تاریخ کا قتل

(Syed Anis Bukhari, Karachi)
ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ تاریخ کو قصاب کا پھٹہ سمجھتے ہوئے اس پر اصل واقعات کو ذبح کیاجو ہماری تاریخ کا شرمناک حصہ ہے۔ ہم نے تاریخ کے صفحات میں دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے عوام سے جھوٹ بولا جسکا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتتی رہینگی۔ تاریخ گزرے ہوئے اور پیش آنے والے واقعات کا بلیو پرنٹ ہوتی ہے اور اسمیں بیان کردہ حالات و واقعات ہماری تاریخ کا ڈی این اے ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنی تاریخ کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہیں گویا وہ دبیز اندھیروں میں رہ رہی ہوتی ہیں۔ ہم نے اپنی نسلوں کی پرورش جھوٹ پر کی ہے جو انتہائی خطرناک بات ہے۔ اگر ہم اپنی غلطیوں کو اپنی آنے والی نسلوں سے چھپاتے پھرینگے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ان سے دیدہ دانستہ آنکھیں چرائینگے تو ہماری آنے والی نسلیں بھی ان غلطیوں کو دھرائینگی ۔ہم نے ہمیشہ تاریخ سے رو گردانی کی اور اس سے کبھی بھی سبق حاصل نہیں کیا اور خود کو تسلی دینے اور بہلانے کیلئے اپنی مرضی سے توڑ مروڑ کے پیش کیا تاکہ ہماری فاش غلطیاں آنے والی نسلوں سے چھپی رہیں اور ہم سرخ رو ہو کر قوم کے سامنے اکڑ رہیں۔کبھی کبھی ہم پر جھوٹی انا بری طرح سے غالب آ جاتی ہے اور ہم اسکی بھینٹ چڑھ کر قوم سے اپنا اصلی چہرہ چھپانے کیلئے تاریخ میں ردو بدل کرکے یہ سجھتے ہیں کہ ہم نے قوم سے اپنا اصلی چہر چھپا لیا ہے اور خود کو شتر مرغ کیطرح محفوظ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں۔ تاریخ کسی سے چھپائی نہیں جا سکتی ہم اسے سہو نظر تو کر جاتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ مسمم ہوتی ہے۔

