مراد پیغمبرؐ،امام عدل و حریت خلیفہ ثانی سیدنا فاروق اعظمؓ کی سیرت وکردار

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
 مکہ کے بہت بڑے پہلوان ،رعب اور دبدبے کے مالک شخص جن کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرتا ،ان کے سامنے بات کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا، ہاتھوں میں ننگی تلوار لئے بڑے غصے سے گزر رہا ہے ،راستے میں رسول اﷲ ﷺ کے ایک صحابی سامنے سے آجاتے ہیں یہ پہلوان دیکھتے ہی کہتا ہے کہ "اپنے نبی ؐ کو جاکر آخری باردیکھ لو آج کے بعد وہ ؐ تمہیں نظر نہیں آئیں گے کیونکہ میں انھیں (نعوذ باﷲ) قتل کرنے جا کرہا ہوں تاکہ ان کا مذہب یہیں ختم ہوجائے" یہ صحابی رسول اس پہلوان سے کہتے ہیں کہ اسلام کو ختم کرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر تولے لو تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام لا چکے ہیں "یہ بات سنتے ہی وہ پہلوان مزید غصے میں آجاتا ہے اور اپنا راستہ بدل کر اپنی بہن کے گھر پہنچتا ہے دروازے پر دستک دیتا ہے بہن دروازہ کھولتی ہے ،بھائی بہن سے استفسار کرتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ تم مسلمان ہوکر محمد(ﷺ) کے دین کو اختیار کر چکی ہو ۔بہن نے کہا کہ بھائی ہاں آپ نے سچ ہی سنا ہے ،بہن کا یہی کہنا تھا کہ بھائی نے اپنی بہن کو مارنا شروع کردیا بہنوئی بچانے کیلئے آگئے بڑھا تو اسے بھی زدوکوب کیا گیا ۔بہن پر جب تشدد بہت زیادہ ہوا تو بہن (حضرت فاطمہؓ) نے کہا بھائی جس ماں کا دودھ تو نے پیا ہے اسی ماں کا دودھ میں نے پیا ہے اگر تم کفر پر پکے ہو تو میں اسلام پر پکی ہوں خواہ اس راستے میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے ؟

بہن کا جواب سن کر پہلوان بھائی نے سوچا کہ ایک عورت ذات میرے سامنے آج کھڑی ہوگئی اسلام میں ضرور کوئی صداقت ہے؟ پھر اس پہلوان نے غسل کرنے کے بعدقرآن مجید کی تلاوت کی تو دل پر گہرا اثرہوا،بھائی نے بہن سے کہا کہ اے میری پیاری !بہن واقعی اسلام سچا دین ،قرآن اﷲ کا کلام اور حضرت محمد ﷺ اﷲ کے سچے نبی اور رسول ہیں مجھے بھی حضرت محمد ﷺ کے پاس لے چلو تاکہ میں بھی اسلام قبول کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہو سکوں ،بہن اپنے بھائی کو حضورﷺ کے پاس لے کر جاتی ہے ،صحابہ کرامؓ نے جب اس پہلوان کواپنی بہن کے ساتھ آتے دیکھا تو حضرت محمد ﷺ کو بتایا کریم آقا ﷺ نے فرمایا اسے آنے دو یہ اب ہمارا غلام بننے کیلئے آیا ہے اس کا استقبال کرو جب یہ پہلوان حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے تو نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کیا ارادہ ہے ؟ پہلوان نے کہا اسلام قبول کرنے آیا ہوں حضور ﷺ نے کلمہ پڑھایا اور یہ پہلوان جو نبی ﷺ کو (نعوذ باﷲ )قتل کرنے آیا تھا اسلام اور نبی کریم ﷺ کا غلام بن کر صحابیت کے درجے پر فائز ہوگیااس خوشی میں صحابہ کرام ؓ نے نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کے نعرے بلندکئے ۔ اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا صحابہ کرام ؓ اور نبی کریم ﷺ وضو کرنے لگے تو اس پہلوان صحابی نے عرض کی آقاﷺ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ حضورﷺ نے فرمایا اﷲ کی عبادت کرنے کی تیاری کررہے ہیں ،انہوں نے کہا عبادت تو اﷲ کے گھر خانہ کعبہ میں ہونی چاہیے ،حضور ﷺ نے فرمایا تمہاری قوم ہمیں اﷲ کے گھر میں عبادت نہیں کرنے دیتی ۔اس پر اس صحابی ؓ نے عرض کی، یارسول اﷲ ﷺ میرے اسلام لانے سے پہلے بھی آپ ﷺ چھپ کر عبادت کریں اور میرے اسلام لانے کے بعد بھی تو میرے اسلام لانے کا کیا فائدہ؟ اب ہم خانہ کعبہ میں نماز ادا کریں گے چلئے دیکھتاہوں آپ ﷺکوکون اﷲ کی عبادت خانہ کعبہ کرنے سے روکتا ہے ؟حضور ﷺ کے ہمراہ یہ ہستیؓ بازار میں پہلی بار الاعلان کہتی جارہی تھی کہ لوگو میں نے اسلام قبول کرلیا ہے ،ہم کعبہ میں نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس میں طاقت ہے وہ آئے ہمیں روکے ۔جو سامنے آئے گا اس کے بچے یتیم ،بیوی بیواہ ہو جائے گی۔

