک طرف کشمیر میں اب بھی کشمیری عوام پاکستانی جھنڈے لہرا کر پاکستان سے رشتہ کیا لاالٰہ الا اﷲ کے نعرے لگاتے ہوئے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف درندہ صفت افواج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں اُنہتر سال بعد بھی انگریز کی غلامی پر مبنی 1935ء کے نظام سے عاجز آئے ہوئے لوگ تبدیلی کے نعرے لگا رہے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اﷲ کی طرف پیش رفت نظر نہیں آرہی ۔ اندرونی طور پر نسلی ، لسانی اور علاقائی تعصبات اور منافرتیں ، کرپشن ،ناانصافی ، لوٹ مار ، اقرباء پروری ،قومیتیں ملک و ملت کی نظریاتی و اساسی بنیادوں کو کھود رہی ہیں اور بیرونی طور پر یہود و ہنود پاکستان کے خلاف متحدہ محاذ بنا کر اندرونی خلفشار ، تعصبیتوں اورمنافرتوں سے فائدہ اُٹھا کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے درپے ہیں ۔

علاقائی سطح پر پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ اس کے ہم مذہب و ہمنوا ممالک اس کے خلاف ہو چکے ہیں ۔ افغانستان جس کی آزادی کے لیے اس نے روس کے خلاف طویل جنگ لڑی آج انڈیا کی شہہ پر پاکستان کو آنکھیں دکھاتا ہے بلکہ امریکہ کے کہنے پر دو چار میزائل بھی داغ دیتا ہے ۔ پاکستان کے امن کے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے اور جب امریکہ یا انڈیا چاہتا ہے وہاں سے پاکستانی شہریوں کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے ۔ ایران جس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور تین رکنی تنظیم کا اہم رکن رہا آج انڈیا کا اتحادی ہے اورپاکستانی سرحدوں پر اس کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کے وجود کا حصہ تھا آج انڈیا کا بغل بچہ بنا ہوا ہے اور پاکستان کے حمایتیوں کو پھانسی چڑھا رہاہے ۔ پاکستان کے لیے کٹ مرنے والے کشمیریوں کے لیے پاکستان کا وعدہ تھا کہ ان کی اخلاقی سپورٹ جاری رکھیں گے لیکن آج خون میں نہائے ہوئے کشمیریوں کے لیے کشمیر کمیٹی کے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ برما کے مسلمان جو پاکستان سے الحاق کا خواب دیکھنے کی پاداش میں آج اپنی ہی سرزمین پر بیگانے بنادیے گئے ہیں اوراپنے عزیز و اقارب کی جلی ہوئی لاشوں اور کٹتے بکھرتے جسموں پر نوحہ کناں مہاجرکیمپوں میں جانوروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر ان کی سفارتی سطح پر حمایت کرنے سے بھی پاکستان معذور ہے۔

بحیثیت قوم اپنے بنیادی نصب العین سے ہٹ جانا لا متناہی مسائل کا باعث ہوا کرتا ہے۔قیام پاکستان کا ایک فطری تقاضا عالم اسلام کی راہنمائی بھی تھا کیونکہ پاکستان واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پر بنا ۔ شاید اسی بناء پر اﷲ نے پاکستان کو چھٹی عالمی ایٹمی قوت بھی بنا دیا ۔ اس لحاظ سے بھی پاکستان کی ذمہ داریاں کئی گنابڑھ گئی تھیں لیکن پاکستان کی پہلی ذمہ داری جنوبی ایشیا میں ملت کی میراث اور اس کے مشن کی حفاظت تھا ۔لیکن پاکستان کا وجود جس وعدے کی بناء پر ممکن ہوا وہ وعدہ ہی ایفا نہ ہوا تو ملت کی میراث اور اس کے مشن کی حفاظت کیونکر ہوتی ؟

