جشن آزادی کے ساتھ مقصد پاکستان اور پرچم ستارہ و ہلال کی تعظیم کو یقینی بنایا جائے !!

(Shafqat Ullah, )
اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اﷲ نے مجھے اس پاک سرزمین پر پیدا کیا ویسے تو انسان اﷲ کی کسی نعمت کو جھٹلا نہیں سکتا اور ہر اک قدم، ہر اک نظر میں اﷲ کی پہچان ملتی ہے لیکن میں سب سے زیادہ شکر گزار اس کے تین احسانوں کیلئے ہوں جو اس نے ہم پاکستانیوں پر کئے ہیں پہلا یہ کہ ہمیں امت محمد ﷺ کا حصہ بنایا پھر مسلمان گھر میں پیدا کیا کہ کلمہ طیبہ کی بڑی دولت سے نوازا اور تیسرا پاک سرزمین میں جگہ دی ۔اگر ہم تاریخ پڑھیں تو جب تک مسلمان یکجا اور ایک قوت تھے تب تک کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا اور سب سے بڑی بات ان مسلمانوں کی مسلمانیت تھی وہ نام کے نہیں اعمال کے مسلمان تھے اور خداوند برتر کو بے حد عزیز۔پہلے کوئی سرحدیں نہیں تھیں مسلمان ایک قوم تھے اور کفار ایک لیکن جب منافقین اور کفار زمین میں پھیلنے لگے تو وقت کی ایک اہم ضرورت تھی کہ مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہو جائیں اور سب سے زیادہ یکجا ہونے کی ضرورت برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی تھی کیونکہ کفار کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مسلمانوں کا نسل در نسل غلام ہونے کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا تھا ۔برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی تذلیل کا آغاز آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے انگریزوں کی جانب سے تخت کو الٹانے سے ہوا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے تخت سنبھالا لیکن آخر ایک دن اﷲ نے اپنے بندوں کی فریاد سن کر آزادی ضرور دلانی تھی۔ 1867ء میں ہندوؤں کی جانب سے برصغیر پاک و ہند میں سرکاری زبان ہندی اور ہندی رسم الخط کی تحریک چلائی گئی اورجب مسلمان طبقہ کو اس بات کا آئینہ ہوا کہ ہندی رسم الخط کے ساتھ ساتھ ہماری تاریخ بھی ہندی زبان میں لکھے جانے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے توسر سید احمد خاں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر اردو زبان کا دفاع کرتے ہوئے اس تحریک کو پست کیا ۔اس کے بعد ہندوبنیوں اور انگریزوں کی جانب سے مسلمانوں پر مظالم بڑھتے گئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمل کا رد عمل ضرور ہوتا ہے اچھائی کو جتنا دبایا جائے وہ دوگنی طاقت سے ابھرتی ہے بالکل ایسا ہی ہوا مسلمانوں کے نوجوان طبقے میں بغاوت اور آزادی کی خواہش پنپنے لگی اور اس خواہش کی بڑی وجہ کلمہ حق کی صدا کو بلند کرنا اور اﷲ کی عبادت کرنے کا حق حاصل کرنا تھا ۔جس پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے پاکستان کا تصور دیا اس تصور پاکستان کی مشعل کو تھامے بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ نے انتھک جد جہد اور محنت کی جس میں انکی ہمشیرہ فاطمہ جناح بھی شانہ بشانہ تھیں اور اندھیروں کو دور کیا۔ محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ دیا جسے نظریہ پاکستان بھی کہا جا تا ہے جس کے مطابق ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اس لئے انہیں آزاد حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے انگلستان آزاد اسلامی ریاست قائم کرے ۔13اور 14اگست اورستائیسویں رمضان المبارک کی درمیانی شب جب پہلی دفعہ اعلان ہوا ’’یہ ہے ریڈیو پاکستان ‘‘تو مسلمانوں نے پاک سر زمین کی جانب ہجرت شروع کی اور دس لاکھ سے زائد قربانیاں ہوئیں پاکستان آزاد ہونے سے قبل مسلمانوں نے جب محمد علی جناح ؒ سے پوچھا کہ ہمارے ملک کا نظام عدل اور نظام کیا ہو گا تو محمد علی جناح ؒ نے نہایت خوبصورت جواب دیا کہ ہمیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس قرآن الکریم اور شریعت مصطفی ﷺ کی صورت میں نظام عدل اور نظام موجود ہے ۔پاکستانی پرچم اور قومی ترانہ ایک دوسرے کی عکاسی کرتا ہے اگر ہم پرچم ستارہ و ہلال کے رنگوں کی ملاوٹ اور بناوٹ کا نظریہ دیکھیں تو قومی ترانہ بنتا ہے جیسے کہ قومی پرچم گہرے سبز رنگ اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک سفید حصہ سفید رنگ کا تناسب ہے ۔سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ ہے سفید رنگ کے ہلال کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے ۔پاکستانی پرچم کا ڈیزائن امیرالدین قداوئی نے محمد علی جناح ؒ کی ہدایت پر مرتب کیا تھا ۔لیکن صرف ڈیزائن تک ہی بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہ ایک پاک سرزمین میں بسنے والی پاکیزہ قوم کا ترجمان ہے۔ جدید دور کے پر چم عکاسی نہیں کرتے کیونکہ رول آف فلیگ کے تحت پرچم ستارہ و ہلال صرف گہرا سبز رنگ اور سفید رنگ کے ساتھ سبز رنگ کے بالکل درمیان میں سفید ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ ہی ہے اس کے علاوہ اگر اس میں کوئی بھی تبدیلی کی جائیگی تو وہ اخلاقاََ اور قانوناََ جرم ہے لیکن ہم داستان رقم نہیں کر پا رہے ہیں ہم اپنے فرض سے بھاگ رہے ہیں محمد علی جناح ؒ کہتے ہیں ہم تو صرف عنوان ہیں اصل داستان تم ہو! مگر افسوس ہے کہ ہم اپنے پرچم کی حفاظت نہیں کر سکتے اسکی تعظیم نہیں کر سکتے !!آج پرچم میں کہیں کوئی تصویر تو کہیں کوئی اشعار رقم ہیں اور لوگ لہراتے ہوئے جشن آزادی کا اظہار کرتے ہیں ۔2012میں لندن اولمپکس میں چائینہ کی عوام اور کھلاڑیوں نے اولمپکس کا بائیکاٹ اور شدید احتجاج کیا تھا جسکی وجہ یہ تھی کہ اولمپکس میں چین کے جھنڈے میں لگے ستاروں کی جگہ تھوڑی سی سرک گئی تھی جو انہوں نے برداشت نہیں کیا اسی طرح ایک اور مثال حالیہ اولمپک ریوو2016 میں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی لڑکیوں کی ٹیموں کے مابین میچ میں شمالی کوریا کی ٹیم اولمپک کا بائیکاٹ کرگئی اور شدید احتجاج کیا کیونکہ ان کے پرچم کا رنگ تھوڑا سا جنوبی کوریا کے پرچم کے ساتھ ملتا جلتا نظر آرہا تھا جس پر انتظامیہ نے معافی بھی مانگی اور تب تک میچ نہیں ہوا جب تک جھنڈے کو صحیح طریقے سے ڈھالا نہیں گیا۔ یہ زندہ قوموں کی مثالیں ہیں جو اپنی اور اپنے ملک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں لیکن ہم ہیں تو زندہ و جاویدضمیر والے دلیر لوگوں کی اولادیں مگر دل میں وہ محبت اور جذبہ نہیں رکھتے ہمارا جذبہ لبرل ازم کی آڑ میں کہیں اندھے کنویں میں گر گیا ہے جسکو پھر سے بیدار کرنے کیلئے ایک شاعر مشرق کی ضرورت ہے ۔جشن آزادی کے موقع پر بننے والی کاغذی جھنڈیاں پرچم ستار و ہلال کی سب سے بڑی رسوائی کا ذریعہ ہیں کہیں اس میں ہلال اور ستارے کی جگہ تبدیل ہے تو کہیں گہرے سبز کی جگہ سرخ رنگ بھر دیا جاتا ہے اور سب سے بڑی بے حرمتی تو یہ ہے کہ ان کی بناوٹ ایسی ہے کہ عمارتوں کو تزئین کرنے کیلئے انہیں ہمیشہ عموداََ ہی لہرایا جاتا ہے جب کہ فلیگ رول کے تحت پرچم ستارہ و ہلال کو کبھی بھی عموداََ نہیں لہرایا جا سکتا پرچم ستارہ و ہلال کو اندھیرے میں لہرانا رول آف فلیگ کے برعکس ہے لیکن یہاں لوگ رات کے وقت بارہ بجے پرچم لہراتے ہیں اور کہتے ہیں کیونکہ پاکستان درمیانی شب میں آزاد ہوا تھا اس لئے ہم اسی وقت پرچم کشائی کرتے ہیں جو سراسر غیر اخلاقی حرکت ہے پرچم ستارہ و ہلال اندھیرے کی علامت کبھی نہیں ہو سکتا۔انٹیرئیر منسٹری کی جانب سے پرچم کی بناوٹ کے حوالے سے جو مخصوص سائز دیئے گئے تھے بھی پیش خدمت ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اب ان معیاروں کو خاطر میں نہیں رکھا جاتا اور جسکا جو جی چاہتا ہے ویسا ہی بنا دیتا ہے ۔سمجھ نہیں آتا انٹیرئیر منسٹری جس نے یہ جاری کئے تھے کہاں دم توڑ گئی ہے ؟انٹیرئیر منسٹری کے مطابق کسی سرکاری تدفین کے موقع پر 14x21فٹ ،12x18فٹ ،10x6.75فٹ ،9x6.25فٹ سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کیلئے 4x6فٹ،یا 2x3فٹ کا سائز مقرر ہے ۔سرکاری گاڑیوں اور کاروں پر 12x8 انچ کے سائز کا پچم لگایا جاتا ہے جبکہ میز پر رکھنے کیلئے پرچم کا سائز 6.25x4.25انچ مقرر ہے ۔پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کو روکنے کیلئے سال 2002ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم میر ظفراﷲ خاں جمالی نے فلیگ رول میں کچھ توسیع کی اور کچھ پروٹوکول پیش کئے جنکے مطابق پاکستان کے قومی پرچم کے لہرانے کی تقاریب میں پاکستان ڈے 23مارچ ،یوم آزادی 14اگست ،یوم قائداعظم 25دسمبر منائی جاتی ہیں یا پھر حکومت کسی اور موقع پر لہرانے کا اعلان کرے ۔