ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
مشرقِ وسطی کا قاتل اور ہمدرد کون۔؟
امریکی صدارتی انتخابات کا مرحلہ ختم ہوچکا اور ملک کے 45ویں صدر کی حیثیت سے ریپلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ منتخب ہوگئے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کی شکست عالمی سطح پر حیران کن دکھائی دے رہی ہے۔ جس طرح ہلیری کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ ہوا اس سلسلہ میں خود منتخبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ’’ابھی ابھی ہلیری کلنٹن نے فون کرکے ہمیں ، ہم سب کو مبارکباد دی ہے‘۔ منتخبہ صدر نے تسلیم کیا کہ ہلیری کلنٹن نے بڑا ہی سخت مقابلہ کیا اور میں امریکہ کے لئے انکی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔ کامیابی کے بعد جو تقریر کی اس میں ٹرمپ نے کہا کہ میں نے زندگی بھر بزنس میں کام کیا ہے اور میں نے امریکہ میں زبردست قابلیت، توانائی دیکھی ہے، انہوں نے انکے خلاف حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہر امریکی توجہ کا مرکز ہوگا،انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اندرون شہروں، شاہراہوں، ہاسپتلوں اور انفراسٹرکچرمیں بہتری لائیں گے اور لاکھوں افراد کو روزگار کا موقع فراہم کریں گے۔ جبکہ انتخابی مہم کے دوران ان کے تعلق سے کہا جارہا تھا کہ وہ روزگار کے مسئلہ انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنائے تھے۔ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران جس طرح اپنی تقاریر میں مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی کی بات کہی تھی مگر بعض حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وہ اپنے موقف میں تبدیلی لائے تھے۔ اسی طرح انہوں نے نسل پرستانہ، زینو فوبیا (اجنبیوں سے نفرت) پر مبنی، اسلام فوبیا پر مبنی، افریقی امریکیوں کے خلاف، حتی کہ امریکی سیاسی وعدالتی نظام کے خلاف تک بیانات دیئے تھے اور میڈیا تک کو بدعنوان قرار دیا تھا۔انتخابات سے قبل ایک اور نئی بات جو دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ انکے خلاف بعض خواتین نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹرمپ نے انکے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ خواتین کے ٹرمپ کے خلاف بیانات بھی انتخابی مہم کا ایک حصہ سمجھے جارہے تھے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں خواتین ایسے مردوں کو پسند کرتی ہیں اور یہی وجہ ہوسکتی ہیکہ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں ایک نئی حکمت عملی کے ذریعہ امریکیوں کو اپنا مدح بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے ہوں۔ ٹرمپ نے جس طرح تجارت ، امیگریشن، بین الاقوامی معاہدوں ، اسلحہ ، جنگ اور روس امریکی تعلقات کے بارے میں نہ صرف وسیع تر امریکی روایات بلکہ خود اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف کیا تھا جس کی وجہ ان ہی کی جماعت کے سینئر رہنماؤں نے ٹرمپ کی مخالفت کھلم کھلا کی تھی۔ انتخابات سے قبل جس طرح ٹرمپ کی مخالف لہر دکھائی دے رہی اور ہیلری کلنٹن کی کامیابی کے آثار دکھائی دے رہے تھے ۔ ٹرمپ کی کامیابی میں انکی نسل پرستی، مسلم دشمنی، نظام سیاست و عدلیہ پر مبنی مخالف بیانات نے اہم رول ادا کیا۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بھی ٹرمپ اور مودی کے دور حکومت میں بہتر ہونگے ،انتخابات سے قبل امریکہ میں مقیم ہندوستانی ہندو تنظیموں نے انکی تائید کا اعلان کیا تھا اور ٹرمپ نے بھی ہندوستانی وزیر اعظم کو ایک عظیم رہنماء قرار دے کر نریندر مودی کی تعریف کی تھی۔ اب ہندوستان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات مزید خوشگوار ہوجائیں گے۔ البتہ عالمِ اسلام پر ٹرمپ کی کامیابی کے بعد کس قسم کے اثرات مرتب ہونگے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ ویسے ہیلری کلنٹن کی کامیابی سے بھی کوئی بہتر امید نہیں رکھی جاسکتی تھی کیونکہ جس وہ وزیر خارجہ تھی اس وقت بھی مشرقِ وسطی کے حالات انتہائی خراب تھے اور اب بارک اوباماکے دور میں مزید خراب ہوچکے ہیں ۔ اس وقت عالم اسلامی جس دور سے گزر رہا ہے اس کے لئے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا ضروری ہے۔ٹرمپ نے کامیابی کے بعد یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے دوست ممالک سے بہتر تعلقات قائم رکھینگے ۔ سعودی عرب و دیگر عرب ممالک امریکہ کے دوست ممالک میں شامل ہیں یا نہیں اس سلسلہ میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر بارک اوباما جو ایک سیاہ فام کی حیثیت سے 2008میں حلف لیا تو ان سے سیاہ فام اور دنیا بھر کے عوام خصوصاًمسلمان ان کا خیر مقدم کیا تھا اور ان سے بہت ساری امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ کیونکہ انہوں نے بارک حسین اوباما کے نام سے حلف لیا تھا اور عالم اسلام کے دورے کا آغاز جامعہ ازہر مصر سے کیا اور اپنی تقریر السلام علیکم سے کی تھی ، اوباما کے والد مسلمان تھے اور والدہ عیسائی ، اومابا نے عیسائی مذہب کو اختیار کیا۔اوباما دو میعاد تک صدر رہے انکے بیشتر منصوبے ناکام رہے۔ اوباما ہیلت کیئر کا نظام ناکام ثابت ہوا، بیروزگاری بڑی، مالی بحران سے نکالنے کے بہانے عرب ممالک کو قلاش کردیئے۔ اس سے پہلے بل کلنٹن، دونوں بش یعنی جونیئر اور سینئر بش کے دور میں عالم اسلام تباہ و برباد کردیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سینہ ٹھونک کر اسلام دشمنی کا اظہار کیا ، ٹرمپ سے کوئی اچھی امید تو نہیں کی جاسکتی۔ گذشتہ پچاس برس سے عالمِ اسلام کوجن حالات سے دوچار ہونا پڑا یہ اس وقت تک رہے گا جب تک مسلم ممالک مکمل طور پر تباہ و برباد نہ ہوجائے۔سعودی عرب جو دوسروں کی مدد کرتا تھا آج کنگال ہوچکا ہے۔ دہشت گردی سعودی عرب میں بھی بڑھ رہی ہے اس پر قابو پانے کے لئے شاہی حکومت ممکنہ اقدامات کررہی ہے ۔

سعودی عرب اور دیگر عرب خلیجی ممالک ان دنوں خطرناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں ۔ عراق، شام، یمن میں شدت پسند تحریکیں عام انسانوں کا جس طرح قتل عام کررہی ہیں اور ان شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کے نام پرشام اور عراقی فورسس بھی بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان دو طرفہ حملوں میں عام مسلمانوں کا قتل عام گذشتہ سال سے جاری ہے جس میں لاکھوں مسلمان ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ عرب خلیجی ممالک کی معیشت پر اسکے اثرات پڑرہے ہیں اور آنے والے چند برسوں میں یہی حال اگران ممالک کا رہا تو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے لاکھوں تارکین وطن خصوصاً ہندوستانی اور پاکستانی روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران بڑی بڑی کمپنیوں سے ہزاروں ہندوپاک کے افراد روزگار سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو سعودی عرب میں چھ ماہ کی چھٹی پر جانے کے لئے نوٹسس جاری کردی گئی ہیں اورہزاروں کوروزگار سے محروم کردیا گیاہے۔ کئی ہزار افراد گذشتہ چھ چھ ماہ کے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے پریشان حال زندگی گزار رہے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک ، نے جس طرح یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی درخواست پر باغی حوثی قبائلیوں کے خلاف جس طرح کارروائی کا آغاز کیا اس کے خلاف حوثی باغی یمنی حکومت کے خلاف ہی نہیں بلکہ سعودی عرب کے خلاف بھی فضائی کارروائیاں کررہے ہیں۔ گذشتہ دو مرتبہ طائف کے فوجی کیمپ پر جہاں سعودی عرب کی فوج کو امریکی فوجی ٹریننگ دیتے ہیں میزائل حملہ کیا گیا اس کے بعد پھر شہر مکہ معظمہ کی جانب حوثی باغیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا خیر ان دونوں حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ عالمی سطح پر مسلمانوں نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے ، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا تیقن دے چکے ہیں ۔ شام اورعراق میں شدت پسند تنظیموں سے ان کے مقبوضہ علاقے حاصل کرنے کی بات میڈیا کے ذریعہ گذشتہ کئی ہفتوں سے سنائی دے رہی ہے لیکن اس میں کتنی حقیقت ہے اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تقریبا ایک ماہ کا عرصہ ہونے آرہا ہے عراقی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو داعش سے چند گھنٹوں میں حاصل کرلیا جائے گا لیکن تین ہفتے سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود عراقی فوج اپنے دعوے کو سچ ثابت نہ کرسکی البتہ چند اطراف کے علاقے حاصل کرنے میں شائد کامیابی حاصل کی۔ عراق کے اس شہر موصل سے ہی داعش(دولت اسلامیہ) کا سربراہ ابوبکر البغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ چند دنوں سے یہ خبریں سنی اور پڑھی جارہی تھی کہ ابوبکر البغدادی کے گرد عراقی فوج گھیرا تنگ کرچکی ہے ۔ اس سے قبل بھی ابوبکر البغدادی کے تعلق سے کئی خبریں میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آچکی ہے کہ انہیں ہلاک کردیا گیا ، یا وہ شدید زخمی ہے۔ لیکن مصدقہ اطلاعات میڈیا کے ذریعہ بہت کم ہی منظر عام پر آتی ہیں جو صداقت پر مبنی ہوتی ہیں۔امریکی صدراوباما کے دور اقتدار میں عراق اور شام کے حالات جتنے خراب ہوئے ہیں اتنے ہی حالات یمن کے بھی خراب ہوتے جارہے ہیں۔ شام میں بشارالاسد کی حکمرانی کے لئے ایران، روس، شیعہ ملیشیاء پوری طاقت کے ساتھ شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کے بہانے عام مسلمانوں کو نشانہ بناکر ظلم و بربریت ڈھارہے ہیں ، امریکی اتحادی فورسس بھی دولت اسلامیہ و دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں انجام دے رہے ہیں تو تیسری جانب شدت پسند تنظیمیں بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ یا ناکامی کا بدلہ لیتے ہوئے ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعہ عام شہریوں کو نشانہ بناکر قتل عام کررہے ہیں۔ ان سہ طرفہ کارروائیوں میں عام مسلمانوں کی ہلاکت کا اندازہ کرنا محال ہے کیونکہ گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں مسلمان ہلاک ہوچکے ہیں جن میں معصوم بچے، بے قصور مرد و خواتین شامل ہیں۔ اسی طرح لاکھوں افراد زخمی ہوچکے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ سب سے بڑی درد ناک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جن ہاسپتلوں میں یہ اپاہیج، زخموں سے کراہتے ہوئے معصوم ، بے بس افراد علاج کیلئے شریک ہوتے ہیں ان ہی ہاسپتلوں میں ظالم پھر حملے کرتے ہیں۔ معصوم بچے جہاں پڑھتے ہیں ان اسکولوں پر ظالمانہ کارروائیاں اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہاں پر شدت پسند چھپے ہوئے تھے ۔ مساجد میں نماز کے وقت حملے کئے جاتے ہیں تو کہیں نمازجنازہ کی تیاری کرنے والے افراد کو فضائی کارروائی یا فائرنگ کے ذریعہ حملے کرکے ہلاک کیا جاتا ہے۔