کشمیریوں کا حق حکمرانی رائے ونڈ منتقل

(Sardar Ashiq Hussain, Islamabad)
کوئی شک والی بات نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ گزرے پانچ سال کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت کی ڈور لاڑکانہ سے ہی ہلائی جاتی رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی حکومت کی ڈور ناگ پور سے ہلائی جارہی ہے۔ یہ رائے بھی نامعقول قرار نہیں دی جاسکتی اس لیے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریاست کے ان دونوں خطوں میں پاکستان اور بھارت کی عملداری میں اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کی مین سٹریم پارٹیاں ان دونوں خطوں میں اپنا اسر ورسوخ بڑھانے میں کامیاب رہی ہیں ۔ ریاست کے قوم پرست عناصر غیر ریاستی جماعتوں کے خلاف سرگرم تو رہے تاہم تاہم انہیں روکنے میں ناکام رہے ۔21 جولائی 2016 پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے اس خطے میں حکومت بنا لی ہے ۔ روایت یہ رہی ہے کہ پاکستان میں جو جماعت برسراقتدار ہوتی ہے اس کی ذیلی جماعت ہی آزاد کشمیر میں بھی برسراقتدار آتی ہے۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی ہی آزاد کشمیر میں حکمران جماعت بنی۔ اب چونکہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی حکمران جماعت ہے اس لیے یہ تاثر بڑھ رہا تھاکہ مسلم لیگ (ن) ہی آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنائے گی اور ن لیگ نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران آزادکشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت اور پاکستان کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید نے آزادکشمیر میں پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات بند کر نے کی دھمکی تک دے دی ۔ سیاسی چپقلش کا نتیجہ تھا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری مجید پوری کابینہ سمیت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت ریاست کے چھ ارب روپے کی نادھندہ ہے ۔ 2016کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کسی انتخابی الائنس کا حصہ نہیں تاہم سابق حکمران جماعت مسلم کانفرنس عمران خان کی تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ اسی اتحاد کے تحت جموں وکشمیر کونسل کے انتخابات کا معرکہ ہوچکا ہے۔ مسلم کانفرنس کو بھی ایک نشست مل گئی جبکہ پیپلز پارٹی کو دو اور مسلم لیگ (ن) کو ایک نشست مل سکی۔ ۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان چین اقتصادی رہداری منصوبہ بھی ان انتخابات کا ایک اہم ایشو بن گیا ہے جبکہ قوم پرست جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے الحاق پاکستان کی شرط ختم کروانے کے حق میں مہم شروع کر دی ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں انتخابات کی شفافیت پر بھی بحث کا سلسلہ چل نکلا تھا ۔ اسی دوران وزیراعظم نوازشریف کے قریبی ساتھی اور وفاقی کابینہ میںشامل شخصیت نے تجویز دی ہے کہ پاکستان بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی حکومت کو تسلیم کر لے ریاسی و سرحدی امور بارے پاکستانی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں فرمایا کہ بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں جو بھی حکومت قائم ہوتی ہے ہم اس کو مسترد کردیتے ہیں ۔ میرے خیال میں اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دھائی کے دوران وزیر اعظم بدلنے کا فیشن عروج پر رہا 2006 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم کانفرنس کے سردار عتیق احمد خان وزارت عظمی کے ابھی تین سال ہی مکمل نہ کر پائے تھے کہ عدم اعتماد کے ذریعے انہیں بدل دیا گیا ۔ سردار یعقوب ( موجودہ صدر) 6 جنوری 2009 سے اکتوبر 2009 تک تقریبا 9 ماہ وزیر اعظم رہے ۔ شاید سردار یعقوب خان نو ماہ بعد بھی کوئی کارکردگی سامنے نہ لا سکے چنانچہ انہیں بھی بدل دیا گیا ۔ موجودہ اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر کو لایا گیا ۔فاروق حیدر 22 اکتوبر 2009 سے 26 جولائی 2010 تک وزیر اعظم رہے ۔ آزاد کشمیر کا یہ وزیر اعظم بھی نو ماہ تک کوئی رزلٹ نہ دے سکا ۔ چنانچہ ضرورت پیش آئی کہ اب کسی اور کو بھی آزمایا جائے ۔ چنانچہ سردار عتیق احمد خان کو دوبارہ وزیر اعظم بننے کا موقع ملا ۔ 29 جولائی 2010 سے 26 جولائی 2011 تک عتیق احمد خان وزیر اعظم رہے ۔ یہ پانچ سال اعتماد اور عدم اعتماد میں گزرے ۔ 2011 کے الیکشن کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر چودھری عبدالمجید 5134 مربع کلو میٹر علاقے ، 45 لاکھ آبادی کے وزیر اعظم بنے ۔ وزیر اعظم بدلنے کا رحجان پھر بھی موجود تھا ۔سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے اپنی ہی پارٹی کے وزیر اعظم کو بدلنے کی مہم شروع کی تھی ۔ تحریک عدم اعتماد بھی پیش ہو گئی تھی مگر وزیر اعظم نواز شریف رکاوٹ بن گئے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پارٹی کے ارکان کو عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ چنانچہ نتیجے کے طور پر چودھری عبدالمجید وزارت عظمی سے رخصت ہونے سے بچ گئے ۔ اگر نواز شریف رکاوٹ نہ بنتے تو آزاد کشمیر میں ہر ممبر اسمبلی وزیر اعظم بننے کی آس میں نیا سوٹ سلوا کر رکھتا ۔ آزاد کشمیر کے کونے کونے میں نیلے پیلے جھنڈوں والی گاڑیاں گھومتیں ۔ نواز شریف راضی ہوں یا ناراض وزیر اعظم بدلنے کا کلچر ختم نہیں ہو سکا ۔سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری آزاد کشمیر میںاپنی دوسری باری کے لیے بے چین ہیں ۔ دوسری باری کے لیے اب وہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے متحرک ہیں ۔آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں بار وزیر اعظم بدلنے کا کام لاڑکانہ سے ہوتا رہا ۔ لوگ کہتے ہیں جو اپنی محنت کا زیادہ حصہ ڈالتا رہا وہ سب سے پہلے مراد پاتا رہا۔ فاروق حیدر کہتے ہیں پیسے لے کر قائم مقام وزیر اعظم بنا ئے جاتے رہے ۔ پی پی کے اس دور میں طے یہ پایا تھاکہ جتنے بھی امیدوار ہیں وہ مراد پائیں گے ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آئین جسے، ایکٹ 74 کہا جاتا ہے کے رولز آف بزنس کے تحت وزیر اعظم کسی بھی کابینہ ممبر کو قائم مقام وزیر اعظم بنا سکتے ہیں ۔ چنانچہ جب بھی کسی کو قائم مقام وزیر اعظم بنانا مقصود ہوتا چودھری مجید کو بیرون ملک بھیج دیا جاتا ۔ سب سے پہلے چودھری یاسین قائم مقام وزیر اعظم بنے ۔ ایک بار نہیں دو تین بار قائم مقام وزیر اعظم رہے پھر چودھری پرویز اشرف کی باری آئی۔ پرویز اشرف بطور قائم مقام وزیر اعظم لائو لشکر سمیت کوٹلی ، میرپور میں گھومتے پائے گئے ۔ ابھی وہ قائم مقام وزیر اعظم ہی تھے کہ مظفر آباد والوں کی خواہش بھی جاگ اٹھی ۔ ریاست کا صدر بننے سے محروم رہنے والے چودھری لطیف اکبر بھی بے چین تھے لاڑکانہ سے شاہی فرمان آنے پر یہ فیصلہ ہوا تھاکہ مظفر آباد کی خواہش بھی پوری کی جائے گی ۔ چنانچہ چودھری مجید کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ مزید کچھ عرصہ ریاست میں آنے سے گریز کریں تاکہ مظفر آباد والوں کی خواہش بھی پوری ہو سکے یوں چودھری لطیف اکبر بھی مراد پاگئے تھے ۔ آزاد کشمیر میں صرف وزیر اعظم ہی نہیں صدر بننے والوں کی کمی نہیں ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایکٹ 74 رولز آف بزنس کے تحت صرف قانون ساز اسمبلی کا سپیکر ہی قائم مقام صدر بن سکتا ہے ۔ اگر سپیکر بھی موجود نہ ہوں تو ڈپٹی سپیکر کو یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے ۔ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر سردار غلام صادق اس منصب کو کہیں بار سنبھال چکے ہیں ۔ وہ بیرون ملک نہیں جاتے شاید اسی وجہ سے ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار کو یہ منصب نہیں ملا ۔ اگر ان کے لاڑکانہ میں رابطے مضبوط ہوتے تو سردار یعقوب اور سردار غلام صادق کو ایک ہی وقت میں ملک سے باہر بھیجا جا سکتا تھا۔ اس صورت میں شاہین ڈار بھی قائم مقام صدر کا منصب سنبھال سکتی تھیں۔ فرمان لاڑکانہ کے تحت باری باری صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر بدلنے کی کہانی اب ختم ہو گئی ہے ۔ اب باری مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی ہے ۔مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر فاروق حیدر اب ایک طاقت ور وزیر اعظم ہیں۔ گزرے پانچ سالوں میں ایکٹ 74 میں ترامیم کے چرچے بھی ہوتے رہے ہیں یہ کہا جاتا رہا کہ ایسی ترامیم لائی جائیں گی جس سے ریاستی ادارے اور حکمران زیادہ با اختیار ہوں گے ۔ بدقسمتی سے ایسی کوئی ترامیم نہیں ہو سکیں بلکہ حق حکمرانی کا عملا اختیار لاڑکانہ میں ہی رہا اور اب حق حکمرانی کا یہ اختیار رائے ونڈ منتقل ہو چکا ہے ۔رائے ونڈ سے ہی فاروق حیدر وزیر اعطم نامزد ہوے اور رائے ونڈ سے ہی مسعود عبداللہ صدر نامزد ہو ئے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان ووٹ نہ دیتے تو کیا کرتے ؟ یہ روایت اچھی نہیں ہے اس لیے کہ اس مشق سے ریاستی عوام کے حق حاکمیت اور اختیار کا معاملہ کمزور پڑ گیا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Ashiq Hussain

Read More Articles by Sardar Ashiq Hussain: 58 Articles with 33467 views »

The writer is a Journalist based in Islamabad. Email : [email protected]
سردار عاشق حسین اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں..
.. View More
31 Aug, 2016 Views: 243

Comments

آپ کی رائے