جناب فاروق عابد تنگ کی ولولہ انگیز قیادت میں بلندیوں کی جانب سفر کرنے والا اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ

(Aslam Lodhi, Lahore)
پاکستان میں میکرو فنانس بنکس سمیت مالیاتی اداروں کی تعداد تین درجن سے زائد بنتی ہے ۔ہر بنک اور مالیاتی ادارہ زیادہ سے زیادہ صارفین کا تعاون اور کاروبار حاصل رنے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگا رہا ہے اور اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سیکمیں اور سہولتوں کا اعلان کیاجاتاہے۔ میکرو فنانس کے شعبے میں بھی کتنے ہی بنکوں نے اپنا نٹ ورک قائم کررکھاہے ۔اتنے بڑ ے مالیاتی نٹ ورک میں (جبکہ پاکستان میں بینکنگ کے کسٹمرز کی تعداد محدود ہے ) نیا بنک قائم کرنا اور اس کے وجود کو ابتدائی سالوں میں ہی دوسروں سے منوانا ایک مشکل ترین امر ہے ۔ زبردست مارکیٹنگ فنانس کے اس دور میں ایک نیا بنک( اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ) بنانا اور پھر اسے عوام الناس میں مقبول بنانا واقعی ایک مشکل کام تھا ۔یہ کارنامہ فاروق عابد تنگ جیسے محنتی ، باصلاحیت اور صاحب علم شخص نے نہایت مختصر عرصے میں عملی طور پر کر دکھایاہے ۔اس سے پہلے کہ میں اس بنک کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے مارکیٹ میں موجود دیگر بنکوں سے اس کا تقابل کروں ۔میں جناب فاروق عابد تنگ کی بینکنگ کے شعبے میں حیرت انگیز کامیابیوں پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

جناب فاروق عابد تنگ اس وقت بینکنگ کے آسمان پر ایک چاند کی طرح روشن ہوئے اور اپنی روشنی کو بطور خاص غریب اور متوسط طبقے کے کاشتکاروں اور عام آدمی تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ عسکری کمرشل بنک میں جب انہوں زرعی شعبہ کا چارج سنبھالا ۔ تو ائیرکنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے کی بجائے انہوں نے دیہاتوں کا رخ کیا ۔دیہی عوام کے مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔بے شمار لوگوں سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل کا عمیق جائزہ لیا ۔ پھر ایگریکلچرل یونیورسٹی فیصل آباد کے اشتراک سے ایسی اسکمیں متعارف کروائیں جو حقیقی معنوں میں کاشتکاروں کی ضرورت تھیں ۔جب وہ عسکری بنک میں اپنی کارکردگی کے عروج پر تھے اور پاکستان بھر کے کاشتکاروں میں عملی اور حقیقی خدمت کی بدولت بے حد مقبول بھی تھے تو ان کی خدمات بنک آف پنجاب میں بطور چیف منیجر ایگری کلچر حاصل کرلی گئیں ۔ یہاں ان کے ساتھ نہ صرف مجھے کام کرنے کا موقعہ ملا بلکہ کاشتکاروں کے حوالے سے ان کی ماہرانہ تکنیک بھی کو سمجھنے اور دیکھنے کا موقع بھی میسر آیا ۔بنک آف پنجاب میں انہوں نے بے شمار کسان دوست سکیمیں متعارف کروائیں ، اپنی بہترین کاوشوں سے حکومت پنجاب کے ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ شعبہ جات کو متحرک کیا اور ان کا تعاون حاصل کرکے ایک ایسی حکمت عملی اپنانے میں وہ کامیاب ہوئے جس کی باز گشت حکومتی ، عوامی اور دیہی علاقوں میں برملا سنی جاسکتی تھی ۔وہ دفتر میں کم فیلڈ میں زیادہ جاتے اور اپنی وضع کردہ کسان دوست سکیموں کو عملی جامہ پہناکر کسانوں کے مسائل حل ہوتے ہوئے اپنے آنکھوں سے دیکھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک جناب فاروق عابد تنگ بنک آف پنجاب میں موجود رہے ۔بنک کی کسان دوست سکیموں کی مقبولیت کی بنا پر سٹیٹ بنک آف پاکستان کے تحسین بھر خطوط موصول ہوتے رہے ۔ انہوں نے صرف شعبہ زراعت میں ہی اپنی گراں قدر خدمات انجام نہیں دیں بلکہ انہوں نے بینکنگ کے دیگر تمام شعبوں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو منوایا ۔

