حضرت شیخ الہند تحریک آزادی کے عظیم قائد (قسط دوم)

(Hammad Karimi, )
شاملی کے میدان کارزار میں انگریز سپاہیوں کو للکارنے اور پکارنے والے، امام ِربانی وعالم ِحقانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے دست گرفتہ وتربیت یافتہ اور عالم اسلام کی موقر وعظیم دانش گاہ دار العلوم دیوبند کے سند یافتہ وفیض یافتہ حضرت شیخ الہند انگریزوں کی تمام ہندستانیوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ وسفاکانہ حرکت قابل صد نفرت ولائق صد مذمت سے بے حد دل آزار وبیزار تھے، اور انگریز دشمنی اور ان کی آخری حد تک مخالفت میں ٹیپو سلطان شہیدؒ کے ساتھ ساتھ یا ان کے معاً بعد حضرت والا کا کوئی ثانی نہیں تھا،چنانچہ مفکر اسلام جن پر حق تعالی کا خاص تھا انعام، اور پوری دنیا میں تھا جن کا غیر معمولی اکرام، جو اپنے وقت کے تھے سارے علماء کے امام، اور جن کو اﷲ تعالی نے بخشا تھا بہت ہی اونچا مقام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ حضرت شیخ الہند کی مذکورہ خاص بات وقابل صد ستائش بلند صفات کے بارے میں اپنے گہر بار وضو بار محققانہ ومورخانہ قلم اعجاز رقم سے تحریر فرماتے ہیں:
’’دار العلوم دیوبندکے صدر مدرس مولانا محمود حسن دیوبندی (جو بعد میں شیخ الہند کے نام سے مشہور ہوئے) انگریزی حکومت اور اقتدار کے سخت ترین مخالف تھے، سلطان ٹیپو کے بعد انگریزوں کا ایسا دشمن اور مخالف دیکھنے میں نہیں آیا، وہ سلطنت عثمانیہ کے (جو اس وقت عالم اسلام کی رہنما، قائد اور خلافت کی علمبردار تھی) بہت پرجوش حامی تھے، اور ہندستان کی آزادی اور آزاد قومی حکومت کے قیام کے بہت بڑے داعی، وہ ان لوگوں میں تھے جن کی پوری زندگی اس مسئلہ کے لئے وقف تھی، ان کی ساری دلچسپیاں اور ساری جد وجہد اس پر مرکوز تھیں، انہوں نے اس سلسلہ میں حکومت افغانستان اور سلطنت عثمانیہ کے بعض سربراہوں مثلاً انور پاشا وغیرہ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، ۱۹۱۶؁ء میں شریف حسین کی حکومت نے ان کو مدینہ منورہ میں گرفتار کرکے انگریزی حکومت کے حوالہ کردیا، جس نے ان کو اور ان کے چند ساتھیوں اور شاگردوں (مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عزیز گل، مولانا حکیم نصرت حسین، مولوی وحید احمد) کو ۱۳۳۵؁ھ مطابق ۱۹۱۷؁ء میں مالٹا میں جلاوطن کردیا گیا، یہ جماعت ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۱۹۲۰؁ء تک وہیں رہی‘‘۔ (ہندستانی مسلمان، ایک تاریخی جائزہ، ص: ۱۳۶)

حضرت شیخ الہند اسیر مالٹا، بر صغیر ہند وپاک کی آزادی وخوشحالی، ترقی وبلندی کے لئے جنہوں نے اپنا سب کچھ دیا لٹا، اور مٹا، اور جن کی آخری خواہش اور سب سے بڑی تمنا تھی کہ اپنے رب کی خوشی وخوشنودی اور وطن عزیز دل وجان سے لذیذ کے لئے اپنا سر بھی دوں گا کٹا، کے مادر علمی دار العلوم دیوبند کے قیام کا اصل مقصد اور بنیادی وکلیدی وجہ ۱۸۵۷؁ء کی ناکامی ونامرادی کی تلافی، شہنشاہِ اعظم، خالق دو عالم اور مالک لوح وقلم کے پسندیدہ وچنیدہ دین ِ اسلام کی سربلندی وسرفرازی اور اسلام دشمن طاقت وباطل قوت سے جہاد کرنا اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے، خاص طور پر انگریزوں کی اسلام ومسلمانوں کے خلاف رچی جانے والی ناپاک سازش ونامراد کوشش کو ناکام بنانا ہے، انہیں عظیم ، مبارک، قابل شکر وشرف اور لائق صد رشک ومجد مقاصد کے حصول اور اس میں بھرپور کامیابی کے لئے آپ نے جنگ آزادی کی سب سے زیادہ موثر، مفید، طاقتور اور مستحکم تحریک ریشمی رومال کی داغ بیل ڈالی، اور اس شعر
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی
کے مصداق بن کر دار العلوم کے شاندار وسدابہار علمی ودینی ماحول کو چھوڑ کر میدان جہاد میں کود پڑے، کس دار العلوم کو چھوڑ دیا؟ اس دار العلوم کو جس کے بارے میں عالم اسلام کی متاع عزیز، علمی دنیا کی ہر دلعزیز ، مثالی شخصیت شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی دامت برکاتہم اپنے فکر انگیز، دل آویز وعطر بیز قلم اعجاز رقم سے تحریر فرماتے ہیں:
’’دار العلوم دیوبند رشد وہدایت کا وہ عظیم سرچشمہ ہے، جس کے فیض نے ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود مجھ جیسے نہ جانے کتنے پیاسوں کو سیراب کیاہے، یہ ان علماء محققین کا مرکز ہے جن کی خوشہ چینی کرکے مجھ جیسے طالب علم جی رہے ہیں، یہ ان اولیاء اﷲ کی سرزمین ہے جنہوں نے اپنی پاکیزہ سیرتوں سے قرون اولی کی یاد تازہ کی اور دین ودنیا کی جو کوئی نعمت مجھ جیسے طالب علموں کے پاس ہے وہ انہیں کی جوتیوں کا صدقہ ہے، یہ ان خدا مست مجاہدین کی چھاؤنی ہے جنہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر طاغوت کی ہر شکل اور باطل کے ہر روپ کے خلاف جہاد کیا، اور اپنے خون پسینے سے برصغیر کے علاقے میں مسلمانوں کی عزت وآزادی کے چراغ روشن کئے، اور مختصر یہ ہے کہ یہ ان نفوس قدسیہ کا دیار ہے جو اس آخری صدی میں دین کے مجدّد ثابت ہوئے، اور جنہوں نے قرآن وسنت کی علمی وعملی تفسیر اس آخری دور میں پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ اﷲ کا بھیجا ہوا یہ دین آج بھی عمل کرنے والوں کے لئے سدا بہار ہے، ان نفوس قدسیہ نے دیوبند کی سرزمین میں جو دلکشی ورعنائی پیدا کردی ہے، اور اس کی بناء پر اس چھوٹی سی بستی سے عقیدت ومحبت کاجو رشتہ قائم ہوا ہے، وہ خون ونسب کے ہر رشتے سے کہیں زیادہ بلند وبرتر ہے‘‘۔ (جہانِ دیدہ، ص: ۴۹۸ و۴۹۹)

الحمد ﷲ دوسری قسط مکمل ہوئی، بقیہ ان شاء اﷲ آئندہ، اﷲ بنائے ہم تماموں کو حق کا نمائندہ اور دین کا کارندہ، آمین یا رب العالمین۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hammad Karimi

Read More Articles by Hammad Karimi: 5 Articles with 2701 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2016 Views: 335

Comments

آپ کی رائے