انتخابی اصلاحات کمیٹی کہاں غائب ہوگئی؟

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)
پاکستان کے انتخابی طریق کار میں اصلاحات کے لئے جولائی2014ء میں ہی پارلیمانی کمیٹی ترتیب دے دی گئی تھی۔2سال اور4۔ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کی کارکردگی کا عوام کو پتہ نہیں چل سکا۔کئی ماہ سے یہ بھی نہیں سنا کہ اس کا کوئی اجلاس ہوا ہو۔اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی ،تمام سیاسی پارٹیوں کے 33۔افراد پر مشتمل تھی۔گزشتہ انتخابات کے بعد تمام پارٹیوں نے انتخابی طریق کار پر اعتراضات کئے تھے۔یہ سب پارٹیوں کے لئے ضروری تھا کہ آنے والے انتخابات کے لئے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرلیاجاتا۔دنیا کے تمام ممالک نے اپنے انتخابی طریق کار کو بہت حد تک شفاف بنا لیا ہے۔ہم اسے پاکستانی پارلیمنٹ کی ایک بڑی ناکامی قرار دے سکتے ہیں۔گزشتہ اسمبلی نے ایک اچھا کام کیا تھا۔الیکشن کمشنر اور چاروں ارکان کی تعیناتی کے طریق کار کو زیادہ بہتر بنادیاتھا۔اورموجودہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پانچوں ممبرز اسی نئے طریے سے طے کئے گئے۔پانچوں ممبرز حکومت اور اپوزیشن دونوں کی رضامندی سے طے کرنا ضروری قرار پایاتھا۔صرف ریٹائرڈ ججز کی پابندی بھی ہٹالی گئی تھی۔موجودہ قومی اسمبلی یعنی چودھویں اسمبلی کو انتخابی طریق کار کو مزید شفاف بنانے کے لئے بہت کچھ کرناتھا۔تاکہ 2018ء کے انتخاب پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔گزشتہ الیکشن پر دھاندلی کے الزامات صرف عمران خان نے نہیں بلکہ دیگر پارٹیوں نے بھی لگائے تھے۔بہت ضروری تھا کہ پارلیمانی کمیٹی باربار اجلاس کرکے اصلاحات کے ایجنڈے کو فائنل کرتی اور پارلیمان اسے قانون کا درجہ دیتی۔اب بھی ایک سال کا عرصہ باقی ہے۔اگر پارلیمنٹ کے ممبران چاہیں تو شفاف انتخاب کے طریق کار کو قانون کی شکل دے سکتے ہیں۔انتخابات اب سرمایہ داروں کا کھیل بن چکا ہے۔بڑے سرمایہ دار اور جاگیر دار انتخابات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔منتخب ہونے کے بعد اپنی سرمایہ کاری سے کئی گنا کمالیتے ہیں۔ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اے کو ملنے والے علاقائی سرکاری فنڈز اس کمائی کا آسان طریق کار ہیں۔ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ رکھنے کا یہ طریق کار جنرل ضیاء کے زمانے میں شروع ہوا اور ان تک قائم ہے۔کہنے کو اب ہر حلقے میں اخراجات کی15۔لاکھ رروپے اور10۔لاکھ روپے کی حدیں طے ہیں۔لیکن اس کو چیک کرنے کا الیکشن کمیشن نے اب تک کوئی درست طریقہ نہیں اپنایا۔اصل میں چیک اینڈ بیلنس کا پورا نظام پارلیمانی کمیٹی نے طے کرنا تھا اور اسے قانون میں ڈھالنا تھا۔بھارتی الیکشن کمیشن نے ہر حلقے میں اپنے نمائندے مقرر کرنے شروع کئے ہوئے ہیں۔وہ پورے حلقے میں ہر الیکشن لڑنے والے امیدوار کے اخراجات کو الیکشن کے دنوں میں ہی گنتے رہتے ہیں۔