غداری کی سزا- موت

(Tanvir Sadiq, Lahore)
چنگیز خان کی عمر ۵۶ سال تھی۔ چین کی فتوحات سے فارغ ہو کر وہ آرام سے بیٹھا تھا۔ مسلمان تاجروں کی بہت آمد و رفت تھی جن کی بدولت اسے پتہ تھا کہ مغرب میں اس کا نزدیک ترین ہمسایہ علاؤ الدین محمد خوارزم شاہ ہے جس کی سلطنت ہندوستان سے بغداد تک اور بحیرہ خوارزم سے خلیج فارس تک پھیلی ہوئی ہے۔ جو ایک ترک خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی فوج کی تعداد چار لاکھ ہے اور وہ جب چاہتا اردگرد کے علاقوں سے مزید فوج طلب کر سکتا ہے۔ چنگیز خان نے اسے دوستی کا پیغام بھیجا اور باہمی تجارت کو فروغ دیا۔ یہ سلسلہ چند سال جاری رہا مگر اچانک خوارزم شاہ کے ایک قلعہ دار نے کئی سو تاجروں کو گرفتار کر لیا اور ان پر جاسوسی کا الزام لگایا۔ محمد خوارزم شاہ نے بغیر سوچے قلعہ دار کو تاجروں کے قتل کا حکم دیا۔ تاجر قتل کر دئیے گئے۔ جب یہ اطلاع چنگیز خان کو ہوئی تو اس نے احتجاج کے لئے قاصد خوارزم شاہ کے پاس بھیجے۔ خوارزم شاہ نے اقتدار کے نشے میں قاصدوں کے امیر کو قتل کر دیا اور اس کے باقی ساتھیوں کی داڑھیاں جلا دیں۔ چنگیز خان کو اطلاع ملی تو وہ مشتعل ہو گیا۔ اس کے نزدیک غداری اور وعدہ شکنی کی سزا موت تھی۔ چنانچہ اس نے علاؤ الدین خوارزم شاہ کو پیغام بھیجا ’’تو نے لڑائی کا انتخاب کیا ہے اب جو ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ اور کیا ہو گا۔ مجھے معلوم نہیں۔ صرف خدا کو معلوم ہے۔‘‘

۱۲۱۹؁ء کے موسم بہار میں قراقرم شہر کے قریب ایک ندی کے کنارے چراگاہوں میں دس ہزار جنگجوؤں کا لشکر اکٹھا ہوا اور خوارزم شاہ کو انجام تک پہنچانے کے لئے چل پرا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتے گئے مختلف قبائل کے لشکر ساتھ شامل ہوتے گئے اور وہ تیزی سے منزل کی طرف گامزن رہے، راستے میں چنگیز خان نے اپنے بڑے بیٹے جوجی کو چند ہزار سواروں کے ساتھ الگ کیا اور اسے دوسرے راستے سے تیزی سے پہنچنے اور جائزہ لینے کا کہا۔ اصل لشکر مغرب کی طرف آہستہ آہستہ بڑھا۔ طوفانی ہواؤں، انتہائی سردی اور بد ترین حالات کے باوجود دو لاکھ آدمیوں نے اپنا راستہ بنایا۔ راستے کی تمام صعوبتوں اور تکلیفوں کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ گرتی برف میں یہ لوگ آرام سے سو جاتے۔ غذا باقی نہ رہتی تو گھوڑے کی فصد کھولتے، تھوڑا سا خون پی لیتے اور پھر رگ کو ٹانکے لگا دیتے۔ جب برف پگھلنے کا زمانہ آیا تو چنگیز خان کا لشکر ۱۲۰۰ میل کا فاصلہ طے کر کے مغرب کے میدانوں میں پہنچ چکا تھا۔ سامنے دنیائے اسلام کی حد شروع ہو رہی تھی۔

خوارزم شاہ مغلوں کے پہنچنے سے پہلے ہی میدان جنگ میں پہنچ چکا تھا۔ اس کے ساتھ چار لاکھ فوج تھی۔ جب اس کے جاسوسوں نے اسے مغل لشکر کے بارے میں بتایا تو ہر طرح کے سامان اور اسلحے سے آراستہ خوارزمیوں نے مغلوں کو بڑی حقارت سے دیکھا۔ اسی دوران مغل جہاں حملہ کرتے دوسرے دن اس سے پچاس میل دور حملہ ہو جاتا۔ کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ مغل لوگ کدھر سے آتے اور کدھر چلے جاتے ہیں۔ دراصل یہ جوجی کے دستے تھے جن کا کام فوج کے لئے سامان رسد فراہم کرنا تھا۔ جوجی چونکہ آسان راستے سے تیزی سے سفر طے کر رہا تھا اس لئے وہ جلد ہی خوارزم شاہ کے قریب پہنچ گیا۔ خوارزم شاہ مغلوں سے کئی گنا زیادہ فوج لے کر جوجی کے مقابلے کے لئے آگے بڑھا۔ اس نے جب پہلی بار ان خانہ بدوشوں کو دیکھا جن کے پاس نہ تو زنجیریں تھیں، نہ زرہیں تھیں اور نہ ہی ڈھالیں تھیں تو اس نے ان خانہ بدوشوں کو ختم کرنے کے لئے فوراً حملہ کر دیا۔ جوجی کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ کچھ وقت تک پیچھے ہٹ کر خان اعظم کا انتظار کیا جائے۔ مگر جوجی نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میں پیچھے بھاگ گیا تو اپنے باپ کو کیا جواب دوں گا۔

