نعروں اور وعدوں کی سیاست

(Riaz Aajiz, Karachi)
 ترقی یافتہ ملکوں میں سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے، عوام کے مسائل حل کرنا ہوتا ہے۔ جو ممالک آج ترقی یافتہ ہیں کل جب یہ ملک ترقی کی منازل طے کر رہے تھے تو ان کے قائدین اور سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی کے جذبے سے سرشار ہو کر سیاست کرنے نکلیں تھی اور ان سیاستدانوں نے اپنے اپنے نعروں کی بنیاد اقتدار میں آ کر اپنے اپنے ملکوں کو ترقی کے سفر میں آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سیاست کا مقصد اور مطلب صرف یہ ہے کہ عوام کو مختلف نعروں کے پیچھے لگا کر رکھو اور انھیں ان نعروں میں اتنا الجھا دو کہ وہ کسی اور طرف سوچ بھی نہ سکیں یہاں تک کہ اس امید پر کہ ان کے مطالبات پورے ہونے والے ہیں، عوام اپنی ضرورتوں اورمسائل سے بھی بے خبر ہو جائیں ۔ ہمارے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا مطمع نظر یہ ہے کہ عوام کودیا جانے والا نعرہ ہر لحاظ سے بھر پور اور پرکشش ہونا چاہیے ، چاہے اس نعرے کوعملی شکل دینا نہ ممکن ہی کیوں نہ ہو۔ ہر سیاسی جماعت نئے نعروں کے ساتھ آتی ہے اور اقتدار ملنے کے بعد عوام سے کیا گیا ایک بھی نعرے یا وعدے کو پورا نہیں کر پاتی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک وعدے یانعرے کو بھی پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو زیادہ مناسب ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی کی طر ف سے لگائے جانے والے نعرہ روٹی کپڑا اور مکان سے لیکر آج تک جتنی سیاسی جماعتوں نے جو جو بھی نعرے لگائے اور الیکشن سے قبل جو بھی وعدے کئے ان میں سے وہ کوئی بھی پورے نہیں کر سکیں لیکن یہ تمام سیاسی جماعتیں آج بھی ماضی کے نعروں اور وعدوں کو بھلا کر عوام کو نئے نئے نعروں اور وعدوں میں الجھائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ انھوں نے بس عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے برس گزر جانے اور دھوکوں پر دھوکہ کھانے کے بعد عوام ان سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے پیچھے کیوں ہیں؟اس حوالے سے میں یہاں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہفتہ کو کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنویئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں خواتین ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے خزانے میں بڑے بڑے سوارخ ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت بہت جلد وائٹ پیپر لائے گی اور سندھ حکومت کی کرپشن کو بے نقاب کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب ایم کیو ایم برسوں تک سندھ میں پی پی پی کی شریک اقتدار تھی تو اس وقت ان کو سندھ حکومت کی کرپشن کیوں نظر نہیں آئی؟ جب ان کو سندھ حکومت کے خزانے کے بڑے بڑے سوراخ کیوں دکھائی نہیں دیئے؟ جب وہ حکومت میں ایک ساتھ وقت گزاررہے تھے اور ایم کیو ایم وزارتوں کے مزے لوٹ رہی تھی اس وقت اس کی آنکھیں کیوں بند رہیں اور انھیں سب ٹھیک لگتا رہا ۔ آج جب ان کے لئے سیاسی حالات بدل گئے اور وہ اپوزیشن کا حصہ ہیں تو وہ سندھ حکومت کی کرپشن کے خلاف وہائٹ پیپر لانے کی باتیں کرنے لگے اور انھیں سندھ کے خزانے کے بڑے بڑے سوراخ بھی نظر آنے لگے ۔کراچی کے عوام کو الجھانے کے لئے ایم کیو ایم پاکستان اب ایک اور نعرہ بھی لگا رہی ہے۔ یعنی سندھ کی شہری آبادی کے لئے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا ماضی گواہ ہے کہ اس نے سندھ میں الگ صوبے کا نعرہ صرف شہر ی عوام کو مطمئن کرنے اور سندھ حکومت اور سندھیوں کو ڈرانے کے لئے لگایا ہے۔ماضی میں الگ صوبے کے حوالے سے جب بھی ایم کیو ایم کے نعرے میں شدت آئی ، اسکے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے کچھ بڑے مطالبات پورے ہو گئے، ان کے ذاتی مسائل حل کر دیئے گئے پھر اس کے بعد الگ صوبے کا نعرہ پھر کہیں پس منظر میں چلا گیا اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام خالی ہاتھ کے خالی ہاتھ ہی رہے۔ اب ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم الگ صوبے کا نعرہ لگا کر کراچی کے عوام کی بھر پور توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ کے ایم کیو ایم کو معلوم ہے کہ قانونی اور آئینی طریقے سے وہ سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے حوالے سے قرارداد تک نہیں پیش کر سکتے۔ تو پھر نئے صوبے کا قیام کیسے ممکن ہے۔ لیکن یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ایم کیو ایم الگ صوبے کا نعرہ لگا رہی ہے تاکہ اسے نئے الیکشن میں اس نعرے کی بنیاد پر ووٹ ملیں اور وہ ایک مرتبہ پھر اسمبلیوں اور سینیٹ میں بڑی تعداد میں پہنچ سکیں۔ عملی طور پر ایم کیو ایم پاکستان کی اگلا الیکشن جیتنے کی خواہش میں قابل عمل ہونے کی کتنی گنجائش ہے یہ تو الیکشن کے وقت ہی پتہ چلے گا لیکن یہ طے ہے کہ اس بار سندھ کے شہری علاقوں کا منقسم مینڈیٹ ہونے کا امکان ہے۔ایم کیو ایم پاکستان ہو یا ایم کیو ایم لندن ، پیپلزپارٹی ہو مسلم لیگ ن یا پاکستان تحریک انصاف تمام ہی جماعتوں کی سیاست کا واحد مقصد یہ ہے کہ کسی بھی طرح ان کواقتدار ملے مگر اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے وہی کچھ کرنا ہے کہ جو وہ برسہا برس سے کرتے چلے آئے ہیں۔ کیونکہ یہاں سیاست کا مقصد عبادت نہیں ، خدمت نہیں بلکہ محض اقتدار ہے۔ اس کے بعد کون سا نعرہ ، کس کے مسائل، کہاں کے عوام۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 42070 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2016 Views: 697

Comments

آپ کی رائے