’’سرائیکستان اور نان سرائیکستان‘‘ نقطۂ نظر واضح کریں

(Mansha Faridi, Dera Ghazi Khan)
میرے نزدیک قوم کی بنیاد ثقافت ہے ۔ نا کہ مذہب ، نسل ، ریاست ، ملک اور پیشے ۔۔۔۔! جو لوگ یا دانشور یا قبائلی نظام کے پر چار ک جب قومیت کی بنیاد درج بالا اجزاء کو ٹھہراتے ہیں در اصل اپنی کج فہمی کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں ۔ پس راقم الحروف کی حتمی رائے اور فیصلہ کن دلیل یہ ہے کہ قوم کی اساس کلچر ہے ۔ضروری نہیں کہ کوئی اس سے متفق ہو ۔ یہ اور بات کہ کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ قومیت کی بنیاد ملک یا ریاست کو قرار دیتی ہے ۔ جیسا کہ پاکستان میں رہنے والے لوگ ’’ پاکستانی قوم ‘‘ کہلائیں اور ایران میں رہنے والے ’’ایرانی قوم ‘‘ ۔۔۔۔ یہ لوگ ’’پاکستانی‘‘ اور ’’ایرانی ‘‘ تو کہلائیں گے ۔ لیکن انہیں قوم ہرگز نہیں قرار دیا جائے گا ۔

روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے ادارتی صفحہ پر ’’ سرائیکستان اور نان سرائیکستان ‘‘ کے نقطۂ نظر کو واضح کرنے کیلئے اس موضو ع پر بحث و نظر کا سلسلہ جار ی ہے ۔ مذکورہ مو ضوع پر راقم کا مراسلہ بھی روز نامہ خبریں ملتان میں شائع ہوا۔ مراسلہ کی اشاعت پر لا تعداد قوم پرست اور قلم کار شخصیات نے رابطہ کر کے کہا کہ ایک مختصر سا مراسلہ اس طویل بحث کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ چنانچہ راقم بھی اپنے تئیں اس موضوع پر خامہ فرسائی کے ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں حتی المقدور کو شش کرنا چاہتا ہے ۔ اس بحث کے آغاز کو مثبت قرار دے کر کسی طرح اس اہم مو ضوع کو آج قومی سطح پر مقام و مرتبہ اور توجہ مل چکی ہے ۔ اور ان ابحاث کو تعمیری سوچ کا آئینہ دار کہنا بے جائز نہ ہوگا ۔ مگر ہمارے یہاں مضامین کی اشاعت کو روکنے کے مطالبے شروع کر دیئے گئے ہیں ۔جو درست مطالبہ نہ ہے ۔

کسی بھی تحریک کا مقصد خطے کے حقوق کی بازیابی کیلئے عملی جدو جہد کرنا ہوتا ہے ۔ مرکز پرست طاقتیں جب بھی کسی خطے یا خطے کی ثقافت کو مذموم عزائم کیلئے کچلنا شروع کر دیتی ہیں تو وہ قوم اپنے غصب شدہ حقوق کی بحالی کیلئے ایک وسیع فکری و نظری جدو جہد میں لگ جاتی ہے ۔ ظلم و تعدی بڑھ جانے کی صورت میں یہ تحریک کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہیں ۔ اس حوالے سے عالمی حالات اور تبدیلیاں پیش نظر ہیں ۔ اس لیے اسٹیبلشمنٹ ہر فلسفے کا ادراک رکھے ۔

میں نہیں چاہتا کہ بحیثیت قلم کار ،مؤرخ اور مبصر پھسل کر اصل موضوع سے دور جا کر و ں جیسا کہ اس بحث میں شریک لکھاری حضرات نے اصل موضوع کو چھوڑ کر ایک دوسرے اور سرائیکستان کے حوالے سے جاری تحاریک سرائیکی ثقافت اور روحانی وصوفی ہستی خواجہ غلام فرید ؒ پر الزام تراشیاں شروع کر دی ہیں ۔ معزز لکھاریوں سے میری دست بستہ عرض ہے کہ خدارا ’’ سرائیکستان اور نان سرائیکستان ‘‘کے نقطۂ نظر کو اس بحث میں واضح کریں نا کہ اپنے گن گاتے پھریں ۔۔۔ یا موضوع تبدیل کر دیں ۔ قارئین تو زیر بحث اصل موضوع ’’سرائیکستان اورنان سرائیکستان ‘‘ پر لکھے گئے مضامین و کالم پڑھنا چاہتے ہیں ۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سرائیکی خطے اور اس رچ کلچرڈ قوم پر اہل اقتدار طبقہ نے جو ظلم کے پہاڑ ڈھائے وہ مناظر سب کے سامنے ہیں ۔ سونا اگلنے والی زرخیز ترین زمینوں کو بنجر کیا گیا ۔ یہاں کے ذہین ترین افراد کو جدید تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا گیا ۔ یہاں کے سرائیکی اور نان سرائیکی جو سب دھرتی زادے ہیں انہیں میٹھے پانی کے ذرائع سے یکسر محروم کر کے با لکل مفت اموات دی جا رہی ہیں ۔ غر ضیکہ پر امن سرائیکیوں کو اسٹیبلشمنٹ کے لونڈوں نے بیدردی سے لوٹا ۔ ۔۔ ان کا استحصال کیا ۔۔ ثقافتی و لسانی شناخت پر حملہ آور ہوئے ۔۔۔اگر بلوچستان، پختونخوا ، سندھ اور پنجاب ثقافت اور زبان کی بنیاد پر صوبے ہو سکتے ہیں ۔ تو ’’ سرائیکستان ‘‘ کیوں نہیں ۔۔۔۔؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mansha Faridi

Read More Articles by Mansha Faridi: 66 Articles with 30691 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Oct, 2016 Views: 384

Comments

آپ کی رائے