قارئین کرام !اتنی جرأت وبہادری کا مالک یہ شخص کون تھا ؟ یہ اسلام کے نامور ہیرو،صحابی ٔرسول،خلیفہ ٔ ثانی،مراد پیغمبر ﷺ،امام عدل وحریت سیدنا عمر فاروق ؓ بن خطاب ہیں، حضرت عمرفاروق ؓ اسلام کی وہ جلیل القدر شخصیت ہیں جن کے لئے اﷲ کے رسول ﷺ کے مقدس ہاتھ متعدد دفعہ بارگاہ الٰہی میں اٹھے ،اﷲ تعالیٰ سے نبی مکرم ﷺ نے سیدنا عمرفاروق ؓ کو خود مانگا کہ اﷲ اے ! اگر تو چاہتا ہے کہ اسلام کو عزت ملے تو عمر ابن خطاب یا عمر و ابن شہام (ابوجہل )میں سے کسی ایک کو اسلام کی دولت سے سرفراز کر دے تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت فاروق اعظمؓ کو اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا یعنی سب صحابہ کرامؓ نبی اکرمﷺ کے مرید ہیں جبکہ سیدنا فاروق اعظم ؓ مراد ہیں ۔ حضورﷺ کا ہر حکم اپنے لئے حرف آخر سمجھتے تو ایک مرتبہ کسی منافق نے حضورﷺ کا فیصلہ سننے کے بعد حضرت عمر ابن خطاب ؓسے فیصلہ کروانے کا ارادہ کیا جب آپ ؓ سے فیصلہ کروانے وہ لوگ گئے تو فریق اول نے بتایا کہ آپ ؓ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے پہلے فیصلہ میرے حق میں کر دیا ہے یہ شخص اب آپ ؓ کا فیصلہ چاہتا ہے تو اس پر حضرت عمر ؓ اندر گئے تلوار لے کر باہر آئے اور اس منافق کا سر تن سے جدا کرتے ہوئے فرمانے لگے جو نبی اکرمﷺ کے فیصلے کے بعد اپنا فیصلہ عمرؓ سے کروانے آئے گا تو پھر عمرؓ کا فیصلہ یہ ہو گا حضرت عمرؓ نے متعدد بارحضور ﷺ کو مشورہ دیا اﷲ تعالیٰ نے اسے قرآن بنا کر نازل کر دیا حضرت عمرؓ کے بارے میں حضور کا فرمان ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا مگر میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ،مزید فرمایا عمرؓ کو دیکھ کر شیطان بھاگ جاتا ہے ،حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے عہد خلافت میں عدل و انصاف کی ایسی مثالیں رقم کیں کہ جن کی نظیر آج تک کوئی پیش نہ کر سکا حضرت عمر فاروقؓ نے ایسا نظام عدل قائم کیا کہ دریا،زمین،درندے آپؓ کا حکم ماننے پر مجبور ہو گئے۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کا دور خلافت سادگی ،خدمت خلق،انصاف کے عملی نمونہ سے عبارت تھا آپ کا مرکزی دفتر مسجد نبوی تھا اسی مرکز سے دنیا کی بڑی بڑی قوتوں کو زیر و زبر کرنے اور اطراف عالم میں پیغام اسلام پہنچانے کے فیصلے صادر ہوتے ۔فاروق اعظم 22جمادی الثانی 13ہجری کو منصب خلافت پر فائز ہوئے تو آپ ؓ نے اپنے دور خلافت میں اسلام کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے حتیٰ کہ کافر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر دنیا میں ایک عمر اور ہوتا تو کفر کا نام و نشان مٹ جاتا حضرت عمرؓ کا عدالتی نظام دور حاضر کی طرح کانہ تھا بلکہ انتہائی آسان اور سہل ،انصاف آپکی خصوصیات میں سے ہے یہاں کسی قسم کی رشوت،سفارش یا جھوٹی گواہی ،جانبداری اور بے ایمانی کا تصور نہ تھا خلیفہ وقت بھی عدالت کے رو برو پیش ہو کر جواب دینے کا پابند تھا۔

