قبل از الیکشن میں مسلم لیگ ن کا فائدہ

(Riaz Aajiz, Karachi)
عمران خان نے نواز شریف سے سیاسی اسپیس واپس لے لیا اوران کی جماعت کو سیاسی شہید ہونے سے روک دیا۔ اگر اس زاویہ پر دیکھا جائے تو عمران خان نے دھرنے کی کال واپس لے کر ایک قابل تحسین کارنامہ انجام دیا اور اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کر کے دھرنے کی جگہ یوم تشکر منا یا۔ یوم تشکر میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور ہمدردوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس سے ایک اچھا پیغام گیا۔ لیکن دوسری طرف میاں نواز شریف کی حکومت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں پر طاقت کا غٰیر معمولی استعمال کر کے اپنے تئیں بھر پور کوشش کی کہ ان کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے کوئی آگے بڑھے اور انھیں سیاسی شہادت کے درجے پر فائز کر دے مگر ایسا نہیں ہوا۔حقیقت حال یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے ہوئے ہیں وہ 2018کے الیکشن سے قبل پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے خاص طور پر ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا معاملہ ہے ۔ جو منصوبے ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے شروع کئے گئے ہیں اور جتنی بجلی بنانے کی ان منصوبوں سے توقع کی جار ہی ہے ، ماہرین کی رائے ہے کہ یہ منصوبے اتنی بجلی نہیں بنا پائیں گے جس کی وجہ سے 2018کے الیکشن سے قبل حکومت کے لئے یہ تقریباً نہ ممکن ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ ختم کر سکے۔ ایسی صورت حال میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے لئے دوبارہ الیکشن میں جانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان کی حکومت قبل از وقت ختم کر دی جائے اور وہ آئندہ الیکشن میں یہ نعرہ لگا کر جائیں کہ چونکہ ان کی حکومت کو قبل از وقت ختم کر دیا گیا لہذا ان کی حکومت ملک سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ختم کر سکی۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے پر انحصار کر رہی ہے۔ جب عمران خان نے گزشتہ ماہ دھرنے کی کال دی اسی وقت حکومتی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور دھرنے سے چار روز قبل ہی انھوں نے ملک میں لاک ڈان کردیا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا اسلام آباد کا خوف ناک منظر پیش کر تا رہا ہے کہ پاکستان کی دارالحکومت میں کیا ہو راہ ہے اورکسی بھی وقت کچھ بھی ہونے والا ہے۔ مقامی میڈیا چار دن تک مختلف پیش گوئیاں کرتا رہا اور کسی تیسری قوت کی مداخلت کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن ملک کی تیسری قوت نے بہت سمجھداری سے کام لیا او ر مسلم لیگ ن کی طرف سے طاقت کے غیر معمولی استعمال اور ایک صوبے کو دوسرے سے کاٹنے کے باوجود کوئی مداخلت نہیں کی اوربہت تحمل اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ ساری صورت حال کا جائزہ لیا۔ادھر عمران خان نے اتفاقیہ طور پر یا کسی کے سمجھانے پر اگر یہ فیصلہ کیا وہ دھرنے کے بجائے یوم تشکر منائیں گے تو اس فیصلے پر بظاہر ن لیگ کے رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا لیکن عملی طور پر اور اندرون خانہ مسلم لیگ ن کی کور کمیٹی اور پالیسی میکرز میں مایوسی پھیل گئی۔ ایسی صورت حال میں عمران خان کو چاہیے کہ وہ اب کوئی ایسا اعلان نہ کریں کے جس کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کی حکومت کے قبل از وقت ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوں۔ سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے گرد گھیرا تنگ کرتی جائے اور پارلیمنٹ کے باہر اور پارلیمنٹ کے اندر عوام کے سامنے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں اپوزیشن ثابت کرے۔ حکومت کی طرف سے کئے جانے والے ہر اعلان اور ہر منصوبے کا باریک بینی سے جائزہ لے اور منصوبوں کی خامیاں اور نقائص عوام کے سامنے لائے۔ کسی بھی موقع اور مقام سے نواز لیگ کو 2018سے قبل فرار کا موقع نہ دے۔ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی کامیابی اسی بنیاد پر ہو گی کہ اس کی حکومت قبل از وقت ختم ہو اور انتخابی مہم کے دوران نواز لیگ عوام کے سامنے اس بات کا رونا روئے کہ ایک مربتہ پھر اس کی حکومت مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل ہی ختم کر دی گئی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ن لیگ کو بحالت مجبوری مدت پوری کرنی پڑی تو 2018کے الیکشن میں اس کے پاس پانچ سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہ کرنے کے حوالے سے کہنے کو کچھ نہیں ہو گا۔ اس کے پاس کوئی ایسا بہانہ نہیں ہو گا کہ جس کی بنیاد پر وہ پنجاب سمیت ملک بھر کے عوام سے اخلاقی طور پر دوبارہ ووٹ مانگ سکے ۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی پارٹی اس گیپ کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو مسلم لیگ ن کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ووٹر کے ذہن میں پید ا ہو رہا ہے۔ لہذا عمران خان نے چاہے جس کے بھی مشورے اورکہنے پر دھرنا ختم کیا ہے، اس بحث میں الجھے بغیر سیاسی بصیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اب وہ نواز شریف کو فرار کا کوئی موقع نہ دیں کہ اس میں پاکستان تحریک انصاف کی بقا اور عوام کی بھلائی ہے۔ سیاسی طور پر یہ پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہو گی اگر مسلم لیگ ن کو اپنی مدت پوری کرنی پڑی اور وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم نہ کر سکے۔ لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس ہوا تو مسلم لیگ ن کو 2018 کے انتخابات میں پنجاب سے بھاری اکثریت سے جیتنے سے کوئی نہیں روک سکتا جبکہ دیگر صوبوں خاص طور پر خیر پختونخوا میں بھی اس کوایک متاثر کن اکثریت مل سکتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 41670 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2016 Views: 342

Comments

آپ کی رائے