پھر ایک دن مجھے یہ خبر ملی کہ جناب فاروق عابد تنگ نے بنک آف پنجاب چھوڑ کر اپنا میکرو فنانس بنک بنالیا ہے ۔یہ خبر یقینا میرے لیے خوشگوار مسرت اور حیرت کا باعث تھی ۔میں جناب فاروق عابد تنگ کی صلاحیتوں کا پہلے سے ہی معترف تھا اور ان کی بلندیوں کی جانب پرواز کی خوبیوں کو قریب سے دیکھ بھی چکا تھا اس لیے مجھے یقین ہوگیا کہ اب انہیں اپنی مرضی اور پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے (چاہے وہ شہروں میں رہتے ہوں یا دیہی علاقوں میں )کے بارے سٹیٹ بنک کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین سکیمیں متعارف کروانے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرنے کا بہترین موقع مل سکے گا۔

میرے لیے یہ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ابتدائی چند سالوں کی محنت اور بینکنگ کے شعبے میں بہترین صلاحیتوں کی بدولت 29ویں آر سی سی آئی انٹرنیشنل اچیومنٹ ایوارڈ جیت چکے ہیں ۔یہ ایوارڈ بیسٹ میکرو فنانس بنک آف دی ائیر کی شکل میں جیتا ۔یہ ایوارڈ جناب فاروق عابد تنگ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر کلچر ، یوتھ اینڈ سوشل ڈویلپمنٹ جناب شیخ نیہان بن مبارک النہیان سے وصول کیا ۔میں سمجھتاہوں یہ پاکستان کے دیگر میکرو فنانس بنکوں کے لیے ایک مثال ہے ۔ اگر دیانتداری سے محنت کی جائے تو اﷲ تعالی اس کا انعام بھی عطا کرتا ہے اور یہ انعام صرف پاکستان کی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی باز گشت بین الاقوامی سطح پر سنی ،دیکھی اور محسوس کی گئی ۔ یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ اس وقت متحدہ عرب امارات پوری دنیا کی معاشی اور تعمیراتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور یورپ سے بھی لوگ کاروبار اور ملازمتیں کرنے کے لیے جوق در جوق آرہے ہیں۔پاکستان کے کاروباری افراد کی کثیر تعداد دوبئی میں اپنے قدم جما چکی ہے ۔جہاں جناب فاروق عابد تنگ اور ان کے بنک کے چرچے آسمانوں پر تھے ۔یقینا یہ بہت بڑی کامیابی تھی جسے اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ نے حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا سب سے منوایا ۔اس پر جہاں فاروق عابد تنگ مبارک باد کے مستحق تھے وہاں اپنا بنک کے چیرمین ، ڈپٹی چیرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دیگر اراکین بھی تحسین کے مستحق تھے ۔