اب ان مقامات کا حال تو انتہائی بًرا ہے بازاروں، تفریح گاہوں، گزرگاہوں پر حملے تو عام سی بات ہے۔ یعنی کوئی مقام ایسا نہیں جہاں لوگ اپنے جینے کی امید رکھ سکیں۔ گھر کی چہار دیواری سے لے کر ہاسپٹلس، اسکولس، بازاروں، راستوں، عبادتگاہوں اور قبرستانوں غرض کہ ہر مقام پر موت کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے ، خوف و ہراس کی زندگی گزارنے والے ان مظلوم مسلمانوں کا کوئی غمخوار حقیقت میں دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ دیگر مغربی و یوروپی طاقتیں ہوں یا ایران،سعودی عرب و دیگر عرب و عالم اسلام کے حکمراں سب ہی اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے یا اپنی معیشت کے استحکام اور خوشحالی کے لئے معصوم انسانیت کا قتلِ عام کررہے ہیں۔ غذائی اشیاء، ادویات و دیگر ضروریات زندگی کا سامان ان بے کس، مجبور و لاچار مسلمانوں کو پہنچانے کے لئے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں کوشش کرتی ہیں ، ٹرکوں میں لیجائے جانے والے سامان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں بلکہ ان ہی ٹرکوں کو نشانہ بناکر کر خاکستر کردیا جاتا ہے اور یہ کسی کام کے نہیں رہتے۔ اس طرح مظلوم انسانیت کو اشیاء ضروریہ و غذائی اشیاء و ادویات سے تک محروم کردیا جارہا ہے۔یہ کوئی اور نہیں بلکہ مظلوم انسانیت کا جھوٹا درد رکھنے والے خود کرتے ہیں۔ شام میں اپوزیشن علاقوں کو لیجانے والے ٹرکوں کو اسی طرح شامی اور روسی فوج نے گذشہ نشانہ بنایا تو دوسری جانب یمن کا بھی یہی حال ہے۔عرب اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری مطابق حوثی ملیشیاؤں نے 186 دنوں سے زیادہ مدت سے 34 امدادی بحری جہازوں کو روک رکھا ہے جن میں خوراک اور طبی مواد موجود ہے۔ حوثی اپنے زیر قبضہ بندرگاہوں پر ان امدادات کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں عسیری نے کہاکہ اس وقت الحدیدہ کی بندرگاہ پر (جو سب سے بڑی بندرگاہ شمار ہوتی ہے اور ابھی تک حوثی ملیشیاؤں کے قبضے میں ہے) انسانی اور غذائی امداد اور سامان کو وصول کرنے اور اس کی تقسیم کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کا کوئی نمائندہ موجود نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر 7 ماہ سے انسانی امداد کا انبار لگا ہوا ہے اور یمنی عوام اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ باغی حوثیوں کی جانب سے یمنی عوام پرمسلط کیے جانے والے تنازعہ اور جنگ کا تجربہ جس کی پشت پر ایران ہے،اس امرکو باور کراتا ہے کہ ایران اور اس کی حمایت یافتہ دہشت گرد جماعتوں کے درمیان تعاون کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔صدر ہادی کے مطابق اس کی مثالیں بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد جماعتیں باغی حوثیوں کے مقابلے پرنہیں آئیں بلکہ انہوں نے حضرموت،ابین،الحوطہ اوردیگر علاقوں پر قبضہ کرکے بغاوت کے منصوبے کومعاونت کی۔یمنی صدر نے خبردارکیاکہ ایران کئی برسوں سے اس بات کا خواہش مند ہے کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب پر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے کنٹرول سے خطے کے امن اور بین الاقوامی جہاز رانی کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔ جنوری کے پہلے ہفتہ میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی عہدہ کا حلف لیں گے۔ انکے جائزہ لینے کے بعد پتہ چلے گاکہ وہ مشرقِ وسطی خصوصاً سعودی عرب کے تئیں کیا رویہ روا رکھیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100396 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 318

Comments

آپ کی رائے