ملیانہ سے بھوپال تک کے انکاونٹرس اور ان کا حل

(Dr Saleem Khan, India)

بھوپال انکاونٹرکا جعلی ہوناتو اظہر من الشمس ہے لیکن اس کے روک تھام کی تدابیر پر گفتگو بہت کم ہوئی ہے۔ ملیانہ سے لے جامعہ تک اس طرح کے واقعات کانگریسی حکومت میں بھی ہوئے اس لئے اسے صرف بی جے پی تک محدود کردینا مناسب نہیں ہے ۔ اس طرح کے سانحات کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کا پولس فورس پر مکمل تسلط ہے ۔ جامعہ انکاونٹر کی طرح بھوپال میں بھی پولس کا استعمال قاتل اور مقتول دونوں حیثیتوں سے ہوا ہے ۔ اردو کے ایک مشہور شاعر آنند نرائن ملا نےجو الہ باد ہائی کورٹ میں جج بھی تھے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں لکھا تھا ’’ ملک میں کوئی ایک بھی غیر قانونی گروہ ایسا نہیں جس کے جرائم کا ریکارڈ انڈین پولس فورس نامی منظم اکائی کے قریب تک پھٹکتا ہو ۰۰۰۰اترپردیش کی پولس فورس مجرموں کا ایک منظم گروہ ہے ‘‘۔ آنند نرائن نے نصف صدی قبل جو بات اترپردیش کی پولس کی بابت کہی تھی وہ آج ملک بھر میں لاگو ہوتی ہے ۔

آنند نرائن ملا کے اس تبصرے سے مقننہ اور انتظامیہ میں بھونچال آگیا تھا مگر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہاتھا’’جہاں تک اس شکایت کاسوال ہے کہ یہ تبصرہ بہت عمومی نوعیت کاہے، اس کے پس پشت یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ یہ برائی اسی قدر عام نہیں ہے۔ ان دونوں کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ تبصرے کی بہ نسبت برائی زیادہ پھیلی ہوئی اور عام ہے۔‘‘ آنند نرائن ملا کے دلیرانہ موقف کی روشنی میں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پولس جن سیاستدانوں کی خوشنودی کے حصول کیلئے یاجن کے اشارے پر جرائم کا ارتکاب کرتی ہے وہی اس گروہ کے حقیقی سرغنہ ہیں ۔ بھوپال انکاونٹر کا موازنہ ہر انصاف پسند مبصر نے سہراب الدین ، پرجاپتی اور عشرت جہاں انکاونٹرسے کیاجس کے کرتا دھرتا امیت شاہ اور مودی جی ہیں۔ عوام کے ووٹ لے کر اقتدار پر قابض ہونےکے بعدان سیاستدانوں کا ظالمانہ سلوک خود آنند نرائن ملا اس شعرکی مصداق ہے؎
اب بن کے فلک زاد دکھاتے ہیں ہمیں آنکھ
ذرے وہی کل جن کو اچھالا تھا ہمیں نے

عدالتوں نے مسلسل اس جانب توجہ دہانی کا کام کیا ہے۔ ۱۹۸۰؁ میں ایک عدالتی فیصلے کے اندر جسٹس کرشنا ائیر اور پریم شنکر شکلا نے کہا تھا کہ ’’ اگر آج ایک فرد کی آزادی کسی ایک مقام پر پولس کی زیادتی کی زد میں آتی ہے تو کل کسی اور مقام پر کئی لوگوں کی آزادی سلب ہوجائیگی اور کوئی اف تک نہیں کرے گا الاّ یہ کہ عدالت بروقت بیدار ہو اور پولس کی نگرانی کرے اس سے پہلے بہت دیر ہوجائے‘‘۔ جسٹس ائیر نےتو صرف عوامی بے حسی کا ذکر کیا تھا کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہیں گے لیکن اب معاملہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ نام نہاد دیش بھکت اس طرح کے ظلم جبر پر علی الاعلان بغلیں بجاتے ہیں ۔ اس فیصلے میں درج ’پولس کی پولسنگ ‘ضرب الثلت تو بن گئی مگرافسوس کہ اس جانب کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۱؁ کے اندر نڈیاد میں پولس نے چیف جوڈیشیل افسر کو گرفتار کرکے زدو کوب کیا۔ اس مقدمہ کے فیصلے میںتسلیم کیا گیا کہ ’’ امن و امان کی بحالی میں پولس افسران اور فورس کی زیادتی کے خلاف تنقیدی عدالتی مشاہدات بے اثر ہوتے جارہے ہیں‘‘۔