میکرو فنانس بینکنگ کے حوالے سے جناب فاورق عابد تنگ کا ویژن صاف اور بالکل واضح ہے۔ وہ معاشرے کے پسے ہوئے اور کم وسائل طبقے کو زندگی اور کاروبار کے ہر شعبے میں نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے دگرگوں معاشی حالات کو مدنظر رکھ کر کس شعبے میں اور کیسے سرمایہ کاری کی جائے اور کاروبار ی دنیا میں کیسے قدم جمائے جائیں اور اس کاروبار کو کیسے منافع بخش بنایا جائے ۔ یہ سب کچھ اور رہنمائی وہ اپنے بنک کے ذریعے معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کو فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔وہ اپنی ہر سکیم کو سٹیٹ بنک آف پاکستان ، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن اور کراچی اسٹاک ایکسچینج کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں متعارف کروا کر اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب فاروق عابد تنگ کی قیادت میں اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ شیڈول بنکوں کی طرح بینکنگ کی جدید سہولتیں بھی فراہم کر رہا ہے اور چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے قیام اورفروغ کے لیے نہایت آسان شرائط اور کم ترین عرصے میں قرضے فراہم کررہا ہے ۔ یہ پرائیویٹ کمرشل میکروفنانس بنک ہے جس کا لائسنس سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اپنے میکرو فنانس آرڈی ننس 2001ء کے تحت جاری کیا تھا ۔ابتدائی طور پر اس بنک نے کراچی میں آپریشنز شروع کیا پھر اندرون سندھ نٹ ورک قائم کیا ۔ا س بنک کا بنیادی مقصد معاشرے کے پسے ہوئے اور بے روزگار طبقے کو کاروباری شعور فراہم کرکے کم سے کم مارک اپ ریٹ پر ان میں کاروباری دنیا میں کامیابی سے قدم رکھنے کی صلاحیت اور حوصلہ پیدا کرنا ہے ۔اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ نہ صرف زرعی شعبے ، دیہی مارکیٹ سسٹم کی ترقی (جس میں زرعی شعبے کے تمام پیداواری عوامل شامل ہیں ) بلکہ گھروں کی تعمیر کے لیے بھی قرض کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔اپنی بچت سکیموں کی بدولت ہر سطح پر بچت کو رواج دینے کی جستجو میں بھی مصروف عمل ہے ۔قابل ذکر چند اسکمیں درج ذیل ہیں -:
ماہانہ منافع سکیم
اپنا میکروفنانس بنک اپنے کسٹمرز کو سالانہ 11 فیصد منافع دیتاہے ۔
منافع کی ادائیگی ماہانہ بنیاد پرکی جاتی ہے ۔
کم سے کم رقم 50 ہزار روپے ہے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں ۔
اس سکیم کے تحت رقم کم از کم ایک سال کے لیے جمع کروانی پڑتی ہے۔
یہ اکاؤنٹ صرف 100 روپے میں کھل جاتاہے ۔
پیشگی منافع سکیم
اپنامیکرو فنانس بنک کا ایک قابل فخر اور پر کشش اکاؤنٹ "پیشگی منافع اکاؤنٹ"ہے ۔
جس کے تحت ایک لاکھ روپے پندرہ ماہ کے لیے جمع کروانے والوں کو تقریبا 11,875/- روپے پیشگی منافع ادا کر دیاجاتاہے ۔
سالانہ منافع کا ریٹ ساڑھے نو فیصد بنتا ہے ۔
کم از کم ڈپازٹ کی رقم 50 ہزار روپے ہے ۔
اکاؤنٹ ہولڈر کو انشورنس کوریج بھی حاصل ہوتاہے ۔
یہ اکاؤنٹ صرف 100 روپے سے کھولا جاسکتاہے ۔
اگر خدانخواستہ اکاؤنٹ ہولڈر کی موت واقع ہوجاتی ہے تو بنک میں جمع کروائی گئی رقم سے دوگنی رقم انشورنس کمپنی سے لے کر لواحقین کو فراہم کرنے کاپابند ہے۔
جس کی زیادہ سے زیادہ حد دس لاکھ روپے ہے۔