اس کے مقابلے میں انڈیا شروع سے اب تک اپنے قدیم چانکیائی فلسفے پر عمل پیرا ہے اور ایک قدم اس سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ اسی فلسفے کے تحت اس نے افغانستان کو اپنا اہم محاذ بنایا ، ایران سے دوستی بڑھا لی اور اسی دوستی کی بناء پر وہ ایران میں چاہ بہار پورٹ بنا کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے درپے ہے۔ بنگلہ دیشن کو پاکستان سے الگ کیا اور اب وہاں ہندو کلچر کا غلبہ چاہتا ہے ۔ کشمیر ، حیدر آباد، بہار ، آسام، جونا گڑھ پر زبردستی قابض ہے ۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل سے اتحاد کی بناء پر اس کا علاقائی بالادستی کا جنون روز بروز بڑھتا جارہا ہے ۔ اسی فرعونیت کا اظہار حالیہ سارک کانفرنس میں راج ناتھ کے رویے سے بھی ہوتا ہے اور یہ فرعونیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس کاانتہا پسند طبقہ دن دھاڑے برما سے ایران تک اکھنڈ آریانا کا خواب دیکھنے لگا ہے۔

جبکہ دوسری طرف پاکستان اپنے وجود اور اپنی بنیاد سے بھی غافل ہے۔ اس کی بنیادوں میں ہر طرح کی فکری راہنمائی موجود ہے۔ قائداعظم کے بصیرت آموز خطابات اور علامہ اقبال کی دوراندیشانہ شاعری میں کونسے ایسے گوشے ہیں جن کے متعلق راہنمائی موجود نہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ تاریخ کے صفحات تک دھونے بیٹھے ہیں ۔ یہاں تک جھگڑا ہے کہ پاکستان بنا کس لیے تھا؟ گویا حصول پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے جانوں کے نذرانے کیوں دیے ہم پتا ہی نہیں ۔ تاریخ کے انہیں نہاں گوشوں سے ایک سنہرا باب ملاحظہ ہو جس میں نہ صرف ملت کے نصب العین کی مکمل وضاحت ہے بلکہ ہر طرح کے چانکیائی فلسفے اور اکھنڈ بھارت کے دجالی فتنے کا موثر توڑ بھی موجود ہے۔

’’ اس لیے ، مشکلات میں گھرے ہوئے مگراہم وقت میں ، جب کہ انقلاب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہورہا ہے اور جب تاریخ کے مدار پر ایک نئی صبح طلوع ہورہی ہے، تو آئیے ہم سب اُس مقدس مطالبے پر ’’ لبیک ‘‘ کہیں اور اس فرض کو ادا کرنے کا وعدہ کریں یعنی آئیے ہم سب اﷲ اور اس کے رسول کے سامنے سرنیاز خم کریں ، تقدیر کے سات اہم تقاضوں کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیں ۔۔۔صرف اسی قسم کی بندگی کے ذریعے ہی ، صرف وقف کردینے کے جذبے سے اور صرف اسی قسم کی جدجہد کے ذریعے انقلاب کے چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور یہ دوبارہ بحالی ( ری کنسٹریکشن ) کا پروانہ بن سکتا ہے،ہماری اقوام کی عزت بحال ہوسکتی ہے اور ہمیں دوبارہ وہی طاقت حاصل ہوسکتی ہے۔ اور ہماری ملت کی اقدار اعلیٰ کی آزادی یقینی بن سکتی ہے اور پورے برصغیر میں اس کے مشن کی تکمیل ہوسکتی ہے ۔‘‘

