ابھرتے سورج کی سرزمین میں (حصہ دوم)

(Arif Kisana, Sweden)
حویلیاں شہر جو کہ ضلع ہزارہ کی تاریخ میں ایک روشن ماضی کے ساتھ اپنا ثانی نہ رکھتے ہوئے ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے، اس شہر میں زندگی کے جن بنیادی مسائل سے عوام دوچار ہے ان میں صحت کا مسئلہ ایک سنگین نوعیت کا بنتا جا رہاہے۔ حویلیاں شہر کئی گاؤں کا بنیادی شہر ہونے کے ساتھ سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا واحد مقام تجارت و مقام سہولیات زندگی اسی شہر سے منسلک ہیں جن کے حصول کے لیے عوام کا رُخ اسی شہر کی طرف ہی ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے ان کو کس قدر تکالیف برداشت کر کے ہی کیوں نہ آنا پڑے۔ اس شہر بے مثال میں 1968کے اندر ایک RHCہسپتال کا قیام کیا گیا تھا جو کہ اس وقت کی مناسبت سے بلکل ٹھیک اور اچھی اہمیت کا حامل ہسپتال تھا۔ مگر رفتہ رفتہ آبادی کے اضافے نے جدھر زندگی کے دیگر مسائل میں اضافے کے ساتھ صحت کے مسائل میں بھی دُگنا اضافہ اس انداز میں کیا کہ حادثات میں زخمی یا کسی بھی ایمرجنسی مریض کو اس ہسپتال میں اکثر صرف ایک انجکشن کے علاوہ ایک ریفر سلپ کے ساتھ ابتدائی طبی امداد اور ایک ٹاسک چند مختصر الفاظ کی شکل میں دیاجاتا ہے کہ : "جلد از جلداپنے مریض کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ، ایبٹ آباد پہنچایا جائے نہیں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔" جس سلپ کو مریض کے لواحقین اپنے لیے زندگی کا انمول چیلنچ سمجھتے ہوئے جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش اس انداز میں کرتے ہیں کہ جس طرح وہ سیف یا اولمپنگ گیمزکی کسی ریس میں حصہ لے چکے ہوں ۔ ان الفاط کی تلخی ، گہرائی ،درد اور بے بسی کس قدر سخت ہوتی اس سے صرف مریض کے لواحقین ہی جانتے ہیں کیونکہ نہ ایبٹ آباد کا راستہ کھلا ملے گا اور نہ کمپلیکس آئے گئی اور رفتہ رفتہ بمشکل ایبٹ آباد بڑے موڑ تک پہنچتے ہی مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