اسی طرح قائد اعظم کے یوم وفات 11ستمبر ،علامہ اقبال کے یوم وفات 21اپریل اور لیاقت علی خان کے یوم وفات 16اکتوبر پر قومی پرچم سر نگوں رہتا ہے یا پھر کسی اور موقع پر جسکا حکومت علان کرے ۔پرچم کے سرنگوں ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں پرچم ڈنڈے کی بلندی سے قدرے نیچے باندھا جاتا ہے اس سلسلے میں بعض افراد ایک فٹ اور بعض دو فٹ نیچے باندھتے ہیں ۔سرکاری دفاترکے علاوہ قومی پرچم جن رہائشی مکانات پر لگایا جا سکتا ہے ان میں صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان ،چئیرمین سینٹ ،سپیکر قومی اسمبلی ۔صوبوں کے گورنر ،وفاقی وزراء یا وہ لوگ جنہیں وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہو ۔صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور صوبائی وزیر ،چیف الیکشن کمشنر ،ڈپٹی چئیرمین سینٹ ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور دوسرے ممالک میں پاکستانی سفیروں کی رہائش گاہیں شامل ہیں ۔پہلے ڈویژن کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی اپنی رہائشگاہوں پر قومی پرچم لہرانے کی اجازت تھی قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل ایجنٹ بھی اپنے گھر پر قومی پرچم لگا سکتے تھے جبکہ ہوائی جہاز ،بحری جہاز اور موٹر کاریں بھی قومی پرچم لہرایا جاتا تھا کہ جس میں صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان ،چئیرمین سینٹ سپیکر قومی اسمبلی ،چیف جسٹس آف پاکستان ،صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سفر کر رہے ہوں ۔چھوٹے ہوتے تھے تو اساتذہ ہمیں سیکھاتے تھے اور اگر ہم ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے توہمیں مار بھی پڑتی تھی اور وہ مضمون پرچم ستارہ و ہلال اور ملک پاکستان کے ساتھ مخلص پن اور محبت کرنے کا تھا جس میں ہر نالائق کو ٹاپ کروایا جاتا تھا لیکن اب تعلیمی دوڑ میں یہ مضمون نہ تو کسی کتاب میں موجود ہے اور نہ ہی کسی دماغ میں سبھی خانہ پوری کرنے میں لگے ہیں ۔ملک پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد اور پرچم ستارہ و ہلال کی حفاظت و تحریم ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئیے تھی لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے قائد ؒ تو چلے گئے اور ساتھ ہی جن لوگوں کو قربانیوں کی قیمت کا اندازہ تھا وہ بھی چل بسے لیکن ہم لبرل ازم کی آڑ میں اپنی تاریخ ہی بھلا بیٹھے ہیں ان لوگوں نے ہمیں اپنی امانت سونپی تھی لیکن اس امانت کی حفاظت کرنے کی بجائے ہم خیانت کرنے میں ماہر نکلے ہیں ۔ہر شخص ملک پاکستان کو سونے کی چڑیا سمجھ کر کھارہا ہے ہمیں ڈراتے بیرونی قوتوں سے ہیں لیکن یہاں تو گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے میں دن رات ترقی کر رہا ہے ۔ہم پر واقعی ایک عذاب مسلط ہے اور وہ دلوں میں نفاق ہو نے کا ہے ہماری تذلیل کی اصلی وجہ ہمارا اپنے مقصد اور ملک سے مخلص نہ ہونا ہے ۔ملک میں استحکا م اور امن و خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہم اپنے دلوں سے نفاق کو ختم کر دیں اسی نفاق کی بنا پر ہمیں ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھنا پڑتا ہے اور کفار ہم پر حکومت کر رہے ہیں ۔یہ ملک اﷲ تعالیٰ کے مقصد کو پورا کرنے کیلئے معرض وجود میں آیا ہے ہم کچھ بھی نہیں ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی ذات قاد ر و مطلق ہے اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ہم رات سوئیں اور اوندھے منہ پڑے رہ جائیں صبح کا سورج ہمیں نصیب ہی نہ ہو اﷲ تعالیٰ قادر ہے کہ ہماری جگہ ایک اور نسل لے آئے اور اس سے اپنا کام لے ہمیں تو اس کے حضور توبہ استغفار کرنی چاہئے اور دلوں کو نفاق و کینہ سے صاف کرنا چاہئے ۔ قائد اعظم کا پیغام تھا کہ دیکھنا گوانا مت دولت یقیں لوگوں ،یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگوں ۔اﷲ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آپسی محبت،بھائی چارے اور مقصد پاکستان اور پرچم ستارہ و ہلال کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 90876 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
15 Aug, 2016 Views: 543

Comments

آپ کی رائے