پروفیسر حفیظ الرحمن احسن - وہ شخص اپنی ذات میں انجمن سا تھا

(Aslam Lodhi, Lahore)
ایک فرشتہ صفت انسان ٗ اسلامی طرز فکر کے عظیم ادیب و شاعر
زندگی کے مختلف ادوار میں مجھے بے شمارلوگوں کے ساتھ کام کرنے ٗ بیٹھنے اور ان کے رویوں کو قریب سے دیکھنے کاموقع ملا ہے ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ملے جن کو میں بہت عظیم تصور کرتا تھالیکن جب ان کے قریب بیٹھنے کااتفاق ہوا تو مجھے ان کے کردار اور گفتار کو دیکھ شرمندگی اور ندامت کا سامناکرنا پڑا۔ زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی ملے جو بظاہر تو زیادہ قدآوردکھائی نہیں دیئے لیکن جب ان کے پاس بیٹھنے ٗ ان سے بات کرنے کا موقعہ ملا تو پھر ان سے جدا ہونے کو دل نہیں کیا۔ ان کی شخصیت ٗبے شمار خوبیوں کا مرقع اور مجموعہ نظر آئی ۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک معتبر نام پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کا بھی ہے ۔زندگی کی شاہراہ پر چلتے چلتے میں ان کے دردولت پر ایسا پہنچا کہ واپسی کا راستہ ہی بھول گیا ۔ یہ 1984ء کی بات ہے جب برادرم خلیل الرحمن صاحب کے توسط سے میری ملاقات بسلسلہ جزوقتی ملازمت ٗ ایوان ادب اردو بازار لاہور کے دفتر میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب سے ہوئی ۔ یہ زندگی کے وہ مشکل ایام تھے جب میں اپنے گھر کے لیے پلاٹ خریدنے کی کوشش کررہا تھا ۔ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی ۔ یہی ضرورت مجھے پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کے در پر لے آئی ۔ مختصر انٹرویو کے بعد انہوں نے مجھے اگلے دن آنے کا کہہ دیا ٗگویا تین گھنٹے کی جزوقتی ملازمت مجھے مل گئی ۔

یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میں اس وقت پنجاب صنعتی ترقیاتی بورڈ میں بطور اردو سٹینوگرافر گیارہویں گریڈ میں ملازم تھا۔ اس دفتر کے اوقات کار صبح ساڑھے سات بجے سے دو بجے تک ہوا کرتے تھے ۔ میں نے سوچا کہ دو بجے چھٹی کرکے گھر جانے کی بجائے کیوں نہ شام چھ بجے تک تین گھنٹے کی جزوقتی ملازمت کرلی جائے ۔اس طرح مزید کچھ آمدنی بھی حاصل ہو جائے گی ۔ کیونکہ جوانی میں تھکاوٹ نام کی چیز نہیں ہوتی۔ میں جتنا زیادہ کام کرتا ٗاتنا ہی ترو تازہ ہوجاتا۔ جب میں شام ڈھلے گھر واپس پہنچتا تو تھکاوٹ کوسوں دور ہوتی ۔یہ بھی سچ ہے کہ محنت کے بغیر منزل کبھی حاصل نہیں ہوتی ۔ بہرکیف پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کے حکم پر میں اگلے دن پی آئی ڈی بی کے دفتر سے چھٹی کرکے سہ پہر تین بجے ایوان ادب پہنچ گیا۔ جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب تشریف فرما تھے ۔ ان کے میز کے سامنے ہی میری کرسی موجود تھی جس کے پیچھے کتابوں کے انبار تھے جبکہ میرے دائیں جانب لوہے کی ایک ریک نما الماری تھی۔ جس میں حفیظ صاحب اپنی ضرورت کی حساس ترین فائلیں اور کاغذات رکھتے ۔ میری کرسی کے قریب صدیوں پرانا ایک پیڈسٹل فین رکھا ہوا تھا۔جس کی شکل اور رفتار دونوں باکمال تھی۔ایک اور کرسی کو دروازے کے درمیان میں کچھ اس طرح رکھا ہوا تھا کہ تنگ گلی کی آمدو رفت بھی بند نہ ہو اور حفیظ صاحب اورمیں بھی آسانی سے باہر نکل سکوں ۔ اکثر اوقات بیت کی بنی ہوئی اس کرسی پر حفیظ صاحب کا بیگ رکھا ہوتا ۔جس کو سوائے حفیظ صاحب کے اٹھانے کی کسی کواجازت نہ تھی ۔

پہلا دن اور پہلی ہی غلطی
پہلے ہی دن حفیظ صاحب نے مجھے آٹھ دس خطوں کے جواب شارٹ ہینڈ میں لکھوا دیئے ٗ جنہیں میں نے گھر میں رکھی ہوئی ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرنا تھا۔اس نوٹ بک کو موٹرسائیکل کے پچھلے کیرئیر پر رکھ کر شام ڈھلے میں گھر کی جانب روانہ ہوگیا ۔جب میں گنگناتا ہوا گھر پہنچا تو مجھے وہ کاپی جس پر میں نے ڈکٹیشن لی تھی ٗ نظر نہ آئی ۔ نہ جانے وہ کہاں اور کس وقت گر گئی۔ ملازمت ملنے پر میں جتنا خوش تھا اتنا ہی پریشان ہوگیا اور خود کو کوسنے دینے لگا کہ میں اس نوٹ بک کو اپنے سامنے ہینڈل کے ساتھ کیوں نہیں لٹکایا ۔ اب پچھتائے کیا ہوجب چڑیاں جگ گئیں کھیت ۔ والی بات سچ ثابت ہوئی ۔ چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی دیکھ کر بیگم نے پوچھا خیر یت توہے ۔میں نے غصے بھرے لہجے میں کہا لو پہلے ہی دن اتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ۔ ملازمت کا پہلا ہی دن اور پہلی ہی غلطی نے مجھے رات بھر پریشان کیے رکھا اور بار بار یہ سوچ ابھرتی کہ مجھے کل ایوان ادب نہیں جانا چاہیئے۔ پھر خیال آتا کہ اگر وہاں جاکر سچ سچ بتاؤ گے تو شاید حفیظ صاحب اس غلطی اور کوتاہی کو پہلی غلطی تصور کرکے معاف کردیں لیکن اپنی ذات سے دست بدست جنگ کرتا ہوا نہ جانے میں کب نیند کی گہری وادی میں جاسویا ۔صبح آنکھ کھلتے ہی ایک بار پھر کل والی غلطی نے سر اٹھایااور تشویش کی لہر میں ہر جانب سے گھیر لیا ۔ناشتہ کرکے پی آئی ڈی بی کے دفتر واقع لاہور چیمبر ز آف کامرس پہنچا تو تمام دن خود کو مجرم کی حیثیت سے دیکھتا رہا اور بار بار یہی احساس غالب ہوتارہا کہ حفیظ صاحب کا سامنا کیسے کر وں گا ۔ وہ جب پوچھیں گے تو کیا جواب دوں گا ۔ یہ سوچ سوچ کر تشویش کی ایک لہر سی اٹھتی اور پورے جسم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ٗ اسی تناسب سے تشویش میں حد درجہ اضافہ ہوتارہا ۔ پھر وہ لمحہ بھی آپہنچا جب میں آیت الکرسی پڑھتا ہوا ایوان ادب جا پہنچا ۔ سلام کرنے کے بعد میں سرجھکا کر بیٹھ گیا کہ اب حفیظ صاحب کا ردعمل کیا ہوتا ہے ٗ وہ غصے میں لال پیلے ہوکر مجھے دفتر سے چلے جانے کا حکم دیتے ہیں یا ڈانٹ ڈپٹ کرکے آئندہ غلطی نہ کرنے کا کہتے ہیں ۔ گو مگو کی اس صورت حال میں گزرنے والا ایک ایک لمحہ مجھے بھاری تھا ۔ جیسے ہی حفیظ صاحب فون کا کریڈل رکھنے کے بعد میری جانب متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ کل جوخط آپ کو لکھوائے تھے کیا وہ ٹائپ ہوگئے ہیں۔مجھ سے کوئی جواب نہ بن پا یا اور میں خاموش رہا ۔جب دوبارہ پوچھا تو میں نے گردن جھکاکر نہایت آہستگی سے کہا سر جس کاپی میں ڈکٹیشن لکھی تھی وہ کاپی کل گھر جاتے ہوئے کہیں گر گئی تھی اس لیے خط ٹائپ نہیں ہوسکے ۔یہ کہہ کر میں ردعمل کا انتظار کررہا تھا کہ اگلے ہی لمحے حفیظ صاحب نے کہا چلیں کوئی بات نہیں ۔میں دوبارہ جواب لکھوا دیتا ہوں ۔ جیسے ہی میری قوت سماعت سے حفیظ صاحب کے یہ الفاظ ٹکرائے تو میں خوش بھی اچھل پڑااور حیران بھی ہوا کہ یہ اﷲ کے کتنے عظیم انسان ہیں جنہوں نے پہلے ہی دن میری پہلی ہی غلطی کو ایسا معاف کردیاہے جیسے کچھ ہواہی نہیں۔ اس لمحے مجھے یاد آیا کہ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارک یاد آئی۔" جو شخص اپنے ماتحت کی غلطی سے درگزر کرتا ہے اﷲ تعالی قیامت کے دن ا س کی غلطیوں سے درگزر فرما ئیں گے "۔ میں نے پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کے ہوبہو پایا اور اﷲ کا شکر ادا کیا کہ ان کی رحمدلی کی وجہ سے میری ملازمت بچ گئی ۔بے شک حفیظ صاحب دھیمے لہجے میں بات کرنے والے ایک عظیم انسان ہی نہیں اپنے ماتحتوں کی غلطیوں سے درگزر کرنے والا دل بھی ان کے پہلو میں حرکت کرتا ہے۔

