بھارتی قبضے کے 70سال

(Ghulam Ullah Kiyani, )
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو دنیا کا شاید طویل ترین کرفیو ہے۔ جو کشمیریوں کے بھرپور عزم کو ظاہر کر رہا ہے۔جموں و کشمیر کے عوام بیرونی جارحیت کے خلاف گزشتہ70سال یا ۰۰۱ سال سے نہیں بلکہ ۴ صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے برسرپیکار ہیں۔ ۹۱؍نومبر ۶۸۵۱ء کو جب شہنشاہِ کشمیر یوسف شاہ چک کے بیٹے یعقوب شاہ چک جوکہ خودمختار کشمیر کے آخری حکمران ثابت ہوئے نے مغل فوج پر گوریلا حملے کا پہلا وار کیا تو اُسے کامیاب ترین حملہ قرار دیا گیا کیونکہ اس میں متعدد مغل فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس رات یعقوب شاہ چک نے اپنی گوریلا فوج سے کہا تھا کہ ’’آزادی صرف ایک دن دور ہے، ہم کل تک مغلوں کو کشمیر سے مار بھگائیں گے‘‘۔ بدقسمتی سے وہ کل ۲۲۴ سال گزرنے کے باوجود نمودار نہ ہوسکا۔ مغلوں نے ۶۸۵۱ء سے ۲۵۷۱ء تک ۷۶۱ سال کشمیر پر حکومت کی۔ انہوں نے کشمیر کو ’’باغِ خاص‘‘ کا خطاب دے کر ۰۰۷ باغات تعمیر کئے۔ کشمیر کو اپنی عیش و عشرت کے لئے تفریح گاہ بنا دیا۔ انہوں نے کشمیریوں پر ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت حکمرانی کی۔ پھر افغانوں نے ۲۵۷۱ء سے ۹۱۸۱ء تک جابرانہ قبضہ جمایا۔ ۹۱۸۱ء سے ۶۴۸۱ء تک سکھا شاہی نے کشمیریوں کو روند ڈالا۔ پھر ۰۰۱ سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کا خون چوسنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد ۷۴۹۱ء سے بھارتی درندہ صفت افواج نے کشمیر کو اپنی جاگیر بنا ڈالا۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ بھارتی فوجی جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔
موجودہ کشمیری تحریک مزاحمت گزشتہ چار ماہ سے جاری کرفیو، پابندیوں، مظاہروں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں سے معصوم کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنیکی تحریک ہی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ۔ ۸۰۰۲ء سے ۰۱۰۲ء تک کا سلسلہ بھی اس نئی نسل کے زبردست عزم کا عکاس تھا جس نے سب سے پہلے امرناتھ شرائن بورڈ کو اراضی کی منتقلی کے خلاف شروع کیا ۔ اس دوران کشمیریوں کو بعض نئے تجربات سے آشکار ہونا پڑا جس کے دوران جموں والوں کی جانب سے بھارتی انہتاپسندوں کی سرپرستی میں وادیٔ کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی جو واقعتا حیرتناک اور عبرتناک ثابت ہوئی۔ بعد ازاں شوپیاں میں خواتین کی بے حُرمتی کے خلاف پوری وادی میں زبردست احتجاج اور مظاہرین پر تشدد نے ثابت کردیا کہ کشمیر کی نئی نسل کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں ہرگز نظر نہیں آتی ہے۔ دوسری طرف بھارت بھی کشمیر میں سرمایہ کاری کے دعوے کر رہا ہے۔ بھارتی حکمران سوال کرتے ہیں کہ اگر کشمیر میں پاکستان کے لوگ آکر اپنا خون بہا گئے تو بھارتی فوج نے بھی کشمیر میں اپنا لہو بہایا ہے تاہم اُن پر یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ جو لوگ پاکستان سے آئے اور بھارتی فوج کے خلاف معرکوں میں شہادت پائی وہ پاکستان میں موجود اُن لاکھوں کشمیری مہاجرین سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں صرف ۷۴۹۱ء سے ۰۹۹۱ء تک اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہی لوگ اگر اپنے مادرِ وطن کی آزادی کے لئے قربانیاں دیں تو کوئی بھی بین الاقوامی قانون انہیں اپنے گھر سے بیرونی قبضے کو ختم کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام کرنے سے روک نہیں سکتا۔بندوق کشمیریوں کا آخری آپشن تھا۔ اس کے باوجود اگر آزاد کشمیر سے کوئی کشمیری جنگی بندی لائن کو عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوتا ہے تو وہ نہ تو بیرونی دہشت گرد ہے اور نہ ہی درانداز۔ ہر کشمیری کو اس عارضی لکیر جسے خونی لکیر کہا جاتا ہے کو روندنے کا حق حاصل ہے کیونکہ کشمیری کسی جنگ بندی لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
