ڈونلڈٹرمپ 9/11اور11/9

(Wisal Muhammad Khan, Karachi)
امریکی تاریخ کے ہنگامہ خیزانتخابات اختتام پذیرہوگئے ان انتخابات کواس لحاظ سے بھی ممتازحیثیت حاصل رہی کہ شائد پہلی بارتمام امریکی اداروں کی سروے رپورٹس اور اندازے یکسرغلط ثابت ہوگئے پولنگ سے پہلے انتخابی مہم کے دوران اور پولنگ والے دن تک یہی پیشنگوئیاں ،اندازے ،تجزئے ،پول سروے اورتبصرے سامنے آتے رہے کہ ایک مرتبہ پھر امریکی تاریخ بدلنے جارہی ہے جیسا کہ گزشتہ دوانتخابات میں ایک سیاہ فام امریکہ کاصدرمنتخب ہوکرنئی تاریخ رقم کرچکاہے کچھ اسی طرح اس مرتبہ بھی ایک خاتون وائٹ ہاؤس کی مکین بن کرنئی تاریخ رقم کریگی ’مگراے بساآرزوکہ خاک شد،امریکیوں کاایک مختلف فیصلہ سامنے آیاتجزیہ نگاروں کاکہناتھاکہ اس مرتبہ ناصرف امریکی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ اس الیکش نے امریکہ کوتقسیم بھی کردیاہے امریکہ تقسیم ہوایانہیں یہ توآنیوالاوقت ہی بتائے گامگرڈونلڈٹرمپ کی جیت سے ایک بات یقیناً واضح ہوگئی کہ دنیامیں انتہاپسندی فروغ پارہی ہے اوریہ شائد وہی انتہاپسندی ہے جس کے خلاف امریکہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے حالت جنگ میں ہے انتہاپسندی کی بیخ کنی کے نعرے کے ساتھ امریکہ افغانستان پراپنے تمام لاؤ لشکرکے ساتھ حملہ آورہوامگربارہ برس کی خواری کے بعدجب وہ خودساختہ فتح کے اعلان کے ساتھ اس خطے سے واپس جانے لگاتومعلوم ہواکہ افغانستان سے انتہاپسندی کاخاتمہ کیاہوتاالٹا اس انتہاپسندی نے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کوبھی لپیٹ میں لے لیا ہے مگرپاکستانی عوام چونکہ انتہاپسندنہیں یہاں کی اکثریت روشن خیال اورمعتدل سوچ رکھتی ہے اس لئے یہاں مذہبی اورانتہاپسندسیاسی جماعتوں کوپارلیمنٹ میں نمائندگی توملی مگراکثریت حاصل کرنے میں کامیابی نہ مل سکی جبکہ خطے میں انتہاپسندی کے اس لہرسے سب سے زیادہ بھارت متاثرہواحالانکہ بھارت کاامریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کردارنہیں تھامگروہاں کے گزشتہ الیکشن میں ایک کٹرہندوانتہاپسندجماعت طوفانی کامیابی حاصل کرگئی دہلی کی موجودہ حکمران جماعت انتہاپسندپس منظرکی حامل ہے اورحکومتی اقدامات بھی انہی نظریات کی عکاس ہیں ہندوتوااورآہنسا کے پجاری مسلم دشمنی کی تمام حدودپھلانگ چکی ہیں مسلمانوں کوآئے روزدھمکیوں اورگائے کی ذبیح کے حوالے سے ازحدکٹھن حالات کاسامناہے چندبھارتی ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پرپہلے ہی پابندی عائدتھی مگروفاق میں مودی سرکارکے آنے سے جہاں یہ پابندی عائدنہیں وہاں بھی غیراعلانیہ پابندی لگ چکی ہے گائے کے ذبیحے نے سینکڑوں مسلمانوں کی جان لی ہے اورانہیں عزت سمیت جان ومال کے لالے پڑگئے ہیں بالکل ہندوانتہاپسندوں کے طرزپہ امریکہ میں بھی ڈونلڈٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف آوازاٹھائی بلکہ اس نے تویہاں تک کہہ دیاکہ مسلمان امریکہ سے نکل جائیں ٹرمپ کے اس مسلم دشمن نظریات نے ہندوانتہاپسندوں میں ایسی جوش بھردی کہ بھارت اوراسکے باہرڈونلڈٹرمپ کی کامیابی کیلئے پوجاپاٹ کی رسومات اداکی جانے لگیں کچھ شائد انکی پوجاپاٹ کااثرتھااورکچھ امریکی معاشرے میں درآنیوالی انتہاپسندی کے اثرات تھے کہ امریکہ میں ٹرمپ کوکامیابی ملی اوراگلے چارسال کیلئے وہ غیرمتوقع طورپرامریکہ کے صدرمنتخب ہوگئے ڈونلڈٹرمپ کے خیالات اگرچہ نئے نہیں مگراس کااظہارپہلی بارہواہے امریکہ کی مسلم دشمن پالیسیاں ایک تسلسل رکھتی ہیں ٹرمپ کی رنگ بازیاں،جنسی سکینڈلز اورخواتین کوہراساں کرنے کے واقعات امریکی معاشرے کیلئے نئے نہیں امریکی ووٹروں نے اپنے جذبات کی درست ترجمانی پرانہیں ووٹ دیاہے ٹرمپ کی کامیابی سے واضح ہوتاہے کہ امریکی جنسی سکینڈلزقسم کی باتوں کوغیرضروری تصورکرتے ہیں اوریہ انکے معمولات زندگی کاحصہ ہے جہاں تک پاکستان پرنئے صدرکے انتخاب کے اثرات کاتعلق ہے توپاکستان کیلئے امریکہ کی پالیسی میں شائدہی کوئی جوہری تبدیلی