مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کاسات نکاتی فارمولا

(Sardar Ashiq Hussain, Islamabad)
پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی عالمی حمایت کی غرض سے 7 نکاتی فارمولا طے کر لیا ہے۔ فارمولے کے پہلے دو نکات روسی حکام کے سامنے رکھے جائیں گے جبکہ بقیہ تین نکات پاکستان میں کشمیر پالیسی بنانے کے کام آئیں گے ۔ یہ فارمولا وزیراعظم نوازشریف کے خصوصی ایلچی برائے روس نواب علی وسان چند روز بعد دورئہ روس کے موقع پر روسی حکام کو دیں گے۔ اس فارمولے کے خدوخال یہ ہیں۔
1۔ کشمیر کا مسئلہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی، آسیہ اندرابی کے خیالات، شملہ معاہدے اور لاہور ڈیکلیریشن کے مطابق حل کیا جائے۔
2۔کشمیر میں پائلٹ گن پر پابندی لگائی جائے۔ یہ ایسی آنسو گیس ہوتی ہے جس سے بینائی چلی جاتی ہے
3۔مسئلہ کشمیر پر ریسرچ کا معاملہ کشمیر کمیٹی کا ہے۔
4۔محبوبہ مفتی کا بڑا رول ہے۔ انہیں بھی دیکھنا چاہئے۔
5۔مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں نواز شریف کے ایلچی دنیا بھر کے دورے سرکاری خرچے پر کریں گے۔ مجھے بھی سرکاری خرچ پر روس جانا ہے۔ میں اپنی جیب سے خرچ نہیں کروں گا۔
6۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی یہ بات درست ہے کہ بیرون ملک ایلچیوں کا تقرر دراصل سیرسپاٹے مشن ہے۔
7۔مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے مر رہے کشمیریوں کی ویڈیو بنا کر دنیا کو دکھائی جائے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر میں ہندوستانی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے اہم ممالک میں اجاگر کرنے کے لیے رکن قومی اسمبلی نواب علی وسان سمیت 20ارکان پارلیمنٹ کو خصوصی نمائندوں کے طور پر نامزد کیا تھا۔ خیرپور سندھ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب علی وسان مشن کشمیر کے لیے روس جائیں گے تاکہ مسلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف، اور بھارت کے زیر اہتمام جموں وکشمیر کی صورت حال سے روسی حکام کو آگاہ کریں گے ۔ خواتین وحضرات آپ کو پاکستان کے سات نکاتی فارمولے کی سمجھ نہ آئے تو رہنمائی کے لیے درج ذیل لنک سے ویڈیو دیکھے۔۔
https://www.facebook.com/danish.irshad3/videos/1082682308468535/?pnref=story

وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر کاز کے لیے جن 20ارکان پارلیمنٹ کو خصوصی نمائندوں کے طور پر نامزد کیا ہے ان ارکان پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیرپور سندھ سے رکن قومی اسمبلی نواب علی وسان بھی شامل ہیں ۔نواب علی وسان مشن کشمیر کے لیے روس جائیں گے تاکہ مسلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف، اور بھارت کے زیر اہتمام جموں وکشمیر کی صورت حال سے روسی حکام کو آگاہ کریں گے ۔نواب علی وسان نے مسلہ کشمیر کا دلچسپ اور انوکھا حل بھی تجویز کر دیا ہے ۔ ان کے خیال میں محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ اور آسیہ اندرابی کے خیالات، شملہ معائدے اور اعلان لاہور کے تحت مسلہ کشمیر حل کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں زرداری، نواز شریف اور محبوبہ مفتی کے لیے یہ مسلہ کشمیر کا قابل قبول حل ہوگا۔ ۔نواب علی وسان سید علی گیلانی ، میر واعظ عمرفاروق ، یاسین ملک حتی کہ برھان مظفر وانی کو نہیں جانتے وہ پیلٹ گن کے بارے میں کہتے ہیں کہ کوئی ایسا آنسو گیس ہے جس سے بینائی چلی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے بیرون ملک جانے سے قبل حکومت کی طرف سے ملنے والی بریفنگ سے بھی زیادہ تر مسائل حل ہو جائیں گے ۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹیلی وژن سے نواب علی وسان نے مسلہ کشمیر بارے بڑی دلچسپ گفتگو کی جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلہ کشمیر بارے انہوں نے کیا ریسرچ کی ہے کہنے لگے یہ دراصل کشمیر کمیٹی کا معاملہ ہے ۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے قائد بلاول بھٹو نے خصوصی نمائندوں کے بیرون ملک دوروں کو سیر سپاٹے مشن کا نام دیا ہے کہنے لگے بلاول کی بات بھی درست ہے اس لیے کہ خرچہ تو ہم نے اپنی طرف سے نہیں کرنا حکومت نے ہی کرنا ہے ۔نواب علی وسان نے کشمیر کا مسلہ دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا ایک آسان نسخہ بھی بتادیا وہ یہ کہ مررہے کشمیریوں کی ویڈیو بنا کر دنیا بھر میں دکھائی جائے۔ ۔امریکا ،برطانیہ ،چین،ترکی،فرانس،بیلجئم ،جنوبی افریقہ ، سعودی عرب کے علاوہ اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر نیویورک اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل جنیوا کے لیے بھی خصوصی نمائندوں کا تقرر کیا گیا ہے ۔ وفود کی تشکیل، نمائندوں کے انتخاب،اور سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے حوالے سے ان دنوں سار عمل تنقید کی زد میں ہے ۔اس لیے ممکن ہے ان وفود میں توسیع کی جائے اور خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے، موجودہ تشکیل کے کئی میرٹ اور ڈی میرٹ بھی ہیں جہاںنواب علی وسان روس جائیں گے وہیں مشاہد حسین سید امریکا اور اقوام متحدہ کا بھی دورہ کریں گے۔ پاکستان میں پارلیمانی امور بارے ریسرچ ادارے پلڈاٹ نے رائے دی ہے کہ آزاد کشمیر کے نو منتخب صدر مسعود خان پر مشتمل لابنگ کمیٹی بنائی جانی چاہیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ کشمیری از خود اپنا مقدمہ پیش کر سکیں یہ عمل جاندار اور پائیدار اور پر اثر بھی ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 53 دنوں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانیت کی تزلیل کی ایک تاریخ رقم ہوئی پیلٹ گن نے کیا رنگ دکھائے ساری دنیا جانتی ہے مگردنیا نے لب نہیں ہلائے ۔ لندن برسلز سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا 90کی دہائی میں ایسی ہی صورتحال تھی ہزاروں نہتے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان کی منزل آزاد خطہ تھا پاکستان میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی۔ بے نظیر بھٹواس صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہی تھیں ۔ اور پھر 1994میں بے نظیر بھٹواسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کیلئے تہران پہنچ گئی۔ اسلامی دنیا کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر مدد کی درخواست کی اور یہ طے پایا کہ اسلامی دنیا کشمیرکے مسئلے کو دیکھنے کشمیریوں کی حمایت کیلئے اقدامات کرنے کیلئے مستقل کشمیر رابطہ گروپ قائم کرے گی۔ بے نظیر بھٹو نے خود سربراہان مملکت سے بات چیت کی ۔ چنانچہ بے نظیر بھٹو کی تحریک پر ترکی ، سعودی عرب ، نائجر ازربائیجان اور پاکستان پر مشتمل اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا رابطہ گروپ برائے کشمیر وجود میں آیا۔بے نظیر بھٹو نے اپنی کوششیں یہی ختم نہیں کیں ۔ اسی سال بے نظیر بھٹواقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کے اجلاس میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئیں تھیں۔ جنیوا میں بے نظیر بھٹو نے میر واعظ عمر فاروق کو کشمیریوں کے رہنما کے طور پر متعارف کرایا ۔۔ گزشتہ 53دنوں میں میاں نوازشریف کی حکومت نے خطوط کے ذریعے دنیا بھر سے رابطہ کیا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی خط لکھا گیا جب معاملہ حد سے آگے بڑھ جائے تو حالات کی سنگینی کاتقاضا یہ ہوتا ہے کہ سربراہ حکومت خطوط کے ساتھ ساتھ نئے خود اقدامات اٹھاتا ہے ۔ہمیں امید تھی کہ نوازشریف خود لندن واشنگٹن ،نیویارک رابطہ کریں گے ۔ سربراہان مملکت کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کریں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس لیئے کہ نوازشریف اور اس کی حکومت نے کشمیریوں کی امنگیں اور کشمیریوں کا حق خود ارادیت دفترخارجہ کے سپرد کررکھا ہے ۔اور اب خصوصی نمائندوں کو بھی شراکت دار بنا لیا گیا ہے۔کشمیریوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کوپارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنانے کا مطلب ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیراجاگر کرنا ہی نہیں چاہتی۔۔بلاشبہ کشمیر کاز کے لئے پارلیمانی وفود باہر بھیجنا وقت کا ایک عین تقاضا تھا مگر معلوم نہیں کہ نوازشریف نے کس سے مشاورت کی، کس کی رائے لی ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی صورتحال پر کل جماعتی کانفرنس طلب کی تھی۔ بھارتی سیاسی جماعتوں سے کشمیر کی صورتحال پر مشاورت کی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف نے آج تک ایسی کوئی مشاورت نہیں کی۔ سیاسی جماعتوں کا کوئی اجلاس نہیں بلایا۔ اگر وزیراعظم نوازشریف تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے ایک یا دو نمائندے بیرونی دنیا میں بھیجنے کے لئے مانگتے تو ہو سکتا ہے کہ بیرونی دنیا کے لئے نمائندوں کی تشکیل میں بہتری آتی۔ تمام رنگوں سے بنا کینوس سامنے آتا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ حکومت پاکستان کے نمائندے دنیا کے سامنے کیا مقدمہ رکھیں گے۔ کیا دنیا کو یہ بتایا جائے گا کشمیری پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں، پاکستان کے حق میں آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں اس لئے ان کی آواز سنی جائے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکمت عملی اور سمت کا واضح تعین نہیں ہوتا ان وفود کا بیرون ملک جانا کشمیر کاز سے زیادہ سیر و سیاحت ہی قرار پائے گا۔ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے بعد پی ٹی آئی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے۔ پارلیمانی وفود میں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور کئی دوسری بڑی جماعتوں کی نمائندگی موجود نہیں۔۔ اگر یہ مہم ناکام ہو گئی تو ریاست پاکستان کی ناکامی ہو گی۔ پارلیمنٹیرینز ڈس کریڈٹ ہوں گے۔ 90 کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کی قیادت میں کشمیر کمیٹی قائم کی تھی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم خود ایک بڑا وفد لے کر مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے جس میں آزادکشمیر کی نمائندگی بھی شامل تھی۔حکمت عملی اور سمت کا واضح تعین ہی ان وفود کے مقاصد پورے کر سکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Ashiq Hussain

Read More Articles by Sardar Ashiq Hussain: 58 Articles with 33464 views »

The writer is a Journalist based in Islamabad. Email : [email protected]
سردار عاشق حسین اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں..
.. View More
31 Aug, 2016 Views: 242

Comments

آپ کی رائے