جنگ شروع ہوئی تو مغلوں کے سرفروش دستے، طوفانی سوار دستے، تلوار بردار اور نیزے بردار دستے خوارزم کی فوجوں پر ٹوٹ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں اپنے سے بہت بڑی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا۔ خوارزم شاہ مشکل سے جان بچا کر بھاگا۔ مغل ایک لاکھ سے زیادہ آدمیوں کو کاٹ کر واپس پہاڑوں میں غائب ہو گئے۔ اس مقابلے کے بعد خوارزم شاہ کے فوجیوں میں مغلوں کا خوف سرایت کر گیا اور مغل یکے بعد دیگرے آگے بڑھتے اور شہر فتح کرتے چلے گئے۔

خوارزم شاہ پناہ کی تلاش میں بخارا پہنچ گیا۔ چنگیز خان کے لشکر نے اس کا تعاقب کیا مگر مغلوں کی آمد کی اطلاع پا کر خوارزم شاہ بخارا سے بھاگ گیا۔ بخارا اسلامی سطوت کا حامل ایک قدیم شہر تھا۔ مدارس کا مرکز، شہر کے وسط سے ایک نہر گزرتی تھی جس کے کنارے پر دلکش باغ اور خوبصورت محلات تھے۔ یہ شہر کئی اماموں، سیدوں اور علماء کا مسکن تھا۔ بیس ہزار سے زیادہ ترک اور ایرانیوں کی بہت بڑی تعداد اس کی حفاظت پر معمور تھی۔ اس شہر کے سینے میں ایمان کی حرارت تھی۔ شہر کی حفاظت کے لئے بہت مضبوط فصیل تھی۔ مسلمان چاہتے تو اس شہر کی حفاظت کئی ماہ تک کر سکتے تھے۔ کھانے پینے اور لڑنے کا سامان وافر تھا۔ مگر مغلوں کی ہیبت اس قدر سب پر طاری تھی کہ ترک افسر رات کو چپکے سے شہر سے نکل کر فرار ہو گئے۔ مغلوں نے پہلے انہیں جانے دیا پھر تعاقب کر کے دریا کے کنارے سب کو گھیر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

محافظ فوج کے جانے کے بعد شہر کے معززین نے متفقہ فیصلہ کیا اور شہر کی چابیاں مغلوں کو پیش کر دیں اور ان سے اپیل کی کہ شہر والوں کی جان بخشی کر دی جائے۔ مغل فوراً شہر میں داخل ہوئے۔ غلے کے گوداموں کو لوٹ لیا، کتب خانے جلا دئیے اور انہیں اپنے گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا۔ عورتوں کی ان کے عزیزوں کے سامنے عصمت دری کی پورے شہر کو اس قدر آگ لگائی کہ سیاہ دھوئیں کی وجہ سے آسمان پر سورج روپوش ہو گیا۔ اس اذیت ناک مصیبت اور اذیت کے بعد چنگیز خان تیزی سے خوارزم شاہ کے تعاقب میں بخارا سے سمرقند روانہ ہوا۔

سمر قند انتہائی مستحکم شہر تھا جس کی فصیلیں انتہائی مضبوط تھیں۔ شہر کے بارہ آہنی دروازے تھے۔ بیس مسلح ہاتھی اور ایک لاکھ ترک سپاہی شہر کی حفاظت پر معمور تھے۔ مغلوں کی تعداد ان لوگوں کی تعداد سے بہت کم تھی۔ شہر کے مکین اگر ہمت اور حوصلے سے کام لیتے تو مغل دستے کئی ماہ تک اس شہر کو فتح نہیں کر سکتے تھے۔ ڈرے ہوئے محصور فوجیوں نے ایک دفعہ مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر شکست کھائی اور ان کی رہی سہی ہمت بھی دم توڑ گئی۔ ان حالات میں شہر کے قاضی اور امام چنگیز خان سے ملے اور شہر اس کے حوالے کر دیا۔ تیس ہزار ترک صورتحال دیکھ کر اپنی مرضی سے چنگیز خان سے جا ملے۔ مغلوں نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا۔ انہیں مغل وردیاں پہنا دی گئیں اور اگلی شب ان تمام تیس ہزار ترکوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ چنگیز خان کے بقول وہ لوگ جنہوں نے اپنے پہلے مالک سے غداری کی کسی طرح بھی اعتبار کے قابل نہیں ہوتے اور چنگیز خان کے آئین ’’یاسا‘‘ کے مطابق توہین اور غداری کی سزا فقط موت ہے چاہے وہ غداری کوئی کسی کے ساتھ بھی کرے۔

ہمارے سیاسی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم غداروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ان کے نخرے برداشت کرتے ہیں اپنے ذاتی مفاد کے لئے انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس سیاسی نظام کی بقا اور بہتری کے لئے ضروری ہے کہ غداروں کو ہمیشہ کے لئے سیاسی موت سلا دیا جائے۔ یہ کام شاید سیاسی پارٹیاں نہ کر سکیں۔ یہ کام عوام کو کرنا ہے۔ آپ کے ووٹوں سے جو شخص آپ کی نمائندگی کرنے منتخب ہوتا ہے اسے غداری کرنے کی سزا دینا بہت ضروری ہے۔ دنیا کا ہر قانون اور ہر اخلاقی ضابطہ اس کا تقاضہ کرتا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 220434 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
01 Sep, 2016 Views: 308

Comments

آپ کی رائے