مسلسل کرفیو کے دوران بھارتی فوج کشمیر میں پتھر اور لاٹھیاں بردار کم سن نوجوانوں کو کچلنے کے لئے جدید ترین مہلک اسلحہ کا استعمال کر رہی ہے۔ بھارت کا واویلا گمراہ کن اور قابل مذمت ہے کہ کشمیر میں جاری مظاہروں کو بیرونی امداد حاصل ہے۔ صدیوں سے آزادی کی جنگ میں مصروف قوم کی یہ نئی نسل کندن بن چکی ہے۔ اسے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ نسل جس طرح اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہی ہے اس نے ۳۱؍جولائی ۱۳۹۱ء کے شہداء کی یاد تازہ کردی ہے۔ بھارت کی لاکھ کوشش ہے کہ وہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کی موجودہ لہر کو کچلنے کے لئے کثیرالجہتی پالیسی پر عمل پیرا ہو جائے۔ فلسطین طرز کی انتفادہ تحریک کو بندوق کی نوک پر دبانے کے لئے اس نے اسرائیل اور امریکا کی مدد بھی حاصل کی ہے۔ لیکن وہ تمام مذموم اور ظالمانہ حربے آزمانے کے باوجود ناکام و نامراد ہوا ہے۔ بھارتی حکمران بچوں اور عزت مآب خواتین کے عزم جو ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے بھی زیادہ گہرا ہے کو دیکھ کر چیخ اُٹھے ہیں۔ بوکھلاہٹ میں وہ اپنے کمان کا آخری تیر آزما رہا ہے لیکن عظیم کشمیری قوم اپنے جگر آزما رہی ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ کشمیری اپنی جنگ کس طرح لڑ رہے ہیں۔ موجودہ انقلاب میں بندوق کا کوئی کردار نہیں۔ تا ہم بھارت نے اوڑی حملے سے اس طرح کا تاثر پیدا کرنی کی کوشش کی۔ جو ناکام ثابت ہوئی۔جہاد کونسل نے درست فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کے خلاف حملے شہروں اور دیہات سے باہر جنگلوں میں کئے جائیں تاکہ کسی کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع نہ ملے کہ موجودہ انقلاب عوامی نہیں بندوق کا ہے۔ جس طرح ارون دھتی رائے نے بھارت کو بروقت اور درست مشورہ دیا تھا کہ یہ وقت ایسا ہے کہ کشمیر کو بھارت سے آزاد ہونے سے بھی زیادہ بھارت کو کشمیر سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔

بھارت اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔ بھارت کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے: (۱) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے ۶۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو دستاویزِ الحاق ہند (۲) ۷۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے دستاویزِ الحاق کو تسلیم کرنا (۳) ۶۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداﷲ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا (۴) ۷۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔ یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور ماؤنٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے ۶۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو دستخط کئے تھے۔ ۶۲؍اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی ۰۰۳ کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران بھارت سے دستاویز الحاق کیسے ہوئی جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن ۷۲؍ اکتوبر ۷۴۹۱ء کی صبح ۰۱ بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔ یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر ۶۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔ مہاراجہ اور ماؤنٹ بیٹن کے مابین خطوط کو ۸۲؍اکتوبر کو بھارت نے شائع کیا لیکن الحاق کی دستاویز کو شائع نہ کیا گیا جبکہ دونوں خطوط حکومتِ ہند نے تیار کئے تھے۔ دستاویزِ الحاق کی کاپی پاکستان کو بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے ۸۴۹۱ء کے آغاز تک اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔ ۸۴۹۱ء میں حکومت ہند نے جو وائٹ پیپر شائع کیا اس میں دستاویز الحاق کو شامل نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قبضہ جائز قرار دینے کا دعویٰ کرسکے۔ آج تک مہاراجہ کے دستخط شدہ دستاویز الحاق کا کوئی بھی اصل پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اُن تمام دستاویزات کو جوکہ جعلی ہیں کو اصل قرار دیا بھی جائے تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو مشروط طور پر تسلیم کرنا اور عوام کی رائے معلوم کرنے کی بات سے بھی بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے خط میں عوام سے ریفرنس کا جو تذکرہ تھا وہ رائے شماری تھا۔ دستاویز الحاق کے جعلی ہونے پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ بھارت نے ایک خودمختار ریاست پر جبری فوجی قبضہ کیا تھا کیونکہ اس ریاست کے راجہ نے کسی بھی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جن کا مقصد کشمیر کا بھارت سے الحاق ہو۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے مہاراجہ کو خط کے تناظر میں ہی جواہر لعل نہرو نے ۸۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے الفاظ کو دہرایا گیا اور اس پالیسی پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
"Consistently with that in the case of any state where the issue of accession has been the subject of dispute, the question of accession should be decided in accordance to the wishes of the people of the state, it is my governments wish that as soon as law and order have been restored in Kashmir and her soil cleared of the invaders the question of the state's accession should be settled by a referance to the people."

اس پالیسی نے بھی دستاویز الحاق کی نفی کردی کہ اگر عوام نے الحاقِ پاکستان کا فیصلہ کیا یا خودمختاری جاری رکھنے کے حق میں رائے دی تو پھر دستاویز الحاق کی اہمیت بھی ردّی کے کاغذ جیسی ہی ہوگی۔ یہ پالیسی جس طرح ۸۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو قابل قبول تھی آج ۰۱۰۲ء کو بھی اس پر عمل درآمد ہو تو کشمیریوں کو قبول ہوگی۔یہ رائے شماری کانگریس کی حکومت کے انتظام میں صوبہ سرحد میں کی گئی جبکہ غیر مسلم اکثریتی صوبے آسام کے مسلم اکثریتی ضلع سلہٹ میں بھی رائے شماری کرالی گئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جب کشمیر کے بالکل برعکس جونا گڑھ کی ہندو اکثریت کے مسلمان حکمران نواب نے ۵۱؍اگست ۷۴۹۱ء کو الحاق پاکستان کیا تو بھارت نے اس کی مخالفت کی۔ تو جواہر لعل نہرو نے ۰۳؍ستمبر ۷۴۹۱ء کو کہا کہ ’’ہم اس مسئلے کا حل عوام کے ریفرنڈم یا رائے شماری سے چاہتے ہیں، ہم اس ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرلیں گے۔ پاکستان جونا گڑھ مسئلہ غیر جانبدارانہ ریفرنڈم سے حل کرے۔‘‘ اسی طرح جونا گڑھ میں فروری ۸۴۹۱ء کو ریفرنڈم ہوا۔ ووٹ بھارت کے الحاق کو ملا۔ کشمیر میں بھارتی پالیسی کے تحت ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔ دستاویز الحاق کا سہارا لینے سے قبل نہرو نے ۵۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو وزیر اعظم برطانیہ کو لکھا کہ کشمیر کے الحاق کا مسئلہ عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ ۸؍نومبر ۷۴۹۱ء کو بھارت کی جانب سے وی پی مینن اور پاکستان کے چوہدری محمد علی نے ریفرنڈم کی تفصیلی سکیم پیش کی جس کی بھارتی نائب وزیر اعظم ولبھ بھائی پٹیل نے سرپرستی کی تھی۔ اس میں یہ اصول سامنے لایا گیا کہ حکومت پاکستان اور بھارت کسی بھی ریاست کا الحاق تسلیم نہیں کریں گے جس کے عوام اور حکمران کے مذاہب مختلف ہوں۔ اس اصول کے تحت مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمران کے کسی نام نہاد الحاق کو بھارت کی جانب سے تسلیم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا بلکہ اسی اصول کے تحت الحاق کا فیصلہ بھی رائے شماری سے ہونا تھا۔ بھارت اپنے اُن وعدوں سے بالکل مُکر گیا اور پاکستان نے غفلت اور سُستی کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کشمیریوں کے مابین اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