قرض کی درخواست
اس واقعے کو گزرے ایک دو ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجھے مکان کی خرید کے لیے پانچ ہزار روپے کی اشد ضرورت پڑ گئی ۔اس وقت کے پانچ ہزار کی ویلیو کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے مہینے کی میری تنخواہ صرف تین سو روپے تھے ۔ مکہ کالونی گلبرگ تھرڈ لاہور میں چار مرلے کا ایک بوسیدہ مکان مجھے 28 ہزار روپے میں مل رہا تھا ۔جبکہ میرے پاس بمشکل 23 ہزار روپے جمع ہوئے ۔ جہاں جہاں سے مجھے ادھار پیسے مل سکتے تھے ٗ میں نے پہلے ہی وہاں سے لے رکھے تھےٗ مزید پانچ ہزار کہیں سے بھی نہیں مل رہے تھے جس کی وجہ سے پلاٹ کی خرید کا کام ادھورا پڑا ہوا تھا ۔ اس لمحے مجھے ایک ہی راستہ دکھائی دیا کہ میں حفیظ صاحب سے اس کا تقاضا کر کے دیکھوں۔ مجھے یقین تھا کہ چند ہفتوں کی ملازمت کے عوض کون مجھے یکمشت پانچ ہزار روپے کی بڑی رقم ادھار دے گا ۔ ایک شام میں نے ڈر تے ڈرتے دست سوال بڑھادیا اور حفیظ صاحب کی زبان سے ڈانٹ اور انکار سننے کے لیے انتظار کرنے لگا ۔ میں اس لمحے حیران رہ گیا جب کہ انہوں نے دھیمے لہجے میں فرمایا کہ آپ مکان کا سودا کرلیں پانچ ہزار آپ کو مل جائیں گے ۔ اس لمحے جہاں میری خوشی کی کوئی انتہاء نہ تھی ٗ وہاں اس بات کی بھی حیرت ہوئی کہ حفیظ صاحب نے رقم کی واپسی کے بارے میں بھی کوئی سوال نہیں کیا ۔ انہوں نے ہاں کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا کہ تین سو روپے تنخواہ والا ملازم پانچ ہزار کتنے عرصے میں واپس کرے گا ۔پھر یہ رقم واپس ہوگی یا نہیں ۔ بلا کااعتماد اور خلق خدا سے محبت کی انتہاء دیکھ کر میں دل سے ان کا گرویدہ ہوگیا اور اپنی تمام تر توانائیاں حفیظ صاحب اور ان کے ادارے کی کامیابی کے لیے وقف کرنے لگا۔

ہاؤس بلڈنگ فنانس کو ادائیگی
یہ بھی میری زندگی کاایک منفرد واقعہ ہے کہ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو دیگر ادیبوں کے ساتھ رائٹر گلڈ پنجاب کی جانب سے ساڑھے چار مرلے کا ایک پلاٹ علامہ اقبال ٹاؤن کے ستلج بلاک میں الاٹ ہوا۔چونکہ آپ کا آبائی شہر پسرور تھا ٗ جہاں ان کی پیدائش ہوئی ٗ جہاں انہوں نے تعلیمی مدارج طے کیے ۔ سیالکوٹ کے مرے کالج میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ تعلیم میں عملی زندگی کا آغاز بطورلیکچرر کیا ۔ انہوں نے ایم اے عربی اور ایم اے اردو کی ڈگریاں حاصل کرکے ادب کی دنیا میں اپنا مقام خود پیدا کیا۔اس لیے آپ کولاہور میں مستقل قیام کے لیے اپنے ایک گھر کی اشد ضرورت تھی ۔ چونکہ آپ کا تعلق ابتدائی طور پر جماعت اسلامی کے سینئر ترین ارکان میں ہوتا تھا بلکہ آپ مولانائے مودودی ؒ کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے ۔ آپ نے مولانا کے قرآن پاک کے بے شمار در سوں کی آڈیو کیسٹیں تیار کروا کر انہیں تبلیغی نقطہ نظر سے ملک بھر میں پھیلے ہوئے نظریاتی شخصیات تک ان کی رسائی ممکن بنائی ۔ یہ تمام کام البلاغ لمیٹڈ کے زیر انتظام کیا جاتاتھا ۔ اس اہم ترین کام کی نگرانی بھی پروفیسر حفیظ الرحمن احسن کے ذمے تھی ۔ جو انہوں نے نہایت کامیابی سے نبھائی ۔بلکہ ایک نظریاتی اساس کا حامل ادبی مجلہ "سیارہ" کی ادارت بھی بطور ایڈیٹر عرصہ دراز تک سنبھالے رکھی ۔ اس کے باوجود کہ سیارہ کے چیف ایڈیٹر ممتاز ادیب اور دانش ور نعیم صدیقی صاحب تھے لیکن تمام ادارتی ذمہ داریاں کے ساتھ ساتھ اشتہارات کا حصول اور مضامین کی سلیکشن اور پروف ریڈنگ کاکام آپ تن تنہا کیا کرتے تھے ۔ میں چونکہ سائے کی طر ح بارہ سال تک ان کے ساتھ تھااس لیے میری لیے یہ حیرانگی کی بات تھی کہ ادبی رسالہ "سیارہ " میں پاکستان ٗ بھارت اور بنگلہ دیش کے ممتاز اردو لکھنے والوں کے مضامین اور پاکیزہ شاعری باقاعدگی سے شائع کی جاتی تھی ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب نے برصغیر پاک و ہند میں اردو لکھنے والے ممتاز ادیبوں کو ایک لڑی میں پرو کر اس ادبی رسالے میں یکجا کرکے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترین رابطے کا ذریعہ بنالیا تھا ۔ یہ میگزین کبھی پانچ سو صفحات پر مشتمل ہوتا تو کبھی چار سو ۔ ایک بھاری بھرکم ادبی میگزین کو پڑھنے والوں کی فہرست بہت طویل تھی بلکہ سیارہ کے قارئین کے جتنے بھی خطوط موصول ہوتے ان میں سے اکثر خطوط میرے توسط سے ہی ٹائپ رائٹر پر ٹائپ ہوکر متعلقہ شخص کو بھجوائے جاتے۔ اس لیے مجھے اس بات کا علم ہے کہ لوگ ادبی مجلہ " سیارہ " کے نئے ایڈیشن کا بہت شدت سے انتظار کیاکرتے تھے بلکہ اپنی تخلیقات بھی تسلسل بھی بھجواتے۔ اتنے ضخیم ادبی مجلے کی تیاری اور اشاعت معمولی کام نہیں تھا ۔ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب نے ایوان ادب کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ "سیارہ" کی ذمہ داریوں کو بھی بلامعاوضہ بخوبی نبھایا۔ اس مقصد کے لیے انہیں روزانہ سیارہ اور البلاغ کے دفتر واقع النور چیمبرز گنپت روڈ پر جانا پڑتا تھا ۔ حفیظ صاحب کی زندگی کا یہ معمول تھا کہ ایک یا دو بجے دوپہر گھر سے ایک پرانی سی ہونڈا موٹرسائیکل پر ایوان ادب تشریف لاتے ۔ یہاں پہنچ کر نماز ظہر ادا کرتے ۔پھر ایک ہاکر ان کے گھر سے کھانا لے کر آیاکرتا تھا ۔ کھانا تناول فرمانے کے بعد وہ اپنے میز کی تیسری دراز میں خطائیوں کے لفافے سے د و تین نکال کر مزے لے لے کر کھاتے اور ایک آدھ مجھے بھی تحفتہ دے دیتے۔اس کے بعد ایوان ادب کے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔یاد رہے کہ ایوان ادب کے زیر انتظام شائع ہونے والی ممتاز اور مقبول ترین کتابوں "تحسین اردو" ٗ "اصول معاشیات" اوراصول سیاسیات کی اشاعتی امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ انہیں پنجاب اور دیگر صوبوں کے نصاب کے مطابق ترتیب و تشکیل دینے کے بعد ان کتابوں کو کالجز اور یونیورسٹیوں میں ترویج کا اہتمام کرنا بھی حفیظ صاحب کی ہی ذمہ داری تھی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بطور خاص "تحسین اردو" اپنے زمانے کی مارکیٹ لیڈر کتاب تھی جس کے مصنفین میں تین ممتاز ادبی شخصیات شامل تھیں۔ جن میں جناب آسی ضیائی ٗ جناب طاہر شادانی اور جناب پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحبان شامل تھے ۔ اس کتاب کو پڑھنے والوں میں کئی رنگ و نسل کے نوجوان شامل تھے ۔ بلکہ یہ کتاب ایک معتبر حوالہ کے طور پر شاید کتنے ہی فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ و طالبات کو اب بھی یاد ہوگی ۔