حضرت عمر فاروق ؓ جب خلیفہ بنے تو آپ ؓ نے فرمایا۔مجھے تم سے آزمایا جا رہا ہے اور تمہیں مجھ سے میں پیشر ووں کے بعد تم پر جانشین بن رہا ہوں جو چیز ہمارے سامنے ہو گئی (یعنی مدینہ میں)اسے ہم شخصی طور پر انجام دیں گے اور جو غائب ہو گی تو اس کے لئے قوی اور قابل افراد کو مامور کریں گے جو اچھا کام کرئے گا اس پر ہمارا احسان بھی زیادہ ہو گا جو برائی کرئے گا اُسے ہم سزا دیں گے اﷲ تعالیٰ تمہیں اور ہمیں معاف کرئے۔امام ابن قیم جوزی ؒنے سیرۃ عمر بن خطابؓ کے صفحہ71پر ارکان دولت اور افسران بالا کے بارے میں حضرت عمرؓ کا وہ قول نقل کیا ہے جس کے مطابق حکومتی خزانہ کے بارے میں اُن کے فرائض کا پتہ چلتا ہے کہ ایک مختصر جملے میں خلیفہ دوم کتنے جامع اور منفرد احکام جاری کرتے تھے۔وہ شخص جو مسلمانوں کے امور کا نگران بنا وہ اُن کا غلام ہے ان کی خیر خواہی اور ان کی امانتوں کا پاس اسی طرح فرض ہے جس طرح غلام پر اپنے آقا کے سلسلے میں حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھاکہ میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ تو حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا اگر مسلمانوں کی ریاست کے حق سے ایک درہم بھی کم یا زیادہ وصول کریں اور اسے حق کے سوا کسی اور مصرف میں خرچ کریں تو آپ خلیفہ نہیں بادشاہ ہیں یہ سن کر حضرت عمرؓ کے آنسو جاری ہو گئے۔محمد بن سعدؒ آگے لکھتے ہیں یہ سن کر لوگوں نے آپکو اطمینان دلایا کہ آپ ؓ کا طرز عمل وہی ہے جو خلیفہ کا ہونا چاہیے اس پر عمرؓ خاموش ہو گئے ۔حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں بڑے اہتمام کے ساتھ خلیفہ اور رعایا کے حقوق،اختیارات اور سلطنت و حکومت کے نظم کے متعلق ایک اہم خطبہ دیا جسکے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

