منافقت!

(Saddam Taj, Liaquatpur)
یہ میری منافقانہ طبیعت ہے جو کہ ان کا تو احسان مانتی ہے جو خود محتاج اور احسان مند ہیں میرے رب کے مجھےپراتنے احسانات ہیں جن کے اقرارکی بھی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔
آفس کی طرف سے مجھے پہلی دفعہ دبئی جانے کا موقع ملا۔ میری ایک مناسب تنخواہ ہے جس سے میں مکان کا کرایہ اور زندگی کےباقی معملات کو نبھاتاہوں، میرے لیے یہ کام آسان نہ تھا کہ میں اپنےاخراجات خود کر کے جا تا۔پی آئی اے کا پنتالیس ہزار کاآنے جانے کاٹکٹ اور تقریباً دس سے پندرہ ہزار کا ویزہ ہے۔ ہوٹل ، کھانا اور سفری اخراجات الگ۔ چونکہ یہ مکمل آفیشل دورہ تھا لہذا میں ان تمام اخراجات سے محفوظ رہا ہاں البتہ احتیاط ً میں نے اپنے پاس کچھ درہم رکھ لیے وہ بھی اپنے باس سے ادھار لیے۔

ہم نے دبئی کے بہترین ہوٹل میں قیام کیا ، یہ قیام چار دن کا تھا۔ جب دل کرتا رسیور گھماتا ڈرنکس آ جاتی ، بریانی، آئس کریم وغیرہ وغیرہ ۔ کبھی ائرکنڈیشنڈ کو تیز کرتا کبھی آہستہ تو کبھی بند کر دیتا۔ اگلے دن ایونٹ تھا ،ہم جب ایونٹ سے فارغ ہوئے تو ہمارے باس نے ہمیں خوب گھمایا پھریا جو کہ اس دورہ کا حصہ نہ تھالیکن پھر بھی یہ نوازشات ہوئی۔ ہمیں مال آف دبئی لے گئے، اچھے سے اچھے ہوٹل سے کھانا کھلایا اور پھر برج خلیفہ کی چوٹی پر لے گئےاور جس نے جو بھی فرمائش کی وہ پوری کی۔ اگر حساب لگایا جائے تو تقریباً فی بندہ دو سے ڈھائی لاکھ خرچ آیاہوگا۔ یہ سب میری استطاعت سے باہر تھا لیکن نصیب اچھے تھے۔
 
واپسی پر جب میں اپنے جی ایم کے ساتھ دئبی ائیرپورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا تھا تو ہم آپس میں اپنے باس کی دریا دلی کی تعریفیں کر رہے تھے کہ ایسا کوئی باس نہیں ہوتا، اگر یہ ہم پر اتنا خرچ نہ بھی کرتے تو ہم کیا کر لیتے؟ کیونکہ یہ ہمارے دورہ کا حصہ نہیں تھا ہم تو بس ایک ایونٹ کے لیے آئے تھے جو ایک دن کا تھا اور پھر واپس جانا تھا لیکن باس نے ہمیں مکمل طور پر انٹرٹینٹ کیا۔ میں نے کہا کہ باس نے تو میرا دل ہی خرید لیا ہے اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر باس مجھے کوئی کام کہے تو میں انکار نہیں کر وں گا اور ہمیشہ تعبدار رہوں گا۔ اسی لمحہ اچانک ایک عجیب سا خیال آیا کہ تمہارے باس نے تو تمہیں چار دن انٹرٹینٹ کیا اور تمہارا دل بک گیا اور تمہارا رب عزوجل جب سے تم پیدا ہوئے ہو تمہیں انٹرٹینٹ کر رہا ہے۔ تمہیں بہترین آکسیجن مہیا کرتا ہے، خوراک کا بندوبست کرتا ہے، نیند کا بندوبست کرتا ہے، میری ہر کوہتائی کو نظر انداز کرتا ہے، مجھے ایک بہترین زندگی اور جیون ساتھی کا تحفہ دیا ہے۔ میرے روزگار کا بندوبست کیا اور ایسی لاکھوں نعمتیں ہیں جو میرے رب نے مجھے بغیر کسی معاوضہ کے دیے ہیں اور میری لاپرواہی اور مغروررویہ کے باوجود کبھی مجھے مایوس نہیں کیا۔میں تو پھر بہت بڑا منافق ہوں کہ مجھے چار دن کا پروٹوکول تو خرید سکتا ہےلیکن میری پیدائش سے لے کراب تک اور پھرمرگ تک جس نے مجھے پالاہے ، پال رہا اور پالتا رہے گااس کا تو میں کبھی احسان مند نہ ہوا۔ مجھے ہر مصیبت سے غائبانا بچاتا ہے اور میں ہر روز اپنے رب کے حکم سے لا پرواہی کرتاہوںکبھی میں نے شکر نہیں کیا کبھی میں نےیہ ارادہ نہیں کیا میرے رب کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں تومیں آج سے اپنے رب کا ہر حکم پر عمل کروں گا ۔ یہ میری منافقانہ طبیعت ہے جو کہ ان کا تو احسان مانتی ہے جو خود محتاج اور احسان مند ہیں میرے رب کے مجھےپراتنے احسانات ہیں جن کے اقرارکی بھی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔آج میں اپنے رب سے معافی چاہتا ہوں اور احسان مند ہوں ۔ میرا رب کریم میرے حال پہ رحم فرمائے۔ آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saddam Taj

Read More Articles by Saddam Taj: 9 Articles with 5015 views »
I am nothing.... View More
06 Oct, 2016 Views: 572

Comments

آپ کی رائے