ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت۔۔

(Rehman Mehmood Khan, )
مستقبل کا امریکا ۔۔کیسا ہوگا؟ نومنتخب صدر کی فتح۔۔پاکستان سے تعلقات۔۔پالیسیاں اور حکمت عملی۔۔تجزیاتی رپورٹ
کئی ماہ تک رائے شماری اور ایک تاریخی انتخابی مہم کے بعد 9نومبر2016ء کو امریکن صدارتی انتخابات کے نتائج میں امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نے اپنی مخالف امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر ملک کے 45ویں صدر منتخب ہوگئے۔پولنگ سے پہلے مباحثوں اورجائزوں میں ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر چار پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بیانات میں الزام عائد کیا کہ الیکشن میں ان کے خلاف دھاندلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ غالباً امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اقتدار کی منتقلی شفاف اور ہموار انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچنے میں خطرات درپیش ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق انہیں ’’خطرہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک تحقیقی جائزے کا حوالہ بھی دیا جس کی رو سے 85 فیصد یورپی ٹرمپ کو دنیا کے لیے ’’خطرناک‘‘ سمجھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی خاص بات یہ ہے جس پران کے ناقدین بھی معترف ہیں کہ وہ اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانے میں بہت زیادہ مؤثر شخصیت ہیں،وہ بغیر آواز اور بغیر ساز کے بہترین اوربراہ راست پرفارمر ہیں۔ وہ لوگوں سے شاندار طور پر گفتگو کرتے ہیں۔

رواں سال کی ابتداء سے ہی رائے شماری اور امریکن مباحثوں میں ماہرین کے اندازوں کے مطابق ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح برتری حاصل تھی لیکن الیکشن کے دن سب کچھ الٹا ہوا۔وائٹ ہاؤس پہنچنے کے لیے صدارتی امیدوار کو270 ووٹ درکارہوتے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ 276 ووٹوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کرتے ہوئے امریکی صدر منتخب ہوئے جبکہ ہیلری کلنٹن نے 218 ووٹ حاصل کیے۔نتائج کے فوراً بعدنومنتخب صدر ٹرمپ کو ہیلری کلنٹن نے فون کر کے مبارک باد دی۔

ٹی وی سٹار، ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اور سیاسی میدان میں نووارد ڈونلڈ ٹرمپ نے جب گذشتہ سال 2015ء میں صدارتی امیدوار بننے کا اعلان کیا تو ان کا شدید مذاق اڑایا گیاتھا۔انتخابی رائے شماری کے دوران اورٹرمپ کی اپنی بیان بازی کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک متنازع شخصیت قرار دیا جارہا تھا۔انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگے جبکہ وہ اسلام دشمن اور نسل پرست کے روپ میں بھی سامنے آئے۔ٹرمپ کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ صدارت کے لیے موزوں امیدوار نہیں ہیں۔ ان کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انھوں نے عشروں سے ٹیکس ادا نہیں کیا، انھوں نے عورتوں کا تمسخر اڑایا، ان کے درجنوں جنسی سکینڈل سامنے آئے، انھوں نے تارکینِ وطن کو ناراض کیا، مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا، میکسیکو والوں کو جنسی مجرم کہا، میڈیا کے خلاف جنگ لڑی، خود اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں سے مخالفت مول لی، وغیرہ وغیرہ مگراس صورتِ حال میں مبصرین ان کی حیران کن فتح سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دے رہے ہیں۔ٹرمپ نے 28 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جن میں پینسلوینیا اور وسکونسن جیسی ریاستیں بھی ہیں جہاں سے بالترتیب 1988ء اور 1984ء سے کوئی ریپبلکن امیدوار نہیں جیتا تھا۔ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ ساتھ رپبلکنز نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں بھی اکثریت برقرار رکھی ہے۔