صاحبو ! کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کی معصیت الٰہی میں اسکی اطاعت کی جائے کسی حاکم کیلئے جائز نہیں کہ وہ رعایا کے مال میں کمی بیشی کی اجازت دے صرف تین طریقے ہیں جن کے اختیار کرنے سے مال کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔1۔یہ کہ حق کے ساتھ وصول کیا جائے2۔حق میں صرف کیا جائے3 ناجائز طریقے سے خرچ نہ کیا جائے ۔میری اور تمہارے مال کی مثال یتیم کے ولی کی ہے کہ اگر میں متمول ہوں گا تو خود ہی اس سے احتراز کروں گا میں کسی کو یہ موقع نہ دوں گا کہ وہ کسی پر ظلم کرئے اگر کسی نے ایسا کیا تو میں اس کے چہرے کو اپنے پاؤں سے مسل دوں گا مجھ پر تمہارے حق میں جن کو میں اسلئے بیان کرتا ہوں کہ تم ان کے بارے میں مجھ سے مطالبہ کر سکو(تاریخ یعقوبی)۔جب قاضی شریح مسند انصاف پر بٹھائے گئے تو حضرت عمرؓ نے ان کے نام حکم نامہ میں تحریر فرمایا کہ نہ کچھ خریدو نہ بیچو، نہ رشوت لو،عسکری کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ وہ پہلے شخص ہیں جن کو امیر المومنین سے موسوم کیا گیا آپکی اولیات میں خاص طور پر قابل ذکر باتیں یہ ہیں۔

آپ نے بیت المال قائم کیا،ماہ رمضان میں تراویح با جماعت جاری فرمائی،سب سے پہلے تاریخ وسال ہجری جاری کیا،لوگوں کے حالات معلوم کرنے کیلئے راتوں کو آبادی کا گشت کیا،ہجو مذمت کرنے والے لوگوں پر حد جاری فرمائی،شراب پینے والے پر اسی کوڑے لگوائے،متعہ کی حرمت کو عام کیا اور اسے کسی فرد کے لئے بھی جائز نہ کیا ،جن لونڈیوں سے اولاد ہو جائے انکی خریدوفروخت ممنوع قرار دے دی،نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا حکم دیا،دفاتر قائم کئے اور وزارتیں معین و مقرر فرمائیں، سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں، مصر سے بحرایلہ کے راستے مدینہ منورہ غلہ پہنچانے کا بندوبست کیا،صدقہ کا مال اسلامی امور پر خرچ کرنے سے روکا،گھوڑوں پر زکوۃ وصول کی گئی،ترکہ اور ورثے کے مقررہ حصوں کی تقسیم کا نفاذ فرمایاشہروں میں قاضی مقرر فرمائے،کوفہ،بصرہ،جزیرہ،شام اور موصل کے شہر آباد کئے حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں محکمہ پولیس محکمہ ڈاک محکمہ فوج جیسے اہم شعبہ جات کا اجراء کیا علاوہ ازیں آپکے دور خلافت میں اہم شاہراوں کی تعمیر بھی ہوئی ،آپ کے دور حکومت میں قیصرو کسریٰ،دمشق،بصرہ،ایلہ،نیشاپور،الجزیرہ،قصیاریہ مصر،اسکندریہ اور نہاوند فتح کئے آپؓ نے سلطنت کے تمام مفتوحہ علاقوں کا دورہ کیا ہر ہر علاقے ہر ہر شہر میں کھلی کچہریاں لگائیں مواقع پر احکامات جاری کئے حکمرانوں کے دروازے پر دربان مقرر کرنے پر پابندی لگائی آپ ؓ کا دور اسلامی تاریخ کا درخشند ہ دور ہے اس عہد کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں ایڈورڈ گبن،روسو،ویدرک،برناڈشا،بہرواور عیسائی،یہودی کمیونسٹ سبھی حکمران آپکے طرز زندگی دستور مملکت پر آج تک رطب اللسان ہیں ۔

حضرت عمر ؓ24ہجری یکم محرم کو نماز فجر میں ایک ایرانی ابولولو فیروز نجوسی کے ہاتھوں زخمی ہو کر جام شہادت نوش فرما گئے آپ کو روضہ رسولﷺ نے نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159174 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Oct, 2016 Views: 454

Comments

آپ کی رائے