امریکی کارپوریشنز کا معرکہ۔۔۔۔ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
ریاست ہائے متحدہ ایک جمہوری ملک ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کامیدان ہو یا اسلحہ و گولہ بارود کی صنعت ہو یا خلائی تحقیقی ٹیکنالوجی ہو ہر شعبے میں اس وقت دنیا بھر میں امریکہ کو کسی نہ کسی طرح سے بالا دستی حاصل ہے۔ماہرین سیاسیات و اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست دراصل دنیا کی بڑی کارپوریشنز کا ہیڈ کوراٹر ہے جہاں سے یہ دیو ہیکل کمپنیاں اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے اپنے جال پوری دنیا تک پھیلائے ہوئے ہیں۔اسی طرح انہوں نے امریکہ میں بھی تمام اداروں کو مکمل طور پہ اپنی دسترس میں رکھا ہوا ہے۔امریکی معیشت میں ترقی کا مطلب ہے کمپنیوں کی معاشی ترقی، امریکی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا مطلب ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری اور وسائل پہ کنٹرول اور رسائی کی کامیابی ، امریکی افواج اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کی دنیا بھر میں کارستانیاں در اصل ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جڑوں کو مضبوط کر نے کے لئے ہیں اور ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کر نے کے لئے ہیں،ان ہی کمپنیوں کا سرمایہ میڈیا گروپس، این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں اور مذہبی گروہوں،نام نہاد لبرل لیڈران اور ان کے اداروں کو زندگی دیتا ہے۔اور پوری دنیا میں مختلف زبانوں، کلچر، مذاہب وروایات کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے من پسند سیاسی، سماجی نظاموں کو استوار کرنے کی منصوبہ بندی پہ ہمہ وقت کام کرتے ہیں۔

اب اس دیو ہیکل اور ہمہ گیر سرمائے کے نیٹ ورک کے لئے ایک مضبوط جمہوری ریاست اور ایک مضبوط فوج، مضبوط اور ہمہ گیر میڈیا گروپس کا نیٹ ورک اور ایک مضبوط خفیہ ایجنسی درکار تھی ،اور ان سب کی نمائندگی کے لئے ایک طاقتور صدر درکار تھا جو ان اداروں کی قیادت کر سکے اور حقیقت میں ایک کمپنیوں کے سیلز مین کی حیثیت سے ان کے مال کو دنیا بھر میں بیچنے یا مسلط کرنے کے لئے سیاسی کردار ادا کر سکے۔

امریکی سرمائے کے یہ دیوہیکل پہلوان چونکہ اپنے اپنے مفادات بھی رکھتے ہیں لہذا ان کی ہمیشہ آپس میں مسابقت رہتی ہے، یہ دو بڑے گروپس میں اس وقت تقسیم ہیں اور باری باری امریکی ریاست کو کنٹرول کر رہے ہیں،اپنے اپنے گھوڑے کو میدان میں لاتے ہیں اور پھر اسے الیکشن میں کامیاب کرواتے ہیں۔ان کا یہ گھوڑا صدر ہوتا ہے،جسے بعد ازاں ان کے لئے پوری دنیا میں ریس لڑنی ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں اگر امریکی الیکشن کا تجزیہ کیا جائے تو یہ ریپبلکن اور ڈیمو کریٹس سے وابستہ بڑی کارپوریشنوں اور کمپنیوں کی باہمی لڑائی ہوتی ہے، دونوں دھڑے امریکی صدر لانے کے لئے انوسٹمنٹ کرتے ہیں اور بعد ازاں اپنے اخراجات کو دوسرے طریقوں سے دوبارہ وصول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس طرح نہیں جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے سیاستدان الیکشن کے دوران خوب دولت لٹاتے ہیں اور اقتدارمیں آنے کے بعد قومی خزانے سے واپس وصول کرتے ہیں۔بلکہ امریکہ میں برسر اقتدار لانے والے امریکی صدر کو مخصوص دھڑے کی کارپوریشنز کے مفادات کو پورا کرنے والے نمائندے کا کردار سونپا جاتا ہے۔وہ صدر بننے کے بعد کمپنیوں کے مفادات کی تکمیل کے لئے خارجہ پالیسی ترتیب دیتا ہے، مختلف ممالک کے دورے کرتا ہے، ایک سیلز مین کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کارپوریشنوں کے مفادات کی روشنی میں پوری دنیا کے حالات کو بدلنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں دو قسم کی کارپوریشنیں اپنا اثر رسوخ رکھتی ہیں ان میں ایک سول ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی اجارہ داری رکھتی ہیں اور دوسری دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی طاقت اور اثر رسوخ کی حامل ہیں۔اب یہ دو مضبوط سرمایہ دار دھڑے ہیں اور شروع سے ان کی آپس میں اپنے مفادات کی تکمیل کے حوالے سے مسابقت رہی ہے، جب سول ٹیکنالوجی کی اجارہ کارپوریشنوں کا منظور نظر صدر بر سر اقتدار آتا ہے تو دنیا کے حالات کو اسی طرح سے ڈھالا جاتا ہے اور سول ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے معاہدے کئے جاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ مارکیٹوں تک رسائی کو یقینی بنایا جاتا ہے اور جمہوریت کے اور انسانی حقوق کے ڈھول پیٹ کر اس کی آڑ میں اپنی پرو ڈکٹس کو مارکیٹ میں پھیلا نے کے لئے ماحول بنایا جاتا ہے اور مختلف ممالک کے وسائل اور خام مال تک رسائی حاصل کی جاتی ہے،اس کے لئے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بشمول صدر، فوج، خفیہ ادارے کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔

اور جب دفاعی ٹیکنالوجی کی حامل کارپوریشنوں کا منظور نظر صدر برسر اقتدار آتا ہے تو وہ اسلحہ اور گولہ باردو، جنگی جہازوں اور دیگر جنگی سازوسامان کی کھپت کو پوری دنیا کی مارکیٹ تک یقینی بناتا ہے دوران صدارت وہ ہمہ وقت ان کارپوریشنوں کے مفادات کا نمائندہ ہوتا ہے، ایک طرف ممالک کے درمیان جنگی تناؤ کو ہوا دی جاتی ہے، اور کہیں باغی گروپوں کی تشکیل کی جاتی ہے اور کہیں قوموں کو باقاعدہ جنگوں میں الجھا کر اپنے بے پناہ اسلحے کے ذخیروں کو جو کہ فیکٹریوں سے نکلنے کے بعد بلا استعمال پڑا ہوتا ہے اسے بیچنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اکثر ایک قوم کو اگر جنگی جہاز دیا جاتا ہے تو اس کی مخالف کو اس جہاز کے حملے کو ناکام بنانے کے لئے ریڈار ٹیکنا لوجی بیچی جاتی ہے، اس طرح اسلحے کی مارکیٹ کو بڑھایا اور مضبوط کیا جاتا ہے۔اگر ریبپلکن کے صدر اور ڈیمو کریٹس کے صدور کے دوران اقتدار عالمی خارجہ حکمت عملی کا تجزیہ کیا جائے تو اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

کارپوریشنز کے ان مالی مفادات کی تکمیل کے لئے نہ کسی ملک کی خود مختاری کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کو خاطر میں لایا جاتا ہے، قوموں کی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے امریکی فوجوں کو داخل کیا جاتا ہے،قوموں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جاتا ہے اور اس طرح کارپوریشنوں کے مفادات کا پیٹ بھرا جاتا ہے، اس وقت بھی پوری دنیامیں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، دنیا بھر میں سینکڑوں مقامات ایسے ہیں جو کہ جنگی تناؤ یا باقاعدہ جنگ میں مبتلا کئے جا چکے ہیں، ایک طرف پورے پورے ملک کو اور اس کے سیاسی اور معاشی نظام کو تباہ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف معصوم شہریوں کو ہجرت پہ مجبور کر دیا گیا اور انہیں بھوک اور سول وار کے حوالے کر دیا گیا۔اس وقت لاکھوں بے گناہ انسان اس عالمی سازش کا شکار ہو کر اپنے اپنے ممالک سے ہجرت کرنے پہ مجبور کر دئیے گئے ہیں، اور وہ اس وقت در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، اور کہیں وہ پناہ کی تلاش میں سرگرداں سمندروں کے پانیوں کی نذر ہو کر اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