بہرکیف تمہید کچھ طویل ہوگئی ۔ بات دراصل یہ تھی کہ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو لاہور میں اپنا گھر بنانے کے لیے ایک پلاٹ تو مل گیا لیکن مکان تعمیر کرنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں تھے ۔ چنانچہ دوست احباب کے مشورے سے انہوں نے ہاؤس بلڈنگ فنانس میں ہاؤس تعمیر قرض کے لیے درخواست دی اور ضابطے کی کاروائی مکمل کر انہیں قرضہ مل گیا جس سے مکان بھی الحمداﷲ تعمیر ہوگیا۔ جہاں پروفیسر حفیظ صاحب اپنے خاندان سمیت شفٹ بھی ہوگئے ۔ قرض کی ادائیگی کے لیے ہاؤس بلڈنگ فنانس کی جانب سے جو قسط مقرر ہوئی ۔ اس کی سال ہا سال تک ادائیگی کی جاتی رہی ۔ ایک دن حفیظ صاحب کو ہاؤس بلڈنگ فنانس کی جانب سے ایک خط موصول ہوا کہ آپ نے اپنے قرض اور منافع سے بھی پچیس تیس ہزار روپے زائد جمع کروادیئے ہیں۔از راہ کرم ان اضافی رقم کی واپسی کے لیے درخواست بھجوائیں تاکہ یہ رقم آپ کو واپس کی جاسکے ۔ کیونکہ اب ہاؤس بلڈنگ فنانس آپ کی مقروض ہوچکی ہے ۔ جب یہ خط پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کوموصول ہوا تو میں بھی اس وقت ایوان ادب میں موجود تھا ۔ یہ حفیظ کی دیانت داری اور وفاداری کی عظیم مثال تھی ۔بطور خاص اس ملک پاکستان میں جہاں لوگ معاف کروانے کے لیے ہی قرض لیتے ہیں اور اس وقت تک اڑھائی سو ارب روپے معاف بھی کروائے جاچکے ہیں۔کیا اس ملک میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب جیسے لوگوں کی کوئی مثال ہے ۔ان کی سادگی اور حب الوطنی تو دیکھیں کہ انہوں نے قرض اور مارک اپ کی رقم سے بھی پچیس تیس ہزار روپے زائد جمع کروا کر اپنا نام گنیزبک آف ریکارڈ میں لکھوا لیا ہے ۔ تاریخ میں شاید ہی کسی ایسے شخص کا ذکر ملے گا ۔

مالی نقصان پر صبرو تحمل کا مظاہرہ
پروفیسر حفیظ الرحمن احسن کس قدر شریف النفس ٗ تحمل مزاج اور صابر انسان ہیں اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ایوان ادب کی جانب سے پچاس ہزار روپے کی کتابیں کراچی کے ایک کتب فروش کی تحریری درخواست کے بعد بذریعہ ٹرک بلٹی انہیں بھجوا دی گئیں ۔ طریقہ کار کچھ اس طرح رائج تھا کہ جب بھی کوئی کتب فروش کسی ادارے سے کتابیں منگواتا ہے تو پبلی شر آرڈر کے مطابق کتابیں گتے کے کارٹن میں پیک کرکے متعلقہ شہر کے ٹرک اڈے پر روانہ کردیتا ہے اور کتابوں کی بلٹی جو ٹرک اڈے کی جانب سے جاری ہوتی تھی وہ بذریعہ رجسٹری متعلقہ کتب فروش کو بھجوا دی جاتی ۔جب یہ بلٹی والی رجسٹری متعلقہ کتب فروش کومل جاتی تو وہ اس بلٹی پر درج کتابوں کی قیمت ٹرک اڈے پر ادا کرکے کتابوں کے کارٹن وصول کر لیتا تھا ۔ایوان ادب کے منیجر یوسف علی نے کتب فروش کو حسب روایت پچاس ہزار روپے کی کتابیں بذریعہ ٹرک بلٹی بھجوا دیں اور بلٹی بھی رجسٹرڈ بک پوسٹ کے ذریعے روانہ کر دی ۔ کتب فروش نے بلٹی تو بذریعہ ڈاک وصول کرلی لیکن کتابوں کی قیمت ادا کرکے کارٹن ٹرک اڈے سے نہ چھڑائے ۔اس طرح د و تین ہفتے گزر گئے ۔حسن اتفاق سے انہی ایام میں ٹرک اڈے پر آگ بھڑک اٹھی اور وہاں موجود تمام سامان اور کتابوں کے بھرے ہوئے کارٹن بھی جل کر راکھ ہو گئے ۔ اصولی طور پر تو یہ کوتاہی کتب فروش کی تھی جس نے بلٹی وصول کرنے کے باوجود اڈے سے کتابوں کے کارٹن نہیں چھڑائے ۔ کتب فروش نے شاطرانہ انداز میں نقصان کی تمام تر ذمہ داری ایوان ادب پر ڈال دی اس طرح پچاس ہزار روپے کا نقصان (جس کی مالیت آجکل کے کرنسی ریٹ کے مطابق کم ازکم 20 لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی ) حفیظ صاحب کو برداشت کرنا پڑا ۔ جس لمحے حفیظ صاحب کتب فروش سے اس مسئلے پر بات کررہے تھے تو میں سامنے بیٹھا ہوا حفیظ صاحب کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے دبے لفظوں میں احتجاج تو کیا لیکن جب کتب فروش نے ادائیگی سے انکار کردیا تو چیخ و پکار کرنے کی بجائے نہایت خاموشی سے صبر کا گھونٹ پی لیا اور ارد گرد بیٹھے ہوئے مجھ سمیت کسی بھی شخص کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ انہیں اتنا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔وگرنہ میں نے چند سو روپے کے نقصان کے بدلے لوگوں کو چیختے چلاتے سنا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن ایک اچھے انسان ہی نہیں بہت صابر و شاکر بھی ہیں ٗوہ ہر بات کو امر ربی تصور کرکے صبر کادامن تھام کر خود کو اﷲ کے سپرد کردیتے ہیں۔اس واقعے کو دیکھ کر دور بیٹھے ہوئے مجھے غصہ آرہا تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کراچی کے اس کتب فروش کے خلاف عدالت میں مقدمہ کروں اور تمام حقائق ثابت کرکے اس سے ذہنی تکلیف کے ہرجانے سمیت کتابوں کی رقم بھی وصول کروں لیکن حفیظ صاحب نے صبر کا گھونٹ ایسا پیا کہ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہوئی اور ان کی زندگی کے معمولات حسب معمول جاری و ساری رہے ۔