زائد اخراجات والے امیدوار کو فوراً ہی امیدواروں کی فہرست سے نکال دیتے ہیں۔آج کل الیکٹرانک میڈیا ایک طاقت ور میڈیا بن گیا ہے۔پارٹیوں اور امیدواروں کے اشتہارات کی کڑی نگرانی ضروری ہے۔ایسے ا ور بھی بے شمار طرز کے اخراجات ہیں جن پر روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ہولڈنگز اور پمفلٹس بھی غیر ضروری چھاپے جاتے ہیں۔گزشتہ ایک ضمنی الیکشن جو ایاز صادق اور علیم خان کے درمیان تھا اس میں ہولڈنگز اور اشتہارات کو میں نے ذاتی طورپر دیکھا۔سڑکیں دیواریں۔مکانات کھمبے کوئی شے بھی اپنی اصل شکل میں نظر نہیں آرہی تھی۔برطانیہ میں الیکٹرانک میڈیا پر Paid Addsکی اجازت نہیں ہے۔پارلیمانی کمیٹی کو اس پوری صورت حال کا جائزہ لینا چاہئے۔الیکشن میں اگر ہم نے دولت کا استعمال ختم کردیا تو مڈل کلاس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی انتخاب میں حصہ لیکر اسمبلی میں جاسکتے ہیں۔اسمبلی میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہی ملک کے لئے کچھDeliver کرسکتی ہے۔تعلیم،صحت اور صاف پانی کے مسائل کو درمیانہ طبقے کے لوگ ہی اہمیت دے سکتے ہیں۔سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے لئے تعلیمی ادارے اور ہسپتال باہر کے ملکوں میں ہیں۔شریف خاندان ہویا بھٹو زرداری خاندان اور عمران خان سب کے بچے باہر کے ملکوں کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ایسے ہی اور بھی بے شمار سرمایہ دار۔پارلیمانی کمیٹی کے لئے ضروری ہے۔کہ اس پوری صورت حال کو درست کرنے کے لئے سخت قوانین بنائے۔الیکشن کمیشن اخراجات کے گوشوارے الیکشن کے بعد نہ مانگے بلکہ دوران الیکشن اخراجات کو چیک کرنے کا اپنا نظام وضع کرے۔دھاندلی کا فیصلہ کرنے کے لئے موجودہ طریق کار یہ ہے کہ جس امیدوار کو انتخاب میں دھاندلی کا شبہ ہوتا ہے۔وہ بعد میں الیکشن ٹربیونل میں اپیل کرتا ہے۔4۔ماہ کا عرصہ فیصلے کے لئے طے شدہ ہے۔لیکن اپیلیں کئی سال چلتی رہتی ہیں اور Tenureزیادہ گزر جاتا ہے۔اس طریق کار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ٹربیونل میں اپیل کا عرصہ2ماہ اور سپریم کورٹ میں ایک ماہ طے کیا جائے۔تاکہ اعتراضات جلد از جلد صاف کئے جاسکیں۔آئین میں بہت ہی اہم دفعات 62-63موجود ہیں۔لیکن عملاً ان دونوں شقوں کو کیسے Scrutinyکے لئے استعمال کیاجائے اس کی وضاحت ہونا ضروری ہے۔امانت اور دیانت کی جانچ پڑتال الیکشن سے پہلے ہونی ضروری ہیں۔امیدواران اپنی پوری آمدنی و اخراجات کی تفصیل انتخابی کمیشن کوفراہم کرے۔علاقے کے معروف اور اچھے لوگ بھی بلائے جائیں اور ریٹرنگ آفیسر کے سامنے متعلقہ امیدوار کی خوبیاں اور خامیاں واضح ہونا ضروری ہیں۔دعائے قنوت سننے اور تیسرا کلمہ سننے سے کسی شخص کے بارے کچھ پتہ نہیں چل سکتا۔62-63 شقوں کو پارلیمانی کمیٹی بھی مزید واضح کرے۔انتخابات Conductکرانے والی عملے کی تربیت بھی ضروری ہے۔