میری تاریخ کا وہ باب منور ہے یہ دن

(Muhammad Attique, )
اخت سعد الرحمن
’’اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے جو موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو ، میں نے پاک آرمی کے جوان سے جرنیل تک کو آگ اور موت کے ساتھ اس طرح کھیلتے دیکھا ہے جس طرح بچے گلیوں میں کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں‘‘۔ یہ بیان 1965ء کی جنگ کے دوران امریکہ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ہفت روزہ جریدے ٹائم کے وقائع نگار ’’لوئس کرار‘‘ کا ہے۔روزِ اوّل سے کفر واسلام کی جنگ نشیب وفراز کے ساتھ جاری ہے ۔ یاد رہے ! جنگیں سازوسامان سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ جذبوں سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں …… اور ان کو جیتنے کے لیے قربانیوں اور خون کی ضرورت ہوتی ہے ……
تاریخ لکھا کرتے ہیں جو خون سے اپنے
نام ان کا، نشان ان کا، مٹا ہے نہ مٹے گا

یہی منظر 6ستمبر 1965میں بپا ہوا ۔ جب بزدل دشمن نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کر دیا …… اس نے سمجھا ہو گا کہ قوم سوئی ہوئی ہو گی ، غافل اور بے خبر ہو گی ۔ اس کو کیا خبر کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ
آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیں
میں سحر ہوں، میں اجالا ہوں، حقیقت ہوں میں
میں محبت کا تو دیتا ہوں محبت سے جواب
لیکن اعداء کے لیے قہر وقیامت ہوں میں
میرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں
خاک کا طیش ہوں، افلاک کی دہشت ہوں میں

مختلف سمتوں سے 17دن کے حملہ میں آخر کار اپنی زخمی اور شکست خوردہ فوج لے کر ، اپنے ٹینکوں کا قبرستان بنا کر ، سر پر خاک ڈال کر واپس بھاگ گیا۔اس جنگ میں فوج نے ایسا کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ عالم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ، لیکن ساتھ ہی پاکستانی قوم کا کردار اپنی مثال آپ تھا۔

٭ ایک بھکاری تھا ، وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا پانی میں خشک روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہا تھا ، ایک شخص نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ آج ان پیسوں کی وطن کو زیادہ ضرورت ہے ، میرا وطن صحیح سلامت رہے گا تو مجھے روزگار ملے گا میں کبھی بھوکا نہیں مر سکتا ۔

٭ خون کا عطیہ دینے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قطار میں ایک دبلا سا نوجوان بڑا پرجوش تھا کہ وہ اپنے وطن کے کام آئے گا اور جب اس کا وزن کیا گیا تو وزن کم نکلا اس کا خون نہ لیا گیا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ باہر نکلا ۔ سامنے دوکان سے دو کلو کا ویٹ مانگا اور وجہ بھی بتا دی۔ وہ ہر حالت میں خون دینا چاہتا تھا ، یہ سن کر دوکاندار نے اسے دو کلو کا ویٹ دے دیا ۔ اور نوجوان دوبارہ لائن میں لگ گیا اور وزن اپنے کپڑوں میں چھپا لیا ۔ اس طرح اس کا وزن پورا نکلا اس نے خون دیا باہر جا کر اس نے دوکاندار کا شکریہ ادا کیا اور اس کا وزن واپس کیا ۔

٭ فوجیوں کو چارپائیوں اور بستروں کی ضرورت پڑی تو مسجد میں اعلان کیا گیا ۔ قوم نے بستروں کی لائن لگا دی ۔ یہ دیکھ کر فوجیوں کے آنسو نکل آئے اور کہا کہ اس قوم کے لوگوں میں ایسا جذبہ ہے تو دنیا کی کوئی قوم اسے شکست نہیں دے سکتی۔