’’اس لیے یہ (پیغام ) تمام اسلامی برادری کے افراد کو خدا کا واسطہ دے کر دی گئی ایک ایسی وارننگ کے طور پر لینا چاہیے کہ وہ مسلم دنیا کے کسی حصے کی حفاظت اور اس کے بچاؤ کے لیے اقدام کرنے میں لاپرواہی نہ کریں اور اس کو ایک ایسی سب سے اہم پکار سمجھیں جو اس لافانی مقولے پر عمل کی دعوت دیتی ہے (یعنی ) ’’ اتحاد میں ہماری فتح ہے اور نااتفاقی میں ہماری شکست ‘‘ ۔ اگر اس کے علاوہ کچھ اور کیا گیا تو (اس کا مطلب) تباہی و بربادی کو دعوت دینا ہوگا ۔ چونکہ ہم سب ایک خطرناک دور میں رہ رہے ہیں ۔ ایسا ( خطرہ ) کسی اور جگہ اتنا نہیں جتنا Orient(مشرق) میں ہے ، جہاں دوسرے امپیریلزم کے علاوہ جنہیں ہم سب جانتے ہیں اور ہم سب مخالفت بھی کرتے ہیں ، ایک پرانی داداگیری (Hegemony) بھی اپنی پوری سفاکی کے ساتھ اپنا سر اٹھا رہی ہے ، یعنی میرا مطلب ہے کہ ہندو جاتی کی دادا گیری / اجارہ داری ، جس کا برٹش امپیریلزم سے پورا پورا اشتراک ہے ، Orient(مشرق) کے امن و امان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ یہ پاکستان کے وجود کا ہی صرف انکار نہیں کرتی جو پاکستان کا حق بنتا ہے ، بلکہ جنوبی ایشیاء میں ملت کی دوسری اقوام کو بھی جینے کا حق نہیں دیتی ۔ اس لیے یہ تکلیف دہ بات صاف ظاہر ہے کہ اگر اسے اپنے منحوس مقاصد میں کامیابی ہوگئی ، تو یہ تباہی ہوگی ۔۔۔ ایسی تباہی جو تمام دنیائے اسلام کی منزل مقصود(مقدر) کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی ‘‘۔(چوہدری رحمت علی :15نومبر1946)

آج پاکستان جن مسائل کا شکار ہے اس کے ایک اندرونی بڑے محرک (باطل نظام)کے علاوہ دو بیرونی بنیادی محرکات ہیں ۔ ایک انڈیا کا علاقائی بالادستی کا خواب جسے ہندو انتہا پسندذہنیت کی اکھنڈبھارت کے متبادل سوچ کہنا چاہیے۔ دوسرا یہودیوں کا گریٹر اسرائیل کا خواب جس کے لیے انہیں طاقتور اور مستحکم مسلم ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرکے ان کی توجہ مشرق وسطیٰ سے ہٹا نا مقصود ہے ۔ پہلے عراق ، لیبیا ، مصر ، اب شام اور ترکی کا امن جہاں ان مکروہ صیہونی عزائم کی بھینٹ چڑھ گیا وہاں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے ذرا پہلے بھارت کے تعاون سے پاکستان کے ایٹمی پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی جسارت بھی انہیں عزائم کی عکاس تھی ۔ لیکن پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد اسرائیل اور اس کے جن حواریوں کو صدام حسین کے عراق میں کیمیاوی مواد نظر آگیا انہیں پاکستان کے پڑوس میں القاعدہ کو تلاش کرنے میں دیر کیوں لگتی ؟لہٰذا جہاں نائن الیون کا واقعہ دنیا کے لیے قابل فہم ہو چکا ہے وہاں مشرف کا کارگل ایڈونچر بھی اپنے تئیں کئی پراسراریاں رکھتا ہے ۔ خاص طور پر اس لحاظ سے کہ کارگل سے سری نگر کو چند کلو میٹر کے فاصلے پ4ر دیکھنے والے مشرف نے بعد ازاں کشمیر سے دستبرداری اختیاری کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔ پھر جس رفتار سے اُس نے جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی اور واحد اسلامی حکومت کو گرانے میں کوئی تحمل نہیں کیا اس سے بھی اس کا سارا کردار مشکوک ہوتا ہے ۔اس بات کی توثیق پینٹاگون کے نائن الیون سے قبل اس فیصلے سے بھی ہوتی ہے جس میں مشرف کو نواز شریف پر ترجیح دی گئی ۔ بہر حال کارگل جنگ سے انڈیا نے کئی فوائد حاصل کیے ۔ جہاں وہ تحریک آزادی کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑنے میں کامیاب ہوا وہاں کارگل جنگ نے بھارت کو افغانستان میں پہنچ کر کشمیر میں پاکستانی مداخلت کا جواب دہشت گردی سے دینے جواز فراہم کیا۔ اور اب جہاں اسرائیل کا مقصد پورا ہورہا ہے کہ پاکستان کو بحیثیت اسلامی ایٹمی طاقت فلسطین کے مسئلہ میں مداخلت کی فرصت نہیں وہاں انڈیا کی علاقائی بالادستی کا جنون بھی عروج پر ہے ۔ حالیہ امریکہ بھارت دفاعی معاہدے بھی چوہدری رحمت علی کے خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

