پاکستان ترقی پذیر ملک

(ABDUL SAMI KHAN SAMI, Swabi)
بچپن میں معاشرتی علوم کی کتابوں میں پڑھتی تھی کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ پھر کتابیں مطالعہ پاکستان میں تبدیل ہو گئیں۔ لیکن پاکستان کا حوالہ ان میں بھی ترقی پذیر ملک کا ہی رہا۔ وقت نے کچھ اور منزلیں طے کیں اور میری کتابیں سیاست کی کتابوں میں تبدیل ہو گئیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کا تعارف تب بھی ترقی پذیر ملکوں کی صف میں ہی تھا۔

میں اکثر سوچتی تھی کہ ملک ترقی یافتہ ملک کس طرح بنتے ہیں۔ وہ کیا چیزیں ہیں جو کسی ملک کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بنا دیتی ہیں۔ یقیناََ ایک کرپشن سے پاک سیاسی نظام کسی ملک کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے لیکن وہ کس طرح کے لوگ ہیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی معیار کیا ہیں جو ایک ایسے سیاسی نظام کو جنم دیتے ہیں جو کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ بنانے میں مدد دیتا ہے؟

پچھلے چند سالوں سے یورپ کے ایک ملک (ڈنمارک) میں رہنے کی وجہ سےاس ترقی یافتہ ملک کے سماجی اور سیاسی رویوں کو قریب سے جاننے کا موقع ملا تو کئی گتھیاں خود بخود سلجھتی چلی گئیں۔ دراصل ہمارے اخلاقی اور سماجی رویے ہی ایک ایسے مثالی معاشرے کو جنم دیتے ہیں جو کسی بھی ملک کو سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر مظبوط کرتا ہے۔

مثال کے طور پر وقت کی پابندی اور اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دینے کی عادت جو ان مغربی تہذیبوں کا خاصہ ہے۔ گو کہ ہمارے معاشرے میں بھی حلال اور حرام کا تصور بے حد راسخ ہےلیکن نجانے وہ کیوں حلال گوشت تک ہی محدود ہے۔ حالانکہ اگر ہم اپنے دفاتر میں وقت کی پابندی اور فرائض کی صحیح طریقے سے انجام دہی کو اپنا شعار بنا لیں تو نہ صرف ہم اپنے مذہبی فریضے کو انجام دیں گے بلکہ اچھی اخلاقی سماجی روایت کی بنیاد بھی ڈالیں گے جو کہ ترقی یافتہ ممالک کا خاصہ ہیں۔

انہی روایتوں میں سے کچھ کا ذکر کروں گی جو کہ ڈنمارک میں رائج ہیں، جنہیں ہمیں اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔ یہاں ادارے کے سربراہ کو اس کے ملازمین اس کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ سربراہ خود کو برتر سمجھتا ہے اور نہ ہی ملازمین خود کو کمتر سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملازمین خود کو ادارے کا ملازم سمجھتے ہیں نہ کے اس ادارے کے سربراہ کا۔ ادارے کا سربراہ اپنے ملازم کے لیے کچن میں سے چاۓ لا کے دینے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔

رشوت یا چاۓ پانی کا کوئی تصور نہیں۔ قانون پر عمل اس طرح کرتے ہیں گویا وہ کوئی مذہبی فریضہ ہو اور مذہب سب کا ذاتی مسئلہ ہے۔ اگر کوئی چیز قانون ہے تو اسے قانون بنانے والے بھی تبدیل نہیں کر سکتے اس لئے کوئی سیاست دان اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر آپ کی کوئی چیز گم جائے تو٩٩ فیصد چانس ہیں کہ آپ کو وہ اسی جگہ سے مل جاۓ گی۔ جہاں پانچ سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں تو لائن خودبخود بن جاتی ہے اور اس سب کے لئے انہیں ریاست مجبور نہیں کرتی بلکہ یہ چیزیں ان کی اخلاقیات میں شامل ہیں۔

بظاہر ان چیزوں کا بالواسطہ تعلق ملک کی معاشی حالت سے نظر نہیں آتا لیکن انہی اخلاقی رویوں اور صحیح غلط کے بارے میں واضح تصورات انہیں حق کے ساتھ کھڑا کرتے ہیں اور ان کے انہی سماجی رویوں نے ان کے مضبوط سیاسی نظام کو جنم دیا ہے۔ یہاں کوئی بھی اپنا رہنما اس لیے نہیں چنتا ہے کہ اس کے نام کے ساتھ کوئی سر نیم لگتا ہےیا وہ کسی مخصوص علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی اپنے وعدے پورے نہیں کرتی تو دوسری مرتبہ اسے نہیں چنا جاتا، ان کی وفاداریاں سیاسی پارٹیز سے نہیں بلکہ ملک سے وابستہ ہیں۔

اور یقیناََ جو سیاستدان ایسی قوموں سے نکل کر آتے ہیں انکی ترجیحات بھی ذاتی مفادات نہیں ہوتے ہیں بلکہ ملکی ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ ایسی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو ملک کو معاشی ترقی کی طرف لے جاتی ہیں اور ایسی تہذیبی روایات کے مالک ملک ہی ترقی یافتہ کہلاتے ہیں۔

ہمیں بھی اگر اس ترقی پذیر کے لفظ سے جان چھڑانی ہے تو اپنے رویوں کو انفرادی طور بدلناہو گا کیونکہ یہی انفرادی رویے اجتماعی معاشرتی و سیاسی روایات کو جنم دیتے ہیں۔ تو آئیں ہم عہد کریں کے معاشرے کی اکائی کی حیثیت سے ان روایات کو اپنا کر اپنے کردار کو مثبت طور پر ادا کرینگے تاکہ ہماری آنے والی نسل اپنی کتابوں میں پڑھے کے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ABDUL SAMI KHAN SAMI

Read More Articles by ABDUL SAMI KHAN SAMI: 99 Articles with 78148 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2016 Views: 576

Comments

آپ کی رائے