اچھی قیادت کے اچھے فیصلے

(Tanvir Sadiq, Lahore)
زندہ قومیں اپنے طرز عمل سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی قیادت متحرک ہوتی ہے۔ اس کے ارکان متحرک ہوتے ہیں، وہ عوام کے بارے بہت کچھ سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں اورپھر کر گزرتے ہیں۔ وہاں زندگی میں حرارت نظر آتی ہے، وہاں حکومتیں عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہیں، ہر لمحہ عوام کے لئے سوچتی ہیں، سیاست خدمت خلق ہوتی ہے۔ قانون سب کے لئے ایک ہوتا ہے۔ قانون کا اطلاق سب پر ایک جیسا ہوتا ہے۔ انصاف ہوتا نظر آتا ہے، انصاف کا اطلاق ایک جیسا ہوتا ہے۔ مگر کیا کہ ہماری قیادتیں تھکی تھکی، لوگ بھی جمود کا شکار۔ شاید لوگوں کو اچھے برے کا شعور ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو اس شعور کا کیا فائدہ جس کا عملی مظاہرہ نظر نہ آئے۔ کہیں حرارت نظر نہیں آتی، نہ حکومت میں نہ عوام میں۔ کوئی سوچتا ہی نہیں۔ ہر چیز ایک ہی انداز میں اپنی جگہ ساکت، جو ادارہ جیسے جمود کا شکار ہے ویسے ہی رہے گا۔ سربراہ بدل بھی جائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کا کوئی سوچتا ہی نہیں۔ ذاتی مفادات ہیں جن کا ہر کوئی تحفظ کرتا ہے۔ کرپشن، اقربا پروری اور نفسا نفسی عام ہے۔یہاں کاقانون ہر شخص کی حیثیت کے مطابق اس سے سلوک پر یقین رکھتا ہے۔ انصاف سے بھی سبھی لوگ شاکی ہیں۔اچھائی یا بھلائی کی کوئی صورت موجودہ حالات میں موجودہ قیادتوں سے نظر نہیں آتی۔ بس فطرت کی طرف سے کسی بڑی تبدیلی کی پوری قوم منتظر ہے۔

چینی ایک زندہ قوم ہیں۔ وہ اپنے ہر فعل اور ہر عمل سے زندگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں چین دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔آج ہم بھی اپنی نظریں چین ہی کی طرف کئے بیٹھے ہیں۔آس امید چین ہی سے لگائے بیٹھے ہیں۔ چین کی ایک خبر آج نظر سے گزری تو اس خبر نے مجھے خوش کر دیا۔ خبر یہ ہے کہ وہاں کی ایک یونیورسٹی نے نئے داخلہ لینے والے طلبا کے والدین کے قیام کے لئے یونیورسٹی میں عارضی طور پر پورا اہتمام کیا ہے ان لوگوں کو عارضی رہائش دی ہے اور بیڈ مہیا کر دئیے ہیں۔ ایسے تمام والدین ا جو یونیورسٹی میں داخلے کے لئے دور دراز سے اپنے بچوں کے ہمراہ سفر کرتے تھے۔ ماضی میں ان کو فٹ پاتھوں اورغیر محفوظ خالی پلاٹوں پر رات گزارنی پڑتی تھی۔ اس مسئلے کے حل کے لئے وسطی صوبے شانکشی کے شہر ژبان میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی نے نئے داخل ہونے والے طلباء کے والدین کو پریشانی سے بچانے اور آرام فراہم کرنے کے لئے یونیورسٹی میں بستر لگا دئیے ہیں۔ یہ بستر یونیورسٹی نے ۳۰۱ عارضی مقامات پر فراہم کئے ہیں۔ اپنے بچوں کو یونیورسٹی میں داخلہ دلانے اور انہیں وہاں چھوڑنے آنے والے والدین ان مقامات پر تین، چار دن آسانی سے قیام کر سکیں گے۔

