اولمپک کھیل ، برازیل کے سینکڑوں ارمان ------

(Munir Bin Bashir, Karachi)
دنیا حیران ہے کہ اس مرتبہ اولمپک کی کھیلوں میں اتنا جوش و خروش کیوں نہیں تھا ؟ اولمپک کی مشعل جو شہر شہر قریہ قریہ گھمائی جاتی تھی کہاں غائب رہی - یہ مشعل کب روشن کر دی گئی کسی کو پتہ ہی نہیں چلا - کھیل سے قبل وہ جو رنگا رنگ اشتہار آتے تھے کہاں چھپے رہے - موسیقی کا ایک طوفان ہوتا تھا وہ بھی تو سنائی نہیں دیا --کیوں -- آخر کیوں ؟
میر درد کی غزل کی زمین پر لکھے ہوئے اشعار میں یہ شعر مجھے ہمیشہ افسردگی کی گہرایئوں میں لے جاتا تھا -
سینکڑوں ارمان لیکر آئے تھے - دل میں لاکھوں حسرتیں لے کر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے -ہم تو اس جینے کا ہاتھوں مر چلے
اس کے بعد ایک فلم میں یہ گانا سنا -اداکارہ نہایت ہی درد ناک آواز میں صدا لگارہی تھی -ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی اتنا ہی مایوس ہوگی - جانے تھی یا نہیں ، لیکن اس کی اداکاری اپنی انتہا کو چھو رہی تھی -

لیکن یہ سب تو آج سے تقریباً پچاس ساٹھ سال پہلے کی باتیں ہیں جن کا تذکرہ میں لے بیٹھا جبکہ مجھے تو آج ہفتہ پہلے اختتام پذیر ہو نے والے اولمپک کھیلوں کی بات کرنی تھی -

کون جیتا کون ہارا ؟ کس نے کتنے تمغے لئے ؟ کسے سونے کا تمغہ ملا اور کون کانسی کے تمغے سے بھی محروم رہا - اس بارے میں نہیں بلکہ کیا اولمپک کھیلوں سے برازیل نے اپنی معشیت کے بارے میں جو امیدیں لگائیں تھیں وہ پوری ہو ئیں یا نہیں ؟

مجھے اپنے ایک مضمون کی یادستارہی ہے جس میں ، میں نے برازیل کے لئے کئی خواب دیکھے تھے - میں نے لکھا تھا کہ 2012 میں اپنےملک کے انتخابات میں دو بار صدر منتخب ہونے کے بعد اس اولوالعزم شخصیت لولا ڈی سلوا نے تیسری بار انتخابات میں حصہ نہیں لیا - لیکن اپنی دو بار کی صدارت کے دوران اس عظیم سربراہ مملکت نے اپنے ملک کو نہ صرف آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات دلائی بلکہ الٹا آئی ایم ایف کو اپنا مقروض بنا دیا - دنیا کی دس مضبوط معاشی قوت برازیل ساتویں نمبر پر آرہا تھا - یہ سب کچھ لولا ڈی سلوا کی محنت -فراست - ذہن کی بلندی اور دانشمندی کے سب ہوا تھا - یہ بھی لکھا تھا کہ لولا ڈی سلوا پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں شاہراہوں کی طرف توجہ نہیں دی اور اس کے دور میں یہ پہلو مدھم ہی رہا - لیکن اس نے اقتدار چھوڑتے وقت یہ بھی تو کہا تھا کہ میں تمہیں ایک تحفہ دے کر جا رہا ہوں اور وہ ہے اولمپک کھیلوں کا تحفہ جو تمہارے ملک میں 2016 میں منعقد کئے جائیں گے - حکومت کی بساط پر اسے نہایت ہی چابک دستی سے کھیلنا - ترقی ہی ترقی ہوگی -شاہرائیں بھی بنیں گی - ریلوے اسٹیشن کے معیار بھی صحیح ہو نگے اور ہوائی اڈے بھی بین الاقوامی معیار کے قائم ہو جائیں گے - کیا لولا ڈی سلوا نے جو خواب دیکھے تھے کیا انکی تعبیر ملی ؟
نہیں -- جواب یہ ہے