جسٹس فیضان الدین نے ۱۹۹۵؁ میں ایک فیصلے میں رقمطراز ہیں ’’یہ سب جانتے ہیں کہ فی الحال انتظامیہ ایک نہایت عملی دور سے گذررہا ہے۔ خاص طور پر پولس کا محکمہ ویسا مؤثر نہیں ہے جیسا کہ ہونا چاہئے‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ’’اگر عملی اصلاحی اقدامات فوراً نہیں کئے گئے توپورےمہذب سماج کا نظم و نسق خطرے میں پڑجائے گا۔ عوام میں اگریہ تاثر عام ہوجائے کہ پولس سماج کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ اپنے مفاد میں کام کرتی ہےتووہ بہت ہی افسوسناک دن ہوگا ۔ اس تاثر کے عام ہونے کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ ‘‘ فیصلے میں آگےیہ بھی کہا گیا کہ ’’ہر صبح اخبارات میں پولس کے ذریعہ حراست کے اندر عصمت دری ،موت ، اغواء، جعلی انکاونٹر اور دیگر جرائم کی مثالیں پڑھ کر غصہ بھی آتا ہے اور مایوسی بھی ہوتی ہے‘‘۔

ہمارے ملک میں پولس محکمہ کے حقوق اور ذمہ داریاں اب بھی انگریزوں کے ترتیب دیئے گئے پولس ایکٹ ۱۸۶۱؁ کے مطابق ہیں ۔ اس سلسلے میں دس سال قبلسپریم کورٹ نے پولس فورس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کیلئے اور اس کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے جو ہدایات دی تھیں وہاب بھی نافذالعمل ہونے کی منتظر ہیں ۔ اس فیصلے میں نامور اور آزاد ارکان پرمشتمل ایک صوبائی امن و سلامتی کے کمیشن کی تجویز پیش کی گئی تھی جس میں حزب اختلاف کا رہنما بھی شامل ہو۔کمیشن کی ذمہ داری پولس کی کام کاج کی نگرانی اور جائزہ تھی ۔ اسی کے ساتھ پولس فورس کی رہنمائی اورپولس افسران کے کیرئیر کو وزیر کے بجائے اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں ریاستی حکومت دباو سے محفوظ کرنےکاکام بھی اس کے سپرد کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس کمیشن کا سربراہ وسیع النظر ،زیرک اور تجربہ کار دانشور ہو جو آزادانہ فیصلے کرے اور جس کا تعلق پولس کے محکمہ سے نہ ہو۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے اندراس طرح کے انکاونٹرس پر قابو پانے میں اس فیصلے پر عملدآمد بڑی حدتک کارآمد ہوسکتاہے لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ ہمارے حکمراں اپنے اختیارات میں کمی برداشت کرکے مفادِ عامہ میں اس پر راضی ہوجائیں ۔

اس طرح کی قتل و غارتگری کئی بار انتخابی سیاست کی ضرورت بن جاتی ہے۔ شیوراج چوہان اس سے قبل تین مرتبہ انتخاب جیت چکے ہیں ۔پہلے وقت ان کی مقبولیت اتنی زیادہ تھے کی انہیں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کی ضرورت پیش نہیں آئی لیکن طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے سبب ان کے تئیں عوامی مایوسی فطری ہے ۔ اسی کے ساتھ ویاپم گھوٹالے نے انہیں خوب بدنام کیا ہے۔ اس بدعنوانی کی بدنامی سے بچنے کیلئے انہوں نے کئی سماجی کارکنا ن اور صحافیوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتروایا ۔ اس رویہ نے انہیں ایک خونخوار سیاستداں بنا دیا ہے۔ اب بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد قراردے کر ان کے خلاف سفاکی کا مظاہرہ کرکے وہ اپنے بدظن ہندو رائے دہندگان کی خوشنودی کا سامان کررہے ہیں ۔
شیوراج چوہان کو یہ خوش فہمی ہوسکتی ہے کہ اس طرح کی سفاکی انہیں اپنی جماعت میں مودی ثانی بنادے گی اور اگر کسی سبب سے مودی جی کی درمیان ہی میں چھٹی ہوجائے تو ان کے بھاگ کھل جائیں گے لیکن سیاست کی دنیا میں سب کچھ توقع کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ دیکھتے دیکھتے بازی الٹ جاتی ہے۔ چین سے شکست کے باوجود کانگریس اقتدار سے محروم نہیں ہوئی مگر پاکستان کو توڑ کربنگلہ دیش کے بنا دینے کے باوجود ایمرجنسی لگانے کی حماقت نے اندراجی الیکشن میں شکست سے دوچار کردیا۔ گولڈن ٹمپل پر چڑھائی کی قیمت انہیں جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔ رام رتھ یاترا نکال کر وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والے اڈوانی جی فی الحال سیاسی حاشیہ پر بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں اور گجرات فساد کا سوتر دھار وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر آئےدن ہاتھ آنے والی ذلت و رسوا ئی کے ذریعہ اپنے قرارواقعی انجام کی جانب رواں دواں ہے ۔ شیوراج سنگھ چوہان جیسے چیونٹی صفت ظالموں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ؎
کٹا ہے جب بھی شہیدانِ معرفت کا گلا
مِٹی ہے قیصر و افراسیاب کی تاریخ
لہو میں ڈوب چکا ہے قلم مورخ کا
لکھے گا وقت پھر اک انقلاب کی تاریخ
خود اپنی آگ میں اہلِ فساد جلتے ہیں اجل جب آتی ہے چیونٹی کے پر نکلتے ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1196 Articles with 433408 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Nov, 2016 Views: 332

Comments

آپ کی رائے