فتح کے بعد ۔۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فتح کے بعد نیویارک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’مَیں اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں کا بھی شکریہ ادا کیااوررپبلکن پارٹی کے اہم ارکان کا بھی شکریہ اداکرتا ہوں جو اس مہم میں میرے ساتھ تھے۔ہلیری کلنٹن نے بہت سخت مقابلہ کیا اور مَیں امریکہ کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں،اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک متحد قوم بن جائیں،ہم مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔ہم سب ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے جو ہم سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم سب ملکوں کے ساتھ شراکت کریں گے نہ کہ مقابلہ بازی۔مَیں نے شروع ہی سے کہا تھا کہ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جو چاہتے تھے کہ حکومت لوگوں کی خدمت کرے،مَیں نے زندگی بھر بزنس کیا ہے اور میں نے امریکہ میں زبردست پوٹینشل دیکھا ہے، ہر امریکی توجہ کا مرکز ہو گا۔ ہم نے اپنے اندرونِ شہروں اور شاہراہوں، ہسپتالوں اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائیں گے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کا موقع فراہم کریں گے‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ اورپاکستان
حتمی بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے سامنے سوال یہ ہے کہ ٹرمپ پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟حالیہ امریکی انتخابات کے موقع پر یہ سوال بار بار سامنے آتا رہا ہے کہ ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ میں کس کی جیت پاکستان کے لیے مفید ہو گی؟اب جب کہ ٹرمپ سپر پاور امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے ہیں تو یہ سوال مزید اہمیت کا حامل ہے کہ اب ٹرمپ اور امریکہ کی پالیسیاں پاکستان کے لیے کیسی ہوں گی؟امریکی صدارتی الیکشن پاکستان کے لیے خاصے اہم ہوتے ہیں کیونکہ سپر پاور کے سربراہ کی سوچ کسی حد تک پاکستان کے بارے میں پالیسی پر بھی ضرور اثرانداز ہوتی ہے۔ ماضی کو دیکھا جائے تو عموماً ری پبلکن دور صدارت میں پاکستان کو فائدہ ہوا ہے جبکہ ڈیموکریٹس کے دور میں پاک امریکا تعلقات کھچاؤ کا شکار رہے ہیں۔حالیہ الیکشنمیں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے پالیسی بیانات کے باعث دنیا بھر کے لیے ’’خطرہ‘‘ قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنے بیانات سے قطع نظر ٹرمپ ہمارے لیے کسی حقیقی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتے۔امریکا میں ادارے بے حد مضبوط ہیں جو طے شدہ پالیسی اور طریق کار کے مطابق چلتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا غلطہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ برسراقتدار آ کر پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

مستقبل قریب میں پاکستان کو بہت سے مسائل اور غیریقینی کیفیات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مضبوط اداروں کی موجودگی میں ایک فرد (امریکی صدر) خارجہ پالیسی پر زیادہ اثرانداز نہیں ہو سکتا۔قومی سلامتی کے حوالے سے امریکی کانگریس میں بہت سے گروہ پائے جاتے ہیں جو فیصلہ سازی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان میں کئی گروہ پاکستان کے سخت مخالف ہیں تو بعض معتدل پالیسی کے حامی بھی ہیں۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی میں کسی خاص تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔تاہم امریکا میں حکومتی تبدیلی بالواسطہ طور سے پاکستان پر کچھ اثرات ضرور مرتب کر سکتی ہے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں پاک بھارت تعلقات اور پاک بھارت افغان تعلقات میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ٹرمپ کی صدارت پر پاکستان یا دنیا کے دیگر ممالک کو زیادہ تشویش ہے کیونکہ ان کے خیال میں ٹرمپ کی پوزیشن مبہم سی ہے۔پاک امریکا تعلقات کچھ عرصہ سے سرد پڑتے دکھائی دیتے ہیں تاہم مستقبل کی امریکی حکومت پاکستان سے تعلق ختم کرنے کے بجائے برقرار رکھے گی اور غالب امکان ہے کہ دہشت گردی سے متعلقہ مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے گی۔

یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کی صدارت میں بھارت بدستور امریکا کے لیے اہم رہے گا کیونکہ یہ ناصرف خطے میں اس کا شراکت دار بلکہ بہت بڑی منڈی بھی ہے۔انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی کیوں کہ تنازعات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیاتھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی اسی وقت کریں گے جب دونوں ملک انہیں ایسا کرنے کے لیے کہیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ’’مَیں پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ ماحول دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ یہ معاملہ بہت گرم ہے، اگر دونوں ملک دوستانہ ماحول میں ساتھ رہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں‘‘۔گیر جانبدارانہ ہو کر دیکھا جائے تو ان خیالات سے ناصرف پاکستان اور بھارت بلکہ خطے میں موجود کشیدگی میں کمی اور دیگر ممالک کو ترقی کے بے بہا مواقع بھی میسر آسکتے ہیں۔

ٹرمپ کی مستقبل میں پالیسیاں
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکہ کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی آسکتی ہے۔انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے تبدیلی کی پالیسیوں جس میں فری ٹریڈ،ماحولیاتی آلودگی،سرحدوں پر پابندیاں،نیٹو اور روس شامل ہیں‘کا اعلان کر رکھا تھا۔