میری تاریخ کا وہ باب منور ہے یہ دن٭جس نے اس قوم کو خود اس کا پتہ بتلایا

٭مصنف ایم آر شاہد نے اپنی کتاب ’’شہیدانِ وطن‘‘ میں بہت تحقیق کے بعد پاکستانی شہداء کا احوال پیش کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ 6ستمبر کی صبح ٹھیک 3بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آ کر گرا جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلاٹون کمانڈر محمد شیراز چوکنا ہو گئے اور پوسٹ پر بھارت کی جانب سے مزید فائرنگ شروع ہو گئی۔ محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہوگئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آ کر دستی بم بھی پھینکنے شروع کر دئیے ۔ اگرچہ یہ حملہ اچانک تھا لیکن پاکستانی سپاہیوں نے اس کا دلیرانہ مقابلہ کیا ۔ جب پاکستانی دستی بموں کی ضرورت پڑتی تو سپاہی رینگ کر کمک کے پاس آتے اور رینگ کر آگے موجود سپاہیوں کو بم تھماتے تھے۔ اسی اثناء میں محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہوکر جنگ ستمبر کے پہلے شہید کا اعزاز حاصل کر گئے۔

٭ بھارتی طیارے انتہائی اطمینان سے اپنی برّی فوج کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور اپنی ہی فوج کی ایک یونٹ ۲۰ لانسرز کے ٹینکوں پر حملہ آ ور ہو گئے جس سے تین ٹینک، اکلوتی ریکوری گاڑی اور اسلحہ کی گاڑی تباہ ہو گئی۔ زمینی فائر سے بھارت کا ایک ویمپائر تباہ ہوا جو فلائینگ آفیسر پاتھک اڑا رہا تھا ۔ اسی دوران پاک فضائیہ کے شاہین پہنچ چکے تھے جیسے ہی کمانڈر سرفراز رفیقی کی نظر دشمن کے جہازوں پر پڑی انہوں نے بھارت کے دو ویمپائر کو نشانہ لے کر ڈھیر کر دیا ، تیسرا طیارہ امتیاز بھٹی نے مار گرایا ۔ اس طرح بھارت کی اپنی فوج کا نشانہ بننے والے پاتھک کے طیارے کے علاوہ فائیٹ لیفٹیننٹ اے کے بھگ واگر، فلائیٹ لیفٹیننٹ ایم وی جوشی اور فلائٹ لیفٹیننٹ ایس بھرواج اپنے ویمپائر سمیت وہیں ڈھیر ہو گئے۔ یکم ستمبر کے اس فضائی معرکے نے بھارتی فضائیہ کے حوصلے پست کر دئیے ان چار طیاروں کی تباہی کے باعث بھارت نے تقریباً ۱۳۰ ویمپائر لڑاکا طیارے اور ۵۰ سے زائد اور ریگن طیاروں کو فوری طور پر محاذ جنگ سے پیچھے ہٹا لیا۔ برگیڈئیر امجد چوہدری نے پاکستان ائیرفورس کو اپنے خط میں لکھا : چھمب میں آپ کی پہلی کار گزاری نے ہم پر یہ ثابت کر دیا کہ ہمیں دشمن کی فضائیہ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ایک ایسی اعلیٰ مثال قائم ہوئی اور وہ منظر کبھی نہ بھلا سکیں گے اس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے اور ہمیں گویا پر لگ گئے۔

٭ دشمن کے 6ہنٹر طیارے حملہ کرنے کے لیے سرگودھا کی طرف آ رہے تھے ان کو آتے ہوئے ایم ایم عالم نے دیکھ لیا ، اور اپنی گن سے اٹیک کیا جس سے ایک طیارہ تباہ ہو گیا اور ایک کو نقصان پہنچا ۔ پھر اس کو بھی میزائل مار کر تباہ کر دیا ۔ باقی چار جہاز بھاگ نکلے تو انہوں نے ان کے پیچھے چھلانگ لگائی اور ان کے پیچھے پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ وہ بارڈر سے 30میل دور رہ گئے لیکن انہیں پکڑ لیا، دشمن کے جہازوں نے دیکھا کہ پیچھے سے ایک جہاز انہیں شوٹ کرنے والا ہے تو انہوں نے مڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ بچ سکیں لیکن ایم ایم عالم نے اپنی f86 گن کے ساتھ فائر کر دیا اس میں سے 6فائر اکٹھے ہوتے ہیں ، تو یہ فائر باری باری ان پر سے گزرتے گئے اورباری باری سب شوٹ گئے انہوں نے 30 سے 35 سیکنڈ میں سارے جہاز تباہ کر دئیے۔