اپنا ڈیلی سرمایہ اکاؤنٹ
اس اکاؤنٹ کے تحت جمع ہونے والی رقم کا منافع روزانہ کی بنیاد پرکیلکولیٹ کیاجاتاہے جبکہ منافع کی ادائیگی تین ماہ بعد کی جاتی ہے ۔
اس سکیم کے تحت ایک لاکھ سے لے کر دس لاکھ روپے تک 7 فیصد منافع
دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک ساڑھے سات فیصد منافع
بیس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے تک 7.75 فیصد منافع
پچاس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک سرمایہ کاری پر ساڑھے آٹھ فیصد منافع
ایک کروڑ سے پانچ کروڑ تک 9 فیصد منافع
اپنا ایس بی آسان اکاؤنٹ
یہ اکاؤنٹ صرف 100 روپے میں کھلوا یا جاسکتا ہے ۔
اکاؤنٹ کھولنا نہایت آسان۔
اس اکاؤنٹ میں زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ تک بیلنس رکھاجاسکتا ہے ۔
اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم پر ہر چھ ماہ بعد منافع دیا جاتاہے۔
اے ٹی ایم اور موبائل فون کی سہولتوں کی فراہمی
ایس ایم ایس الرٹ
( اپنا کرنٹ اکاؤنٹ )
اس اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم پر کوئی منافع نہیں دیاجاتا۔
مہینے میں رقم نکالنے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔
(اپنا سیونگ اکاؤنٹ )
یہ ایک عام سا سیونگ بچت اکاؤنٹ ہے۔
اس میں جمع شدہ رقم پر ہر مہینے منافع کا حساب رکھاجاتاہے
منافع کی ادائیگی ہر چھ ماہ بعد کی جاتی ہے
جمع شدہ رقم پر منافع کی شرح اندازا 4 فیصد (متوقع )ہے
مقررہ مدت کے لیے ٹرم ڈیپازٹ(Term Deposit)
اس اکاؤنٹ میں رقم مقررہ مدت تک کے لیے جمع کروائی جاتی ہے
منافع مقررہ مدت پوری ہونے کے ادا کیاجاتاہے۔
بوقت ضرورت جمع کروانے جانے والی رقم کو کسی جرمانے کے بغیر پہلے بھی نکلوایاجاسکتاہے
ایک ماہ کے لیے جمع کروائی جانے والی رقم پر 8 فیصد سالانہ منافع
تین ماہ کے لیے جمع کروائی جانے والی رقم پر 8.50فیصد سالانہ منافع
چھ ماہ کے لیے جمع کروائی جانیوالی رقم پر 9.50 فیصد سالانہ منافع
ایک سال کے لیے جمع کروائی جانے والی رقم پر11.50 فیصد سالانہ منافع
دو سال کے لیے جمع کروائی جانے والی رقم پر 12.00 فیصد سالانہ منافع
پانچ سال کے لیے جمع کروانی جانے والی رقم پر 13.00 فیصد سالانہ منافع ادا کیاجاتاہے ۔
اپنا گولڈ انٹرپرائزر ، اپناکاروبار ایگری انٹرپرائزر ، اپنا لائیو سٹاک انٹرپرائزر ، اپنا فارم ۔ان سکیموں پر مارک کی شرح 19 فیصد سے 24 فیصد فلیٹ ہوگی جبکہ یہ تمام سکیموں کو انشورنس کا تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے ۔