رونماہوہاں بعض معاملات پرامریکہ پاکستان کے ساتھ سخت روئیہ اپناسکتاہے ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان بارے خیالات نیک نہیں بلکہ وہ بڑی حدتک مودی کی تائیدکرتے ہیں ان کاکہناہے ’’پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ایٹمی ملک ہے اوریہ ایک بڑامسئلہ ہے‘‘ان کاخیال ہے کہ پاکستان پرچیک رکھنے کیلئے بھارت کومضبوط کرناضروری ہے پاکستان کے ساتھ ’’مل کرکام ‘‘ کرنے کااظہاریوں کرتے ہیں کہ وہ صدربننے کے دومنٹ بعدشکیل آفریدی کوامریکہ لائیں گے انکے اس بیان پرپاکستانی وزیرداخلہ کوکہناپڑاکہ پاکستان امریکی کالونی نہیں پاکستان کوٹرمپ کیساتھ اسی روئیے کوجاری رکھناہوگاریپبلکن صدور پاکستان میں جمہوریت کی بجائے آمریت کوپسندکرتے ہیں اب کی بارپاکستان کویہ روایت بدلنے کیلئے جدوجہدکرناہوگی مگراس سے عہدہ برآں ہونے کیلئے پاکستان کوبھی پرانی پالیسی پرنظرثانی کی ضرورت پڑیگی اگرچہ ڈونلڈٹرمپ پاکستان اورمسلمانوں کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائیں گے مگراب پاکستان کوبھی اپنی خودی بلندکرنی ہوگی پاکستان اپنے مقام کوپہچانے اورامریکہ کی راہوں میں پلکیں بچھانے کی بجائے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرے پاکستان ایٹمی طاقت اوردنیاکی پانچویں چھٹی فوج رکھنے والاملک ہے اسکے ساتھ امریکہ سمیت بہت سے ممالک کے سٹرٹیجک مفادات وابستہ ہیں جن سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے امریکہ کے خطے میں مفادات کاحصول پاکستان کے بغیرممکن نہیں اگرچہ بھارت اورامریکہ کارومانس ڈونلڈٹرمپ کے صدربننے سے مزیدگہرائی پاسکتاہے مگرپاکستان کی خطے میں پوزیشن اوراہمیت کو نظراندازکرناکسی بھی امریکی صدر کیلئے ممکن نہیں ابھی افغانستان میں امریکی افواج موجودہیں اوروہ اپنے مقاصدکے حصول کیلئے پاکستان کے محتاج ہیں پاکستانی پالیسی سازوں کوٹرمپ انتظامیہ کویہ باورکرانابے حدضروری ہے کہ پاکستان نے ہی افغانستان کوامریکی افواج کاقبرستان بننے نہیں دیاباراک اوبامہ کی پالیسی اگرچہ افغانستان سے جان چھڑاکربھاگنے کی رہی مگرٹرمپ کی پالیسی اس سے مختلف ہوسکتی ہے اسکی وجہ بالکل واضح ہے کہ جب بھی وائٹ ہاؤس میں کوئی ریپبلکن صدر متمکن ہواہے کسی نہ کسی مسلمان ملک پرچڑھائی ہوئی ہے جارج بش سینئیر کے پہلے دورمیں عراق کوتاخت وتاراج کیاگیااوراسکے صاحبزادے جارج واکربش کے دورمیں افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی جبکہ پاکستان کوبھی میدان جنگ میں بدلنے کی روش اپنائی گئی پاکستان کے ساٹھ ہزارسے زائد سویلین افراددہشت گردی کے خلاف نام نہادامریکی جنگ کاایندھن بنے جبکہ چھ ہزارسیکیورٹی اہلکاروں نے بھی مادروطن کی حفاظت کیلئے اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کیایادرہے کہ افغانستان کے بارہ سالہ جنگ میں امریکی افواج کاجتناجانی نقصان ہوا اس سے دوگنا نقصان پاکستانی افواج اٹھاچکی ہے ریپبلکن کی اکثرحکوتیں دنیامیں جنگ وجدل اورخون خرابے کوفروغ دینے کاباعث بنی ہیں مگرآج کی دنیاماضی سے کافی مختلف ہے امریکہ کوپاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی انتہاپسندوں کے ہاتھ لگنے کاخدشہ لاحق رہتاہے مگرآج وہاں ایک ’’انتہاپسندصدر‘‘ ہی منتخب ہواہے ڈونلڈٹرمپ کے صدارتی مہم کے دوران انتہاپسندانہ خیالات سے اگرچہ دنیامیں تشویش کاپایاجاناقدرتی ہے مگرٹرمپ کے خیالات پرعملدرآمدسے خودامریکہ اوراسکے عوام کوہی مشکلات کاسامناکرناپڑسکتاہے انکے صدرمنتخب ہوتے ہی دوجنگی طیاروں کاآپس میں ٹکرانانیک شگون نہیں کہیں امریکی معاشرہ بھی ٹکراؤکی جانب تونہیں بڑھ رہا11/9کوڈونلڈٹرمپ کاانتخاب کہیں امریکہ کیلئے ایک اور9/11 تونہیں؟اس بات کافیصلہ آنیوالاوقت ہی کرے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Muhammad Khan

Read More Articles by Wisal Muhammad Khan: 80 Articles with 33203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 306

Comments

آپ کی رائے