چین میں یونیورسٹیوں میں داخل ہونے والے طلبا کے والدین کو گزشتہ سالوں میں بہت سی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایک تو شہر میں نووارد ہونے کی وجہ سے انہیں رات گزارنے کے لئے معقول جگہ نہیں ملتی تھی۔مجبوراً وہ کسی فٹ پاتھ یا ویران پلاٹ میں سو جاتے جہاں چوروں اور ڈاکوؤں کی وجہ سے ان کا ٹکٹ اور سامان کھو جاتا یا چھین لیا جاتا اور یوں انہیں اپنے گھر واپس جانے میں بھی مشکل پیش آتی تھی۔ اس سال یونیورسٹی نے ۳۰۱ مقامات جن میں کچھ سکولوں کے میدان اور اسٹیڈیم بھی شامل ہیں مختص کئے ہیں جہاں عارضی بستر لگائے گئے ہیں اور اُن کی اور ان کے سامان کی حفاظت کا پورا بندوبست کیا گیا ہے۔

میں اپنے دیس میں روز درسگاہوں میں بچوں اور بچیوں کو گاتے سنتا ہوں کہ ’ہم زندہ قوم ہیں‘، ’ہم پائندہ قوم ہیں‘۔یہ ترانے اور یہ گانے صرف سننے اور سر دھننے سے زیادہ کچھ نہیں۔ عملی زندگی میں لوگوں کا انداز زندہ قوموں والا نہیں۔ لوگ شاید ا س لئے پوری طرح مایوس نہیں کہ ان بچوں اور بچیوں میں ابھی زندگی کی رمق باقی ہے ورنہ اپنی عمر کے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ ان پر بے حسی کا دور دورہ ہے۔ کچھ ہو جائے وہ لاتعلق سے رہتے ہیں۔ ہماری درسگاہیں وہ نہیں کر رہیں جو انہیں کرنا چاہئے۔ ہمارا استاد ہمیشہ معاشرتی اور مالی مشکلات کا شکار رہا ہے، مالی مسائل میں پچھلے کچھ سالوں میں کافی بہتری آئی ہے مگر سماجی طور پر استاد کو معاشرے میں وہ مقام حاصل ہی نہیں جس کا وہ مستحق ہے۔ وہ ان مراعات سے جو اس کے ہم پلہ تمام سرکاری افسروں کو حاصل ہیں بہت دور ہے۔ہماری بیوروکریسی، ہماری انتظامیہ، ہماری پولیس اس ملک کے عوام سے اس طرح سلوک کرتی ہیں جیسے انگریز انتظامیہ اپنی نوآبادیوں میں بسنے والوں کے ساتھ کرتی تھیں۔ یہ لوگ کرپٹ بھی ہیں اوربے حس بھی۔

ہمارے موجودہ منتخب نمائندے، ہمارے حال کے سیاستدان، سبھی حادثاتی پیداوارہ ہیں۔ وہ لوگ جنہیں سیاست کرنا چاہئے، مالی وسائل کی کمیابی کے سبب بہتر صورت حال کے انتظار میں ہیں اور جو سیاست دان نظر آرہے ہیں وہ مالی وسائل کی افراط سے الیکشن جیتنا جانتے ہیں، مگر آگے کیا کرنا ہے، یہ نہ انہیں پتہ ہے، نہ وہ جاننا چاہتے ہیں۔گونگے، بہرے مگر اپنے مفاد اور مطلب کے پورے۔ وہ رُت ابھی نہیں آئی اور نہ ہی آتی نظر آتی ہے کہ جب ہے یہ ملک نخلستان کی شکل اختیار کرے گا اور اس کے لئے نئی نسل کو ایسی تعلیم کی ضرورت ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ چیزوں کو، معاملات کو سوچیں اور سمجھیں اور اس سوچ اور سمجھ کے نتیجے میں اچھے فیصلے کرنے کے قابل ہوں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 226973 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
14 Sep, 2016 Views: 281

Comments

آپ کی رائے