مچھر ۔۔ایک جان لیوا جانور!

(Shafqat Ullah, )
حضرت ابراہیم ؑ کے دور نبوت میں ایک نمرود نامی شخص ایسا تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور ظلم و ستم سے لوگوں کو غلام رکھتا ۔جب نبی خدا حضرت ابراہیم ؑ نے اس قوم کو واحد اﷲ کا پیغام سنایا اور اسکی طرف رجوع کرنے کو کہا تو نمرود نے نبی ؑ خداپر بہت سے مظالم کئے جن میں سے ایک انہیں آگ میں پھینکوانے کا واقعہ ہر شخص جانتا ہے لیکن اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا اور اس دن بھی ایسا ہی ہوا اﷲ کے حکم پر آگ گلزار بن گئی لیکن جب نمرود کی ہرزہ سرائی بڑھ گئی اور اس نے خدا ءِ واحد پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اﷲ نے اسے مچھر والے عذاب میں مبتلا کر دیا مچھر کو حکم ہوا کہ نمرود کے کان کے راستے اس کے دماغ میں داخل ہو جا ۔مچھر کے دماغ میں اچھل کود کرنے پر نمرود کو سر میں درد ہوتا جو کسی دوا سے نہ رکتا تو وہ سر پٹکنے لگتا جس سے اسے کچھ سکون ملتا اس طرح ایک حکیم نے مشورہ دیا کہ جب ایسا کچھ مسئلہ درپیش ہو تو سر میں جوتے لگوا لیا کرو تکلیف نہیں ہوگی گویا یہی سر میں جوتے جوتے کھاتے یہ خدائیت کا دعویٰ کرنے والے جھوٹی شان و شوکت کا پجاری ایک دن مر گیا ۔تب سے آج تک مچھر ایک جان لیوا جانور بن چکا ہے اگر اس جانور کی تاریخ دیکھی جائے تو بہت پرانا ہے اور سب سے پہلی اس کی وجہ سے پھیلنی والی بیماری قریب پچاس سے ایک لاکھ سال پہلے ملیریا تھی جو ہر سال لاکھوں لوگوں کی جان اس دور میں بھی لے رہی ہے جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ۔مچھروں کا پھیلاؤ انسانیت کیلئے آئے روز خطرہ بنتا گیا گزشتہ سال 2015 میں ملیریا کی وجہ سے پوری دنیا میں چار لاکھ اڑتیس ہزار ہلاکتیں ہوئیں جو کہ قابل فکر بات ہے اور گزشتہ تیس برس میں ڈینگی کی وجہ سے تیس گناہ اموات ہوئیں ہیں ۔ کافی ممالک بھی اس بیماری کے بڑھنے اور پائے جانے کی شکایت کر رہے ہیں ملیریا تو مادہ مچھر اینا فلیز کے تھوک میں موجود جرثومہ پلازموڈیم سے ہوتا ہے لیکن مچھروں کی ایک قسم ایجپٹی ایڈیس نہایت مہلک ثابت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ڈینگی اور اب ذیکا وائرس پھیل رہا ہے ۔لیکن اس میں حقیقت یہ ہے کہ انسان ہی انسان کا دشمن بن چکا ہے پہلے جنگیں تلوار اور طاقت کے بل پر ہوتیں تھیں اب جنگیں بائیو کیمیکل اور پراکسی وار میں بدل چکی ہیں انسانیت کہیں نظر نہیں آتی جنگ کا مقصد پہلے بھی مذہبی تھا اور آج بھی !یہودی دوسرے مذاہب کے خلاف پراپیگنڈوں میں ہمہ وقت مگن ہیں ۔سب سے پہلے جب امریکہ کو اسی کی ریاست یو کرائن نے آنکھیں دکھائیں تھیں تو امریکہ نے یو کرائن کے ساحل سمند ر پر ایک سپرے کیا تھا جو بظاہر تو بیماریوں سے دور رکھنے کیلئے تھا لیکن اس کے بعد یو کرائن میں ڈینگی وائرس پھیل گیا اور اموات ہوئیں ۔اسی طرح افغانستان میں جنگ کیلئے آنے والی امریکی فوج نے افغانستان میں یہ سپرے کیا اور وہاں لوگوں کو اس مہلک بیماری کا نشانہ بنایا ۔