دہشتگردی اور شدت پسندانہ نظریات

(zoha zainab, karachi)
دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔
دہشتگردی کسے کہتے ہیں؟ دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔

یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔

اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بانسری بجے۔ آ نحضرت ص دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔

یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔انہیں خاک و خون میں نہلا رہا ہے۔یہ دہشتگرد کیسے بنتے ہیں؟ انہیں وہ شدت پسند نظریات جو مختلف کتابوں اور شخصیات کے جانب سے تعلیم دیئے جاتے ہیں اور اتنا تکرار کیا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندانہ نظریات انکے ذہنوں میں نقش ہوجاتے ہیں۔ اور اسکے بعد خواہ وہ بنگلہ دیش ہو یا پاکستان یا دنیا کا کوئی دوسرا خطہ وہاں دہشتگردی کا قوی امکان موجود رہتا ہے۔اور دہشتگرد میں بھی کوئی فرق نہیں ہوتا خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا جاہل اشرافیہ سے ہوں یا غریب طبقے سے انکے دہشتگرد بننے میں دیر نہیں لگتی۔جیساکہ بنگلہ دیش میں ہوا وہاں داعش کے قاتلوں میں تعلیم یافتہ اور اشرافیہ کے نوجوان شامل تھے جنہوں نے ایک بھارتی نام نہاد وہابی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نظریات سے متاثر ہوکر خونی کھیل کھیلا۔ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بنگلہ دیش نے پابندی لگا دی ہے اور اسی طرح باقی ممالک جیسے پاکستان کو بھی پابندی لگا دینی چاہیئے اور عوام کو آگاہ کیا جائے کہ اس شخص کے نظریات دین اور اسلام کی آڑ میں انتہائی شدت پسندانہ ہیں جو معصوم نوجوانوں کو دہشتگرد بنا سکتے ہیں۔

اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔

کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: zoha zainab

Read More Articles by zoha zainab: 2 Articles with 746 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2016 Views: 317

Comments

آپ کی رائے