تحسین اردو کی جعلی اشاعت
اسی دوران یہ خبر پوری مارکیٹ میں پھیل گئی کہ ایوان ادب کی سب سے مقبول ترین کتاب "تحسین اردو" کو لاہور اور کراچی کے پبلی شروں نے خود چھاپا ۔ اور ہزاروں کی تعداد میں فروخت بھی کردی ۔ یہ خبر سنتے ہی مجھ سمیت ایوان ادب کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ یہی عالم حفیظ صاحب کے دوستوں کا تھا ۔ ہر شخص حفیظ صاحب کو یہی مشورہ دے رہا تھاوہ جعلی کتاب شائع کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں اور عدالت میں ان کے خلاف لاکھوں روپے ہر جانے کا دعوی کریں ۔لامحالہ یہ خبر حفیظ صاحب کے لیے بھی نہایت تکلیف دہ تھی لیکن پھر ایک دن حفیظ صاحب نے یہ کہتے ہوئے معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا کہ میرے حصے کا جو رزق تھا وہ مجھے مل رہا ہے ۔ جو پبلی شر جعلی کتابیں شائع کرکے کھلے عام فروخت کررہے ہیں ان کا معاملہ میں اﷲ پر چھوڑتا ہوں ۔

بیٹے کی موت پر بے مثال صبر
یہ بات میرے ایوان ادب میں آنے سے پہلے کی ہے جس کے راوی ایوان ادب کے منیجر یوسف علی صاحب ہیں ۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے گفتگو کاسلسلہ شروع ہوگیا اور حفیظ صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہونے لگی ۔ باتوں ہی باتوں میں یوسف علی نے بتایاکہ میں نے زندگی میں حفیظ صاحب جیسا صبر وشاکر ٗ تحمل مزاج اور غریب پرور شخص نہیں دیکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن حفیظ صاحب کے جوان بیٹے (بلال فاروق) کا اچانک انتقال ہوگیا ۔ہم سب نے جوان بیٹے کی ناگہانی موت کے صدمے کو شدت سے محسوس کیا لیکن بقول یوسف علی ٗ حفیظ صاحب تدفین کے دو دن بعد نہ صرف ایوان ادب تشریف لائے بلکہ انہوں نے اپنے تمام معمولات کو اسی طرح جاری رکھا جیسے بیٹے کی موت سے پہلے تھے ۔ دوست احباب ان سے تعزیت کے لیے آتے تو وہ صرف یہی فقرہ بول کر خاموش ہوجاتے کہ اولاد اﷲ تعالی کا دیا ہوا خوبصورت تحفہ تھا اسی نے واپس لے لیا ۔ بے شک ہم سب اﷲ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یوسف صاحب نے کہا میں درجنوں لوگوں کو جوان بیٹے کی موت کے بعد ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے جو اس قدر غم سے نڈھال ہوئے کہ مدت دراز تک نارمل نہیں ہوسکے بلکہ ایک ناختم ہونے والی بیماری کا شکار ہوکر چارپائی سے لگ گئے لیکن اﷲ تعالی نے حفیظ صاحب کو جتنا بڑا صدمہ دیا ہے اتنا ہی صبر اور برداشت کی طاقت بھی عطا کی ہے ۔ انہوں نے نہایت صابر و شاکر بندے کی حیثیت سے یہ صدمہ جانکا نہ صرف خاموشی سے برداشت کیا بلکہ اپنی زندگی کے دیگر معمولات کو بھی ماضی کی طرح جاری و ساری رکھا ۔ بے شک اتنا صبر و استقامت کسی عام انسان میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ خود میرے مشاہدے میں بھی ایک اخبار فروش شیخ ریاض صاحب ہیں جنہوں نے زندگی بھر اخبار ہی فروخت کیے ۔ اس وقت ان کی عمر 75 سال ہوگئی۔ وہ بالکل جوان اور توانا دکھائی دیتے ٗ وہ ہر صبح تین بجے بیدار ہوکر اخبار مارکیٹ جاتے اور سارا دن مختلف اخبارات کے دفتروں کے چکر لگا کر دوپہر کو کچھ وقت کے لیے آرام کرتے ۔ایک دن ان کا ایک جواں سال بیٹا اچانک بیمار ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے موت کی وادی میں جاسویا ۔ بیٹے کی موت کے بعد میں نے ایک دن انہیں دیکھا تو بات بات پر ہنسنے اور مسکرانے والا شیخ ریاض بات بات پر رونے بیٹھ جاتا تھا اور اس کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ بیٹے کی موت نے مجھے توڑ دیاہے ۔یوں محسوس ہوتا کہ اب میں زیادہ دیر نہیں زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔ جواں سال بیٹے کی موت واقعی انسان کو دیوانہ کردیتی ہے لیکن اﷲ کے بندے جو ہر وقت اﷲ کی رضا کی خاطر ہی جیتے اور اسی کی مرضی سے اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کرتے ہیں انہیں موت کا خوف نہیں ہوتا وہ اپنی زندگی کو ہمیشہ عارضی ہی تصور کرتے ہیں اور جب انہیں فرشتہ اجل کی جانب سے چلنے کی آواز آتی ہے تو وہ لبیک کہتے ہوئے چل پڑتے ہیں ۔ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کا شمار بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں ہوتاہے ۔

بے مثال شخصیت
اﷲ تعالی نے اگر حفیظ صاحب کو بہت اعلی ظرف اور برداشت کی دولت عطا کی ہے تو ان کو دل بھی سمندروں سے گہرا اور وسیع عطا فرمایا ہے ۔ میں نے ان کے پاس 1985 سے تین سو روپے ماہوار پر جزوقتی ملازمت شروع کی تھی اور 1994 تک یہ ملازمت 12 سو روپے تنخواہ پر جاری رہی ۔ اس عرصے کے دوران حفیظ صاحب کے معمولات ٗ روزمرہ زندگی ٗ عادت و اطوار کا نہایت گہری نظر سے جائزہ لینے کا مجھے موقع ملا ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے زندگی میں آٹھ دس شخصیات کے ساتھ بطور سٹینوگرافر کام کیاہے لیکن چند ہی شخصیتیں ایسی ہوں گی جنہوں نے مجھے حقیقت میں متاثر کیا ہوگا۔ وگرنہ باقی تمام مفادات کے اسیر اور بے کردار دکھائی دیے۔جن شخصیت سے بے حد متاثر ہوا ہوں ان میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن ۔ بی ٗ اے قریشی ۔ جاوید احمد قریشی ۔ ڈاکٹر سید ریاض احمد۔ اشرف قدسی۔ مراتب علی شیخ ۔ عبدالحفیظ کاردار اور ڈاکٹر صفدر محمود اورحفیظ الرحمن احسن شامل ہیں ۔

مالی فیاضی کا عظیم مظاہرہ
میں نے دیکھا کہ جس لمحے میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کے روبرو بیٹھ کر خطوط ٹائپ کر رہا ہوتا تو اس دوران کوئی نہ کوئی بزرگ عورت یا مرد سوالی بن کر حفیظ صاحب کے در دولت پر دستک دے رہا ہوتا ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مانگنے والے کی بات بھی پوری نہیں ہوتی تھی کہ حفیظ صاحب ایک کاغذ پر رقم لکھ کر مانگنے والے کے ہاتھ میں تھما دیتے ۔ ضرورت مند یہ کاغذ منیجر یوسف علی کو دے کر ان سے لکھے ہوئے پیسے وصول کرلیتا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو گا جب آٹھ دس ضرورت مند مانگنے کے لیے نہ آئے ہوں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی ایک بھی خالی ہاتھ واپس نہیں گیا ۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ حفیظ صاحب کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہوتے تو ساتھ والے ادارے سے بطور خاص ادھار پیسے لے کر بھی ضرورت مند وں کی ضرورت پوری کردیتے ۔کتنی ہی خواتین ایسی تھیں جو ہر ماہ ایک مخصوص رقم حفیظ صاحب سے لینے آتی تھیں ۔ بطور خا ص جب حفیظ صاحب کسی فقیر یا حاجت مند کو خیرات دیتے تو اپنی نگاہوں کو ہمیشہ نیچا ہی رکھتے تاکہ حاجت مند کی آنکھوں میں احساس ندامت نہ آئے ۔ حفیظ صاحب کی یہ فیاضی دیکھ کر میں نے یوسف صاحب اور یاسین کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ ہم بھی بھیس بدل کر پیسے مانگنے کے لیے کوئی جھوٹی کہانی حفیظ صاحب کو سنا کر ان سے پیسے لے لیا کریں گے ۔ اس کے باوجود کہ میں ادارے میں جزوقتی ملازم تھا لیکن اپنی تنخواہ کے علاوہ جب بھی میں نے حفیظ صاحب سے پیسے مانگے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا ۔ اﷲ تعالی نے انہیں واقعی سمندروں سے گہرا دل عطا کرفرمایا تھا ۔ وہ خلق خدا کی خدمت کو بہت اہمیت دیتے ۔ ان کی زندگی کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ سب کچھ اﷲ کا ہی دیا ہواہے جس میں اﷲ کے بندوں کو دینے سے کمی نہیں آتی ۔

