میرا پاکستان کیسا ہو ؟

(Muhammad Usman, Islamabad)
ہر محب ِ وطن اپنے ملک کے حالات کو بہتری کی جانب بڑھتے دیکھنا چاہتا ہے ۔ میری خواہش یہ ہے کہ میرے ملک میں جاری پانی اور بجلی کے بحران کا خاتمہ ہو جائے ۔ تھر کے باسیوں کو پانی میسر ہو جائے اور کوئی شخص پیاس کے ہاتھوں جان نہ دے ۔ کوئی مل یا فیکڑی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نقصان نہ اٹھائے ۔ کوئی بھی مریض گرمی میں نہ جھلسے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دیوانے کا ایک خواب ہے ؟ نہیں ۔۔اگرچہ یہ کچھ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ۔ بجلی اور پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ پانی کے ذخائر میں اضافہ کیا جائے ۔ بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے ۔ پانی کے ذخائر میں اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں متعدد چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جائیں ۔ ان چھوٹے ڈیموں کے ساتھ ساتھ کم از کم تین بڑے ڈیم بھی بنانا ازحد ضروری ہے ۔

پڑوسی ملک کی مثال لیجیئے آزادی کے بعد بھارت کم و بیش سو سے زیادہ چھوٹے بڑے ڈیم بنا چکا ہے لیکن پاکستان میں دو بڑے ڈیموں کے علاوہ کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا یا گیا ۔ پاکستان میں مون سو ن کا مہینہ ہر سال کئی کیوسک پانیاپنے ساتھ لاتا ہے ، جس کی وجہ سے فصیلیں اور مویشی تباہ ہو تے ہیں ، لوگوں کا بے تحاشا مالی اور جانی نقصان ہوجاتا ہے اور بلآخر یہ پانی بحیرہ ء عرب میں جا ملتا ہے ۔ ہم پانی کی اس نعمت سے نقصان اٹھاتے ہیں اور اس پانی کو بحیرہ عرب کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ان سیلابوں کے مستقل سدِباب کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی کبھی اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ فیصلہ کیا گیا ۔ پانی ذخیرہ کرنے کے اہم منصوبوں میں کالا باغ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ طویل عرصے سے نہ صر ف زیرِ بحث ہے بلکہ اس کے لیے کی گئی کاغذی کاروائی پر کئی ارب ڈالر بھی خرچ ہو چکے ہیں ۔لیکن یہ منصوبہ سیاست کا شکار ہے ۔ اس معاملے پر بھی تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے ۔ تما م سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو ختم کرکے اس منصوبہ کو پایاتکمیل تک پہچانااب وقت کی ضرورت ہے ۔

ایک کالا باغ ڈیم اگر تعمیر ہو جائے تو ملک میں جاری بجلی اور پانی کے بحران پر خاطر خواہ قابو پایا جا سکتا ہے یہ ڈیم سالانہ کئی کیوسک پانی کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ،کالا باغ قدرتی طور پر نشیبی علاقہ میں واقعہ ہے برسات کے دنوں میں ہونے والی بارشیوں سے آنے والے سیلاب کو روک سکتا ہے اورایک روپیہ فی یونٹ بجلی کی پیداوار بھی ممکن بنائی جا سکے گی ۔اس ڈیم کی تعمیر سے منگلا اور تربیلا ڈیم پر پڑنے والے لوڈ میں بھی کمی آئے گی ۔ بجلی کے بحران کا خاتمہ ہماری بند ہوتی ملوں اور فیکڑیوں کو پھر سے منافع بخش بنا دے گا اور ملک میں نئی سے نئی صنعتوں کا آغاز ہو گا جس کی وجہ سے بے روزگاری کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا ۔