مستقبل کے انہی خطرات کا ادراک کرتے ہوئے چوہدری رحمت علی نے برصغیر میں پاکستان ، بنگلہ دیش سمیت سات آزاد مسلم ریاستوں کے قیام اور ان پر مشتمل متحدہ محاذ بنانے کی تجویز پیش کی تھی ۔ ان کا یہ خواب کلی طور پر تو پورا نہ ہوسکا تاہم ان کا یہ سوال آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج ہے ۔
"Are we going to be a unified Millat under Islam or an atomised mob under Indianism"?
’’ کیا ہم اسلام کے تحت ایک متحدہ ملت بننا چاہتے ہیں یا انڈین ازم ( ہندو اجارہ داری) کے تحت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹا ہوا اژدھام ؟‘‘۔

یہ وہ اہم سوال ہے جس پرآج بھی جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے مستقبل اور تقدیر کاانحصار ہے۔ آج یہی سوال ہم اپنے آپ سے کر سکتے ہیں کہ کیا ہم انڈین بالادستی کے مہک اثرات کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ اگر نہیں تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم اس کا توڑ کرنے کے لیے اسلام کی بنیاد پر باہم متحد ہوجائیں ۔ بنگلہ دیش ، افغانستان اور ایران کو بھی ساتھ ملا کر ایک متحدہ مسلم محاذ بنائیں ۔ جس امریکہ کی خا طر افغانستان میں اسلامی حکومت کا خاتمہ کیا گیا وہ اب انڈیا کا سرپرست اور پاکستان کا دشمن ثابت ہوچکا ۔ لہٰذا اب پاکستان کوچاہیے کہ وہ افغانستان میں اسلامی حکومت کی حمایت کرے ۔ جنوبی ایشیا میں جب مسلم اتحاد بنے گا تو اس کا پہلا فائدہ پاکستان کو ہوگا ۔انڈیا افغانستان کواپنا مورچہ نہیں بنا سکے گا۔طالبان دور حکومت اس کی واضح مثال ہے ۔ جب افغانستان کی اسلامی حکومت بھارت کی علاقائی بالاد ستی کے راستے میں واحد رکاوٹ تھی اور پاکستان کی مغربی سرحد بھی بالکل محفوظ تھی اوراندرون ملک بھی ہر طرح کا امن تھا ۔ اسلامی اتحاد کی صورت میں انڈیا ایران کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کر سکے گا ۔ بنگلہ دیش میں ہندو ازم کے فروغ کو روک ملے گی ۔ دوسرا فائدہ خطے کے تمام مسلمانوں کو ہوگا ۔ پاکستان مضبوط ہوگا تو محکوم کشمیریوں کی تحریک کوجلا ملے گی۔ہم برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر سکیں گے ۔ بنگلہ دیش اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکے گا ۔ انڈیا میں مسلمانوں کو نیا حوصلہ ملے گا اور انڈیا میں آزاد ی پسند قوموں کو تقویت ملے گی ۔پھر جب اس خطے میں مسلمان مضبوط ہوں ہونگے تو اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی مدد کر سکیں گے اور شام سمیت مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کر سکے گا ۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پاکستان اپنے نظام اور آئین کو اسلام کے مطابق کرے تو باقی اسلامی ممالک خود بخود قریب ہو جائیں گے ورنہ سیکولر بنیادوں پر توشاید انہیں انڈیا سے زیادہ فوائد حاصل ہوں ۔مستحکم اور خوشحال پاکستان کے لیے درجہ بالا تجاویز بنیادی شرط ہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: رفیق چوہدری

Read More Articles by رفیق چوہدری: 36 Articles with 25333 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2016 Views: 322

Comments

آپ کی رائے