لولا ڈی سلوا کے بعد آنے والے حکمران اس قدر زیرک نہیں تھے جتنا کہ لولا ڈی سلوا - نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مضبوط معشیت جو لولا ڈی سلوا نے اپنے ملک کے حوالے کی تھی اس کے اقتدار سے ہٹنے کے فورابعد ہی زوال پذیری کی طرف گامزن ہو گئی تھی

لا محالہ اس کے اثرات ان اولمپک کھیلوں پر بھی پڑے - اولمپک کھیلوں کے منتظمیں بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ نت نئے مسئلوں کا شکار ہوئے - کھیلوں کے اختتام سے ایک دن قبل اولمپک کھیلوں کے صدر تھامس بیش نے کہا کہ پہلی مرتبہ براعظم جنوبی امریکہ میں یہ اولمپک کھیل منعقد کئے گئے - ریو برازیل کی انتظامیہ ایک بہت بڑے اقتصادی بحران کا شکار تھی چنانچہ مختلف امور کی تکمیل کے دوران پیسوں کے بہت سے مسائل اٹھے - ذرائع نقل و حمل یعنی ٹرانسپورٹ کے لئے ہمیں الگ سے محنت کرنی پڑی - دوسری طرف برازیل کی ابتر سیاسی صورتحال کے سبب کھلاڑیوں کی حفاظت کے مسائل بھی دل کو دہلا دینے والے تھے - آئے دن کے ہنگاموں کے سبب ہماری تیاریاں بھی کچھ صحیح طریقے سے نہیں پنپ سکیں - لیکن اس کے باوجود اولمپک کھیلوں کی انتظامیہ سب مسئلے حل کرانے کی جد و جہد میں لگی رہی - ان کے نائب نے ایک موقع پر کہا کہ یہ سب ایسے مشکل حالات تھے جو آج تک اولمپک کھیلوں کے منتظمیں کو کہیں بھی نبٹنے نہیں پڑے تھے -

اولمپک کھیلوں کے سربراہ نے شکایت کی تھی کہ کھلاڑیوں اور مہمانوں کی حفاظت کے انتظامات کے معاملات بھی گھمبیر تھے -دراصل ملک کے معاشی حالات وہ نہیں رہے تھے جو سابق صدر لولو ڈی سلوا کی حکومت چھوڑ کر گئی تھی - اب لوگوں کا معاشی حال پتلا ہونا شروع ہو گیاتھا - اور ان حالات مین جرائم کی شرح میں اضافہ ہونا ایک قدرتی امر تھا - وہ شاہراہ جو ہوائی اڈے کو اولمپک سٹی سے جوڑتی تھی وہاں کے حالات نہایت دگر گوں تھے - یہ شاہراہ ایسے علاقے سے گزرتی تھی جہاں نہایت کم آمدنی والے افراد رہتے تھے یا دوسرے الفاظ میں یہ وہاں کی کچی بستی کے علاقے تھے - جرائم پیشہ افراد نے ان علاقوں کو اپنا مسکن بنا لیا -ایک مرتبہ اولمپک کھیل شروع ہونے سے ڈیڑھ ماہ پہلے انہوں نے کوئی واردات کی تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ان کے پاس ایسے ہتھیار تھے جو کہ برازیل کی فوج کے پاس بھی نہیں تھے - اس شاہراہ کی لمبائی 21 کلو میٹر کے قریب تھی - یہاں پر کچھ علاقے تو خود ساختہ طور پر 'علاقہ ممنوع' یا نو گو ایریا بنا لئے گئے تھے - تقریباً روزانہ ہی پولیس کا ان مجرموں سے مقابلہ ہونا ایک عام سی بات ہو گئی تھی -

