بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کا سفر ۔ باب۔ 16۔ پی پی پی (ن) لیگ حکومتی اتحاد

(Arif Jameel, Lahore)
2008ء پاکستان میں جمہوری حکومت کا سال قرار پایا۔ پاکستان کی جماعت پیپلزپارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو کو دسمبر2007ء کے آخری عشرے میں قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مزید اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنالی۔۔۔۔یورو کرنسی کا معاملہ، بیل آؤٹ زری منصوبے اور سب سے اہم روز بروز سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معاشی نظام کو پیچیدگی کی طرف لے کر جا۔۔۔امریکہ تعاون ہم سے حاصل کر رہا تھا اور فائدے اور معاہدے بھارت سے۔یعنی اسرئیل بھارت گٹھ جوڑ ، امریکہ کی طرف سے جوہری توانائی کی پیشکش اور افغانستان میں بھی بھارت کے اثر و رسوخ کا زیادہ خواہش مند وغیرہ۔اُلٹا پاکستان میں بلیک واٹر تنظیم کے افراد کی نقل و حرکت کا انکشاف ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

مالی بے چینی، اسرئیل بھارت گٹھ جوڑ ، بے نظیر بھٹو

پاکستان میں ایک دفعہ پھر جمہوریت:
2008ء پاکستان میں جمہوری حکومت کا سال قرار پایا۔ پاکستان کی جماعت پیپلزپارٹی کی لیڈر بے نظیر بھٹو کو دسمبر2007ء کے آخری عشرے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ لہٰذا انتخابات میں کامیابی بھی ان ہی کی پارٹی کو حاصل ہوگئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مزید اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنالی اور پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی منتخب ہوئے اور پھر فوجی صدر کے استعفیٰ کے بعد بے نظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر تشریف فرما ہوئے۔ نئی جمہوری حکومت سے شاید کچھ زیادہ ہی توقعات ہوتی ہیں۔ لہٰذا ملک جن دائمی داخلی وخارجی معاملات سے دو چار تھا ان کو ٹھیک کرنے کا وعدہ نئی حکومت نے ایسے کر لیا جیسے دودھ میں سے مکھی نکال کر باہر پھینک دینا۔ جبکہ داخلی تو ایک طرف خارجی معاملات پر ہی امریکہ کے اثر رسوخ سے اِنکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جو کہ نئی حکومت کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں تھا۔

دُنیابھر میں مالی و معاشی بے چینی:
پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام سے پہلے ہی یورپ میں معاشی جمعود کے آثار نظر آنے شروع ہوچکے تھے ۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کی ایک ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں تقریباً ایک ہزار لوگوں کی ملکیت ہیں۔ یعنی آسان الفاظ میں ایک ہزار لوگوں کی دولت دنیا کے چار ارب کم آمدنی والے لوگوں کی مجموعی دولت سے زیادہ ہے۔ لہٰذا ایک طرف بڑھتے ہوئے معاشی جمعود کیلئے ان افراد کی کیا دلچسپی ہوگی جوکہ اپنی دولت میں مزید اضافے کیلئے گوشاں ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کی عوام اس سرمایہ دارانہ نظام سے خائف ہوکر اپنی حکومتوں سے ہی معاشی معاملات میں بہتری کی توقعات رکھتے ہیں۔ اوپر سے چین کی معاشی ترقی کے اثرات یورپ کو مزید ابتری کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یورو کرنسی کا معاملہ، بیل آؤٹ زری منصوبے اور سب سے اہم روز بروز سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معاشی نظام کو پیچیدگی کی طرف لے کر جا رہی تھیں۔۔ ڈالر کی بدستور طلب امریکہ کے اپنے معاشی نظام کو خسارے کی طرف لے کر جاچکا تھا ۔ ان حالات میں عراق سے امریکہ واتحادی افواج کا انخلاء اور افغانستان سے بھی افواج کو واپس بلانے کا ٹائم ٹیبل دینا اس خطے کیلئے اہم پیشِ رفت سمجھا جا رہا تھا ۔

اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ:
2001 ء میں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اس کے تحفظ کیلئے ’’نیٹو تنظیم‘‘ کو ذمہ داریاں سونپ دیں جس نے آگے سے اپنی ایک ذیلی تنظیم ’’ایساف‘‘ کو بھی شامل کر لیا ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ امریکن ، نیٹو اور ایساف کی افواج ونمائندوں کیلئے روز مرہ کی زندگی گزارنے اور دفاعی سامان بھیجنے کیلئے کونسا آسان راستہ اختیار کیا جائے جس کے ذریعے سامان کی ترسیل بھی ہوجائے اور خرچہ بھی کم ہو۔پاکستان کی فوجی حکومت نے دہشتگردی ختم کرنے کیلئے تو امریکہ سے" وار آن ٹیررWar on Terror " کے دوران تعاون تو کیا ہی تھا ،لہذااس سلسلے میں نیٹو سپلائی کیلئے چمن ،بلوچستان سے راستہ بھی فراہم کر دیا گیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ امریکہ تعاون ہم سے حاصل کر رہا تھا اور فائدے اور معاہدے بھارت سے۔یعنی اسرئیل بھارت گٹھ جوڑ ، امریکہ کی طرف سے جوہری توانائی کی پیشکش اور افغانستان میں بھی بھارت کے اثر و رسوخ کا زیادہ خواہش مند وغیرہ۔اُلٹا پاکستان میں بلیک واٹر تنظیم کے افراد کی نقل و حرکت کا انکشاف ہو رہا تھا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 173450 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
25 Aug, 2016 Views: 284

Comments

آپ کی رائے