فری ٹریڈ
اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مجوزہ تجارتی پالیسیوں پر عمل کیا تو کئی دہائیوں میں امریکی تجارت کے انداز میں یہ سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ انھوں نے امریکہ، کینیڈا اور میکسکو کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے سمیت کئی فری ٹریڈ معاہوں کو ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ان کی وجہ سے امریکی نوکریاں ملک سے باہر گئیں۔ انھوں نے امریکہ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں رکنیت منسوخ کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا اوردرآمدات پر اضافی ٹیکس (چین 45 فیصد اور میکسکو 35) لگانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ پیرس میں طے پانے والے انسدادِ ماحولیاتی آلودگی کے معاہدے کو منسوخ کر دیں گے اور موسمی تبدیلی کے سلسلے میں پروگراموں کے لیے اقوام متحدہ کی تمام امداد بند کر دیں گے۔ کوئی بھی ایک ملک پیرس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا مگر اگر امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہوتا ہے اور ٹرمپ نے تیل کے نئے ذخائر کی تلاش کی بھی حمایت کا اعلان کررکھا ہے۔

سرحدوں پر پابندیاں
امیگریشن کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اپنا مؤقف تبدیل کر چکے ہیں۔ اس لیے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کیا وہ اپنے بیانات پر قائم رہیں گے یا نہیں۔ انھوں نے میکسکو کی سرحد پر ایک دیوار کھڑی کرنے کے وعدے سے آغاز کیا تھا اور 11 ملین غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے اپنا مؤقف نرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے صرف مجرموں کو واپس بھیجا جائے گا اور دیگر غیر قانونی تارکینِ وطن سے بعد میں نبٹا جائے گا۔ انھوں نے آخر تک مؤقف رکھا کہ سرحد پر دیوار کے لیے میکسکو پیسے دے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی کا بھی اعلان کیا تھا مگر بعد میں انھوں نے کہا تھاکہ یہ ایک تجویز تھی نہ کہ پالیسی اور اس کی جگہ انھوں نے چند ممالک سے آنے والے افراد کی شدید چھان بین کا اعلان کیا تھا مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان کے ذہن میں اس کام کے لیے کون سے ممالک ہیں۔

نیٹو
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو پر بھی شدید تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم پرانی اور ناکارہ ہے جس میں امریکہ کا فائدہ اٹھانے والے غیر شکر گزار اتحادی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب ایشیا اور یورپ کے ممالک کی حفاظت کرنے کا مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ایک طرح تو وہ امریکہ کی جانب سے ماضی میں بھی ظاہر کیے گئے خدشات دوہرا رہے تھے کیونکہ نیٹو کے بہت سے ممالک قومی آمدنی کا کم از کم 2فیصد دفاعی اخراجات پر نہیں خرچ کرتے۔

روس
ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کر سکتے ہیں اور ان کے خیال میں پیوٹن ایک طاقتور رہنما ہیں۔ تاہم انھوں نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش سے زیادہ کچھ پالیسی یا اقدامات کے بارے میں تفصیل نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روسی مناسب رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ روسی حکام کی نظر میں امریکہ کے سابق صدور سے زیادہ عزت کمائیں گے۔
٭
ٹرمپ کی فتح سے امریکہ کی تاریخ میں ایک نیا اور حیرت انگیز باب لکھا گیا۔ ایک شخص جسے حکومت کا کسی شکل میں کوئی تجربہ نہ ہو اور کبھی کسی منتخب عہدے پر نہیں رہا ہو وہ امریکہ کا نیا صدر ہے۔ اس نے اپنے ناقدوں اور مخالفین کو چپ کرا دیا ہے اور اب ٹرمپ زبردست قوت کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں جائیں گے جہاں صدارت، ریپبلکن سینیٹ اور ریپبلکن کے زیر کنٹرول ایوان نمائندگان ہوگی۔ان کے پاس عہد ایفا کرنے کے ذرائع ہیں۔ وہ اپنے نامزد شخص سے سپریم کورٹ کی خالی جگہ کو پر کریں گے۔ انھیں اس ڈیڈ لاک کا شکار نہیں ہونا پڑے کا جس کا صدر براک اوباما کو سامنا تھا۔انھوں نے امریکہ کو عظیم بنانے کے ساتھ ساتھسب ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا جووعدہ کیا ہے ،اب انھیں اِس کو نبھانا ہے۔
٭٭٭
ڈیک:
ڈونلڈ ٹرمپ کی خاص بات یہ ہے جس پران کے ناقدین بھی معترف ہیں کہ وہ اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانے میں بہت زیادہ مؤثر شخصیت ہیں،وہ بغیر آواز اور بغیر ساز کے بہترین اوربراہ راست پرفارمر ہیں۔ وہ لوگوں سے شاندار طور پر گفتگو کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی کا بھی اعلان کیا تھا مگر بعد میں انھوں نے کہا تھاکہ یہ ایک تجویز تھی نہ کہ پالیسی اور اس کی جگہ انھوں نے چند ممالک سے آنے والے افراد کی شدید چھان بین کا اعلان کیا تھا مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان کے ذہن میں اس کام کے لیے کون سے ممالک ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 38 Articles with 22700 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 271

Comments

آپ کی رائے