پاکستان کیوں اور کیسے وجود میں آیا؟ کیا پاکستان واقعی دو قومی نظرئے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا؟ ہماری نصاب کی کتب میں ہمارے معصوم طلباء کو تا حال مشرقی پاکستان جو کہ موجودہ بنگلہ دیش ہے کے بارے میں ہمیشہ غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے انہیں اندھیرے میں رکھا گیا۔ ہمارے سیاستدانوں ، بیوروکریٹس خواہ وہ سول ہو یا پھر فوجی ہمیشہ نصاب کی کتب کو اپنے مذموم اور جھوٹے مقاصد یا پھر اپنی مجرمانہ اور فاش غلطیوں کو چھپانے کیلئے استعمال کیا اور اصل حالات و واقعات سے دور رکھا۔اسکول میں پڑھائی جانے والی نصابی کتابوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور معصوم بچوں کو اندھیرے میں رکھ کر مجرمانہ طور پر سوچی سمجھی تدبیر اور حکمت عملی کے تحت جھوٹ کے پردوں میں چھپایا اور قوم کے معصوم بچوں کے ساتھ دروغ گوئی کرتے ہوئے ان سے اصل حقیقت کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب کیا اور ان سے اصل حقیقت کو چھپا کر انہیں لا علم رکھا گیا جسے تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کریگی ۔ ستر سال گزر جانے کے باوجود ہمارے بچوں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی کیا وجوہات تھیں یہ کیوں بنایا گیا اور کیسے بنا یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے جسے ہمارے نام نہاد لیڈروں نے ہمیشہ ہمارے بچوں سے چھپا کر رکھا۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اسلام کے نام پر دو قومی نظرئے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا مگر جب ہم اسوقت کی دینی جماعتوں کو دیکھتے ہیں تو وہ ہرگزپاکستان کے حق میں نہیں تھیں ۔ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا اسکا ذکر نہ تو اسوقت کی آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی تقاریر میں ملتا ہے اور نہ ہی قائد اعظم محمد علی جناح کی اسوقت کی تقریروں میں ملتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا جائیگا۔ یہ ایک منگھڑت کہانی ہے جو ہم اپنی تعلیم کی نصابی کتب میں اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اگر پاکستا ن کو اسلام کے نام پر ہی معرض وجود میں آنا ہوتا تو اسوقت کی دینی جماعتیں ضرور پاکستان بنائے جانے کی حمایت کرتیں مگر ہمیں تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا بلکہ دینی جماعتوں نے تو اسکی مخالفت کی تھی۔اسی طرح 1857کی وہ بغاوت جسے ہم جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں اصل میں ایک معمولی سی بغاوت تھی جس سے دہلی اور یو پی کے صوبے متاثر ہوئے تھے ۔ جب 1906میں ڈھاکہ کے مقام پر مسلم لیگ نون بنائی گئی تو اسکا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں انگریز کیلئے وفاداری اور نمک حلالی کے جذبات پیدا کرنا تھا ۔ جبکہ مسلم لیگ کے وجود میں آنے کی وجوہات کے بارے میں ہمارے بچوں سے انہیں نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں اس بات کو چھپایا گیا ہے اور اصل حالات سے آگاہ نہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری نصاب کی کتابوں میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ علامہ اقبال ؒ نے اپنے 1930 کے الٰہ آباد کے خطبے میں ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ جبکہ علامہ اقبالؒ نے تو صرف ہندستان میں وفاق میں مسلمان صوبوں کی خود مختاری کی مطالبہ کیا تھا ۔ اسکا دعویٰ علامہ اقبال ؒ نے اپنے ٹائمز اخبار کو لکھے گئے ایک خط میں کیا ہے۔ تاہم تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بچوں کو اسکول کی نصابی کتابوں میں اصل حالا ت سے بہت دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح عام طور پر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قرار داد پاکستان 23مارچ1940کو پیش کی گئی جس میں پاکستان کے تصور کو آگے بڑھایا گیا جو بالکل غلط ہے۔ بلکہ اس قرارد کو 24مارچ 1940کو پیش کیا گیا اور اسمیں کہیں بھی پاکستان کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو قرارداد لاہور ہے جسے ہم قرار داد پاکستان کہتے ہیں۔ہماری نصاب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ پاکستان 14۔اگست 1947کو معرض وجود میں آیاتھا جبکہ یہ بات تاریخی لحاظ سے درست نہ ہے برطانیہ کے انڈین ایکٹ 1947کے مطابق یہ کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک پاکستان اور انڈیا 14اور 15اگست کی درمیانی رات کو 12بجے آزاد ہونگے۔ اگر ہم تاریخ کی روشنی میں اصل حالات کا جائزہ لیں اور دیکھیں تو ہمارے علم میں یہ بات آتی ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک دنیا کے نقشے میں 15اگست کو ابھرے تھے جو ایک حقیقت ہے جسے اپنے خاص مقاصد کیلئے ہمارے بچوں سے چھپایا جاتا ہے۔