٭ یونس خان شہید نے پٹھان کوٹ بھارت کے فضائی اڈے پر حملہ کیا اور اپنی مہارت سے بھارتی فضائیہ کے 15طیارے تباہ کر دئیے جن میں کینبرا اور دوسرے طیارے شامل تھے ، اس طرح کہ جب وہ بھارتی حدود میں داخل ہوئے تو ان کے طیارے پر بھارتی طیاروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی اور طیارے کو نقصان پہنچا لیکن انہوں نے بھارتی پٹھان کوٹ کے پاس فضائی اڈے پر موجود پاکستانی حملہ کے لیے کھڑے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکرا دیا جس سے بھارت کے 15طیارے جل کر راکھ ہو گئے اور دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

٭ اس جنگ میں بہت کم دنوں میں تقریباً 600 ٹینکوں نے حصہ لیا تھا ۔ جس میں بھارت کے سنچورین ٹینک بھی شامل تھے، عددی برتری کے لحاظ سے بھارت کے پاس بہت اسلحہ تھا ۔ اس مقام پر بھارت اپنے ٹینک لے کر پہنچ گیا ، اس جگہ کو پاکستان کی معمولی نفری نے کنٹرول کیا ہوا تھا، ابھی بھارت کی طرف سے بھرپور حملہ کی تیاری ہو رہی تھی کہ پاکستان کی فوج نے پیش قدمی کر دی ، اور ان کے دو یا تین ٹینک تباہ کر دئیے ، دشمن نے وقت سے پہلے حملہ کرنے کی ٹھان لی جبکہ پاکستانی فوج کو ابھی کمک پہنچنے میں دیر تھی ، اس موقع پر پاکستانی فوج کے افسر نے اپنے جوانوں سے پوچھا کہ کون ہے جو ٹینک کے آگے لیٹ سکتا ہے، جس کے جواب میں کم از کم 200 جوانوں نے جذبہ شہادت سے سرشار ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دیا ، ان میں چند جوانوں نے اپنے سینے پر ٹینک شکن مائنز باندھ کر ان کو تباہ کیا تھا ۔ ان چند ٹینکوں کے تباہ ہونے سے بھارت کی فوج کا راستہ اپنے ہی تباہ شدہ ٹینکوں کی وجہ سے رک گیا تھا ۔اور مزے کی بات یہ کہ پاکستان کی اس وقت کی مشہور توپ ’’رانی‘‘ کا فائر بھی گھوم پھر کر انہی ٹینکوں پر آ رہا تھا ، بھارتی فضائیہ نے اس توپ کو تلاش کرتے کرتے سیالکوٹ کے قلعہ پر 1000 پونڈ وزنی بم گرا دیا ، مسلسل تلاش کرنے کے باوجود وہ اسے تلاش نہ کر سکے بلکہ اپنے ٹینکوں سے ہاتھ دھوتے رہے۔بھارت میں چاونڈا کا یہ مقام اب بھی ٹینکوں کا قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔میجر عزیز بھٹی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بی آر بی نہر کے پاس ڈٹے تھے جس پر بھارتی افواج قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ 7ستمبر کو بھارت نے پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کیا اور میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے صرف 110 سپاہیوں کی مدد سے بھارت کی پوری بریگیڈ کو 10 گھنٹوں تک روک کر رکھا اور دن رات مورچے پر ڈٹے رہے۔ یہ اعصاب شکن معرکہ جب 12ستمبر کو پانچویں روز میں داخل ہوا تو اس وقت تک میجر عزیز بھٹی بھارت کے چھ حملے روک چکے تھے آگے جانے والے پاکستانی سپاہی اور ٹینک ایک مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں واپس لانا ضروری تھا ، اس پر انہوں نے اپنی فوج کو منظم کر کے کئی اطراف سے حملہ کیا اور پاکستانی فوجی گاڑیوں اور سپاہیوں کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اندھا دھند گولہ باری اور فائرنگ کے دوران ایک شل نے ان کے کندھے کو شدید زخمی کر دیا اور وہ صرف 42سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر گئے۔