کالا باغ کے علاوہ چند برس پہلے وجود میں آنے والی میٹھے پانی کی جھیل (عطاء آباد) پر بھی کام کرکے اس کو ڈیم میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔عطاء آباد کے علاقے میں قدرتی طور پر وجود میں آنے والی میٹھے پانی کی یہ جھیل قدرت کی طرف سے ہمارے لیے ایک عطیہ ہے ۔ اس جھیل کو ڈیم میں تبدیل کرنے کے لیے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں ہے ۔ قدرتی طور پر یہ ایک ڈیم ہی کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ حکومت اگر اس جانب توجہ دے تو یہ قدرتی پانی کے ذخیرہ میں ایک اہم اضافہ ہے ۔ اگر حکومتی وسائل اسپراجیکٹ کے لیے ناکافی ہیں تو یہ پراجیکٹ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے یا مکمل طور پر اس کام کا ٹھیکہ کسی کمپنی کو دیا جائے ۔ معاہد ہ یہ ہو کہ ڈیم تعمیر کرنے والی کمپنی اس ڈیم سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے اخراجات کو پورا کرے اور مخصوص مدت کے بعد ڈیم حکومت ِ پاکستان کے حوالے کر دیا جائے ۔ تمام دنیا میں اس طرح کے معاہدے کیئے جاتے ہیں ۔ یہ معاہدے دس سے پندرہ سال پر محیط ہوتے ہیں ۔پاکستان بھی اس طرح کے معاہدوں کے ذریعہ ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کر سکتا ہے ۔ایک جانب یہ دو بڑے منصوبے ہیں جن کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی جبکہ دوسری جانب سندھ اور بلوچستان کے باسی پانی کی کمی کی وجہ سے اپنی جانوں کی بازیاں ہار رہے ہیں -

تھر اور بلوچستان کے باسیوں کو پیاس کی آفت سے بچانے کے لیے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر جہاں پانی بحیرہ ٗ عرب میں جا گرتا ہے اس علاقہ میں چند چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا دئیے جائیں اور ان ڈیموں سے پائپوں کے ذریعے ان علاقو ں کو نہ صرف سیراب کیا جائے بلکہ اس طرح پیاس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بھی کمی ممکن ہے ۔پاکستان کی ساحلی پٹی خصوصا جو بھارت کے ساتھ مشترک ہے وہاں ڈیم بنانے کی ازحد ضرورت ہے کیونکہ جب بھارت میں سیلاب کا خطرہ ہو تا ہے تو بھارتی حکام ان دریاؤں پر بنے ڈیموں کے دروازے پاکستان کی طرف کھول دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے نشیبی علاقے تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح جن ذرائع کا استعمال ملکی ترقی کے لیے ہونا چاہیے وہ سیلاب زدگان کی بحالی پر صرف ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکیک کی ساحلی پٹی پر بھی توجہ دی جانی ضروری ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والے وسائل کو استعمال میں لاکر زرِ مبادلہ حاصل کیا جا سکے ۔

یہ سبھی کچھ ممکن ہے لیکن صرف اورصرف اس وقت جب ہمارے ملک کے حکمران اور اعلیٰ افسران کی بصیرت اس حد تک ہو کہ وہ آج سے دس سال بعدپاکستان کی بڑھنے والی آبادی اور اس آبادی کی ضروریات کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والی ببجلی اور پانی کی کھپت کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔کرپشن کو ہر سطح سے ختم کرکے ایمانداری کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیئے کام کرنا ضروری ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے توملک کے سربراہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ بروقت درست فیصلہ کر سکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ملک کا سربراہ پڑھا لکھا ہو کیونکہ ایک پڑھے لکھے شخص میں قوت ِ فیصلہ ان پڑھ شخص کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ہمارے ملک میں گذشتہ ایک دہائی سے صرف دو پارٹیاں حکومت کر رہی ہیں ۔ ہمیں اپنی سوچ کو بھی تبدیل کرنا ہو گا ۔ ہمارے ملکی حالات کی وجہ سے تعلیم یافتہ طبقہ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ بیرون ِملک ملازمت کرے گا کیونکہ پاکستان میں اگر ملازمت کے مواقع مل بھی جائیں تو تنخواہیں قابلیت کے مطابق نہیں ہوتی ۔ملک میں دہشت گردی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے ۔ افواج ِ پاکستان اور پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اگرچہ دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں تاہم دہشت گرد اپنے مضموم ارادوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ اگر حکومتی اداروں کا جائرہ لیا جائے تو کرپشن کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کا شمار کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے ۔ملک سے کرپشن کا خاتمہ بھی از حد ضروری ہے ۔

ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ازحد محنت کے علاوہ نیک نیت حکمرانوں کی بھی ضرورت ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Usman

Read More Articles by Muhammad Usman: 2 Articles with 1044 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 510

Comments

آپ کی رائے
nice ... Jazak Allah HU Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Aaronsburg on Aug, 15 2016
Reply Reply
0 Like