وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)
 وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے رابطے کی نئی صورت نکالی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’عوام وزیراعلیٰ ہاؤس کے پتے پر خط لکھیں ، میں انہیں پڑھوں گا ․․․ وزراء، بیوروکریسی اور عوام کے تعاون کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ․․․‘‘۔کتنے عوام وزیراعلیٰ کو خط لکھتے ہیں اور وزیراعلیٰ ان میں سے کتنے خط پڑھ سکتے ہیں اور کتنے لوگوں کے مسائل خط پڑھ کر حل کرتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اگر انہوں نے ابتدا میں کچھ لوگوں کے خط پڑھ کر ان کے کام کردیئے تو خطوں کی آمد میں حد سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، ایسے میں ایک ہی فرد کے لئے اتنے خطوط کا پڑھنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایسی صورت میں خط پڑھنے اور اس پر عملدرآمد کروانے والے عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ آغاز میں کام کا گرم رہنا اور جلد ہی نمک کی کان میں موصوف کا نمک بن جانا کوئی اچھمبے کی بات نہیں ہوگی۔ آئی ٹی کے زمانے میں بھی اگر سندھ کے نئے سائیں نے خط کو ترجیح دی ہے تو کچھ برا نہیں کیا۔ عام لوگ ابھی آئی ٹی تک اس طرح پہنچ نہیں رکھتے، تاہم جو لوگ آئی ٹی کی مہارت حاصل کرچکے ہیں، ان کے لئے بھی شکایات یا مشوروں وغیرہ کے لئے ایسا سوفٹ ویئر تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس میں ہر کوئی اپنا حصہ ڈال سکتا ہے، ریکارڈ بھی محفوظ رہ جائے گا، عوام کو بھی سہولت ہوگی۔

میں آجکل کراچی میں ہوں، اس لئے میں نے بھی مناسب جانا کہ کیوں نہ وزیراعلیٰ سندھ سائیں مراد علی شاہ کو ایک خط لکھ دوں، یہ ایک بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے، جس سے کراچی کینٹ سٹیشن سے لے کر گلشنِ حدید (سٹیل ملز) تک جاتے ہوئے میرا واسطہ پڑا۔ میں فیملی کے ساتھ تھا، بچوں نے ٹرین پر کراچی میں داخل ہو کر کینٹ سٹیشن تک پہنچتے ہوئے جو مناظر دیکھے تھے، ان کا واسطہ جس طرح کچرے ، گندگی وغیرہ سے پڑا تھا، کراچی کے بارے میں ان کا ذہن بن رہاتھا۔ مگر جب ہم ٹیکسی میں سڑک پر سفر شروع کیا، تو کراچی کا نقشہ ہی کچھ اور تھا، صاف ستھری بڑی سڑکیں، تیز ہوا سے جھومتے درخت، بلند وبالا عمارتیں اور کاروباری مراکز۔ ابھی ہم لوگ ماحول سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ وہی سڑک جس پر ہم اُڑے اُڑے جار ہے تھے، اچانک بڑے بڑے گڑھوں میں تبدیل ہوگئی، سڑک کے ایک طرف کسی سپلائی کے لئے بھی گڑھے کھودے گئے تھے، پوری سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، ہر طرف مٹی کے مرغولے اڑ رہے تھے، جس گاڑی کو جہاں سے راستہ ملتا وہ نکلنے کی کوشش میں تھی، مگر ٹریفک کے حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھوے کی چال سے چل رہی تھی۔ کچھ ہی آگے چل کر سڑک پر پانی کھڑا پایا، یہ نہ جانا جائے کہ وہاں کھڈے نہیں تھے، کسی گاڑی کا ٹائر کسی کھڈے میں اتر جاتا ، تو کوئی موٹر سائکل دو فٹ تک پانی میں گھس جاتا، یہ پانی بارش کا بھی نہیں تھا، اس پانی سے گٹر کی بدبو آرہی تھی۔ خدا خدا کرکے گردوغبار اور گندے پانی سے نجات ملی، مگر اس کے بعد بھی تادیر ٹریفک جام ہی رہی۔ یوں ہمارا کراچی کی سیر کی خواہش دھندلانے لگی۔

یہ کربناک اور افسوسناک منظر کافی طویل ہے، میں اس پر وزیراعلیٰ کو(اُن کے بیان کے بعد) خط لکھنے کا ارادہ کر چکا تھا کہ اگلے روز کے اخبارات میں ایک بڑے اشتہار پر نگاہ پڑی، وہ اشتہار تاجر تنظیموں کی طرف سے دیا گیا تھا، جس میں وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ سے اپیل کی گئی تھی، جس پر اِن دو حضرات کے علاوہ تبرکاً جناب آصف علی زرداری اور ان کے پارٹی کے چیئرمین خلف الرشید بلاول زرداری کی تصویر لگائی گئی تھی۔ اپیل میں یہی مسئلہ بیان کیا گیا تھا، تصاویر کے ذریعے بھی مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہی سڑک چونکہ اندرونِ سندھ کو جاتی ہے، اس لئے یہاں آنے والے سرمایہ کار یہیں سے گزرتے ہیں، لہٰذا اس سڑک کی از سرِ نو اور فوری تعمیر کی درخواست کی گئی تھی۔ یقینا مراد علی شاہ بھی اسی سڑک سے ہی گزرتے ہونگے، اس کے خراب ہونے کی وجہ سے طویل رستہ تبدیل کرتے ہونگے، مگر سندھ سے کراچی میں داخلے کی سڑک جس پر سے بلامبالغہ ہزاروں گاڑیاں روزانہ گزرتی ہیں، اس کی تعمیر کے فوری احکامات کی ضرورت ہے، میں نے خط لکھ دیا ہے، تاکہ سند رہے اور سڑک بن جانے کی صورت میں کراچی کے مکینوں کے کام آئے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 257624 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Aug, 2016 Views: 317

Comments

آپ کی رائے