٭ زخمی فوجیوں کے علاج پر معمور بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر نصرت جہاں سلیم آئی ایس پی آر کے شمارے میں کچھ ایمان افروز واقعات درج کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
٭ایک زخمی سپاہی لایا گیا ، توپ کا گولا یا گرنیڈ اس کے قریب پھٹا تھا اس کے جسم کی بوٹیاں باہر آ رہی تھیں، جسم کا کوئی حصہ سلامت نہ تھا تمام زخم گہرے تھے اسے آپریشن ٹیبل پر لایا گیا ۔ میں نے اندازہ کر لیا کہ اس کا بچنا ممکن نہیں ، پھربھی ہم اس کے قیمہ کیے ہوئے جسم میں خون ڈالنے لگے اور خون زخموں کے راستے بہنے لگا کوئی زخم ایسا نہ تھا جسے ہم دو ٹانکے ہی لگا سکتے ۔ اچانک وہ ہوش میں آ گیا اور اچک کر آپریشن ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کو چل پڑا۔ میں نے اسے روک لیا اور ٹیبل پر لیٹنے کو کہا ۔ اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا اور بولا : ’’تم مسلمان ہو؟ مسلمان ہو تو کلمہ پڑھو، میں نے کلمہ پڑھا اور اسے آپریشن ٹیبل کی طرف لے جانے لگی تو اس نے غصہ سے کہا تم مسلمان ہو اور مجھے یہاں لیٹ جانے کا کہہ رہی ہو ؟ جانتی ہو محاذ پر قیامت مچی ہوئی ہے؟ میں ٹینکوں اور گاڑیوں کو پٹرول دینے کی ڈیوٹی پر تھا ، معلوم نہیں میری جگہ کوئی پٹرول دینے والا ہے یا نہیں ۔ اﷲ کے لیے مجھے جانے دو، ٹینکوں کو پٹرول کون دے گا ؟ ٹینک رک گئے تو دشمن کو کون روکے گا مجھے جانے دو مجھے اپنی ڈیوٹی پر جانے دو ‘‘۔ابھی یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ وہ بے ہوش ہو گیا ، ہم نے اسے بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن اﷲ نے اسے اس دنیا کی ڈیوٹی سے سبکدوش کردیا اور وہ شہید ہو گیا۔

٭ ایک سپاہی جس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئی تھیں، خون سارا بہہ گیا تھا لیکن وہ ہوش میں تھا ۔ اسے ڈاکٹرز نے بچا لیا مگر بے چارہ عمر بھر کے اپاہج ہو چکا تھا وہ کہہ رہا تھا ڈاکٹر صاحب زخم جلدی ٹھیک کر دیں میں واپس جاؤں گا ۔ میں نے اسے کہا کہ بھائی تمہاری تو دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں ۔ تو وہ یوں گویا ہوا جیسے اس کی ٹانگیں نہیں ٹوٹیں بلکہ ہلکی سی خراش آئی ہو ، کہنے لگا فکر نہیں میں گن فائر کر سکتا ہوں ، میں ٹینک میں بیٹھ کر گن چلا لوں گا ۔ آپ میرے زخم جلدی ٹھیک کر دیں ۔ وہ اپنے آپ کو ہشاش بشاش رکھنے کی کوشش کرتا تاکہ زخم جلد ٹھیک ہو جائیں۔

