ہمیں مٹا سکے جو زمانے میں دم نہیں

(Niaz Ahmed, )
یوں تو منقسم ریاست جموں کشمیر ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے ایک ایسا مسئلہ جو ہر آنیوالے دن پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوا جاتا ہے یہ مسئلہ حل کیوں نہیں ہو ا؟ اسلام آباد و نیو دہلی کے تھینک ٹینک کی مختلف آراء ہیں لیکن ہم جیسے کم علم لوگ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دوکروڑ انسانوں کے اس بنیادی انسانی مسئلہ کو ہندوپاک نے ہمیشہ اپنی مخصوص نظر سے دیکھا ہے جب بھی مذاکرات ہوئے تو دونوں جانب سے کچھ ایسے نام بطورکشمیری نمائندہ کے منظر عام پر آئے جو عملاً غیرملکی نمائندہ ثابت ہوئے اور ریاست کی حقیقی نمائندگی کو ہمیشہ دنیا سے دور رکھنے کی سعی کیجاتی رہی ہے اس کوشش میں بوقت ضرورت ایسے کئی مقبول کشمیری عوامی کرداروں کو ہمیشہ کے لئے خاموش کروا یاجاتارہا ۔یوں جنوبی ایشا کے اس اہم ترین مسئلہ جسکے ہندوپاک اور کشمیری تین فریق ہیں میں سے اس کے بنیادی فریق کو نظرانداز کرتے ہوئے جو بھی معائدات ہوئے وہ بالآخر ناکامیاب ٹھہرے ۔مسئلہ کشمیر پر ہونے والے مذاکراتی عمل میں دنیا اور ریاستی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے دونوں جانب کے چند مخصوص کرداروں کو جنہیں ہندوپاک نے خاص اسی کاج کے لئے پال رکھا ہوتا ہے سے برائے نام گفتگو کی جاتی ہے ،فوٹو سیشن ہوتے ہیں سرکاری ٹی وی پر نیوز چلائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ’’کشمیری لیڈرشپ کو اعتماد میں لیا گیا ‘‘یہ عمل 1947سے جاری ہے اس روائت کی ابتداء تب ہوئی جب پہلی بار اقوام متحدہ کے اجلاس میں لیجائے گئے نام نہاد آزادکشمیر کے ’’سردارابراھیم خاں‘‘ کو بوجوہ خطاب سے روک دیا گیا تھا اور ان کی جگہ ایک پاکستانی بیوروکریٹ سے تقریر کروائی گئی تھی ۔اسی اجلاس میں بھارت شیخ عبداﷲ سے خطاب کروایا تھا ۔یہ تاریخ کشمیر میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا جب بین الاقوامی پلیٹ فارم پر دوممالک کے الگ الگ وفود میں دو کشمیری اپنی قومی زمہ داری سے صرف نظر کرتے ہوئے غیر ملکی آقاؤں کی ترجمانی کر تے نظر آئے تھے ۔ ان دو ممالک کی جانب سے پہلی اور آخری بار کسی کشمیری سیاستدان کو کسی بین الاقوامی اجلاس میں لے جایا گیا اور خطاب بھی کروایا گیاتھا تب سے آج تک سندھ طاس ،تاشقند اور شملہ جیسے اہم ترین معائدوں جن کی رو سے’’ مسئلہ کشمیر ‘‘ کا حلیہ بگاڑ دیا گیاہے ان میں کبھی کسی کشمیری کو شامل نہیں کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اصل فریق کو نظر انداز کر کے آج تک کئے گئے یہ سب معائدے خطہ کو امن نہیں دے سکے ۔اس پر ستم کہ دونوں ممالک ستر برس سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ریاست پر ان کا حق ہے اور ریاستی عوام ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن دونوں ہی اس ریاست کے دوکروڑ حقیقی ورثاء کو خود فیصلہ کرنے کا حق دینے کو تیار نہیں یہاں تک کہ اس ضمن میں ہونے والے کسی بھی سطح کے مذاکرات میں ہماری شرکت تک سے انکاری ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ریاستی عوام ان کے ساتھ رہنے کو آمادہ نہیں یا انہیں ریاستی عوام پر بھروسہ نہیں ہے ۔۱۳ ،اگست ۴۷ کے فیصلے کے بعد سے آج تک بھارت نے ہمیشہ اپنے زیر قبضہ علاقے میں ہونے والے انتخابات کو ریاستی عوام کا اپنے حق میں فیصلہ قراردیا ہے جب کہ پاکستان بھی آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات کو اپنے حق میں فیصلہ کہتا ہے اور بھارتی جبر سے نبردآزما لوگوں کی جدوجہد کوتحریک الحاق پاکستان سے تشبیہ دیتا ہے ۔وہاں ستر برسوں میں لاکھوں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں ،تین نسلیں اس تنازعہ کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں پھر بھی کوئی منزل نہ منزل کا سراغ ۔۔۔