خواتین سے مخاطب ہونے کا طریقہ
یوں تو میں نے حفیظ صاحب کی شخصیت میں ودیعت بے شمار خوبیوں کو اپنی ذات میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ جب بھی کسی عورت سے تحریری طور پر مخاطب ہوتے تو سب سے پہلے بہن لکھتے ۔ پھر اپنا مطمع نظر بیان کرتے ۔ میں چونکہ بیشمار کاروباری خطوط کی ان سے ڈکٹیشن لیاکرتاتھا اس لیے میں بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ عورت سے مخاطب ہونے سے پہلے اگر رشتے کا تعین کرلیا جائے تو دونوں جانب سے بات کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ عورت او مرد کے مابین ہونے والی گفتگو میں جب شک کا کوئی پہلو نہیں رہتا تو دلوں میں احترام کے ساتھ ساتھ قلبی اور سماجی رشتے بھی خوب استوار ہوتے ہیں ۔ میں نے بھی حفیظ صاحب کے شاگردی میں یہ بات سیکھ کر سیالکوٹ کی ایک طالبہ امتہ المتین قریشی سے بہن کا رشتہ ایسا استوار کیا کہ سالوں بعد آج بھی ہم بہن بھائی کے رشتے میں بندھے نظر آتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امتہ المتین قریشی سیالکوٹ کی وہ انتہائی ذہین طالبہ ہیں جس نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اردو میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا ۔یہ گولڈ میڈل 1993 میں وزیر اعظم نواز شریف کے ہاتھوں سے وصول بھی کیا اور ٹی وی کے خبرنامے میں اس کی ریکارڈنگ بھی دکھائی گئی۔ جو ایک اعزاز ہے ۔ امتہ المتین قریشی کا ایم اے کا تھیسز میں نے ٹائپ کیا تھا ۔ایک بہت ہی مہربان پروفیسر .....نام اب یادنہیں لیکن وہ مرے کالج سیالکوٹ میں صدر شعبہ اردو تھے۔ ان کی دوستی پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب سے تھی ۔ وہ ایک دو بار ایوان ادب میں تشریف بھی لائے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کمپیوٹر ابھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ خط انگلش میں لکھنا ہو یا اردو میں ٹائپ رائٹر پر ہی لکھنا پڑتا تھا ۔ بطور خاص اردو کے ٹائپ رائٹر ممتاز دانش ور محمد حنیف رامے کی کاوشوں کے نتیجے میں جرمنی سے پاکستان آئے تھے ۔ محمد حنیف رامے وزیر اعلی پنجاب بننے سے پہلے غالبا 1973-74 میں ڈائریکٹر مرکزی اردو بورڈکے عہدے پر فائز تھے ۔ انہی کی کاوشوں کے نتیجے میں مرکزی اردو بورڈ میں اردو ٹائپ اور شارٹ ہینڈ کے کورسز کا اجرا ء ہوا تھا۔اس ادارے کا دفتر پہلے راجہ سنٹر سے ملحق گلبرگ مین مارکیٹ لاہور میں ہوا کرتا تھا ۔ جہاں میں نے بھی اردو ٹائپ اور شارٹ ہینڈ کی کلاس جوائن کی تھی ۔پچاس لڑکوں کی کلاس میں صرف دو لڑکے ہی پاس ہوئے تھے ان میں سے ایک میں اور ایک ضیا نامی لڑکا تھا جو بعد لاہور کچہری میں مختلف وکیلوں کے ٹائپنگ سے متعلقہ کام ٹائپ کیا کرتا تھا ۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ابتداء میں کئی کمپنیوں نے اولمپیا ٗ اپٹیما کے نام سے کئی ٹائپ رائٹر تیار کرکے پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروائے ۔ ایک اورتکلیف دہ بات یہ تھی کہ پوری دنیا میں انگلش ٹائپ کا ایک ہی کی بورڈ تھا جبکہ اردو ٹائپ رائٹر کے نصف درجن کے قریب کی بورڈ تھے اس کا نقصان یہ ہوتا کہ ایک ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرنے والا شخص دوسرے ٹائپ رائٹر پر کام نہیں کرسکتا تھا ۔ مرکزی سائنس بورڈ کا کی بورڈ الگ تھااور مقتدرہ قومی زبان کا کی بورڈ الگ ۔ اس کے بعد کتنے ہی اور بھی کی بورڈ مارکیٹ میں متعارف ہوگئے ۔ میں نے 1974 ء میں مرکزی اردو بورڈ سے ٹائپ اینڈ شارٹ ہینڈ کا کورس کرکے 1975ء لوکل گورنمنٹ کے ذیلی ادارے "تعلیم بالغاں "کے ترجمان ٗ پندرہ روزہ "خدمت"کے ایڈیٹر جناب اشرف قدسی صاحب کے ساتھ بطور سٹینو ٹائپسٹ ملازمت کا آغاز کیا تھا ۔تین سال یہاں ملازمت کرکے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان کے دفتر چلا گیا پھر وہاں سے 7۔ مئی 1979ء سے پنجاب صنعتی ترقیاتی بورڈ واقع لاہور چیمبرز آف کامرس میں بطور سٹینوگرافر ملازمت شروع کی ٗجو 19 جنوری 1994ء تک جاری رہی ۔ بہرکیف جوں جوں تجربہ بڑھتا رہا اردو ٹائپنگ میں میری رفتار اور کام میں کوالٹی کا معیار بھی اسی طرح بڑھتا رہا ۔ پھر پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب جو اردو ادب کے ایک نامور شخصیت تھے ان کی سرپرستی میں نہ صرف ٹائپنگ میں غلطیوں کی کمی ہوئی بلکہ انہوں نے ہی مجھے اردو لکھنے کی طرف مائل کیا ۔ ابتداء میں حفیظ صاحب ہر خط کو خود ڈکیٹ کروایا کرتے تھے لیکن جب میں اﷲ کے فضل سے اپنے کام میں ماہر ہوگیا تو حفیظ صاحب کی ہدایت کے مطابق میں خود اساتذہ کرام کے خطوں کا جواب دے دیاکرتا تھا ۔ اسی اعتماداور کام میں بڑھتے ہوئے میعار کی بدولت مجھے ایوان ادب میں آنے والے پروفیسر حضرات کے ذریعے طلبہ و طالبات کے تھیسز ٹائپ کرنے کے لیے مل جاتے ۔جو میری اضافی آمدنی کا باعث بنتے ۔ ان تھیسز کو میں گھر پر رکھے ہوئے ٹائپ رائٹر رات بارہ ایک بجے تک ٹائپ کرتا ۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ حفیظ صاحب کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے جب میں بہن امتہ المتین قریشی لکھ کر انہیں تھیسز کا مسودہ بذریعہ رجسٹرڈ سیالکوٹ بھجواتا تو مسودے کے ساتھ ایک خط بھی ہوتا جس کا جواب اگلے مسودے کے ساتھ مجھے بہن امتہ المتین قریشی کی جانب سے موصول ہوجاتا ۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ امتہ المتین قریشی ایک باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی بلکہ رشتوں کااحترام کرنا بھی خوب جانتی تھی ۔اس کا اپنا کوئی بھائی نہیں تھا اس نے مجھے ہی حقیقی بھائی تصور کرلیا بلکہ اپنے خوشدلانہ رویے کے ذریعے بہن بھائی کے رشتے کو استحکام بخشا۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ جب ہمارے گھر مکہ کالونی تشریف لائیں تو بے شمار تحائف بھی ان کے ساتھ تھے ۔ وہ میری والدہ اور بھائیوں کے گھر بھی گئے اور سب نے بہن بھائی کے اس عظیم رشتے پر خوشبو سے معطر پھولوں کی بارش کردی ۔ یہی وجہ تھی کہ جب امتہ المتین قریشی لاہور سے سیالکوٹ روانہ ہوئی تووہ پورے خاندان کی محبتیں اور دعائیں ان کے ساتھ تھیں ۔میں سمجھتا ہوں بہن بھائی کا یہ رشتہ اس قدر مضبوط بنیادوں پر کبھی استوار نہ ہوتا اگر میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے پہلے بہن نہ لکھتا۔ میں نے اپنے رہنما ٗ سرپرست اور مربی پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کی یہ بات مستقل پلے باندھ رکھی ہے ۔ چنانچہ بنک آ ف پنجاب میں ملازمت اور میگزین کی مارکیٹنگ کے دوران جہاں جہاں بھی میری مخاطب خواتین ہوتیں تو عمر اور شخصیت کے مطابق میں انہیں بہن ٗ بیٹی کہہ کر مخاطب کرتا اور دوسری جانب سے بھی اس کا جواب انتہائی مثبت ملتا ۔