قر ض کی تفصیلات
دس ہزار روپے سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک
پانچ لاکھ روپے برائے انٹرپرائزر پروڈکٹ
قرض کی واپسی کا عرصہ ایک سال سے پانچ سال تک
ادائیگی قرض ماہانہ بنیادوں پر
مارک اپ کم سے کم
قرض حاصل کرنے کے لیے ضروری کاغذات کا تفصیل
قومی شناختی کارڈ کی کاپی مع تازہ ترین دو تصویریں
یوٹیلٹی بلز کی کاپیاں
دو اکاؤنٹ ہولڈرز کی ذاتی ضمانتیں
سہولتوں کی تفصیلات
اے ٹی ایم کارڈ برائے کرنٹ اینڈ سیونگ اکاؤنٹ
موبائل فون سروسز
فل رینج بینکنگ سروسز
زندگی اور کاروبار کی انشورنس کوریج
کم سے کم وقت میں حصول قرض کی کاروائی مکمل
اے ٹی ایم کارڈ کی سہولتیں
کیش وصولی کم از کم 25 ہزار روپے روزانہ
انٹربنک فنڈ ٹرانسفر زیادہ سے زیادہ حد 50 ہزار روپے
اے ٹی ایم کارڈ ہولڈر لنک ون کے تمام اے ٹی ایم سے استفادہ
یوٹیلٹی بلزکی ادائیگی
کراچی الیکٹرک سپلائی، سوئی گیس اور پی ٹی سی ایل کے بلوں کی ادائیگی
اپنا موبائل اپنا بنک
یوفون کی رجسٹرڈ سم کے ذریعے اپنا بنک کے اے ٹی ایم کارڈ ہولڈرزکے موبائل میں اے ٹی ایم کی تما م سہولتیں۔
اکاؤنٹ کے بارے میں تفصیلات کی جانکاری
اکاؤنٹ کے بارے میں جزوی معلومات
یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بذریعہ موبائل فون
انٹربنک فنڈ ٹرانسفر
انٹرنل بنک فنڈ ٹرانسفر
بیلنس اپ لوڈ
قرض کی ادائیگی کی حقیقی جانکاری

یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اپنا میکرو فنانس بنک لمیٹڈ عوام الناس کی جانب سے مختلف اداروں کے بلز اور پے منٹس بھی وصول کرتا ہے جن میں عسکری انویسٹمنٹ ، ای ایف یو کنوینشنل ، ای ایف یو اسلامک ، ون لوڈ ، اینگرو فرٹلائزر ، جوبلی ایڈہاک ، جوبلی انڈکس ، لمز یونیورسٹی کی فیسیں ، ایم سی بی نان انڈیکس ، پاسکو ، پی ٹی سی ایل ایوو پوسٹ پیڈبلز ، شاہین ائیر لائنز ، سندھ ورکر ویلفیئر فنڈ ، یوبی ایل فنڈز ، وطین ، گیپکو ، کے الیکٹرک ، ہیسکو، میپکو ، پی ٹی سی ایل لینڈ لائن ، پی ٹی سی ایل وی فون ، سوئی گیس بلزاورورلڈ کال وغیرہ ۔

اس وقت اے ٹی ایم مشینیں چھ عدد کراچی ، دو اندرون سندھ ، اٹھارہ پنجاب ، دو خیبر پختوانخواہ اور ایک گلگت بلتستان میں عوام الناس کو بینکنگ کی بہترین سہولتیں فراہم کررہی ہیں ۔
جبکہ اپنا میکرو فنانس بنک کی برانچیں کراچی ریجن میں 13 ، سندھ ریجن میں17، بلوچستان ریجن میں 1 ، پنجاب ریجن میں61، خیبرپختوانخواہ میں 11اور گلگت بلتستان میں دو برانچیں عوام الناس کو بینکنگ کی جدید سہولتیں فراہم کررہی ہیں ۔

اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ انتہائی مختصر عرصے میں جناب فاروق عابد تنگ کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنا میکرو فنانس بنک نے نہ صرف اپنا نٹ ورک پورے پاکستان میں کامیابی سے پھیلایا ہے بلکہ مالیاتی مارکیٹ میں اپنے وجود کو خوب منوایا بھی ہے ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ایوارڈ بیسٹ میکرو فنانس بنک آف دی ائیرہے ۔ اپنا میکرو فنانس بنک کی شاندار کارکردگی اور عوام الناس کے لیے بہترین اسکمیوں کی بنا پر یہ بنک بہت جلد پاکستان کے بڑے مالیاتی اداروں میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہوجائے گا ۔ ان شااﷲ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 573 Articles with 291139 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2016 Views: 322

Comments

آپ کی رائے