اس خون خرابے میں اگر کوئی کام انتہائی منظم انداز سے تشکیل پا رہا ہے وہ ہے تیل اور گیس کے ذخائر پہ کنٹرول، سمندری اور زمینی راستوں پہ کنٹرول جہاں سے ان وسائل تک رسائی ہو سکے۔معاشی واقتصادی اتحاد بن رہے ہیں، دنیا کی بھوک واور محرومی سے بے پرواہ کمپنیاں لوٹے ہوئے وسائل اپنے لئے مستقبل کے توانائی کے ذخیروں کو محفوظ رہی ہیں۔

اس طرح ان کارپوریشنوں نے مل کر پوری دنیا کے میڈیا بالخصوص امریکی میڈیا کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال میں لانے کے لئے مکمل طور پہ خریدا ہوا ہے ملٹی نیشنل کارپوریشنوں نے باقاعدہ، لابننگ کمپنیوں کو اس کام پہ لگایا ہوا ہے کہ کس طرح سے سیاسی قائدین کو عوام میں مقبول بنانا ہے ہے اور کس طرح سے اپنا من پسند صدر منتخب کروانا ہے۔بعض محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں یا کارپوریشنز اپنے ملازمین کو بھی جن کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے کو سیاسی عمل میں شامل ہونے اور ایک مخصوص گروپ کو سپورٹ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں یا لالچ دیتے ہیں،اس سے بھی الیکشن کے نتائج پہ فرق پڑتا ہے۔اس مقصد کے لئے ٹریڈ یونینز کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔

اس طرح کمپنیوں نے مکمل طور پہ امریکی ریاست کو مکمل طور پہ اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔بظاہر طاقت کا سر چشمہ صدر امریکہ کہلاتا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے، ساری طاقت کا مرکز وہ قوتیں ہیں جو کنگ میکر ہیں، جو دنیا کے لئے ایک طاقتور بادشاہ بناتی ہیں،لیکن وہ ان کے لئے کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا، یہ قوتیں صرف معاشی و اقتصادی تناظر میں ہر آنے والے عشرے کی پلاننگ کرتیں ہیں، نت نئے انداز سے دنیا کے وسائل، چاہے مادی وسائل ہوں یا انسانی وسائل ان کے ذریعے اپنے سرمائے کی بڑھوتری کے لئے کام کرتے ہیں۔

دنیا بھرمیں بشمول امریکہ غربت و افلاس بڑھ رہا ہے، قتل و غارتگری میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی مفادات کے حصول کے لئے اقوام کو تقسیم کیا جا رہا ہے، تباہ و برباد کیا جا رہا ہے، انسانوں کو مختلف حوالوں سے آپس میں لڑا یا جا رہا ہے،نسل، مذہب، جمہوریت، سیکولر ازم، انسانی حقوق کے نام پہ انسانوں میں دوریاں اور نفرتیں بھری جاری ہیں۔فوجی آمریت ہو یا شاہی نظام، جمہوری نظام حکومت ہو سب کو ایک آلے کے طور پہ استعمال میں لایا جاتا ہے، کہیں جمہوریت کو مقدس بنا کر فوجی حکمرانوں کے تختے الٹے جاتے ہیں اور اس ملک کی سارے نام نہاد لبرل اور سیکولر ایجنٹوں کو اپنے مفادات کے لئے آلہ کار بنایا جاتا ہے،اور کہیں آمریت کو قائم و دائم رکھنے کے لئے سیاستدانوں کے خلاف تحاریک چلائی جاتی ہیں۔

اب پورا گلوب ان کمپنیوں کی مرضی کے بغیر نہیں چلے گا، سیاسی نظام ہوں یا میڈیا، ریاستی نظام ہوں یا سول سوسائٹی سب ان کے سرمائے کی زد میں ہیں،سرمائے کی نقل وحمل کے ذریعے ہر اس عنصر کو خرید لیا جاتا ہے جو کمپنیوں کے مفادات کے آڑے آتا ہے یا کمپنیوں کے مفادات کو تکمیل تک پہنچانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

ان کمپنیوں کے مفادات کی تکمیل کے لئے نیا گھوڑا اب میدان میں اتار دیا گیا ہے ۔۔۔۔اب دیکھتے ہیں کہ ریپبلکن صدر پہ انوسٹمنٹ کرنے والے سرمایہ دارگروپ کو دنیا سے کیا چاہئے، اور آنے والے سالوں میں امریکی عوام اور دنیا بھر کے ممالک کو کیا بھگتنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68706 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
11 Nov, 2016 Views: 379

Comments

آپ کی رائے