خدا کرے ۰۰۰اب یہ ظلم و بربریت کا سلسلہ ختم ہوجائے

(M A Rasheed Junaid, India)
اﷲ رب العزت کے مہمانوں کی آمد ۰۰۰ سعودی شاہی حکومت عازمین حج و عمرہ کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی سعی میں مصروف۔سیکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات۰۰۰ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان نے جائزہ لیا

الحمد ﷲ ! اﷲ رب العزت کی مہمان نوازی کا مہنہ آچکا ہے ۔ اقوام عالم ِ سے لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج و عمرہ اپنے خالق و مالک ، رحمن و رحیم کو منانے کیلئے حجاز مقدس پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب جسے اقوام عالمِ سے آنے والے اﷲ کے مہمانوں کی خدمت کرنے کا موقع گذشتہ کئی دہائیوں سے فراہم ہورہا ہے اور وہ اس مبارک و باعث افتخار فریضہ کو اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہوئے پورے اخلاص کے ساتھ انتظامات کی تیاری کئی ماہ پہلے ہی سے کرتے ہیں۔ ایام حج کے مکمل ہونے ، تمام حجاج کرام کا اپنے اپنے مقامات کوواپس جانے تک مؤثر و وسیع تر انتظامات کے فریضہ میں کوئی کوتاہی ہونے نہیں دیتے۔ گذشتہ سال ہونے والے منیٰ سانحہ کے پیش نظر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خود سیکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات کا جائزہ لیا، حج میں ناگہانی حالات سے نمٹنے عصری سیکیوریٹی سسٹم سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ولیعہد پرنس محمد بن نائف ، نائب وزْر اعظم و وزیر دفاع و صدر نشین سپریم حج کمیٹی نے کہا کہ سعودی حکام حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لئے پیشگی اور حتیاطی منصوبوں کے ساتھ اچھی طرح تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ شاہی حکومت کی جانب سے عازمین کی سہولت اور احتیاط کے لئے جس طرح کے انتظامات کئے جاتے ہیں اس کا مشاہدہ حرمین شریفین آنے والے تمام عازمین محسوس کرسکتے ہیں اور جو بھی حرمین شریفین کی حاضری سے سرفرازی حاصل کرتا ہے وہ یہاں کے انتظامات کو دیکھ کر پوری طرح مطمئن ہی نہیں ہوتے بلکہ ان انتظامات پر خوشی طمانیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مستحسن قرار دیتے ہیں۔ مملکتِ سعودی عربیہ کی حکومت اپنے تقریباً تمام اداروں کو ایام حج میں وسیع پیمانے پر عازمین و معتمرین کے لئے خدمت کا موقع فراہم کرتے ہوئے اﷲ کے مہمانوں کوہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی سعی کرتی ہے اس کے باوجود ایام حج کے دوران کسی نہ کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع ملتی ہے یا کوئی ایسا سانحہ پیش آجاتا ہے جس کی وجہ سے سعودی شاہی حکومت اس ناخوشگوار واقعہ یا سانحہ کے وقوع پذیر ہونے پر پوری تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف جو بھی کارروائی کرنا ہے کرتی ہے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعہ یا سانحہ سے نمٹنے کے لئے مزید بہتر سے بہتر انتظامات پر توجہ دیتی ہے۔ ماضی میں منیٰ جانے والی سرنگوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بھگڈراور کئی ہلاکتیں ، منیٰ میں بھگڈر، گذشتہ سال طوفانی ہواؤں اور بارش کی وجہ سے حرم مکی میں کرین گرنے کا سانحہ اور اسی سال رمی جمار کو جانے والے حجاج کا منیٰ میں ایک بڑا سانحہ عالمی سطح پر سعودی حکومت کی بدنامی کا سبب بنا تھا لیکن شاہ سلمان بن عبدالعزیز خادم الحرمین الشریفین نے فوراً منیٰ سانحہ کے فوراًبعد اعلیٰ سطحی تحقیقات کے آغاز حکم دیا اورصرف چند گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس سانحہ کے وقوع ہونے کی جو رپورٹ منظرعام پر آئی اس میں بعض ایرانی حجاج کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا کیونکہ سیکیوریٹی انتظامات کے پیش نظر رمی جمار کیلئے جانے والے حجاج کرام کو جو راستہ فراہم کیا گیا تھا یہاں سے واپسی کا انتظام نہیں تھا لیکن بعض ایرانی حجاج کرام نے اس بندکئے گئے راستے کے حصار کو توڑتے ہوئے مخالف سمت سے آنے لگے جس کی وجہ سے ایک بڑا سانحہ پیش آیا جس میں مختلف ممالک کے سینکڑوں کی تعداد میں حجاج کرام شہید ہوگئے ۔ اس سانحہ میں ہندو پاک کے علاوہ کئی ممالک کے حجاج کرام بھی شہید ہوئے ان میں ایران کے حجاج کرام کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اس سانحہ کے بعد ایرانی حکومت نے سعودی عرب کے انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑا کیا اور اُسی وقت سے سعودی حکومت کو اس سانحہ کے لئے جوابدہ بنایا گیا۔ اس کے بعد سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ موڑ اختیار کرتے گئے اور گذشتہ کئی ماہ سے ایران نے اپنے شہریوں کو عمرہ کی سعادت اور زیارتِ مقدسہ کی حاضری سے محروم رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے مفتی الاعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے ایران کے خلاف مملکت کے سخت گیر بیانات کا احیاء عمل میں لایا اور انہوں نے کہا کہ تہران (ایران) کے قائدین مسلمان نہیں ہیں۔مفتی اعظم نے یہ ریمارکس ایران کے روحانی پیشوا آیت اﷲ علی خامنہ ای کے بیان کے جواب میں کئے ہیں۔ آیت اﷲ علی خامنہ ای نے سعودی حکام پر گذشتہ سال حج کے موقع پر ہوئی بھگدڑ میں زخمی ہونے والوں کو ہلاک کردینے کا الزام عائد کیا تھا۔ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ بے رحم اور قاتل سعودیوں نے زخمیوں کو مہلوکین کے ساتھ کنٹینروں میں بند کردیا، انہیں طبی امداد پہنچانے یا ان کی مدد کرنے یا کم از کم ان کی پیاس بجھانے کے بجائے ان کا قتل کردیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے ایک اخبار میں اپنے ریمارکس میں مفتی اعظم کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ خامنہ ای کے ریمارکس سے کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے کیونکہ ایرانی مجوسیوں کے وارث ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں کیونکہ وہ مجوسیوں کے وارث ہیں۔ مسلمانوں کے تیئں ان کی دشمنی بہت قدم ہے ۔ اس طرح سعودی عرب کے مفتی اعظم اور ایران کے مذہبی پیشوا کے بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوگئی ہے جس کا اثر عالمی سطح پر پڑسکتا ہے۔