عملہ انتخاب والے دن جعلی ووٹرز کو مسترد کرنے کے بارے جرأت کا اظہار کرے۔اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ضلع کے سرکاری عملہ کو دوسرے ضلع میں تعینات کیاجائے۔امیدواران پہلے ہی پریزائڈنگ آفیسر اور دوسرے عملہ سے رابطہ کی کوشش کرتے ہیں۔دوسرے ضلع میں عملہ کو بھیجنے سے رابطہ کرنا کافی مشکل ہوجائے گا۔کئی ممالک ایسے ہیں جہاں متناسب نمائندگی کا سسٹم رائج ہے۔پارٹیاں امیدواران کی لسٹ بناکر الیکشن کمیشن میں جمع کراتی ہیں۔اور جتنے فیصد مجموعی ووٹ کسی پارٹی کو ڈالے جاتے ہیں۔اتنے ہی امیدواران جو لسٹ کے ٹاپ پر ہونگے منتخب قرار دئے جاتے ہیں۔چھوٹے بڑے80۔ممالک میں یہ طریقہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ رائج ہے۔لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ سسٹم وہاں کامیاب ہے جہاں سیاسی پارٹیوں کی تعداد 2یا3تک محدود ہو۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیوں کی تعداد200سے بھی زیادہ ہے۔وہاں یہ سسٹم کامیاب نہیں ہوسکتا۔پاکستان جیسے ملک کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر حلقہ انتخاب سے ایک رکن منتخب ہو۔فی الحال رائج طریقہ انتخاب کو ہی زیادہ سے زیادہ شفاف بنایا جائے۔البتہ 2018ء کے الیکشن میں یہ اصول تو طے کیاجائے کہ اگر کوئی پارٹی متعین شرح سے کم ووٹ حاصل کرے تو اسکی رجسٹریشن ختم کردی جائے۔ملک کے کل ووٹوں کا5 فیصد لینا ضروری قرار دیاجائے۔یوں آنے والے الیکشن کے بعد پارٹیوں کی تعداد کافی حد تک کم ہوجائے گی۔جمہوری سسٹم وہیں کامیاب ہوتا ہے جہاں پارٹیوں کی تعداد 2تا3ہو۔گزشتہ الیکشن میں نشان انگوٹھا کی وجہ سے بڑے مسائل پیداہوئے۔اب اگر آنے والے الیکشن میں بائیو میٹرک طریقہ استعمال ہوتو مسٔلہ بھی بخوبی حل ہوسکتا ہے۔انتخابات میں الیکٹرک مشینیں اب ہر ملک میں زیر استعمال ہیں۔پاکستان الیکشن کمیشن کو بھی بہتر سے بہتر مشینوں کی خریداری کا انتظام پہلے ہی سے کرنا چاہئے۔دنیا میں ٹیکنالوجی کا سیلاب آیا ہوا ہے۔پاکستان کو بھی ایسی جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔میڈیا پر پابندی ہوکہ وہ نتائج کے سرکاری اعلان سے پہلے خود اعلان نہ کرے۔نتائج سب سے پہلے دینے کی روایت قانون کی ذریعے ختم کردی جائے۔کوئی بھی پارٹی100۔فیصدنتائج سے پہلے اپنے وزیراعظم کا اعلان نہ کرے۔سابقہ الیکشن میں رات 11بجے ہی جناب نواز شریف کا اعلان کردیاگیاتھا۔وزیراعظم تو پارلیمنٹ کے اندر ووٹنگ سے بننا ہوتا ہے۔پاکستانیوں کو اب Rules of the Gameکا احترام سیکھنا ضروری ہے۔پارلیمانی کمیٹی جس کو بنے اب2 سال اور 4۔ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔اس کو اپنی کارکردگی عوام کے سامنے لانی چاہئے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 31981 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2016 Views: 351

Comments

آپ کی رائے