چار ماہ سے جاری مسلسل کرفیو اور قتل عام ے بھارت کو بے نقاب کر دیا ہے۔۷۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو کشمیر پر بھارتی قبضے سے متعلق غیر جانبدار قلمکاروں نے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ سٹینلے وائپر اور السٹر لیمب نے تو اس پر کھل کر بات کی ہے جبکہ سابق امریکی عہدیدار رابن رائفل نے ۸۲؍اکتوبر ۳۹۹۱ء کو واضح کر دیا کہ امریکا مہاراجہ کی دستاویز الحاق کو تسلیم نہیں کرتا اور تمام کشمیر متنازعہ ہے۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ الحاق کی دستاویز پاکستان یا اقوام متحدہ میں پیش نہیں کی گئی۔بعد ازا ں بھارت نے کہا کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ جنیوا کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے ایک قرار داد کے ذریعے کہا کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز بوگس اور جعلی ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کا منصوبہ ستمبر ۷۴۹۱ء کو ہی بنا لیا تھا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مکتوبات سے بھی یہ بات ظاہر ہوگئی ہے۔ دوسری طرف جب گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے ۷۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انگریز کمانڈ انچیف لیفٹننٹ جنرل سر ڈگلس گریسی نے اُس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔گریسی نے سپریم کمانڈر فیلڈ فارشل ایکون لیک سے ہدایات کیلئے رجوع کیا، ایکون لیک ۸۲؍اکتوبر ۷۴۹۱ء کو دہلی سے لاہور پہنچ گئے۔ جس کے بعد محمد علی جناح نے ماؤنٹ بیٹن اورنہرو کو اگلے روز لاہور بلا لیا۔ اس طرح بھارت نے کشمیر پر جعلی دستاویز کا بہانہ بناکر فوجی قبضہ کرلیا۔ ۲ بٹالین فوج ڈیکوٹا جہازوں میں سرینگر پہنچ گئی۔ بھارت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی قبضے کو مضبوط کرتا گیا۔ پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کی کوششیں کیں لیکن بھارت کے دباؤ پر عالمی برادری نے مداخلت کی اور پاکستان کو ایسے موقع پر سیز فائر کرانے پر مجبور کیا جب پاک فوج جنگ جیت رہی تھی۔ پاکستانی فوج کو محاذ پر واپس بلایا تو وہ رو پڑے کہ اُن کی فتح کو شکست میں بدل دیا گیا۔ آج بھی کشمیری نوجوان تاریخ کا منفرد انتفادہ لڑ رہے ہیں، کشمیر ایک انقلاب ہے لیکن اس موقع پر بھی بھارت کے وفود دنیا بھر میں سرگرم ہیں اور پاکستان کے ذریعے کشمیریوں کو اس زوردار جدوجہد سے فی الحال گریز کرنے اور بھارت کو سہولیت دینے کی کوششیں اور سازشیں کر رہے ہیں ہیں۔ اگر پاکستان نے اس وقت اقوام متحدہ اور او آئی سی اور دیگر عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ مؤثر انداز میں جارحانہ طور پر اٹھانے میں کوتاہی یا کسی تساہل سے کام لیا تو شاید تاریخ پھر کبھی ایسا موقع نہ دے۔ آج70سال بعد بھی بھارت خطے پر اپنا تسلط جمانے میں مصروف ہے۔بھارتی حکمرانوں نے اپنی رویتی پالیسی ترک نہ کی تو یہ اس خطے کے عوام کے وسائل غربت اور جہالت کے خاتمے کے بجائے دفاع کے فروغ اور ظکے میں اسلحہ کی نئی دوڑ لگانے کے مترادف ہو گا۔ میاں نواز شریف کی حکومت کا عزم ظاہر کرتا ہے کہ اس بار وہ دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے اور کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کے لئے بھارتی کو کوئی یک طرفہ نرمی نہیں دے گی۔کشمیریوں کا قتل عام اس خطے میں بھارت کی جارحیت کی بدترین مثال ہے۔ اسلام آباد حکومت اس سلسلے میں سفارتی اور سیاسی طور پر مہم تیز کرنے میں ہی بہتری مسجھتی ہے۔ جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219509 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
26 Oct, 2016 Views: 247

Comments

آپ کی رائے