انڈیا پاکستان کے ساتھ عالمی معاہدوں کی اول دن سے ہی خلاف ورزی کر رہا ہے کبھی جنگ پر اتر آتا ہے تو کبھی آبی جنگ اور کبھی ملک میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے ۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہر سال پاکستان کا زرعی اور معاشی بھاری نقصان ہوتا ہے سال 2010 میں آنے والے سیلاب کے بعد امریکہ سے ٹیمیں آئیں جنہوں نے سیلاب زدہ علاقوں خصوصا َسندھ میں بیماریوں سے بچاؤ کیلئے سپرے کیا اس سپرے کے بعد سب سے پہلے سندھ اور کراچی میں ڈینگی وائرس کی اطلاع ملی اسکے بعد لاہور میں ڈینگی بہت تیزی کے ساتھ پھیلا اور ڈینگی سے 300اموات ہوئیں جن میں منسٹرز اور بیوروکریٹس بھی شامل تھے ۔اس کے بعد گزشتہ چھ برس سے پاکستان دن رات ڈینگی سے لڑ رہا ہے لیکن پھر بھی ہلاکتیں ہو جاتیں ہیں جنکی تعداد 14000 تک پہنچ چکی ہے !اگر دیکھا جائے تو دہشتگردی کی جنگ بھی پاکستان پر گزشتہ کئی برس سے مسلط کی گئی ہے ۔رواں سال کے شروع میں ایک نئی بیماری ذیکا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص طور پر یونائیٹڈ سٹیٹ اور افریکن ممالک میں ہلاکتوں کی خبریں سننے میں آئیں جس کیلئے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دن رات محنت کر کے وائرس کی روک تھا م کیلئے کی کوششیں کی گئیں اور امسال دوسرے مہینے میں بھارت کے متعلق خبریں سامنے آئیں کہ وہ ذیکا وائرس کی زد میں ہے! لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ بھارت میں ذیکا وائرس میں مبتلا کوئی مریض سامنے نہیں آیا لیکن وائرس والے مچھر ایجپٹی ایڈیس ضرور پائے گئے ہیں مطلب یوں کہا جا سکتا ہے کہ بھارت پر اس وائرس کا حملہ ہو چکا ہے لیکن واضع نہیں کیا جا رہا ۔گلوبل ویلج کی ترقی یافتہ سائنس نے جنگوں کے انداز بدل دیئے ہیں اگر انڈیا میں یہ وائرس والا مچھر موجود ہے تو بھارتی سائنسدانوں نے ضرور اس کو محفوظ بھی کر لیا ہوگا اور دوسرے ممالک افغانستان اور پاکستان وغیرہ میں آزمانے کیلئے بھی تیار ہو چکا ہو گا ۔سب جانتے ہیں کہ مچھر پانی پر پائے جاتے ہیں اینا فلیز مچھر گندے پانی پر اور ایجپٹی ایڈیس مچھر صاف پانی پر نشونما پاتے اور انڈے دیتے ہیں ۔بھارت کی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے سے ہٹ دھرمی ہی پاکستان میں مسلسل ایسی بیماریوں کی وجہ بن رہی ہے کیونکہ انڈیا کی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے اور جو ممالک جتنے زیادہ گنجان آباد ہوتے ہیں وہاں صحت کے مسائل بھی اتنے ہی زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں ۔جب تک بھارت کو عالمی قوانین کی پیروی کرنے کیلئے نکیل نہیں ڈالی جائے گی بھارت ان ہت دھرمیوں سے بعض نہیں آنے والا لیکن بھارت کے ساتھ ساتھ اسلام مخالف قوتیں یہ بھی یاد رکھیں کہ اﷲ کے عذاب ہمیشہ منکروں نمرود اور فرعون جیسے لوگوں کیلئے ہوتے ہیں اور اگر وہ مچھر کو حقیر سمجھ کراس پر تجربات کر رہے ہیں تو سب سے پہلے یہ مچھر انہیں ہی لے ڈوبے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88336 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
23 Aug, 2016 Views: 525

Comments

آپ کی رائے