بے مثال منیجر یوسف علی
جلال الدین ٹرسٹ بلڈنگ جسے حبیب بنک کی مناسبت سے حبیب بنک بلڈنگ کے نام سے بھی پکارا جاتاہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے بننے والی یہ بلڈنگ تین منزلہ ہے ۔ ایوان ادب ٗ اصباح الادب اور تہذیب سنز کے ادارے گراؤنڈ اور پہلی منزل کے درمیان میں ایک چھوٹے سے حصے میں واقع تھے ۔ یہاں فرش سے چھت کی اونچائی بمشکل سات یا آٹھ فٹ ہوگی ۔ہم جب کھڑے ہوتے تو ہمارا سر چھت کو چھونے لگتا ۔ چار فٹ xپانچ فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں ایوان ادب کادفتر تھا۔ جہاں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن تشریف فرما ہوتے ۔اس کمرے کو اسلام آباد کا بلیو ایریا قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کمرے میں آکر بیٹھنے اور حفیظ صاحب بات کرنے کے لیے بلڈنگ کے تمام دفاتر کے لوگ بے تاب رہتے تھے اور جس کو یہاں بیٹھنے کے لیے کرسی مل جاتی وہ خود کو خوش نصیب تصور کرتا ۔ جبکہ ایوان ادب کے پیچھے دو مزیددفتر تھے ۔ ایک حیات جی (مولوی حیات کا ادارہ ) تو دوسرے ادارے کا نام اصباح الادب تھاجہاں یوسف علی صاحب اور پروفیسر ارشد بھٹی صاحب کا میز کرسی آراستہ تھا ۔ بھٹی صاحب یہاں بہت کم آتے ہیں مہینے میں ایک دو بار ہی ان کی تشریف آوری ہوتی تب یہ علاقہ بلیو ایریا میں شامل ہوجاتا اور یہاں آنے اور جانے والے لوگ بھی اونچی آواز میں بات کرتے بلکہ آہستگی سے بولتے ۔ یوسف علی صاحب کی تو آواز بھی نہیں نکلتی تھی ۔جب تک ارشد بھٹی صاحب یہاں موجود رہتے تو یاسین سمیت ہر شخص ہائی الرٹ رہتا ۔ اصباح الادب ارشد بھٹی صاحب کا ادارہ تھا ۔ جو اس وقت ایم اے او کالج کے صدر شعبہ اسلامیات تھے۔ انہوں نے ایف اے اور بی اے سلیبس کے مطابق اسلامیات کی کتابیں شائع کی تھیں ۔بے شک یہ کتابیں بھی اپنی مثال آپ تھی اور پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں خودکار نظام کے تحت پڑھی اورپڑھائی جاتی تھیں ۔یہاں پروفیسر ارشد بھٹی صاحب کی ایک بڑی سی میز آراستہ تھی وہیں پر کتابوں کے انبار کے وسط میں ایوان ادب اور اصباح الادب کے اکلوتے منیجر یوسف علی بھی بیٹھتے تھے ۔جو درمیانے قد کے مضبوط جسم کے حامل ایک دیانت دارشخص تھے ۔وہ نہایت فرض شناس اور ہر کام کو سلیقے سے کرنا جانتے تھے ۔ان کے بارے میں میں نے سنا کہ وہ بھی لڑکپن میں بھی ان اداروں سے وابستہ ہوگئے تھے یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی حفیظ صاحب یاسین کو کہتے کہ لڑکے یوسف کو بلانا ۔ جبکہ اب ان کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی ۔ وہ بیک وقت دونوں اداروں اور دونوں مالکان کے یکساں وفادار تھے ۔ میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ جب پروفیسر حفیظ الرحمن احسن اور پروفیسر ارشد بھٹی اکٹھے اپنے اپنے دفتر میں موجود ہوتے تو نہ صرف یوسف علی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جاتا بلکہ دونوں اداروں کے مشترکہ ملازم یاسین کے لیے بھی احکامات کو پورا کرنا مشکل ہوجاتا ۔

پگڑی پر دوکان لینے سے انکار
بطور خاص سیزن کے دوران ایوان ادب کی کتابوں کے لیے جگہ بہت کم پڑجاتی یہی وجہ ہے کہ حیات جی کا آدھے سے زیادہ کمرہ ایوان ادب کی کتابوں سے بھرا رہتا ۔ اچانک ایک دن یہ خبر مارکیٹ میں گردش کرتی ہوئی سنائی دی کہ اس بلڈنگ کی پہلی منزل پر ایک اچھا خاصا بڑا کمرہ خالی ہورہا ہے ۔ حفیظ صاحب چونکہ نہایت تنگ جگہ پر بیٹھتے تھے اس لیے سب نے مشورہ دیا کہ اگر آپ یہ کمرہ کرائے پر حاصل کرلیتے ہیں تو بہت منافع بخش ڈیل ہوگی ۔ اس مقصد کے لیے کرایے کے علاوہ ایک مخصوص رقم بطور پگڑی بھی دینا پڑے گی ۔ حفیظ صاحب وہ دکان لینا تو چاہتے تھے لیکن جب بات پگڑی پر آئی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ پگڑی غیر اسلامی ہے اس لیے میں یہ کمرہ نہیں لے سکتا ۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ یوسف علی سمیت مارکیٹ کے تمام لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ حفیظ صاحب نے انکار کرکے ایک اچھا موقع کھو دیاہے ۔ لیکن حفیظ صاحب کے ما تھے پر میں نے ایک بھی شکن نہیں دیکھی وہ جس طرح پہلے تھے اسی طرح بعد میں بھی نظر آئے ۔انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ انہوں نے ایک غیر اسلامی کام کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ جس سے وہ قلبی سکون محسوس کررہے تھے ۔ یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے کہ انہوں نے دنیاوی فائدے کو چھوڑ کر آخرت کے فائدے کو پیش نظر رکھا ۔