ایرانی حکومت اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اﷲ علی خامنہ ای سعودی عرب سے عازمین حج و عمرہ کی خدمات کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اﷲ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ بی بی سی اور اے ایف پی رپورٹس کے مطابق آیت اﷲ علی خامنہ ای نے امتِ مسلمہ سے کہا ہے کہ وہ مقدس ترین مقامات کے انتظامات پر سوال اٹھائیں۔ واضح رہے کہ رواں سال ایران اور سعودی عرب کے درمیان حج کے دوران ایرانی شہریوں کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے پر مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے اس سال ایرانی شہری فریضہ حج کی ادائیگی انجام نہیں دے سکیں گے۔ ایرانی وزیر حج کے بیان کے مطابق ایران کا مطالبہ تھا کہ ایرانی شہریوں کو ایران میں ہی ویزہ جاری کیا جائے اور ان کے لئے ٹرانسپورٹ کے علیحدہ انتظامات کئے جائیں۔ آیت اﷲ علی خامنہ ای نے اس سے قبل بھی حج انتظامات کے سلسلہ میں سعودی عرب پر تنقید کی تھی، گذشتہ برس سینکڑوں حجاج کرام بشمول ایرانی حجاج کرام کی ہلاکت کے بعد انہوں نے تجویز دی تھی کہ مسلم ممالک حج پر سعودی اختیار کو ختم کرنے کے بارے میں سوچیں۔انہوں نے اسلامی دنیا سے حرمین شریفین کا انتظام سنبھالنے پر غور کرنے کا جو مطالبہ کیا تھا اُسے پھر دہرایا گیا۔ سعودی حکومت ایام حج کے دوران حرمین شریفین میں کسی بھی احتجاج یا نعرے بازی کی اجازت نہیں دیتی جبکہ ایران کی جانب سے دوران حج مخصوص نعرے لگانے اور احتجاج کرنے کی اجازت مانگی جارہی تھی۔ حرمین شریفین میں حاضری کے علاوہ خطے میں دہشت گردی کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں۔ شام، عراق، یمن کے حالات سے کون واقف نہیں ہے؟ شام میں جس طرح بشارالاسد کی فوج اورایران و روس کی حکومتوں کا، بشارالاسد کے ساتھ تعاون کے نتیجہ میں لاکھوں بے گناہ سنی مسلمانوں کا قتل عام گذشتہ چار سال کے درمیان ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی کب تک جاری رہے گا اس سلسلہ میں کچھ کہانہیں جاسکتا۔ ایک طرف شام میں بشارالاسد کی فوج سنی مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے تو دوسری جانب داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں دہشت گردی کے ذریعہ عام مسلمانوں کے قتل عام میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے ہوئے ہے۔ داعش کو ختم کرنے کے نام پر امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک بشمول عالمِ اسلام کے ممالک بھی شام کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کرکے عام شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ گذشتہ دنوں شام کی حکومت نے بیرونی سیاحوں کو شام آنے کی دعوت دی ہے ۔ سیاح اس لئے کسی بھی ملک یا شہر کی تفریح کے لئے جاتے ہیں تاکہ وہاں کی بہترین آب و ہوا اور خوبصورت نظاروں سے اپنی زندگی کو فرحت و شادمانی بخشے ۔ جبکہ شام میں گذشتہ چند برسوں کے دوران جو خونریز جنگ جاری ہے جس میں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے ، لاکھوں بے آسرا ہوچکے ہیں، معصوم و شیرخوار بچے والدین سے محروم ہوچکے ہیں یا ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں ، عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں ایسے حالات میں کسی بھی سیاح کو اپنے ملک آنے کی اجازت دینا افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بات ہے اور سیاح خود بھی ایسے مقامات پر آکر اپنی موت کو دعوت دینا پسند نہیں کرتے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہیکہ کیا بشارالاسد اپنے ظالم ہونے کامشاہدہ کرانے ، یا جو معصوم و بے گناہ ہوتے ہیں ان پر کس طرح ظلم و بربریت کی جانی چاہیے اس کی تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ شام کی خانہ جنگی سوشل میڈیا کے ذریعہ آنے والی معصوم بچوں کی تصاویر سے لگائی جاسکتی ہے کہ کس طرح ایران اور روس کے تعاون سے بشارالاسد کی درندہ صفت فوج معصوم لوگوں کا قتل عام کررہی ہے۔شام کے حالات کو بہتر بنانے یا خانہ جنگی کو روکنے کے لئے امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی مذاکرات ناکامی کا شکار ہوچکی ہے ویسے مذاکرات کی کامیابی کا یقین بہت ہی کم تھا کیونکہ داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں کسی بھی صورت بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اور انکی حکمرانی چاہتے ہیں جبکہ بشارالاسد بھی اپنے مخالفین کا ہر طریقہ سے خاتمہ چاہتے ہیں۔ یمن میں بھی حوثی قبائلیوں کی دہشت گردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر حوثی باغیوں کی جانب سے فضائی حملے کئے جارہے ہیں اور سعودی اتحادی ممالک بھی حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے جارہے ہیں اس دوران دونوں جانب سے ہونے والے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات منظرعام پر آرہی ہیں۔

