جنون بے معنی نہیں

(Fizza Imtiaz, )
پلیٹ فارم پر سنّاٹا تھا۔ دونوں بہن بھائی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹرین کا انتظارکر رہے تھے۔ آج ہندوستان سے پاکستان مہاجرین کی پہلی ٹرین آنی تھی۔ دور سے ٹرین آتے دکھائی دی۔ملک میں خوش آمدید کہنے کے لیے جو کب سے انتظار کررہے تھے ٹرین کے رکنے پر دِلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں ۔ سنّاٹا اب بھی برقرار تھا۔ کوئی اـترا ہی نہیں۔ دونوں بہن بھائی ٹرین میں داخل ہوگئے۔ سامنے کا منظر دیکھ کے آنکھیں پتھرا گئیں ۔ یہ کیا لاشیں ہی لاشیں۔ ٹکڑے ہی ٹکڑے۔ اچانک سے لاشوں کے بیچ کچھ ہِلتا محسوس ہوا۔ بہن نے بڑھ کر دیکھا۔ سامنے ایک نومولود بچہ دکھائی دیا۔لپک کر سینے سے لگا لیا۔ عجیب پاگل لوگ تھے دونوں۔ نہ دیکھابچہ مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا؟ اگر مسلمان ہے تو کِس فرقے کا؟ کس کا بچہ ہے۔؟کس صوبے کا ہے۔ پنجابی، سندھی،بلوچی یا پٹھان؟ بنگالی تو نہیں؟ تب یہ سب سوچنے والا کوئی نہیں تھا۔ نہ یہاں رہنے والے سندھی ،بلوچی، پنجابی تھے نہ وہاں سے آنے والے مہاجر تھے۔ سب پاکستانی تھے۔ اور جانتے ہیں وہ دو پاگل بہن بھائی کون تھے؟ جی بالکل، قائدِ اعظم محمد علی جناح اور انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح جن کو آج ہم سب مادرِملت کہتے ہیں مطلب قوم کی ماں۔ ان دونوں سمیت یہ چند لوگ تھے جنہوں نے اتنے لوگوں کا ایک سنورا ہوا کل بنانے کی خاطر سب کچھ دے دیاا۔اور ان کے ساتھ وہ کتنے ہی لوگ تھے جو جانیں دے رہے تھے۔ انکا مقصد کیا تھا؟ کیا انھوں نے قربانیاں صرف الگ صوبوں کے لئے دی تھیں؟ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایسا کہیں نہیں ملے گا۔ یہ سر پھرے جنونی اکیلے نہیں تھے۔ ان کے پیچھے ایک اور فردتھا۔ جی بالکل علامہ اقبال۔ علامہ اقبال نے خواب دیکھا۔ قائد اپنے ساتھیوں سمیت اسکی تکمیل میں لگ گئے۔ کیسے عجیب لوگ تھے کیا کر گئے اور وہ بھی کس کے لئے؟ ہم جیسے بے قدروں کے لئے۔ جو اِس بحث میں مصروف ہیں کہ یہ مہاجر ہے یہ پشتون، یہ سندھی ہے یہ بلوچی اور یہ پنجابی۔

یہ ارضِ پاک ماں ہے۔ ہمیں اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے۔ کئی سالوں سے مشکل میں ہے۔ اس ماں کی کچھ اولاد اس مشکل وقت میں بھی جائداد کا بٹوارہ کرنے میں مصروف ہے۔ اور کچھ اولاد اس مشکل سے ماں کو نکالنے کی کوشش میں لگی ہے۔ اس ہی دھرتی میں پیدا ہونے والی بیٹیاں ہیں جنہوں نے اس دھرتی کی سربلندی کے لئے اپنی اولاد کو قربان کر دیا۔ ایسی بھی مائیں ہیں جو کہتی ہیں میرے اور بیٹے ہوتے تو وہ بھی اس ملک پر نچھاور کر دیتی۔ ان ماؤں کو کیا حاصل ہوتا ہے اپنے جوان بیٹوں کو اس ملک پر نچھاور کر کے؟ وہ جو شہید ہوتے ہیں ان کی قربانیوں کا ہم بے قدر لوگ کیا صلہ دے رہے ہیں۔ قوم کے روشن مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے کتنے ہی ایسے گمنام سپاہی ہیں جو ناجانے کہاں کہاں مارے جاتے ہیں کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی ۔وہ سب اس ملک کے وشق میں پاگل ہیں جنونی ہیں ۔ ایسی ماؤں کی قربانیوں کو ہم سب کیسے فراموش کر دیتے ہیں جن کو آج تک اپنے بیٹوں کی لاشیں بھی نہیں مِلی ہیں۔ وہ ملک کی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ملک میں تیرا میرا چل رہا ہے۔ پارٹیوں نے صوبے بانٹ لیے ہیں۔ پنجاب نون لیگ کا،سندھ پی پی پی کا، خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی کا، اور بلوچستان جس بھی پارٹی کی حکومت آجائے اُن کا۔
 
