خدمت انسانیت اور عبد والستار ایدھی

(shafiq ahmad dinar khan, peshawar)
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ایدھی اور خدمت خلق

 انسانیت کیلے جینا،خدمت خلق و محبت انسانیت ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک مقرب وہ ہے جو اس کے مخلوق سے محبت کرتے ہے، آج کے دور میں عبدالستار ایدھی صاحب کسی فرشتہ نما انسان سے کم نہیں ہیں جنھوں نے کئی ادوار دیکھے اور ہر دور میں اس معاشرے کی بھرپور خدمت کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے ۔اس وقت پاکستان جس دور سے گزررہاہے ایسے میں پاکستان کو جنت نظیر ملک بنانے کے لیے مولانا عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات کی اس قوم کو بہت ضرورت ہے ۔ایدھی صاحب نے اپنی کوششوں سے ہمیں یہ بتایا کہ اگر آپ انسانوں کی بلاتمیزنسل وزبان اور مذہب کے خدمت کرینگے تو اس میں نہ صرف اس دنیا میں عزت ملتی ہے بلکہ اﷲ کی بارگاہ میں بھی اس کا اجر وثواب بہت زیادہ ملتاہے ۔

دکھی انسانیت کی خدمت دنیا کا عظیم ترین کام ہے۔ یہ موقع کسی کو نصیب سے ہی ملتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ اور پیارے بندے کو خدمت خلق کے لئے چن لیتے ہیں۔ ورنہ یہ سعادت ہر کسی کو نہیں مل سکتی۔ آج ہم اپنے ارد گرد دیکھ لیں۔ ہمیں ایسے بے شمار لوگ نظر آ جائیں گے جو خدمت خلق کے نام پر کیا کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد زندگی دولت اور شہرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ لوگ سیاست میں بھی مال کمانے آتے ہیں۔ اگر کوئی ان حالات میں ایسا شخص مل جائے جو مال کمانے کے بجائے صرف خدمت میں یقین رکھتا ہوا۔ جو اپنی خدمات خلوص کی بنیاد پر پیش کرتا ہوا۔ ایدھی ان میں سے ایک ہے، جنھون نے صرف انسانیت سے محبت اور انسانیت کی خدمت کا سبق دیا۔ لا وارثوں کے وارث ، انسانیت کی خدمت کے علمبردار،حب الوطنی کی اپنی مثال آپ اور جذبہِ خدمتِ خلق سے سرشار عظیم سماجی کارکن محترم مولانا عبد الستار ایدھی کراچی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے۔دیکھنے میں عبد الستار ایدھی ایک انسان کا نام ہے مگر حقیقت میں عملی طور پر یہ ایک عظیم مشن کا نام ہے اور وہ قابلِ ستائش کام غریب ،مسکین،لاوارث،نادار اور بے سہارا افراد کے پیٹ کی آگ بجھانے اور ان کے سر چھپانے کے لیے چھت کا اہتمام کرنا ہے۔اورعبد الستار ایدھی نے یہ کام اس قدر احسن انداز میں سر انجام دیا کہ عالمی ادارے بھی اس بات کاعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ۔یہ عظیم شخص 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کپڑا کے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عبد الستار ایدھی پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کے چھوٹے چھوٹے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جب انکی ماں انکو سکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بچا لیتے۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی بن گئی-

1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوگیا۔ 1951ء میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادات سکھائیں۔ اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔

1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی پاکستان نے بھی۔ امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے سکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔ عبد الستار ایدھی نے خدمت خلق کے لیے جو شمع روشن کی اس کو اخلاص کا ایندھن تیل فراہم کیا اور یوں شمع سے شمع جلتی گئی اور آج نہ صرف پاکستان کا کونہ کونہ اس سے مستفید ہو رہا ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج عبدالستار ایدھی کا انتقال نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے لاکھوں نادار یتیم ہوگئے۔۔۔

بیشک عبدالستارایدھی کی شخصیت بیکسوں، بے بسوں، لاچاروں، بے گھروں، لاوارثوں ، مجبوروں اور ناگہانی حوادث میں زخمی ہونے والوں اور حادثات میں ایڑیاں رگڑتے ، بلکتے سسکتے، مرتے کٹتے اِنسانوں کی مددکرنے اور اِنہیں بروقت طبی امداد اور خدمات باہم پہنچانے کے حوالوں سے اِنسانوں کے لئے خود نوبل انعام اور امرت دھارا تھی۔

ایدھی چلا گیا،جو نیکی کے دیے جلا گیا بھلائی کی شمع روشن کرگیا،اسے کوئی زوال نہیں ،وہ اپنے حصے کا کام کرگیا،اب آپ کی باری ہے ہم سب کو ایدھی بننا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shafiq ahmad dinar khan

Read More Articles by shafiq ahmad dinar khan: 35 Articles with 23760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 1729

Comments

آپ کی رائے