آج وہاں بھارت ایک بار پھر جبر کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے ۔انسانیت تڑپ رہی ہے اقوام عالم خاموش ہے تشویشناک بات یہ ہے کہ ریاست کے باقی ماندہ حصوں میں اس ظلم وجبر کے خلاف کوئی منظم آواز سنائی نہیں دی ہے جو بے حسی کی بدترین مثال ہے ۔ان حالات میں اسلام آباد ان مجبور و بے بس لوگوں کی سیاسی و اخلاقی مدد کی بات تو کرتا ہے مگر اسی پرانے دقیانوسی روایتی انداز میں ۔زمانہ بدل چکا ہے لیکن اسلام آباد آج بھی مظفر آباد کو خود اپنا صدر ووزیراعظم تک منتخب کرنے کا اختیار دینے کو تیار نہیں ہے تو پھراس کی سیاسی و اخلاقی حمائت سے کشمیر کاز کو کہاں تک فائدہ پہنچ سکتا ہے اندازہ لگانا مشکل نہیں ؟جب آپ ہمارے بنیادی انسانی حقوق دینے کو تیار نہیں تو بھارت کو کیسے مجبور کر سکیں گے کہ وہ ہمیں ہمارے حقوق دیدے ؟ یہ اہم سوال ہی نہیں تاریخی سبق بھی ہے کہ یہ سیاسی و اخلاقی مدد اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی جب تک اسلام آباد ریاست کی حقیقی آواز کو خودبات کرنے کا اختیار نہ دیدے ۔ جب کہ پاکستان نے اپنے زیر کنٹرول علاقہ میں ایک ایکٹ کے زریعے ایسے تمام لوگوں کو انتخابی عمل سے باہر کر رکھا ہواہے جو الحاق پاکستان کے خلاف کوئی رائے رکھتے ہوں جو پوری دنیا میں جگ ہسائی کا موجب بنا ہوا ہے ۔دوسری جانب پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پالیسی ہوا کے دوش پر رہتی ہے اس میں وکوئی تسلسل یا منطق نظر نہیں آتی ۔کبھی امن کی آشا اور کبھی ملک گیر کریک ڈاون ۔کبھی تقسیم کشمیر کے حق میں ٹاک شوز اور وہاں جاری جدوجہد کودہشت گردی تو کبھی وہاں آزادی کے لئے برسرپیکارلوگ فریڈم فایٹر۔۔۔تو اس سیاسی منظرنامے میں جب لائن آف کنٹرول کے اس پار بھارت کو ہم دباو میں لاتے ہیں توبھارت کو بین الاقوامی سطح پر اس تحریک آزادی کو غیر ملکی شرارت ثابت کرنے کے لئے سب سے زیادہ مدد پاکستانی میڈیا کی اس غیرسنجیدہ پالیسی سے ملتی ہے جب پاک میڈیا بھارتی مقبوضہ علاقے کے جلسوں میں پاکستانی پرچم کو ایڈیٹ کر کے تشہیر کرتے ہوئے یہ علان کرتا ہے کہ یہ کشمیری پاکستان سے الحاق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں تو پھر بھارت کو اس جدوجہد کو پاکستانی شرارت ثابت کرنے کے لئے مذید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑھتی اوریہی وجہ ہے کے ریاستی عوام کی اکثریت اس بات سے سخت نالاں ہے یہی نہیں بلکہ اس سے عوام میں اس سوچ کو تقویت ملتی ہے کہ اس وقت اسلام آباد کی جانب سے بھارتی زیر کنٹرول علاقے میں جاری جدوجہد کی حمائت کہیں فاٹا اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ردعمل تو نہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسلام آباد کوبھارت کی جانب سے تعاون کا ایک معمولی اشارہ ملنے پر یہ ساری حمائت مشہورزمانہ’’امن کی آشا‘‘ کو دوبارہ زندہ کر دے جو کہ ماضی سے ثابت ہے ایسا کئی بار ہوا ،اور آج بھی ہندوپاک اور ریاست کے اندر ان کے حاشیہ برداروں کا رویہ چیخ چیخ کے کہہ رہا کے کہ انکی ریاستی عوام کے الحاق ہند یا الحاق پاک سے وابستگی محض زاتی مفادات کی حد تک تو ہے حقیقت میں یہ سب اس ریاست کے تاریخی تشخص کے خاتمے اور تقسیم کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں جو ہمیں قبول نہیں ہے اور ہماری تاریخی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم زندہ رہیں گے ہمیں مٹانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں ،ہمیں مٹا سکے جو زمانے میں دم نہیں ہم سے ہے زمانہ زمانے سے ہم نہیں ۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niaz Ahmed

Read More Articles by Niaz Ahmed: 98 Articles with 47150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2016 Views: 353

Comments

آپ کی رائے