ہمارے بچوں سے اپنی مجرمانہ غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے کیلئے اکثر تاریخ کو مسخ کرکے اپنی بہادری کے قصے سنا ئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ ہونے والے تمام جنگیں جیتی تھیں جو بالکل غلط ہے اور اب تو یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ہمارے عسکری اور سول ادارے اور حکمران اسکا سارا ملبہ اور ذمہ داری ہندوستان کے سر تھوپ دیتے ہیں جو ہماری قوم کے بچوں اور آنے والی نسلوں سے اپنی کوتاہیوں اور امتیازی سلوک اور ان کے حقوق کی پامالی کو چھپانے کیلیئے کیا گیا جو قوم کیساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے ۔ ہم آج بھی دوسرے چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کرکے اور ان کی حب الوطنی پر شک کرتے ہوئے انہیں غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کر رہے ہیں اور انہیں غدار بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ جبکہ حقیقت اسکے بر عکس ہے۔ ہندوستا ن نے تو بنگلہ دیش کے معرض وجود میں آنے کیلئے صرف جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔اب بلوچستان اور سندھ میں بھی چھپن چھپائی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ اگر ہم نے اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھتے ہوئے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کی تو ہمیں بعد میں بہت پچھتاوا ہوگا اور پھر پچھتائے کیا ہوَت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ہمارے اسکول میں بچوں کو اکثر 1965کی جنگ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں چھپ کر پاکستانی قوم کو للکاراتھا۔ ہمارے حکمرانوں اور عسکری اداروں نے اصل حالات و واقعات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش تو کی مگر اسمیں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہم اس بات کو سمجھنے میں آجتک قاصر ہیں کہ جنگ کرکے علاقے پر قبضہ تو کیا جاسکتا ہے تاہم آپس کے تنازعات کو سفارتی اور سیاسی رابطوں اور حکمت عملی سے ہی طے اور حل کیا جا سکتا ہے۔ ہر جنگ کا آغاز سیاسی عمل کی ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے اور ہم اسمیں بری طرح ہار چکے تھے۔ ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں کوئی سبق حاصل نہ کیا ۔ سیاست اور حکومت میں فوج کی دخل اندازی، پاکستان کی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات اور پالیسی میں فوج کے عمل دخل نے ہماری فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا اور انہیں حکومت کا ایسا چسکا پڑا جسکا نتیجہ ہم نے 1971 کی جنگ میں دیکھ لیا جس نے 1965کی جنگ کی کوکھ سے جنم لیا اور ہم مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مشرقی پاکستان کو ہم نے اسی دن اپنے سے علیحدہ کر دیا تھا جب ہم نے انہیں کالے کلوٹے ، جاہل گنوار، مچھلی اور چاول کھانے والے کہہ کر انہیں تمام شعبوں سے دور رکھ کر انکی حق تلفی کی تھی۔ ہم تاریخ کے مجرم ہیں ہم نے بنگالیوں کو حقیر سمجھتے ہوئے انہیں باغی اور مجرم ٹھہرانے کی بھونڈی کوشش کی مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جو بہت تلخ مگر سچ ہے کہ جب ہم کسی کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور انکی حقوق زنی پر اتر آتے ہیں تو باہر کے چوہدری اپنی مرادیں پوری کرنے کیلئے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کر دیتے ہیں اور یہ ہماری کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ بنگالی ہم سے ذیادہ محب وطن، ذہین، اور قابل تھے جنہیں ہم اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے تھے اور انکے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتے تھے۔ شیخ مجیب الرحمان جسے ہم نے غدار کا لقب دیکر مغربی پاکستان کے لوگوں میں اسکے لئے نفرت کے جذبات بھڑکائے وہ شخص تھا جو تحریک پاکستان میں پیش پیش اور قائد آعظم محمد علی کا خطاب سننے کیلئے سینکڑوں میل دور سے پیدل اور سائیکل پر سوار ہو کر آیا کرتا تھا۔ کیا ہمارے اکابرین نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھا کہ آخر ایک دم ایسے حالات کیوں پید ہو گئے کہ وہ پاکستانیوں سے اتنا متنفر کیوں ہو گیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پنجابی بیوروکریسی نے پاکستان کو ایک منصوبے کے تحت ہائی جیک کر لیا ۔ اسطرح محلاتی سازشوں کے جال میں بہت سے وزیر اعظم آتے گئے اور سکندر مرزا نے ایمرجنسی اور ایوب خان اور جنرل یحیحیٰ خان نے مارشل لگا کر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا اور آخر کار پاکستان کا ایک بازو ہم سے علیحدہ کر دیا گیا۔

ہمارے بچوں کو صرف اتنا ہی پتہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق ہمارا جرنیل تھا مگر شاید ہمارے بچوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ شخص پاکستان کی تاریخ کی پیشانی پر کلنک کا وہ بدنما داغ ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت پر قبضہ کرکے آخر کار اسکا عدالتی قتل کروایا اسی طرح ستمبر 1970میں اردن نے اسرائیلی مخالف فلسطینی فدائیا ن کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا ، اس مقصد کیلئے پاکستان کے آمر اور غاصب یہودی النسل جنرل ضیاء الحق نے مشن ٹریننگ اور فلسطینیوں کے خلاف ایک جنگی پلان تیار کیا۔ اور فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں اردن کے سپاہیوں کی قیادت کرتے ہوئے 25,000 معصوم فلسطینیوں کو مروادیا جسے ہمیشہ تاریخ کے سیاہ باب کے نام سے یاد کیا جاتا رہیگا اور جنرل ضیاء الحق پر رہتی دنیا تک معصوم فلسطینیوں کا خون اس بات کی گواہی دیتا رہیگا کہ جنرل ضیاء الحق فلسطینیوں کا بہت بڑا مجرم اور قاتل تھا اور اس پرلعنت بھیجی جاتی رہیگی۔ 15ستمبر 1970کو عربوں کی تاریخ میں بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں اردن کے اسوقت کے بادشاہ نے مارشل لاء لگا دیا اگلے دن پاکستانی اور اردن کے آرمی نے ضیاء الحق کی قیادت میں عمان میں موجود فلسطینیوں کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا ۔