حکومت کا شوق ہر پارٹی کو ہے۔ پر پاکستان کہاں ہے اس شوق میں؟ کہنے کو تقریریں تو پاکستان کے بارے میں ہوتی ہیں پر پاکستان پرحکومت کسی کی نہیں۔ قوم بس بٹتے جا رہی ہے۔ سٹیٹس،صوبائیت،زبان، فرقہ۔ ہر طرف تفریق ہی تفریق ہے۔ سچ کہوں تو شرم سی آتی ہے آج کی نسل کی تر جیحات دیکھ کر۔ برینڈیڈ کپڑے،گاڑیاں،باہر جا کر سیٹل ہونا۔ اِن سب میں پاکستان کے لئے کون سوچ رہا ہے۔ یہ نوجوان نسل اقبال کے شاہین تھے جو اب بس موسیقی کی دھنوں پر ناچتے اُدھم مچاتیدِکھائے دیتے ہیں۔کلاس ڈفرنس اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ روز نئے نئے جرائم کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ عزتیں لُٹ رہی ہیں،لو گ مر رہے ہیں،غربت بڑھ رہی ہے، اور حکمران لندن جا کر علاج کروا رہے ہیں۔ غریب علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتالوں کے باہر ہی مر جاتا ہے۔ جو بچ جاتے ہیں اُن کو بھوک مار دیتی ہے، یا ٹارگٹ کلنگ میں مارے جاتے ہیں۔ یہاں سے بھی بچ جائیں تو دھماکوں میں مارے جاتے ہیں۔

حکومتِ وقت عیش کر رہی ہے۔ سڑکیں بن رہی ہیں۔ غریب روٹی کو ترس رہا ہے۔ اور تبدیلی کے خواہشمند حضرات چند لمحوں کی تفریح کے لئے ان جلسوں میں جا کریہ مظاہرہ تو کر آتے ہیں کہ ہم اس تبدیلی کے خواہشمند ہیں پر جب ووٹ دینے کی باری آتی ہے تو نون لیگ کے حق میں ووٹ دے آتے ہیں۔ وہ ایک انسان جو کوشش کر رہا ہے کہ شاید ایک روز اس ملک کے لوگ واقعی کسی تبدیلی کے لئے کھڑے ہو جائیں گے ہر بارمایوس ہوجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں لیڈر شپ کوالٹی نہیں اس میں۔قائد بھی لیڈر نہیں تھے انکو رہنما اس وقت کے لوگوں نے بنایا تھا۔ اس شخص میں وہ ہی جنون ہے وہ ہی لگن ہے۔ بس اس کے پاس وایے ساتھی نہیں ہیں۔نہ ہی ویسے ایماندار لوگ ہیں جو اۃس کے پیچھے اُس کی سپورٹ کے لئے موجود ہوں۔ ایک لیڈر اپنی عوام کی سپورٹ کی وجہ سے لیڈر ہوتا ہے وہ سپورٹ نہ ہو تو وہ لیڈر نہیں رہتا۔حکومت کے خلاف بولنا آسان ہے پر گھر سے باہر آکر اُس کے ساتھ چلنا جو حکومت کے خلاف آواز اُٹھا رہا ہے بہت مشکل ہے۔

چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی قابل نہیں جو اس ملک کے لئے کچھ کر سکے۔ ایک سوال سب خود سے کر لیں کہ جس دھرتی پر رہتے ہیں۔ جس پر حق جتا رہے ہیں۔ یہ دعوےٰ کر رہے ہیں کہ یہ سرزمین ماں ہے۔ ہم کیا کر رہے ہیں اِس ماں کے لئے۔ ملک کی سلامتی میں ہر فرد کا بذاتِ خود کیا حصّہ ہے۔ ہم سب اپنا کام دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔ اگست آتے ہی گاڑیوں پر جھنڈے لگنے لگتے ہیں۔اچانک ملک سے محبت جاگ جاتی ہے۔اور ۱۴ اکست سے اگلے روز زمین پر گری جھنڈیوں کو اٹھانا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔جو کچھ اس بے قدر قوم نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے اس ملک کو بنانے والے آسمانوں میں بھی تڑپ رہے ہوں گے۔ کسی قوم نے آج تک اپنے قائد کے مزار کو عیاشی کا اڈہ نہیں بنایا ہو گا۔ یہ شرف بھی ہمیں ہی حاصل ہے۔کبھی سوچا ہے اُن لوگوں کی حالت جو کہتے تھے کہ اگر قائد کچھ اور عرصہ حیات رہتے تو اس ملک کی حالت بہت بہتر ہوتی۔ یہ الفاظ اپنی ہی ذات میں اس قوم کے منہ پر ایک تمانچہ ہے۔ کہنے کو بات تلخ ہے پر سچ ہے۔ اِس بات کامطلب ہے کہ شرم کرو آج کے حکمرانوں وہ کِس قدر قابل تھا۔ اکیلا ہی اتنا طاقتور تھا کہ اُسکی موت آج تک تم لوگوں کو تمہارے پیروں پر کھڑا نہیں کر سکی۔ اُس کی کمی آج تک تم پوری نہیں کر سکے۔اُس کے جانے کے بعد تم اتنے سارے ہونے کے باوجود اس ایک ملک کو نہیں سنوار سکے۔ سنوارنا تو دور تم تو سنبھال نہ سکے۔ جو تمہارے ساتھ تم سے آگے ہے۔ اور تم ابھی بھی تیرا میرا کر رہے ہو۔

یہ سوچنے کا وقت ہے۔ دوسروں کی خامیوں کی بجائے اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر نظر ڈالنے کاوقت آگیا ہے۔ ہم سب الگ ہو رہے ہیں۔ ہم سب نے اپنے ارد گرد قلعے بنا لئے ہیں۔ یہاں کیا رکھا ہے مجھے باہر کے ملک جا کر رہنا ہے کی بجائے اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس ملک کو ایسا بنانا ہے کہ ہم سب یہاں خوشی سے رہ سکیں۔ دہشتگرد ہونے کاجوکلنکاس ملک کے لوگوں پر لگ چکا ہے اس کے بعد باہر جا کر ذلت کی زندگی گزارنے کا کیا مطلب۔ باہر سب ہمیں دہشتگرد سمجھتے ہیں۔ یہ ہی ملک ہمارا گھر ہے۔ اس سرزمین پر ہم پیدا ہوئے ہیں۔ اِس ماں کا کچھ قرض ہے ہم پر۔ آج یہ مشکل میں ہے۔ پیٹھ پھیر کر بھاگنے کا نہیں اپنی سرزمین کی سلامتی کے لئے کچھ کرنے کا وقت ہے۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور یہ جنگ بھی ہماری ہے اسے ہم سب نے مِل کر لڑنا ہے۔ اپنے دامن پر لگے دہشتگرد ہونے کا داغ دھونے کا وقت ہے۔اپنی سلامتی کے لئے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ ملک کی سلامتی کا ذمہ صرف فوج کا ہی نہیں یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ فوج کا کام سرحد پر جنگ لڑنا ہے۔ دشمنوں کو ملک کو نقصان پہنچانے سے روکنا ہے۔ اندر موجود ان دشمنوں سے لڑنا ہمارا کام ہے جو ہماری جڑیں خاموشی سے کاٹ رہے ہیں اور ہم سمجھ بھی نہیں پا رہے۔ سب دشمنوں کو مات دینے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے متحد ہو کر دشمن کو مات دینے کا۔
کاش کے آج کا نوجوان بھی سمجھ جائے کہ اُس کی ضرورت شیشہ کیفیز کی بجائے اُس کے ملک کو ہے۔ تو آج بھی یہ جنگ ہم جیت سکتے ہیں۔ یہ جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک ہم مل کر یہ نا دِکھا دیں کہ ہم سب ایک ہیں۔ ایک جنون اور عشق نے ہمیں آزاد مملکت دی تھی۔ آج بھی وہ جنون اور اِس ملک سے عشق ہر ۱۴ اگست پر بیدار ہوتا ہے اور یہ جنون کسی صورت بے معنی نہیں۔ اُس عشق کے دِیے کو جلتے رہنے دیا جائے تو ہم سب مِل کر قائد کا پاکستان بنا سکتے ہیں۔آج بھی اُس ہی جنون اور عشق کی ضرورت ہے جو ہم سب کو پاکستانی بنا دے ۔صرف ایک قوم۔ اگر آج بھی نہ ہم سنھبلے تو وہ وقت دورنہیں جب ہمارے بچے ہمیں یہ کہہ کر شرمندہ کریں گے کہ وہ بھی لوگ تھے جو بناِ کسی ہتھیار کے ملک بنا گئے۔ اور آپ لوگ ایٹمی طاقت بن کر بھی ملک نہ بچا سکے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fizza Imtiaz

Read More Articles by Fizza Imtiaz: 4 Articles with 1664 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 493

Comments

آپ کی رائے