حلقہ ادب کے اجلاس
حلقہ ادب لاہور کے تمام انتظامات بھی حفیظ صاحب کی نگرانی میں طے پاتے ۔ پہلے ایوان ادب کے ملازم یاسین ٗ پھر ساجد علی اور اس کے بعد ظفر اقبال کی مستقل یہ ذمہ داری تھی کہ وہ حلقہ ادب لاہور کے ہفتہ وار اجلاس کے ایجنڈے کو متعلقین تک پہنچائیں جس کا ہفتہ وار شیڈول حفیظ صاحب تیار کرتے تھے ۔ اجلاس کہاں ہونا ہے ٗ شرکا محفل کون ہوں گے ۔ غزل کس کی پڑھی جائے گی اور مضمون کس ادیب کا زیر بحث ہو ۔ چائے کے ساتھ لوازمات کیا کیا ہوں گے یہ سب کچھ ایوان ادب کے ملازم کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ اسلامی ذہن کے حامل جتنے بھی ادیب اور شاعر ہوتے وہ اپنا کلام لیے اس مقام پر پہنچ جاتے جہاں حلقہ ادب کااجلاس ہورہا ہوتا۔ کئی بار مجھے بھی حفیظ صاحب کے ساتھ حلقہ ادب کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانا پڑا ۔ میں انہیں سڑک پر ہی خدا حافظ کہہ کراپنے گھر آجاتاتھا ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حفیظ صاحب نے کبھی مجھے زبردستی رکنے کے لیے نہیں کہا ۔ وہ زندگی کے کسی بھی معاملے اور مسئلے پر زبردستی کرنے کے مو ڈ میں نہیں ہوا کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بات غیر محسوس طریقے سے دوسرے کے ذہن میں اتار دیا کرتے تھے ۔ مجھے کیاعلم تھا کہ حفیظ صاحب نے غیر محسوس طریقے سے میری ذہنی اور قلمی تربیت اس انداز سے کردی ہے کہ میں چاہوں بھی تو لکھنے لکھانے والوں کی محفل سے بھاگ نہیں سکتا ۔ جب سے میں نے کہانیاں ٗ کالم ٗ آرٹیکل ٗ فیچر اور افسانے لکھنے شروع کیے ہیں۔ ادبی محفلوں میں جانا اور وہاں بیٹھ کر گفتگو کرنا اور سننا مجھے بھی اچھا لگتا ہے ۔ اب مجھے پتہ چلا کہ یہ ادیب اور شاعر سردیوں کی شاموں میں بغل میں چمڑے کا بیگ دبائے گھروں سے باہرنکل کر کیوں ادبی محفلوں کا رخ کرتے ہیں ۔حفیظ صاحب کے دوستوں میں ایک نام انور میر صاحب کا بھی ہے ۔ میں نے محسوس کیا کہ حفیظ صاحب انور میر صاحب کا بہت احترام کرتے ٗ وہ جب بھی سردیوں کے موسم میں شام ڈھلے اوور کوٹ پہنے ایوان ادب میں تشریف لاتے تو حفیظ صاحب جتنا بھی ضروری کام کیوں نہ کررہے ہوتے ۔ وہ کام وہیں رک جاتا اور حفیظ صاحب انور میر صاحب کے ساتھ باغ جناح کی جانب رواں دواں ہوجاتے ۔ کئی بار تو ایسا بھی ہواکہ انور میر صاحب براہ راست باغ جناح پہنچ گئے اور حفیظ صاحب میری موٹرسائیکل پر بیٹھ کر باغ جناح پہنچے۔میں جب موٹرسائیکل چلاتا ہوا باغ جناح کے قریب پہنچتا تو درختوں کی وجہ سے سردی میں حد درجہ اضافہ ہوجاتا۔ میں حیران تھا کہ اس لمحے جبکہ میرے ہاتھ پاؤں اور جسم سردی سے کانپ رہا ہوتا حفیظ صاحب تین تین شیروانیاں پہن کر ٗ سر پر جناح کیپ رکھےٗ گرم مفلر چہرے پر لپیٹے باغ جناح میں داخل ہوجاتے ۔ جناح باغ کی کینٹین میں انور میر صاحب ان کے منتظر ہوتے ۔ وہاں یہ دونوں بیٹھ کر ایک دوسرے کواپنا کلام بھی سناتے اور گرماگرم چائے نوش کرکے نہ جانے کب وہاں سے رخصت ہوتے ۔ کسی نے کیا خوب کہاہے کہ ادب ایک نشہ ہے جب یہ نشہ کسی کو ہو جاتا ہے تو پھر سردی اور گرمی کا فرق ختم ہوجاتاہے ۔اور ایک ہی جستجو رہتی ہے کہ ڈھیروں سامعین سامنے بیٹھے ہوں اور میں گھنٹوں روبرو بیٹھ کر انہیں اپنا کلام سناتا رہوں۔ انور میرصاحب پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور انسان بھی بے مثال تھے ۔ پنجابی زبان میں ان کی ایک کتاب "عالم دا سرکردہ" ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئی۔ یہ کتاب سیرت نبی کریم ﷺ پر منظوم شکل میں تھی ۔افسوس کہ انور میرصاحب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کے ذکر کے بغیر حفیظ صاحب کے دوستوں کی فہرست مکمل نہیں ہوتی ۔بلکہ آج بھی جب میں حفیظ صاحب کے سامنے انور میر صاحب کا ذکر کیاجاتاہے تو ان کے لہجے میں افسردگی اتر آتی ہے۔

بہترین حافظہ
حفیظ صاحب کا حافظہ ماشااﷲ اتنا اچھا ہے کہ جب مجھے خط ڈکٹیٹ کرواتے ۔ اس دوران کوئی فون آجاتا تو وہ ڈکٹیٹشن روک کربات کرنے لگتے ۔ فون پر بات کرتے ہوئے انہیں پانچ منٹ لگیں یا دس منٹ ۔ وہ جب بھی فارغ ہوتے تو پوچھے بغیر اسی جگہ سے دوبارہ خط لکھوانا شروع کردیتے ۔ اگر میں اپنے پاس سے کوئی لفظ ان کے خط میں شامل کردیتا تو فورا ان کی انگلی اسی لفظ پر ٹھہر جاتی اور فرماتے یہ لفظ تو میں نے لکھایا ہی نہیں۔ آپ نے کہاں سے لکھ لیا ۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ آجکل کمپیوٹر کا دور ہے ایک ٹائپ شدہ خط پر جتنی بار چاہیں غلطیاں لگا لیں ۔ غلط فقرے اور الفاظ کاٹے جاسکتے ہیں لیکن جس زمانے کی میں بات کررہا ہوں اس وقت دو سے تین سے زیادہ غلطیاں اگر ایک صفحے میں ہوتیں تو وہی خط اور تحریر دوبارہ ٹائپ کرنی پڑتی تھی ۔کہیں نہ کہیں غلطی پھر رہ جاتی ۔ لیکن حفیظ صاحب نے کبھی مجھے کسی غلطی پر نہیں ڈانٹا وہ ہمیشہ شفقت اور محبت سے ہی مجھ سے پیش آیا کرتے تھے ۔

تنخواہ کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس
جیسے کہ میں پہلے بتا چکاہوں کہ یوسف علی اور یاسین اور اس کے بعد ساجد علی ۔ یہ ایوان ادب اور اصباح الادب کے مشترکہ ملازم تھے ۔ان ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے لیے حفیظ صاحب اور ارشد بھٹی صاحب سال میں ایک بار خفیہ میٹنگ کیا کرتے تھے ۔یادرہے کہ یہ میٹنگ شملہ میں نہیں ہوتی تھی بلکہ اسی کتابوں کے انبار کے درمیان ہوتی تھی ۔ جب میٹنگ شروع ہوتی تو یوسف صاحب اور یاسین ایوان ادب میں میرے پاس آکر بیٹھ جاتے ۔جہاں عام حالات میں ان کا بیٹھنا ممنوع تھا ۔ اس تنخواہ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے نعمت کدہ سے بطو ر خاص بہترین کھانا منگوایا جاتا جس کے ساتھ پھل بھی رکھے جاتے ۔ کھانا کھانے کے بعد حفیظ صاحب اور ارشد بھٹی صاحب باہمی گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ۔ دونوں اداروں کے کاروباری معاملات کاجائزہ لیا جاتا ۔پھر مہنگائی کا تناسب دیکھا جاتا پھر ان مشترکہ ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب تک یہ میٹنگ ختم نہیں ہوتی تھی ۔یوسف علی اور یاسین کے دل کے دھڑکنیں اس خیال سے بہت تیز ہوجایا کرتیں۔نہ جانے کتنی تنخواہ بڑھے گی ۔ میں چونکہ حفیظ صاحب کا اکلوتا ملازم تھا۔ اس لیے میں حفیظ صاحب سے جو کہتا وہ خوشی سے مان لیتے ۔اپنی دس سالہ ملازمت کے دوران شاید ہی کوئی موقعہ ایسا آیا ہو جب میں نے حفیظ صاحب سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی ہو اور انہوں نے نہ مانی ہو۔ اس اعتبار سے حفیظ صاحب دریا دل اور بہت سخی واقع ہوئے ۔

ماتحتوں سے شفقت کااظہار
دوران سیزن جب ایوان ادب میں کام بڑھ جاتاتو اضافی معاون کی ضرورت پڑتی تو حفیظ صاحب یوسف علی کو کہہ دیتے ۔جو کہیں نہ کہیں سے کوئی لڑکا پکڑ کر لے آتے ۔ پہلے ایوان ادب میں صرف یاسین بطور معاون کام کرتا تھا اس کے بعد ساجد علی آیاوہ بہت تیز طرار لڑکا تھا وہ کئی مرتبہ سنی ان سنی کرجاتا تھا۔جب وہ چھوڑ کر چلاگیا تو کالا خطائی روڈ پر واقع ایک گاؤں حاجی کوٹ سے ظفر اقبال آگیا ۔جسے اس وقت کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ وہ گاؤں کا کم تعلیم یافتہ لڑکا تھا۔ ایک دن اس نے بغیر بتائے چھٹی کرلی جب دوسرے دن ایوان ادب پہنچا تو حفیظ صاحب نے غیر حاضری کی وجہ پوچھی ۔اس نے بتایا کہ کل ہماری ایک بھینس چھپڑ میں پھنس گئی تھی جسے نکالتے نکالتے سارا دن گزر گیا ۔اس لیے میں دفتر نہیں آسکا۔ اس کا یہ جواب سن کر سب حیران ہوئے ۔ پروفیسر حفیظ الرحمن احسن کی شفقت ٗ تربیت اور سرپرستی کی وجہ سے آج وہی نوجوان ادبی مجلہ سیارہ اورالبلاغ لمیٹڈ کو اکیلا ہی چلارہا ہے ۔وہ غریب ضرور ہے لیکن ایمانداری اور وفا داری میں سب سے آگے ہے ۔ اپنے ماتحتوں سے بہترین رویہ دیکھ کر میں پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو ایک ایسے سایہ دار درخت سے تشبیہ دینا چاہتا ہوں جس کے سائے تلے بیٹھنے والوں کو کبھی دھوپ کی تلخی کااحساس نہیں ہوتا ہے۔حفیظ صاحب کا رویہ ہمیشہ اس حدیث مبارکہ کے مطابق ہی رہتا ہے ۔" نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کو اﷲ تعالی نے اپنے بندوں پر حکمرانی عطا کی اور اس نے ان پر رحم کیا اﷲ تعالی روز قیامت اس پر رحم فرمائے گا اور جس شخص کو اﷲ تعالی نے اپنے بندوں پر حکمرانی دی اور اس نے اپنے ماتحتوں پر ظلم کیا اﷲ تعالی بھی روز قیامت اس پر ویسا ہی ظلم فرمائے گا "۔