اسوقت جنرل ضیاء الحق سیکنڈ ڈویژن کی قیادت کر رہا تھا ۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے بیس سالوں میں اتنے فلسطینیوں کا قتل عام نہیں کیا جتنا کہ گیارہ دنوں میں جنرل ضیاء الحق نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔حقائق گو کہ تلخ ہوتے ہیں مگر ان سے سہو نظر نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں ان سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ایٹمی دھماکے کا سہرہ نواز شریف کے سر سجانے والو ں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ ہم نے یہاں پر بھی اپنی قوم کیساتھ ایک سفید جھوٹ بول کر پوری قومکو بہت بڑا دھوکہ دیا اور نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو پاکستان کے ان وفاداروں سے ذیادتی ہے جنہوں نے دن رات ایک کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت سے مالا مال کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر کہتے ہیں کہ نواز شریف تو امریکہ سے خوفزدہ تھے اور وہ ایٹمی دھماکہ نہیں کرنا چاہتے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں، گوہر ایوب، شمشاد جو کہ اس وقت فارن منسٹرتھے اور انور زاہد موجود تھے۔جنکی موجودگی میں نواز شریف نے انکار کر دیا تھا ۔ نواز شریف انتہائی خوفذدہ تھے کہ امریکہ ہماری امداد بند کردیگا اور ہم پر پابندیاں عائد کردیگا۔ 18-20 مئی کو نواز شریف نے میڈیا ہاؤس کے لوگوں کو بلایا اور ان سے ایک اخباری میٹنگ کی جس میں انہوں نے میڈیا کے لوگوں سے سوال پوچھا کہ کیا ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے چاہئیں اور وہ میڈیا کے لوگوں سے انکار چاہتے تھے مگر اسی وقت مجید نظامی صاحب اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے ساری دنیا کو بتا دیا ہے اور اگر ہم اس سے پیچھے ہٹے تو یہ ہماری پوری دنیا میں جگ ہنسائیکا باعث ہوگی۔مجید نظامی نے کہا کہ ہم تو سمجھے تھے کہ آپ ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں مگر آپ تو اس معاملے میں ڈانواں ڈول ہیں اگر آپ ایٹمی دھماکہ نہیں کرینگے تو یہ بم آپ پر پھٹے گا۔ 20مئی کو عبدالقدیر خان نے وزیر اعظم کو خط لکھا کہ اگر آپ ایٹمی دھماکوں سے پیچھے ہٹیں گے تو میں اور میرے انجینر تمام استعفیٰ دے دینگے۔ 28 مئی کی صبح کو جب میں نواز شریف کو ملنے پرائم منسٹر ہاؤس گیا تو انکے بھائی شہباز شریف نے مجھے بتایا کہ نواز شریف امریکی صدر بل کلنٹن سے ٹیلی فون پر بات کر رہے ہیں اگر اس نے منع کر دیا ور دباؤ ڈالا اور اچھا پیکیج دیا تو ہم دھماکوں سے دستبردار ہوجائینگے۔ یہ ہے ایٹمی دھماکوں کی اصل کہانی جسے نواز شریف سے منسوب کرکے نواز شریف کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور قوم کے بچوں کو اصل حقائق سے دور رکھا جاتا ہے اور اپنی غلطیوں کو چھپا کر قوم سے اصل حقائق کو چھپایا جاتا ہے۔ جب تک ہم اپنی قوم سے اصل حقائق کو چھپاتے رہینگے ہم یہ غلطیاں بار بار دہراتے رہینگے۔ ہمیں فوری طور پر اغیار کے دباؤ سے نکل کر اپنی پالیسیاں خود وضع کرنا ہونگی ۔ ہمیں دوسروں کے سامنے سر بسجود نہیں ہونا اور ہمیں غلامی کی زنجیریں توڑنا ہونگی اور اندھیروں سے باہر نکل کر قوم کو روشنی دکھاکر اصل حقائق سے اگاہ کرنا ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 67334 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2016 Views: 496

Comments

آپ کی رائے