اقبال ہم شرمندہ ہیں

(Azhar Hussain, )
اﷲ تعالٰی پاکستان پر رحم فرمائے ۔ ہم ایک ایسے دورِ ستم سے گزررہے ہیں جب تاریخی سچائیوں میں ڈنکے کی چوٹ پر جھوٹ کا رنگ ملایا جارہا ہے۔ عالم اور جاہل کا فرق ختم ہورہا ہے۔ دوست اور دشمن کی سمجھ نہیں آرہی ۔خفیہ اداروں کی قانون شکنی پر بھارتی ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کوملکی مفاد کے منافی قرار دینے والوں سے بحث کی جائے تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے دھمکی دی جاتی ہے لیکن اگر آپ اِسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قائداعظم اور علامہ اقبال کو متنازعہ بنانے کی کوشش کریں تو روشن خیالی کے سرٹیفیکیٹ ملتے ہیں ۔ بہت سے مغربی اور بھارتی مصنفین قائداعظم کی سیاست کے ابتدائی دور کوبنیاد بنا کر ان کے اسلام اور پاکستان کے رشتے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔یہی کچھ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے ساتھ بھی ہوا لیکن افسوس کہ ہمارے کچھ دانشور مغربی و بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو تاریخی حقائق کے طور پر پیش کرکے یہ رونا روتے ہیں کہ نصابی کتب میں اصل تاریخ نہیں پڑھائی جارہی۔

ایک سابق رکن قومی اسمبلی نے روزنامہ جنگ میں 29 مارچ 2014 ء کو شائع ہونے والے کالم میں علامہ اقبال پر بے بنیاد الزام لگا دیا ہے۔فرماتے ہیں کہ غریبوں کی حمایت اور دردمندوں ،ضعیفوں سے محبت کرنے کے دعویدار اقبال کی شاعری 1919 ء میں جلیانوالہ باغ کے سانحے پر خاموش نظر آتی ہے۔جناب نے علامہ اقبال کو بالواسطہ طور پر " کج فہم" قرار دیا اور کہا ہے کہ شاعرِ مشرق نے اپنے کلام میں مردِ مومن کی بات تو کی لیکن انہوں نے انگریزوں سے سرَ کا خطاب بھی قبول کیا اور پھر یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ برطانوی راج نے مسلم لیگ کو کانگریس کے خلاف استعمال کیا ۔جناب نے 1930ء میں علامہ اقبال کے خطبہ الہٰ آباد پر بھی تنقید کی اور اِنہیں صرف ہندوستان نہیں بلکہ پنجاب کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آج کے پاکستان کے تمام مسائل علامہ اقبال کے کھاتے میں ڈال دئیے۔

جناب نے 1930 ء سے پہلے سرَعلامہ محمد اقبال کی ذات پر بلا جواز تنقید کی ہے۔ 1930 ء کے بعد تصورِ پاکستان کے خالق علامہ اقبال کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ اقبال پر یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ سانحہ جلیانوالہ باغ پر خاموش رہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اپنی کتاب " علامہ اقبال شخصیت اور فن" میں لکھتے ہیں کہ اقبال کو اپنی والدہ محترمہ سے بہت محبت تھی۔ نومبر 1914 ء میں والدہ کی وفات نے انہیں کافی پریشان اور اداس کر دیا ۔انہوں نے دنیاوی معاملات میں دلچسپی بہت کم کر دی ۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ بانگِ درا کی اشاعت کے بعد اسرارِ خودی اور پھر رموزِ خودی کی ترتیب میں مصروف رہے لیکن جب بھی موقع ملا جلسے جلوس میں شریک بھی ہوئے اور جب بھی موقع ملا سانحہ جلیانوالہ باغ پر تنقید بھی کرتے رہے۔

30 نومبر 1919 ء کو باغِ بیرون موچی گیٹ لاہور میں ایک جلسہ ہوا جہاں تقریر کرتے ہوئے اقبال نے کہا" ہم کیوں کسی کے سامنے شکایت کریں ہمیں خدا کے سامنے شکایت کرنی چاہیے ۔ خوشامد اور منت سماجت سے کبھی کچھ نہیں ملتا خدا کے سِوا کسی اور کی اطاعت ہمارے لئے واجب نہیں"۔

ہمیں اپنے آپ کو اور معاشرے کو درست کرنا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ترقی کریں ہمیں اپنے محسنوں کی قدر کرنی پڑے گی اور کرنی بھی چاہیے۔ جہاں تک میڈیا، صحافت ، دانشور، لڑتے جھگڑتے ٹاک شوز ، دلیل ، احترام ،دردمندی سے خالی صرف ریٹنگ کے لئے ہر عقیدے ، ہر روایت کو مسلسل کچل رہے ہیں۔

ہماری پستی کی ایک وجہ فرقہ پرستی ، لسانی و گروہی نفاق بھی ہے جو برادری ازم ، ادارہ ازم ، زبان ، نسل ، عقیدہ الغرض ہر سطح پر ہم میں پایا جاتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ﷺ ، دین بھی ،ایمان بھی ایک
حرم ِپاک بھی ، اﷲ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

ایک افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کے پروٹوکول اور حفاظت کے لئے روزانہ کروڑوں روپے کا خرچ آتا ہے اور اتنا نہیں کہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کو اُن کی رہائش گاہ پر سرکاری طور پر کوئی تقریب ہی منعقد کر دی جائے۔

جہاں تک اقبال کی پیدائش کا تعلق ہے تو 9 نومبر کو پورے ملک میں عام تعطیل ہوا کرتی تھی جس میں پوری دنیا کو ایک پیغام جاتا تھا کہ ہم اپنے محسنوں کو کس قدر محبت سے یاد رکھتے ہیں جو حال ہی میں حکمرانوں نے ختم کر دی اور اقبال کی وفات کی تعطیل حکمران پہلے ہی ختم کر چکے تھے ۔کالم کادامن تنگ ہے میں اپنے الفاظ کو سمیٹتے ہوئے کہتا ہوں کہ اقبال کا مردِ مومن بے تیغ لڑتا اور آتش ِ نمرود میں کودتا ہے اور اقبال سے نفرت کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ عاشقِ رسول ﷺ تھے اور آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اقبال آج ہم بہت شرمندہ ہیں ۔بہت شرمندہ ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Hussain

Read More Articles by Azhar Hussain: 5 Articles with 4220 views »
i am a writer and student.. View More
02 Sep, 2016 Views: 683

Comments

آپ کی رائے
very nice
By: Azhar Hussain, Islamabad on Sep, 07 2016
Reply Reply
0 Like