جی ۔20کانفرنس کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے پڑوسی ملک یعنی پاکستان کا نام لئے بغیر اس پر خطے میں دہشت گردوں کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جبکہ پاکستان ہندوستانی کشمیر میں ہونے والی ظلم و بربریت کے خلاف سخت موقوف اختیار کیا ہوا ہے۔ عالمی سطح پرپاکستان ، علحدگی چاہنے والے کشمیری احتجاجیوں پر ہونے والی ظلم و بربریت کو پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور الکرانک میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر لانے کی مسلسل کوشش کررہا ہے۔ جس سے ہندوستانی امیج عالمی سطح پر متاثر ہورہا ہے ۔ ہماری ہندوستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کی فلاح و بہبود اور انکے جائز مطالبات کو قبول کرتے ہوئے انکے حقوق کی فراہمی کے لئے مؤثر انتظامات کریں۔ علحدگی پسند تحریکیں یا کشمیری عوام آخر کیوں ہندوستان سے کشمیر کی علحدگی چاہتے ہیں اس سلسلہ میں صرف مذاکرات کرنے کے بجائے انکے حقوق دینے کی بھرپور کوشش کریں۔ احتجاج کرنے والے کشمیری نوجوانوں پرفوج یا سیکیوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے ظلم و بربریت کا ڈھایا جانا یہ ہندوستان کی نہیں بلکہ مودی حکومت کی بدنامی کا عالمی سطح پر سبب بنے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کل جماعتی وفد کا دورہ بے شک خوش آئند اقدام ہوسکتا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کل جماعتی وفد کے دورے کے بعد ظلم و بربریت ڈھانے والے فوج و دیگر سیکیوریٹی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی؟ اور ان بے گناہ کشمیری احتجاجیوں کا جو اپنے حق کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں انکی موت یا زخمی ہونے کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ ؟ اگر واقعی مرکزی حکومت کشمیری عوام کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہتی ہے تو ان درندہ صفت عہدیداروں کے خلاف کارروائی کریں ، کیونکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کبھی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے تواس قسم کی وحشانہ کارروائی نہیں کی جاتی جس طرح کے کشمیری احتجاجیوں پر کی جارہی ہے۔

عالمی سطح پر مسلمان مشرقِ وسطی خصوصاً شام، عراق، یمن ، ترکی، پاکستان، افغانستان اورکشمیرو دیگر ممالک میں ہونے والے دہشت گردانہ و فوجی و سیکیوریٹی کی ظالمانہ کاروائیوں کے خاتمہ کے لئے دعا کریں اور اپنے ان حاجیوں کو جو حرمین شریفین میں خالقِ حقیقی کو منانے ، اپنے گناہوں سے معافی مانگنے اور دین و دنیا کی سرخروہی کے لئے جمع ہیں ان سے بھی معارضہ کریں کہ وہ بھی امتِ مسلمہ کی سلامتی کیلئے یعنی ظلم و بربریت کا شکار ہونے والے بے گناہ مسلمانوں کی سلامتی کے لئے دعا گو ہوں۔ اور دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ڈھایا جانے والا ظلم و بربریت کا سلسلہ ختم ہو۰۰۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M A Rasheed Junaid

Read More Articles by M A Rasheed Junaid: 255 Articles with 95540 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2016 Views: 378

Comments

آپ کی رائے