امن وامان کی صورت حال دیکھنے کے لئے یہ اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے
http://www.dailymail.co.uk/news/article-3646384/Rio-s-highway-terror-Shooter-takes-aim-cars-Red-Line-road-Olympic-athletes-fans-travel-games-Brazil.html
اولمپک گاؤں جو اولمپک میں شرکت کرنے والے مہمانوں اور کھلاڑیوں کی شرکت کے لئے بنایا گیا تھا کھیلوں کے اختتام کے بعد اب خالی ہو چکا ہے - بلاشبہ لولا ڈی سلوا نے ایک اچھا خواب دیکھا تھا کہ ان فلیٹون کو بعد میں برازیل کی عوام کے لئے رہائشی منصوبوں اور مختلف کمپنیوں کے دفاتر میں تبدیل کر دیا جائے گا اور اسطرح عوام کے رہائشی مسائل حل ہو جائیں گے -

لیکن یہ خواب بھی پورا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا - لاطینی امریکہ میں جائیدادوں کا کاروبار کر نے والوں کی ایک تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ پوری دنیا میں اس قسم کے منصوبوں کے لئے مختلف بیرونی کمپنیاں منصوبے کے آغاز سے پہلے ہی اپنی پیش کشیں دینا شروع کر دیتی ہیں لیکن ملک کے بگڑے معاشی حالات اور تباہ شدہ امن و امان کے سبب ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی نہیں دکھائی دے رہی - ایسے لگتا ہے کہ ہم ایک کنو ئیں میں ہیں اور باہر نکلنے کا راستہ سمجھ نہیں آرہا -

آج سے چھ سال قبل جب لولا ڈی سلوا کی حکومت تھی ، ملک کی مضبوط معاشی صورتحال کے سبب ، سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں محسوس ہو رہی تھی - اس ز مانے میں بکنگ کھلنے کے ایک ہی گھنٹے کے اندر فلیٹون کے سودے تکمیل پا رہے تھے حالانکہ اس وقت شرط یہ تھی کہ اولمپک کھیلوں کے اختتام پر ان کا قبضہ دیا جائے گا - اب قیمتیں بھی گر چکی ہیں لیکن پھر بھی خریدار نہیں مل رہے - لوگوں کو خریداری پر آمادہ کر نے کے لئے نئے نئے پیکیجز اور مراعات کا اعلان کیا جارہا ہے لیکن کامیابی کی کوئی کرن نہیں دکھائی دے رہی -

لولا ڈی سلوا نے جتنے مہمانوں کی آمد کا اندازہ لگایا تھا ان کا پورا ہونا اس صورت حال میں ممکن نہیں تھا -چنانچہ اولمپک کے کئی منصوبے ادھورے ہی چھوڑ دئے گئے تھے- اب ان کا کیا ہو گا کچھ نہیں کہا جاسکتا - ارد گرد نجی تعمیراتی ادارے ‘ ان سرکاری اداروں کی نسبت کم قیمت پر اپنے منصوبے بیچ رہے ہیں اور حکومتی رہائشی منصوبوں کی قیمت زیادہ پڑ رہی ہے -

دنیا میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں کے سلسلے میں ایک بات قابل ذکر ہے کہ اولمپک کھیلوں کے لئے تعمیر کی گئی کئی عمارتیں اب بے کار کھڑی ہیں اور زمانے کی بے اعتناعی کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں - چین میں اولمپک کھیلوں کے لئے تیار کردہ اسٹیڈیم پرندے کے ایک گھونسلے کی شکل میں بنایا گیا تھا - ہوائی جہاز کی پرواز کے دوران اس کا نظارہ کرتے ہیں تو ایک لحظے کے لئے تو انسان مبہوت ہی ہو جاتا ہے - بچے تو ایک دم چلاتے ہیں 'مما مما -اب اس میں سے چڑیا نکلے گی " لیکن یہ خوبصورت اسٹیڈیم کسی اور مصرف میں نہیں لا یا جا سکا - آخر تنگ آکر چینی حکومت نے اسے سیاحت کے لئے استعمال کر نے کا سوچا اور اب اسے اسے سیاحت گاہ بنا کر عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے - اس سے کتنی آمدنی ہوتی ہے اس سے قطع نظر یہ بات سوچنے کی ہے کہ اس کی دیکھ بھال پر ہی ہر ماہ آٹھ سے دس کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں -

گریٹ لولا ڈی سلوا کو سلوٹ کہ اسے اس بات کا ادراک تھا - اس نے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا کہ اپنے ملک برازیل میں ایسا نہیں ہونے دے گا اور وہ ایک ایک عمارت کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے استعمال میں لائے گا - اس نے ابتدا ہی میں اولمپک کھییلوں کے منتظمین سے بات کر لی کہ ان عمارات کی ساخت و ڈیزائن اس قسم کی بنائی جائے گی کھیلوں کے اختتام پر وہ آسانی سے تبدیل ہو کر دوسرے کام میں استعمال ہو سکیں - اس سے پہلے کبھی کسی نے اس امر کی طرف توجہ نہیں دی تھی - نہ اولمپک والوں نے اور نہ ہی کسی ملک نے - لیکن افسوس یہ خواہش بھی مٹی میں ملتی نظر آرہی ہے - یہ ٹھیک ہے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہاں عمارات آسانی سے دوسرے مقاصد میں تبدیل کر نے سہولت زیادہ ہے لیکن اس کے لئے بھی تو پیسہ درکار ہے اور حکومت کی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس پیسہ ہی نہیں

سینکڑوں ارمان لیکر آئے تھے - دل میں لاکھوں حسرتیں لے کر چلے

سوال یہ اٹھتا ہے کہ برازیل کی نئی حکومت اتنی جلدی ناکام کیون ہو گئی ؟ نذیر ناجی اسی قسم کے ایک سوال کا جواب اپنے ایک کالم 22 جولائی 2007 میں دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ --- انقلابی نظام چلانے کے لئے مطلوبہ افرادی قوت چاہیئے ہوتی ہے ----- ہم دیکھتے ہیں کہ لولا ڈی سلوا ایسا نہیں کر سکے - نیز ان کی صحت بھی اس قابل نہیں رہی تھی کہ وہ خود مزید چار سال حکومت کرتے -

مولانا وحیدالدین صاحب کہتے ہیں کہ حکومت چلانے کا کام بہتر افراد کے تیار کرنے کے مرحلے سے شروع ہوتا ہے - یہ کام لمبی مدت تک کے لئے جاری رہے - لولا ڈی سلوا کو ایسی مملکت ملی تھی جسکی کوئی چیز بھی سلامت نہیں تھی چنانچہ وہ ان ہی کاموں میں مصروف رہے اور اس اہم پہلو کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکے

قبل از مسیح تاریخ میں ایک مثال حضرت موسیٰ کی ملتی ہے جنہوں نے رعمسیس کی فوج کو شکست دی -لیکن اس کے بعد انہوں نے اقتدار نہیں سنبھالا اور اور اپنے قبیلے کو لیکر دوسرے مقام پر چلے گئے -اپنے قبیلے کی تربیت کرتے رہے جب انہوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ افرادی قوت ان کے پاس ہے جو ان کے انقلابی مشن کی تکمیل کر سکتی ہے تب وہ اپنے مفتوع علاقے میں پھر آئے اور اس نئی افرادی طاقت کی مدد سے حکمرانی کی - (حوالہ کتاب ‘فکر اسلامی‘ صفحہ 189- وحیدالدین خان )

موجودہ زمانے میں اس کی مثال جاپان کی ہے جو دوسری جنگ عظیم میں تباہ ہو گیا تھا - - انہوں نے فاتح ملک سے صرف ایک ہی چیز مانگی کہ تعلیم کا شعبہ ان سے نہ چھینا جائے اور اسی تعلیم کے ذریعے انہوں نے ایسے ذہن اور انسان ترقی دئے جن کے دلوں میں ولولہ تھا - اور آج کامیابی سے ہم کنار ہوئے -