ڈاکٹر میجر نصرت بتاتی ہیں کہ میں نے جانباز فوجیوں کو اصلی روپ میں دیکھا ہے یہ بے ہوش سپاہی، زخموں سے چور، نقاہت سے نڈھال، جانے اتنی طاقت کہاں سے لے آتے تھے کہ ان کے نعروں سے وارڈ دہل جاتا تھا ، بعض فوجی بے ہوشی کی حالت میں اپنی رائفلیں ڈھونڈتے تھے۔

کیسی عجیب فوج تھی ، ان کے جذبات کے سامنے شکست کیسے آ سکتی تھی۔ جس کے فوجی زخمی اور بے ہوش ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو محاذ پر ہی تصور کر رہے ہوں، کافروں کے خلاف لڑنے کو تڑپ رہے ہوں ۔ اور بے تاب ہوں۔
کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں
یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے

6ستمبر ایک ایسا دن اور تاریخ ہے جس کا ہر لمحہ ، ہر ساعت اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے ، یہی تو وہ دن ہے جب زندگی کا ہر شعبہ ، ہر گوشہ اتحاد ، یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن گیا ۔ ہر قسم کے اختلافات طاق نسیاں پر رکھ دئیے گئے ، سارے دائیں بائیں بازو ایک دوسرے کا دست وبازو بن گئے، غرض جو جہاں تھا وطن کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو گیا ہر زبان پر ایک ہی نعرہ تھا :
اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا
لے ہم بھی ہیں صف آراء

یہ دشمن پر عقابوں کی طرح جھپٹنے والے ، بجلیاں بن کر گرنے والے ، جب انہیں آگے بڑھنے سے روکا جاتا یا آرام کرنے کو کہا جاتا تو ہر بار مسکرا کر کہتے: ’’تھکے تو نہیں ہیں‘‘۔ہمارے بہادر جوانوں نے ثابت کر دیا کہ :
ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کا ساحل نہیں
شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو

6ستمبر 2016کے موقع پر بھارتیوں کو یاد رہے کہ آج بھی پاکستان میں ایسے لاکھوں سپوت موجود ہیں جو ہر وقت بھارت جیسے بزدل دشمن کا مقابلہ کرنے اور ان کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لیے تیار ہیں ، ہم سب پاکستانی ہیں چاہے کوئی سندھی ہے، بلوچی ہے ، پٹھان یا پنجابی ۔ پاکستان کل بھی تھا ، پاکستان آج بھی ہے ، پاکستان آئندہ بھی رہے ، پائندہ بھی رھے گا ۔ ان شاء اﷲ

ہم وطن پاکستانیو! 6ستمبر 2016کے موقع پر ہمیں قومی یکجہتی ، باہمی اعتماد ، اتحاد واتفاق اور جذبہ قربانی وشہادت کو بیدار کرنا ہو گا ہم سب کو مل کر مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ آج ہم خونخوار بزدل اور بے وقوف دشمن سے برسرپیکار ہیں ہمیں اپنے حقیقی دشمن کو پہچاننے اور ابنا اہم کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جس طرح اس جنگ میں پاکستانی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمن کے آگے کھڑے ہو گئے تھے اسی طرح آج بھی اور آئندہ بھی دشمن کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا وقت ہے اور اﷲ کو بھی ایسے بندے ہیں پسند ہیں ۔
نجوم بجھتے رہیں، تیرگی امڈتی رہے
مگر یقین سحر ہے جنہیں وہ اداس نہیں
طلسم شب کا یہی توڑ ہے، قدم نہ رکیں
اندھیرا ٹوٹ کے برسے، مگر یہ سر نہ جھکیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Atiq Ur Rhman

Read More Articles by Muhammad Atiq Ur Rhman: 72 Articles with 35990 views »
Master in Islamic Studies... View More
16 Sep, 2016 Views: 486

Comments

آپ کی رائے