پچھلے دنوں میرا پاؤں زخمی ہو گیا ، چھوٹے بھائی کے ساتھ ہسپتال گیا تو ہسپتال کے عملے کا ایک لڑکا جو کہ شاید 20 سے 22 سال کا تھا پہلے تو ہماری طرف متوجہ ہی نہیں ہوا پھر مجھ کو بولا کہ اوہ چھوٹے ۔۔۔!!!ادھر آؤ۔۔۔!!! مجھ کو تھوڑا تعجب بھی ہوا کہ شاید چھوٹے بھائی کو اس نے بولا مگر بھائی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آپ سے مخاطب ہے ،اب ایک تو میرے پاؤں میں درد تھا اور دوسرا میرا بحث کرنے کا موڈ نہ تھا، خیر میں گیا تو مجھ کو مزید حکم دیتے ہوئے بولا ۔۔۔کہ یہ جو پٹی پاؤں پر کی ہوئی ہے اس کو کھولو ۔۔۔!!! اب یہ میرا کام ہے ۔۔۔؟؟؟یا کہ اس کا۔۔۔؟؟؟ جس کو سرکار نے ہسپتال میں رکھا ہی اسی کام کے لیے ہے ، ابھی میری حیرت ختم ہی نہ ہو پائی تھی کہ اس نے چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ جاؤ باہر میڈیکل سٹور سے انجکشن لے آؤ ہسپتال میں ختم ہو چکے ہیں۔۔۔!!! تب مجھ کو معلو م ہوا کہ واقعی لوگ جو قصے بیان کرتے ہیں وہ سچ ہی ہیں۔ سٹاف کے نخرے اور ڈرامے انسان کو اس بات پر مجبو ر کر دیتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو کوستے ہوئے کہتا ہے کہ ـ "بھلا میں ادھر آیا ہی کیوں تھا"۔ بے حسی کی مثال تو یہ دیکھیں کہ تمام ڈاکٹروں نے اپنے اپنے کاروبار چمکائے ہوئے ہیں کسی کو پروا ہی نہیں ہے کہ وہ سرکاری ڈیوٹی سرانجام دے ، ہر ایک کا اپنا پلازہ ہے، معمولی نوعیت کے ڈیلوری کیس کو سنجیدہ کیس بنانے میں ماہر اس قدر ہوتے ہیں کہ ایک مریض سے ہزاروں نہیں لاکھوں بٹورے جاتے ہیں، جب بات کی جائے کہ اس قدر بل کس چیز کا۔۔۔؟؟؟ تو جواب جو پہلے سے تیار ہوتا ہے کہ اتنی بڑی ہسپتال کے اخراجات بھی تو ہیں اور عوام بھی اس لیے چلی جاتی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں سہولتیں نہ ہونے کا بہانا ڈال کر ان کو ڈرایا جو جاتا ہے، یہ واقعات آئے روز ، ہر خاص و عام اور ہر زندہ و مردہ کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔

دن بدن بڑھتی آبادی، ٹریفک کا ہجوم، حادثات کی شرع میں اضافہ، بڑھتی و رنگا رنگ بیماریاں ، سہولیات کا فقدان، ڈاکٹروں اور طبی امداد کی تعداد و معیار کی کمی ان سب کا آپس میں ایک نہ ٹوٹنے والا جوڑ ہے، جس کی طرف نہ کسی کی توجہ مرکوز ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت محسوس کرتا ہے حالانکہ یہ وقت ان مسائل کے حل کرنے کا ہے۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ حویلیاں کی عوام کے ان مسائل کی طرف کوئی نہیں سوچ رہاجبکہ اس شہرمیں زیادہ تر اموات مرض یا حادثات کی وجہ سے نہیں بلکہ ابتدائی طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہے ہاں ادھر معذرت کے ساتھ ایک بات بیان کرتا جاؤں کہ ہماری حویلیاں کی RHC ہسپتال میں ہم کو ایک سہولت ضرور میسر ہے اور وہ پوسٹ مارٹم کی سہولت ہے ،جس سے ہم انکاری نہیں کر سکتے اور اس سہولت کے ملنے پر ہم بڑے خوش بھی ہیں کہ کم از کم ہم کو اپنے مرُدے ایوب میڈیکل کمپلیکس لے کر نہیں جانے پڑتے مگر ہمیں اس سہولت کے میسر ہونے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس مسئلہ کی طرف سنجیدہ ہو کر اگر نہ سوچا گیا تو ایک دن یہ ہسپتال صرف اور صرف مرُدوں کے پوسٹ مارٹم سے مشہور ہو جائے گی، اس ہسپتال کی جدید و عمدہ عمارت کے مطابق ہماری اس ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے عوام کو صحت کی ابتدائی سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ ہمارے مریض ایبٹ آباد جاتے ہوئے زندگی کی کشمکش میں ہار جیت کا کھیل نہ کھیل سکیں اور نہ ہی ہمارے لواحقین سفر و ہجر کے مسائل سے دوچار ہو سکیں۔۔۔ہماری عوام کو بنیادی سہولیا ت سے آراستہ ہسپتال دینا ہمارا حق بھی ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Kisana

Read More Articles by Arif Kisana: 228 Articles with 114575 views »
Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More
05 Sep, 2016 Views: 474

Comments

آپ کی رائے