ایک صاحب کسی اخبار میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس مرتبہ اولمپک کھیلوں میں وہ جوش ، وہ ولولہ نہیں تھا جو ماضی کا وطیرہ تھا - وہ اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ یہ عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بے چینی اور بد امنی تھی جو ان کھیلوں کو محدود پیمانے پر لے آئی -اولمپک کھیلوں کی مشعل جو ماضی میں دنیا کے تمام ملکوں میں گھمائی جاتی تھی اسی سبب سے نہیں گھمائی گئی - جبکہ حقیقت یہ نہیں - اگر برازیل کے حالات صحیح ہوتے یہ مشعل دنیا بھر میں گھمائی جاتی - سوہنیا کو کا کولا پلادے کی بجائے ؛سوہنیا ریو وچ کوکا کولا پلادے کے نغمے فضاوں میں بکھر رہے ہوتے - مختلف اقسام کی مصنوعات جو اولمپک کے لئے سرکاری طور پر منتخب کی گئی ہوتی دن رات ان کے اشتہار ٹی وی پر نظر آرہے ہوتے - اولمپک سے پہلے اس کا تعارف کرانے کے لئے اس کے کھلاڑی مختلف ملکوں کے دورے کرتے اور نمائشی میچ کھیلتے - غرض ایک جوش ہوتا - ایک ولولہ ہوتا - لیکن برازیل کے حالات کے سبب یہ سب کچھ نہ ہو سکا
میں نے دو سال پہلے ہماری ویب میں جو مضمون لکھا تھا اسے یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=52928
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 104 Articles with 179783 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More
26 Aug, 2016 Views: 869

Comments

آپ کی رائے
ڈیرہ اسما عیل خان کے جناب سلیم جاوید اسلام کے بارے میں کافی کچھ علم رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ شاعری سے بھی کچھ لگاؤ ہے - انکا مجموعہ کلام شائع ہو چکا ہے - دوسری ایک کتاب تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہے - انہوں نے ایک جگہ لکھا ““““ کہا جاتا ہے سسٹم ٹھیک نہیں-
حالانکہ " سسٹم" نہیں بلکہ " لوگ " ٹھیک نہیں ہواکرتے-سسٹم ، قوانین ،جتنے بھی اعلی ہوں مگر لوگ بدنیت ہوں تو کچھ حیثیت نہیں رکھتے-‘‘‘‘
اسپرمیں نے ان کی توجہ اپنے اس کالم کی جانب کروائی کہ میں بھی اس کالم میں یہی اصرار کر رہا ہوں -انہوں نے مضمون پڑھا اور کہا کہ
Very good article of Yours
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 06 2016
Reply Reply
0 Like

فلم ' زندگی یا طوفان ' کا نغمہ ---- اداکارہ اپنی حسرتوں اور آرزؤں کے پورے نہ ہونے پر مایوسی کے عالم میں گا رہی ہے
سیکڑوں ارمان لے کر آئے تھے ----دل میں لاکھوں حسرتیں لے کر چلے

https://www.youtube.com/watch?v=h0ODlIeSjnY
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 01 2016
Reply Reply
0 Like
No Nation or Country shall be on the track of progress or prosperity unless its Human Resources are trained to the need of the day. Get rid the old traditions which is no longer can be adjusted in the fast time speed of the present era.
Mr.Munir has given an example of the many hundred years of the past of the era of Mosses who took his followers to other place and for 40 years he developed the then young generation of Israel and came back and conqured Philistine.Meaning there by it was Human Resources Development of Israelis.
In the present century it is Japan who did the same .They altogether got rid of all their old traditions, developed its Human Resources and gave a Mission to its Nation. And they again rose from dust to Sky from Nothing to everything and are among top the nations of the world.
The former President of Brazil unfortunately failed or could not develop the Human Resources of Brazil and the result is in front of us.
By: Major ( Retd ) Sagheer Ahmed , Karachi on Aug, 26 2016
Reply Reply
0 Like
Thanks for your detailed eye opener & vision widening analysis -- The main purpose of writing this article was just this -that we should analyse where we are standing in Pakistan w.r.t. education and development of mind set --- We are also lacking in it -- we are stuck with old thinking - Our TV authorities want to show but they are not having capabilities to induce such education slowly in our mind -- Result --no change in the scene of Pakistan w.r.t. vision development
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Aug, 26 2016
0 Like