بہترین مہمان نوازی مظاہرہ
زمین پر اکڑ کر چلنے والوں کو فرعون سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ نرم قدموں سے چلنے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والوں کو لوگ ولی اﷲ کہتے ہیں ۔ بے شک حفیظ الرحمن احسن صاحب اس دور کے ولی اﷲ ہیں جن سے لوگوں نے فیض ہی حاصل کیا کوئی دشمن بھی ان سے نقصان نہیں اٹھا سکا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایوان ادب میں ہی ایک شخص جس کا شیدا کاشمیری تھا۔ وہ نہایت بدمزاج تھا وہ بعض اوقات ایسی باتیں بھی کرجاتا جس کوکرنے والا اسلام سے ہی خارج ہوجاتا تھا ۔ وہ جب بھی ماہ رمضان میں ایوان ادب تو روزے کے بغیر ہی آتا ۔ حفیظ صاحب اسے بھی اتنی ہی عزت دیتے جتنی وہ اپنے اچھے دوستوں کو دیا کرتے تھے اس کی بھی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ۔ یہ حفیظ صاحب کی اعلی ظرفی کی ایک عمدہ مثال ہے ۔

ادبی و تخلیقی کاوشیں
یوں تو پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب گزشتہ پچیس سال سے پاکستان کے سب سے ضخیم ادبی مجلہ "سیارہ" کی ادارتی ذمہ داریاں کسی معاون کے بغیر نبھاتے رہے ہیں ۔ یہی کسی کارنامے سے کم نہیں ہے ۔کیونکہ مجھے جتنے بھی میگزین کے دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوا وہ آٹھ دس افراد کی ٹیم مجھے کام کرتی دکھائی دی ۔ کوئی کمپوزنگ کررہا ہے تو کوئی پروف ریڈنگ میں مصروف ہے تو کوئی مارکیٹنگ کو ڈیل کرتا ہے کوئی ریسرچ کے شعبے کو دیکھتا ہے تو کوئی آنے والے مضامین میں سے اچھے مضامین کاانتخاب کرتا ہے کوئی مضامین کی کانٹ چھانٹ کرتا ہے ۔ دو یا تین افراد تو ایڈیٹر کی معاونت بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر ٗ ڈپٹی ایڈیٹر اور جوائنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کرتے ہیں ۔ لیکن ادبی مجلہ "سیارہ" کا تمام تر ذمہ داریاں حفیظ صاحب ہی انجام دیتے تھے ۔ کبھی کبھار خالد علیم اور ہاتھ سے کتابت کرنے والے ایک صاحب معاونت کرتے نظر آتے ۔مجموعی طور پر یہ سارا کام حفیظ صاحب ہی دیکھاکرتے تھے ۔ ادبی میدان میں یہ تخلیقی کاوشیں سب سے اہم اور گراں قدر تصور کی جاتی ہیں ۔ پھر انہوں نے بطور مصنف "تحسین اردو" کتاب میں بھی حصہ لیا تھا یہ کتاب بھی ان کے حصے میں لکھی جاسکتی ہے ۔ جب بے نظیر نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تو حفیظ صاحب نے ان کے طرز حکمرانی پر وقفے وقفے سے غزلیں اور نظمیں لکھی ان نظموں پر مشتمل ایک کتاب "فصل زیاں" کے نام سے شائع بھی ہوئی ۔ جسے ادبی اور صحافتی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی ۔ علاوہ ازیں ننھے منے بچوں کے لیے نظمیں بھی آپ نے لکھیں جو چھوٹے چھوٹے کتابچوں کی شکل میں شائع بھی ہوئی ۔اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار سے زیادہ نعتیں ٗ نظمیں اور غزلیں بھی تحریر کیں جو مختلف دینی اور ااسلامی مکتبہ فکر کے مجلوں ٗرسائل اور اخبارات میں بھی شائع ہوئیں۔ بطور خاص جن اخبارات میں آپ کی نظمیں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں ان میں روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ پاکستان شامل تھے ۔

نگینے دوست
اﷲ تعالی نے جتنی اچھی شخصیت اور تربیت پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو عطا فرمائی ٗ اتنے ہی اچھے دوستوں سے بھی نوازا۔جن میں قاضی صاحب ٗ ڈاکٹر تحسین فراقی ٗ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ٗ میرزا ادیب ٗ انور میر ٗ پروفیسر یونس حسرت ٗ پروفیسر جعفر بلوچ ٗ البدر والے حفیظ صاحب ٗطارق سنز والے شفیق صاحب ٗ ذکی زاکانی ٗ خالد علیم ٗ آغا اشرف ٗ پروفیسر خالد سلیم ٗ امجد طفیل ٗ ڈاکٹر یونس بٹ ٗ طاہر شادانی ٗ آسی ضیائی ٗ عبدالحمید ڈار ٗ پروفیسر امین جاوید ٗسعودی عرب سے آنے والے ملک صاحب شامل تھے ۔ میں چونکہ حفیظ صاحب کے روبرو بیٹھا ہوا مبصر کی حیثیت سے ان شخصیات کی ادبی و اسلامی گفتگو سنتا رہتا تھا اس لیے پاکیزہ خیالات کی حامل شخصیات کی یہ گفتگو میری تربیت کا باعث بھی بنتی رہی ۔پروفیسر حفیظ الرحمن احسن جنہوں نے اپنی زندگی کا آغاز9 اکتوبر 1934ء کو سیالکوٹ کے نواحی شہر پسرور میں کیا تھا۔ وہ ماشااﷲ 82 سال کے ہوچکے ہیں۔اﷲ نے انہیں دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا ہے ۔ایک بیٹا داعی اجل کولبیک کہہ گیا اور ایک بیٹا سلیمان فاروق ماشااﷲ ایم بی اے کرنے کے بعد ہونڈا اٹلس پرائیویٹ لمیٹڈ میں ملازمت کررہا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ صاحب فراش ہیں اور سیارہ کی ذمہ داریوں سے بھی شاید مبرا ہوچکے ہیں لیکن ان کا حافظہ اب بھی کمال کا ہے۔ اپنی زندگی میں گزرے ہوئے حالات پر وہ آ ج بھی بہت عمدگی سے گفتگو کرسکتے ہیں ٗ اپنے تمام دوستوں کے نام بھی انہیں یاد ہیں۔میری دعا ہے کہ اﷲ تعالی انہیں عمر خضر اور صحت کاملہ عطا فرمائے ۔ چونکہ وہ میرے استاد اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے میں زندگی کے ہر سانس میں ان کے لیے دعا گو ہوں۔ اگر اب میں پاکستان کے سب سے بڑے اخبار "نوائے وقت " میں ساڑھے آٹھ سال سے کالم لکھ رہاہوں ٗاگر میرے کہانیاں ٗ افسانے اور فیچر مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہورہے ہیں تو اس کا کریڈٹ یقینا پروفیسر حفیظ الرحمن احسن صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے مجھے نہ صرف لکھنے بلکہ بہت اچھا اور اسلامی طرز تحریر کے انداز میں لکھنے کی سوچ اور صلاحیت عطا فرمائی ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 577 Articles with 297871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2016 Views: 1107

Comments

آپ کی رائے